تازہ ترین

قربانی کا حقیقی مقصد اور اس کی اہمیت

حکیم محمد شیراز

تاریخ    20 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


جنگ قادسیہ کا موقع تھا۔حضرت خنسا ؓ، جو عرب کی مشہور شاعرہ تھیں ،  اپنے شیر سے بیٹوں کو بلایا اورکہا:’’ بیٹا! کل جب جنگ  میں شریک ہونا تو سینے پر زخم کھانا ، پیٹھ پر زخم نہ کھانا‘‘ ۔ا س کے بعد شہادت پر ابھارنے والے اشعار پڑھے۔شہادت کے جذبے سے سر شار چاروں بیٹے میدان جنگ میں امّی کے اشعار پڑھتے ہوئے شہید ہو گئے جب حضرت خنساؓ کو پتہ چلا تو فرمایااللہ کا شکر ہے۔کل آخرت میں ، میں چار شہداء کی ماں کہلاؤں گی۔؎
شہادت مطلوب و مقصود مومن
نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی
کشادِ در ِدل سمجھتے ہیں اس کو 
ہلاکت نہیں موت ان کی نظر میں
آخر یہ قربانی ہی تو تھی کہ شراب جیسی محبوب چیز جب حرام قرار دی گئی تو دور صحابہ میں مدینہ کی گلیوں میں شراب سیلاب کے پانیوں کی طرح بہائی گئی کہ شراب مٹی میں جذب ہوتی تھی۔اس منظر کو دیکھ کر پرانے  یہودی بادہ کشوں کے دل کی گویا یہ آواز تھی ’’ یٰلیتنی کنت تراباً‘‘(کاش کہ ہم مٹی ہوتے)۔حضر ت عمر بن عبد العزیز،ؒ خلافت سے پہلے روزانہ نئے ، نادر اور نفیس  لباس پہننے  کے عادی تھے۔نایاب  خوشبو ئیں استعمال فرماتے تھے کہ جس گلی سے گذرتے تو لوگ سمجھ جاتے کہ اس گلی سے عمر بن عبد العزیز ؒ کا گذر ہوا ہے۔مگر خلافت کا بار ملتے ہی سارے عیش و عشرت کو قربان کر دیا بلکہ اپنے پورے کنبہ کو قربانی کے لیے آمادہ کیا آپ کی اہلیہ حضرت فاطمہ ، جو سات نسبتوں سے بادشاہت سے گھری ہوئی تھیں ، فقر و فاقہ کی زندگی گذارنے پربخوشی راضی  ہو گئیں۔اپنے بیٹے اور بیٹیوں کو عید پر پرانے کپڑے پہننے پر راضی کر لیا۔وہ بھی کیا عورت تھی اور وہ بھی کیا بچے تھے جنھوں اتنی  بڑی قربانی کے موقع پر اُف تک نہ کیابلکہ زبانی اور قلبی طور پر اپنی رضا  اور آمادگی کا اظہار کیا۔حضرت عمر بن عبد العزیز ؒ نے سارا  اثاثہ ، بیت المال میں داخل کر دیا اور صرف بقدر ضرورت بلکہ اس سے بھی کم  اپنے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رہنے دیا۔ ؎
باقی جوہے وہ ملت  بیضا پہ ہے نثار۔۔
قربانی کیا ہے؟اپنی محبوب ترین چیز رضائے الٰہی کے لیے قربان کر دینے کا نام ہے۔قربانی کیا ہے؟ اللہ پاک کی منشا کے آگے اپنی خواہشات سے بے اختیار ہو جانے کا نام ہے۔قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں ۔گیہوں کا جو دانہ مٹی میں ملتا ہے اس سے ہزار دانے پیدا ہو جاتے ہیں  اور جو دانہ دستر خوان کی زینت بنتا ہے اس کا  انجام ایسی چیز پر ہوتا جو قابل ذکر نہیں۔مگر آج کل قربانی کی روح ماند پڑ گئی ہے۔خلوص،عند اللہ ماجوریت، ایثار،سخاوت اور بے نفسی کی جگہ ریا کاری، خود غرضی، بخل اور نفس پرستی نے لے لی ہے۔وا حزناہ وویلاہ۔۔
عید الاضحی کے موقع پر گراں جانور خریدنا رواج پا چکا ہے۔شاعروں کی طرح شعر پر تو نہیں مگر اپنے جانور کی تندرستی اور خوبصورتی پر لوگ دوسروں کی جانب سے داد و دہش کے خواہاں نظر آ رہے ہیں۔اس مقصد کے تحت ایک جانب جانور وں کو بغرض نمائش اذیت دی جارہی ہے تو دوسری جانب قربانی جیسے عظیم جذبہ کوتار تار کیا جارہا ہے۔گوشت کی تقسیم میں مسکینوں اور فقیروں کی بجائے امیروں اور ناموروں کو ْمقدم رکھا جارہا ہے۔گوشت خوری اور پرخوری کے ذریعہ عید قرباں کی نورانیت کا خاتمہ کردیا جاتا ہے۔حفظان صحت کے اصولوں کو بالائے طاق رکھ کر بے شمار امراض کو دعوت دی جاتی ہے۔آنتیں، فضلات، گندگی، خون، ہڈیاں وغیرہ مسلمان محلوں کی پہچان بن چکے ہیں۔معمولی باتوں پر ایک دوسرے خلاف بر سر پیکار ہونا عام سی بات ہو گئی ہے۔عفو و در گذر منھا ہو چکے ہیں۔کورٹ اور پولس کچہریوں میں سب سے زیادہ معاملات مسلمانوں کے ہیں۔اغیار مسلمانوں کی  زبوں حالی پر خوش نیزدشمنان اسلام ہمارے اختلافا ت سے فائدہ اٹھانے میں مصروف ہیں اور مسلمان ایک دوسرے کوغلط ثابت کرنے میں مصروف ہیں۔و یااسفیٰ۔
یہ سب قربانی کی اصل روح کو بھلا دینے ہی کا نتیجہ ہے کہ آج مسلمانوں کو ایسے قوانین کا سامنا ہے جو شریعت سے متصادم ہیں۔کرونا وائرس کی آڑ میں عالم اسلام کے لیے سفر حج اختیار کرنا ناممکن ہو گیا ہے۔مسجدیں مرثیہ خواں ہیں کہ نمازی نہ رہے۔نہ صاحب اوصاف رہے نہ صاحب اوثان رہے۔برائی کے اڈے تو آباد ہیں اور ایمانیات کے مراکز بند ہیں۔ابلیس اور اس کے چیلے، مومنین و صادقین پر خندہ زن ہیں۔باطل کے حوصلے بلند ہیں۔صرف کچھ ہی لوگ ہیں جو مادے کے پار دیکھنا جانتے ہیں نیز حسب  ذیل شعر کے مصداق ہیں:
باطل دوئی پسند ہے، حق لا شریک ہے
شرکت میانۂ حق و باطل نہ کر قبول
ضرورت اس بات کی ہے کہ قربانی کے اصل فلسفے کو سمجھا جائے۔سنت ابراہیمی و اسماعیلی ؑ  سے سبق حاصل کیا جائے۔   ؎
نشاں یہی ہے زمانے میں زندہ قوموں کا
کہ صبح و شام بدلتی ہیں ان کی تقدیریں
شکوہ عید کا منکر نہیں ہوں لیکن
قبول حق ہیں فقط حر کی تکبیریں
عید الاضحٰی، حضرت ابراھیمؑ اور حضرت اسمائیلؑ کی عظیم اور بے مثال قربانی کی یاد میں تمام عالمِ اسلام میں ۱۰؍ ذی الحجہ کو منائی جاتی ہے۔  ہر امت کے اس پر عمل پیرا رہنے کی تصریح سورۃ الحج میں کردی گئی، چنانچہ ارشادِ باری تعالٰی ہے:
اور ہم نے ہر اُمت کے لئے قربانی کا طریق مقرر کردیا ہے تاکہ جو مویشی چارپائے خدا نے ان کو دیئے ہیں (ان کے ذبح کرنے کے وقت) ان پر خدا کا نام لیں۔ سو تمہارا معبود ایک ہی ہے تو اسی کے فرمانبردار ہوجاؤ۔ اور عاجزی کرنے والوں کو خوشخبری سنادو۔(سورۃ الحج۔ سورۃ: ۲۲، آیت: ۴۳) ؎
حضرت ابراہیم ؑ کی بے مثال قربا نی کا اختصار یہ ہے کہ آپ کے دل میں حضرت حاجرہؓ سے شادی کے بعد اولاد کی خواہش پیدا ہوئی اور اس کا اظہار آپ نے اللہ تعالی سے ان الفاظ میں کیا:
رب ھب لی من الصٰلحین(الصٰفٰات:100)
’’اے پروردگار، مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحین میں سے ہو‘‘
حضرت ابراہیم ؑ کی دعا قبول ہوئی اور حضرت اسماعیل ؑ پیدا ہوگئے۔بشری تقاضے کے تحت اپنے خاندان سے کچھ انسیت بڑھ گئی چوں کہ یہ بات مقام نبوت و خلت کے مناسب نہیں کہ دل میں اللہ کے سوا کسی اور کی محبت غا لب ہو، اس لئے اللہ تعالی کی طرف سے آزمائشوں کا سلسلہ شروع ہوا۔حکم ملا کہ اپنی بیوی اور شیر خوار بچے کو مکہ کی بے آب وگیاہ وادی میں چھوڑ آؤ۔جہاں نہ پانی کا ایک قطرہ، نہ گیہوں کا ایک دانہ اور نہ ہی پلنے کا کوئی سبب۔آپ بہر کیف اللہ کے خلیل تھے۔ آپ نے اس حکم کی تعمیل کی، اپنے اہل کو ریگستان میں ،جہاں آج بیت اللہ ہے چھوڑ آئے۔ جب ان کو چھوڑ کر لوٹنے لگے تو پیچھے پلٹ کر نہیں دیکھا کہ مبادا اہل خاندان کی محبت کے فطری جذبے سے دل بھر آئے اور ارادے میں تنزل پیدا ہوجائے۔سیدہ حاجرہؓ آپ کے پیچھے پیچھے چلیں اور پوچھا کہ آپ ہمیں کس کے بھروسہ پر چھوڑ کر جا رہے ہیں؟کیا یہ اللہ کا حکم ہے؟ روایات میں آتا ہے کہ حضرت ابراہیم ؑ نے اشارہ سے صرف انگلی آسمان کی طرف کر دی۔ وہ بھی کیسی اللہ کی مقرب بندی تھی، بلا چوں و چراعرض کیا کہ اگر یہ اللہ کا حکم ہے تو میں اللہ سے اس کے فیصلے پر راضی ہوں۔ حضرت ابراہیم ؑ نے  اپنے اہل کو کو وادی یر زی زرع میں چھوڑنے کے بعد یہ دعا کی :
ربنا انی اسکنت من ذریتی بواد غیر ذی زرع عند بیتک المحرم۔ربنا لیقیمواالصلوٰۃ فاجعل افئدۃ من الناس تھوی الیھم وارزقھم من الثمرات لعلھم یشکرون(ابراہیم:37)
’’اے ہمارے پروردگار! میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگاریہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تو لوگوں کے دلوں کو ان کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے۔ شاید کہ یہ شکر گذار بنیں‘‘
زائرین حرم اس بات کی گواہی دیں گے کہ حضرت خلیل اللہ کی دعا من و عن قبول ہوئی۔آج بھی مکہ معظمہ میں دنیا کے کونے کونے سے لوگ کھنچ کر آتے ہیں۔نیز یہ وادی غیر ذی زرع ہونے کے باوجود ساری دنیا کے ہر قسم کے پھل یہاں دستیاب ہیں۔خلاصہ یہ کہ جب آپ اس آزمائش پر کھرے اترے تو اللہ تعالی نے انعا م کے طور پر اس بے آب وگیاہ آبادی میں زمزم کا چشمہ جاری کردیا اور قبیلہ جرہم کو آباد کیا۔
مذکورہ قربانی ،نیز اس پر ملنے والے انعا م سے حسب ذیل باتیں سمجھ میں آتی ہیں:
۱۔ جو بھی بندۂ مومن ،  دینی فرائض اورمذہبی تقاضوں  (جہاد فی سبیل اللہ ، دعوت الی اللہ، اعلائے کلمۃ اللہ)کے لئے اپنے اہل کو اللہ کے بھروسہ پر چھوڑ دے گا ، تو اللہ پاک اس کے اہل خانہ کی ضروریات اسی طرح پوری کرے گا جیسے سیدنا ابراہیم ؑ کے اہل کی ضروریات کو وادی غیر ذی زرع میںپورا کیا تھا۔
۲۔نسبت الٰہی پر جو قربانی دی جاتی ہے اس کے اثرات و ثمرات دائمی ہوتے ہیں۔ 
دوسری آزمائش حضرت ابراہیم ؑ کی یوں ہوتی ہے کہ آپ نے خواب دیکھا کہ وہ اپنے اکلوتے بیٹے کو اپنے ہی ہاتھوں ذبح کر رہے ہیں۔آپ اسے وحیِ الٰہی سمجھ کر فوراً اس کی تکمیل کے لیے تیار ہو گئے اور اپنے بیٹے اسماعیلؑ سے مشورہ کیا تو انہوں نے بھی اللہ تعالی کے حکم کے آگے سر تسلیم خم کر دیا۔ قرآن کریم نے اس کا منظر اس طرح سے کھینچا ہے:
فلما بلغ معہ السعی قال یٰبنی انی اریٰ فی المنام انی اذبحک فانظر ما زا تریٰ قال یٰابت افعل ما تؤمر ستجدنی ان شاء اللہ منالصابر ین (الصٰفٰات:102)
’’وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کی عمر کو پہنچ گیا تو (ایک روز) ابراہیم ؑ نے اس سے کہا: بیٹا خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کر رہا ہوں۔ اب بتا تیرا کیا خیال ہے؟ اس نے کہا: ابا جان! جو کچھ آپ کو حکم دیا جا رہا ہے اسے کر ڈالیے۔ آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے‘‘
جب حضرت ابراہیمؑ اس عظیم قربانی کے لیے تیار ہو گئے اور آپ نے اسماعیلؑ کو پیشانی کے بل لیٹا دیا کہ چہرا دیکھ کر پدرانہ محبت ہاتھوں میں لرزش نہ پیدا کر دے اور قریب تھا کہ چھری اپنا کام کر جاتی کہ اللہ تعالی نے فرمایا: ابراہیم تم اس آزمائش میں بھی سرخرو ہو نکلے اور ایک مینڈھا آپ کی جگہ بطور فدیہ قربانی کے لیے جنت سے بھیج دیا۔ قرآن نے اس کو اپنے مخصوص انداز میں بیان کیا ہے:
فلما اسلما و تلہ للجبین۔و نادینٰہ ان یٰا ابراہیم۔ قد صدقت الرء یا انا کذٰلک نجزی المحسنین۔ان ھٰذا لھو البلٰؤ المبین۔و فدینٰہ بذبح عظیم (الصٰفٰت:103،107)
’’غرض جب دونوں مطیع ہو گئے اور اس نے (باپ نے)اس کو(بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا۔تو ہم نے آواز دی اے ابراہیم! یقینا آپ نے اپنے خواب کو سچ کر دکھایا ۔اور بے شک ہم نیکو کاروں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں۔در حقیقت یہ کھلا امتحان تھا اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا۔‘‘
یہ انسانی قربانی اپنی نوعیت اور تاریخ کے لحاظ سے پہلی قربانی تھی کیونکہ یہ صرف اللہ تعالی کے لیے تھی۔کسی دیوی یا دیوتا کے نام پر نہ تھی۔باپ اپنے بیٹے کو خود اپنے ہاتھوں ذبح کر نے کو تیار تھا ورنہ عموماً ا س کام کو دوسرے لوگ انجام دیتے ہیں اور یہ کہ قربان ہونے والا بذاتِ خود تیار تھا،ورنہ اس سے پہلے قربانی کے لیے زبردستی پکڑ کر لایا جاتا تھا۔بقول شخصی    ؎
یہ فیضان نظر تھا یا کہ مکتب کی کرامت تھی
سکھائے کس نے اسمٰعیل کو آداب فرزندی
بقول مولانا علی میاں ندوی ؒ، ایثار و قربانی اور عزم وہ طاقت ہے کہ اگر افراد میں ہوتی ہے تو انہیں ثریا تک پہنچا دیتی ہے اور اگر کسی ادارہ یا قوم کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو دنیا اس کے سامنے جھک جاتی ہے، اور اس کی بالادستی کو تسلیم کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔
خلاصہ:قومیں قربانیوں سے زندہ رہتی ہیں۔یہ انبیا اور صحابہ کی قربانیوں ہی کا تو نتیجہ ہے کہ آج عالم میں مسلمانوں کی ایک شناخت ہے۔ 
 نیز حالیہ بقرعید کے موقع پر حکومتی قوانین کی پاسداری کریں۔کہیں آپ کا مذہبی جوش ، پوری قوم کو بدنام کرنے کا سبب نہ بن جائے۔یاد رہے کہ باطل ذرائع ابلاغ و نشریات اس بات کی تاک میں ہیں کہ آپ کوئی غلطی کریں اور وہ اسے پوری دنیا میں اچھال دیں۔اگر آپ کے علاقے میں قربانی پر پابندی ہے یا قربانی کے جانوروں کا حصول نا ممکن ہے تو پریشان ہونے کی بات نہیں۔مقامی علماء سے  اس قسم کے مسائل کا حل پتہ کریں۔نیز اصول حفظان صحت کا پورا خیال کریں۔موجودہ وباء سے عالم اسلام کی اجتماعی زندگی کی جو تباہی ہوئی ہے وہ محتاج بیان نہیں لہٰذاعید ُ الاضحی کے اس مبارک موقع پر دعا فرمائیں کہ اللہ پاک جلد سے جلد اس وباء کا خاتمہ فرمائے، حرمین کے دروازوں کو اہل اسلام کے لیے کھول دے۔اجتماعی اعمال کو بحال فرما دے تاکہ ہماری آنکھیں پھر سے روح پرور مناظر دیکھ سکیں۔آمین۔
سائنسداں و لکچرر شعبۂ معالجات، کشمیر یونیورسٹی، کشمیر
فون نمبر۔9797750472

تازہ ترین