تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    18 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈوڈہ میں کووڈ سے مزید ایک فوت،15نئے معاملات

۔16مریض شفایاب ،ضلع میں ہفتہ وار کورونا کرفیو نافذ رہا 

اشتیاق ملک 
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع سے ہفتہ کے روز کوڈ 19 کے 15 نئے معاملات سامنے آئے ہیں اور سولہ مریض صحتیاب ہوئے ہیں جبکہ ایک شخص فوت ہوا ہے۔اطلاعات کے مطابق ہفتہ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری ،گندوہ و عسر میں ہوئی کوڈ جانچ کے دوران 15افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے جنہیں ہوم قرنطینہ میں میں رکھا گیا ہے اور سولہ مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 160 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 6834 پہنچ گئی ہے۔اس دوران گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں ایک شخص فوت ہوا ہے اور اس طرح سے ضلع میں اب تک کورونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 123 پہنچ گئی ہے۔اب تک 171671افراد میں ٹیکے لگائے گئے ہیں۔ہفتہ کے روز ضلع میں ہفتہ وار کورونا کرفیو کے سلسلے میں بندشیں عائد رہیں جس دوران معمولات زندگی متاثر ہوئی۔
 
 

 ماسک نہ پہننے کی پاداش میں

کشتواڑمیں 635 افراد پر جرمانہ

کشتواڑ//صوبہ جموں کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں جموں و کشمیر پولیس نے ماسک نہ پہننے کی پاداش میں 635 افراد پر جرمانہ عائد کیا۔ جموں و کشمیر کے پہاڑی ضلع کشتواڑ میں بھی دیگر اضلاع کی طرح لاک ڈاؤن میں نرمی کے ساتھ ہی تجارتی سرگرمیاں بحال ہو گئی ہیں۔ وہیں، انتظامیہ کی جانب سے لوگوں کو کرونا ایس او پیز پر سختی سے عمل کیے جانے کی تلقین کی جا رہی ہے۔کشتواڑ پولیس نے ایس او پیز کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے ماسک نہ پہننے والے افراد پر جرمانہ عائد کیا۔ایڈیشنل ایس پی کشتواڑ نے کہا کہ ماسک نہ پہننے والے 635 دکانداروں، ڈراوئیوروں اور راہگیروں سے جرمانہ وصول کیا گیا۔انہوں نے عوام سے ایس او پیز پر سختی سے عمل کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے، لوگوں کو چاہیے کہ وضع کیے گئے رہنما خطوط پر سختی سے عمل کریں۔انہوں نے عوام سے ماسک پہننے اور بھیڑ بھاڑ سے پرہیز کرنے کی تلقین کرتے ہوئے کورونا وبا کو مزید پھیلنے سے روکنے کے لیے کلیدی کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔
 
 

 جموں و کشمیر کے ریاست کے درجہ کی بحالی اور اسمبلی انتخابات جلد کرائے جائیں :پینتھرس پارٹی 

جموں//جموں وکشمیر نیشنل پینتھرس پارٹی سکریٹریٹ کے آج آن لائن منعقدہ اجلاس میں ایک قرار داد منظور کرکے جموں و کشمیر کے ریاست کے درجہ کی فوری طور بحالی کا مطالبہ کیا گیا، جسے مہاراجہ گلاب سنگھ نے 1846 میں جموں و کشمیر، لداخ، گلگت ۔بلبتستان کو جوڑ کر قائم کیا تھا۔ -پینتھرس پارٹی کے صدر اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈوکیٹ پروفیسر بھیم سنگھ نے قرارداد میں قومی اور ریاستی میڈیا کو آگاہ کیا کہ دہلی کی بی جے پی حکومت کا جموں و کشمیر کو 1947 کے بعد سے ریاست کا درجہ دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ انہوں نے ایک بیان میں کہا کہ پینتھرس پارٹی جلد از جلدجموں و کشمیر کے ریاست کے درجہ کی بحالی کے لئے پرعزم ہے جس کے بعد جموں و کشمیر میں اسمبلی انتخابات کرا کر جمہوری / منتخب حکومت قائم ہو۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ کا  جموں وکشمیر کو مرکزی خطے میں تبدیل کرنے والا یہ ایکٹ مکمل طور پر غیر قانونی، غیر منصفانہ اور غیر آئینی تھا، اسی وجہ سے یہاں کے باشندے ایک منتخب حکومت اور ریاست کے درجہ کی بحال کا مطالبہ کررہے ہیں۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہا کہ وہ پینتھرس پارٹی کی سینئر قیادت کی ایک موبائل ٹیم تشکیل دے رہے ہیں، جو ریاست جموں و کشمیر کا دورہ کرے گی۔ اگلے ماہ وہ اپنی ہی ٹیم کے ساتھ پونچھ سے کشتواڑ سے کٹھوعہ، بلاور، بنی، بشولی اور پونچھ سے رام بن تک اور پھر وادی کشمیر کا سفر کریں گے جس میں پنتھرس پارٹی کا سب کے لئے حق و انصاف، اتحاد، بھائی چارہ، سیکولرازم، امن کا واضح پیغام ہوگا۔
 
 

 حکومت کی مڑواہ فارسٹ ڈویژن کیلئے 18 کروڑ روپے کے بی ڈی ایم پی کی منظوری 

جموں//حکومت نے مڑھوہ فارسٹ ڈویژن کیلئے 18 کروڑ روپے مالیت کے بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ پلان ( بی ڈی ایم پی ) کو منظوری دے دی ہے جس کے فنڈ چناب ویلی پاور پروجیکٹ ( سی وی پی پی ) ’’ انوائرنمنٹ مینجمنٹ پلان‘‘ کے تحت دے گا ۔ اس سلسلے میں کمشنر سیکرٹری جنگلات و ماحولیات کے جاری کردہ ایک حکم میں کہا گیا ہے ’’ مڑواہ فارسٹ ڈویژن کے بائیو ڈائیورسٹی مینجمنٹ پلان پر عمل درآمد کیلئے اِنتظامی منظوری دی گئی ہے جو 18 کروڑ روپے کی تکنیکی جانچ لاگت پر ہے ۔ پکل ڈول ہائیڈرو الیکٹرک پاور پروجیکٹس کے لئے جنگلات کی زمین کو موڑنے کے سلسلے میں ’’انوائرمنٹ مینجمنٹ پلان کے جزو کے طور پر چناب ویلی پاور پروجیکٹ کے تحت فنڈس فراہم کئے جائیں۔حکمنامے میں کہا گیا ہے کہ اس منصوبے کے تحت 1,500 ہیکٹر رقبے پر 4.50 لاکھ رافٹ باڑ لگانے ، 7.75 لاکھ پودے لگانے ، 15.05 لاکھ پلانٹ کی پیداوار ، 5,400 مکعب میٹر اراضی کا تحفظ ، 3لکڑی کے پل ، 20 گارڈ جھونپڑیوں کی تعمیر کیا جائے گا۔ حکمنامے میں مزید کہا گیا ہے کہ انتظامی منظوری دی گئی شرائط کی تکمیل سے مشروط کی گئی ہے جس میں بین الاقوامی سطح پر بھی شامل ہے کہ حکومت کی طرف سے وقتاً فوقتاً جاری کردہ تمام اصول /احکامات اور ہدایات مشاہدہ کی جائیں گی جبکہ سائٹ کی مختص رقم محیط میپنگ اور ساختی ڈیزائن کے اخراجات اٹھائے جائیں گے ۔ ادائیگی جاری کرنے سے پہلے جی پی ایس کوارڈینیٹ کے ساتھ کاموں کے فوٹو گرافک ریکارڈ حاصل کئے جائیں گے ۔ کام کی منظوری والے تخمینے /رہنما خطوط کی فراہمی اور وضاحت کے مطابق سختی سے انجام دئیے جائیں گے کہ ملازمت کی تکمیل کے دوران کوئی وقت اور قیمت خرچ نہیں ہوتی اور کہا جاتا ہے کہ ٹائم لائن پر سختی سے عمل کیا جاتا ہے ۔ آرڈر میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ اس پروجیکٹ سے ہونے والی آمدنی اگر کوئی ہے تو حکومت کے پاس آئے گی جیسا کہ دوسرے سرکاری محکموں کے معمول کے مطابق ہے ۔ 
 
  

کووڈ ایس او پیز کی خلاف ورزی پر36ہزار کا جرمانہ

رام بن ضلع میں2601 ٹیکے لگائے گئے ، 1476 نمونے جمع

رام بن//ضلع رام بن میں کوویڈ پروٹوکول کے نفاذ کے لئے مہم کو جاری رکھتے ہوئے انفورسمنٹ ٹیموں نے چہرے کے ماسک پہنے بغیر گھومنے اور جسمانی فاصلہ برقرار نہ رکھنے پر متعدد خلاف ورزی کرنے والوں پر جرمانہ عائد کیا۔نفاذ کرنے والی ٹیموں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں معائنہ کے دوران 35 ہزار 800 روپے جرمانے کی وصولی کی جس سے 1 اپریل 2021 ء سے اب تک جرمانے کی کل رقم  32 لاکھ 73ہزار 500روپے کی وصولی ہوگئی۔انفورسمنٹ افسران نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ چہرے کے ماسک پہنیں اور جسمانی فاصلہ برقرار رکھیں اس کے علاوہ وہ اپنے قریبی سی وی سی میں کوویڈ ویکسی نیشن ڈوزلیں۔ضلع امیونائزیشن آفیسر ڈاکٹر سریش نے بتایا کہ ہفتہ کے روز رام بن ضلع بھر میں 2601 افراد کوپہلی اور دوسری کوویڈ ویکسین کی خوراک دی گئی۔چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد فرید بھٹ کی طرف سے جاری کردہ روزانہ بلیٹن کے مطابق محکمہ صحت نے 144 نمونے جمع کیے ہیں جن میں 334 آر ٹی-پی سی آر اور 1142 آر اے ٹی نمونے شامل ہیں ، اس کے علاوہ ضلع میں ٹیکہ لگانے والے مراکز میں 2601 افراد کو کوڈ ویکسین فراہم کی گئی ہے۔
 

مناسب برتائو ،ٹیکہ کاری نئی کووڈ لہر سے بچنے کیلئے ضروری :ڈی سی کشتواڑ

 کشتواڑ //ڈپٹی کمشنر کشتواڑ اشوک شرما نے کورونا انفیکشن کے تازہ اضافے سے بچنے کے لئے بڑے پیمانے پرٹیکہ کاری اور کوویڈ سیفٹی پروٹوکول کی سختی سے عمل پیرا ہونے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ کوڈ کی بحالی پر قابو پانے کے لئے ماسک کا استعمال جاری رکھیں اور کوویڈ مناسب طریقے سے چلیں۔ڈپٹی کمشنر یہاں اپنے دفتر کے چیمبر میں ایک پریس کانفرنس کو مخاطب کررہے تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلع کشتواڑ میں مثبت شرح 0 0.4 فیصد رہ گئی ہے جو ایک اچھی علامت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دوسری لہر میں رپورٹ ہونے والے 1831 مثبت کیسوں میں سے 1748 آج تک صحت یاب ہوچکے ہیں اور صرف 3 مریض اسپتال میں داخل ہیں۔ٹیکہ کاری کے بارے میں ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ضلع میں 45 سال اور اس سے زیادہ عمر کے افراد میں 95فیصد آبادی اور 18 سے 4 سال تک کے 26فیصد لوگوں کوٹیکے لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکے کے ساتھ ساتھ ٹیسٹ ، ٹریس ، علاج کی حکمت عملی کو بھی جاری رکھنے کی ضرورت ہے۔
 
 
  

دگلی بی میں نو تعمیر شدہ پنچایت گھر کا افتتاح

پنچایتی راج نظام کو مستحکم کرنے کے لئے انتظامیہ پُرعزم: ڈی ڈی سی چیئر پرسن ڈوڈہ

ڈوڈہ// ضلع میں پنچایتی راج نظام کے موثر کام کو یقینی بنانے کی سمت ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کونسل کے چیئر پرسن ڈوڈہ دھننتر سنگھ کوتوال اور ڈپٹی کمشنر وکاس شرما نے بلاک بھلا کی پنچایت دگلی بی میں ایک نو تعمیر شدہ پنچایت گھر کا افتتاح کیا۔پنچایت گھر کا تخمینہ 39.26 لاکھ روپے کی لاگت سے بنایا گیا ہے جس میں پی آر آئی ممبروں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے مکمل طور پر فرنڈڈ کمرے اور دیگر سہولیات ہیں۔اپنے افتتاحی خطاب میں ڈی ڈی سی چیئرمین نے کہا کہ یو ٹی انتظامیہ ضلعی انتظامیہ کے تعاون سے پنچایتی نمائندوںکے لئے ضروری انفراسٹرکچر سپورٹ بنا کر نچلی سطح کی جمہوریت کو مستحکم کرنے کی ہر ممکن کوشش کر رہی ہے۔ڈی سی نے آر ڈی ڈی افسران / عہدیداروں کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے انہیں دیگر تمام زیر التواء پنچایت گھروں کو مکمل کرنے کی ہدایت کی جو جنگی بنیادوں پر زیر تعمیر ہیں۔دریں اثنا پنچایتی ممبروں اور دیگر مقامی لوگوں نے دیگر دیگر ترقیاتی اور انتظامی امور کو اٹھایا اور اس کے ازالے کے لئے ڈی ڈی سی چیئرمین اور ڈی سی سے مداخلت کا مطالبہ کیا۔ انہیں یقین دلایا گیا کہ عام لوگوں کے بنیادی اور حقیقی مطالبات کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کے لئے تمام ضروری اقدامات اٹھائے جائیں گے۔
 

پیر پنجال سٹیزن فورم کا منشیات کی بڑھتی وباپر اظہار ِ تشویش

ایل جی کو یادداشت پیش، جنگی بنیادوں پرا قدامات اٹھانے کی گذارش

تھنہ منڈی//پیر پنجال سنیئر سٹیزن فورم اضلاع پونچھ اور راجوری میں منشیات کی بڑھتی وباپر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ خطہ پیر پنجال کے سابقہ بیروکریٹس، دانشوروں، ماہرین تعلیم، وکلاء، صحافیوں اور سماجی کارکنان پر مشتمل اِس فورم نے کہا ہے کہ خطہ پیر پنجال کے قصبہ جات اور دیہات میں تیزی کے ساتھ نشہ کی وباپھیل رہی ہے۔ سرنکوٹ، مینڈھر، پونچھ، تھنہ منڈی، کوٹرنکہ، درہال اور منجاکوٹ تحصیلوں میں روز افزوں منشیات سمگلروں اور اِس کے عادی افراد کی تعداد بڑھتی ہی جارہی ہے۔ یہاں جاری پریس ریلیز میں فورم نے کہاکہ اگر چہ انتظامیہ سطح پر اقدامات کئے جارہے ہیں لیکن اِس وباکے خاتمہ کے لئے ہرسطح پر آپسی تال میل وتعاون کی ضرورت ہے اور ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اندر پائی جارہی خامیوں کا تدارک بھی کرنا ناگزیر بن چکا ہے۔ محمد امین انجم سابقہ آئی جی پی کی صدارت میں فورم نے اس ضمن میں لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا، چیف سیکریٹری، پرنسپل سیکریٹری صحت وطبی تعلیم، صوبائی کمشنر جموں ، ضلع ترقیاتی کمشنر راجوری اور پونچھ کو تفصیلی میمورنڈم بھی ارسال کئے ہیں جن میں مانگ کی گئی ہے کہ راجوری پونچھ میں کونسلنگ سہولیات کے ساتھ ڈرگ ڈی اڈیکشن سینٹرز قائم کئے جائیں، فعال غیر سرکاری رضارکارتنظیموں کی مدد سے ضلع سطح پر کمیٹیاں تشکیل دی جائیں اور جنگی بنیادوں پر انسدادِ منشیات بیداری مہم شروع کی جائے، آٹھویں جماعت سے اوپر سبھی تعلیمی اداروں کو سخت ہدایات جاری کی جائیں کہ وہ منشیات کی وباکے خلاف بیداری پروگرام منعقد کریں اور اِس کو سہ نصابی سرگرمیوں کا مستقل حصہ بنائیں۔ علاوہ ازیں ضلع انتظامیہ سے کہاجائے کہ وہ ماہانہ بنیادوں پر تحصیل وضلع سطح پر جائزہ اجلاس منعقد کرے۔فورم نے اپنی گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ منشیات وباقوم کے لئے بڑا خطرہ ہے جوکہ قوم کے مستقبل نوجوانوں کو تباہ کر رہا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کہ فوری طور ملک کے وسیع ترمفادات کی خاطر نوجوانوں کی صلاحیتوں اور توانائی کو مثبت سمت میں بروئے کار لانے کے لئے ہرممکن اقدامات اٹھائیں جائیں۔
 
 

تازہ ترین