نظمیں

تاریخ    18 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


لائوڈ تھنکنگ

دوستی کی پیدائیش سے لے کر 
دوسری سالگرہ تک
تمہارا چہرہ,پگھلتا,لرزتا
پیشانی کی لکیروں سے ہوکر
یاداشت کی گھنی جھاڑیوں میں کھپ چکا ہے۔
میں حاشیے پر کہیں 
کسی سیاہ نکتے کی صورت منتظر ہوں
منتظر ہوں اس بات کی 
کہ کب تم مرکز سے ہٹ کر
میرے دل کو اپنی ہتھیلیوں میں لے کر تسکین دوگے
میرا مریل سا دل
جو راتوں کی بے خواب ہواؤں سے ڈرتا ہے
دریاؤں میں نہاتی،بل کھاتی،خُنک ہوائیں
زرد خاموشی کو چیر کر وجود سے ٹکراتی ہیں
تو ذہن کے کونوں سے جالے ہٹ جاتے ہیں
اطراف دھوئیں کی لکیریں بنتی،بگھڑتی ہیں
میں اپنی نبض کو ٹٹولتی ہوں۔
تو تمہارے لب بھی ہلتے ہیں
تم مجھے میلے،مرجھائے حروف کی خلعت پہناتے ہو۔
یہ خاموش اور سنجیدہ مہربانیاں مجھے گرمی اور حرارت دیتی ہیں۔
جو جذبوں کے لمس سے بھی آگے کی گرمی ہے
یہ حرارت میری رگوں میں امانت کی طرح
مجھے میری اداسی سے لڑنے کی قوت بخشتی ہے
تمہارا ماضی جو فقط تمہارا ہے
ان دو سالوں کے عرصے میں 
اس ماضی سے جتنے بھی بگولے اُڑے ہیں
وہ میرے دل سے ہوکر میرے حال میں بھی دھول اڑاتے داخل ہوئے ہیں۔
اس واسطے تمہارا ماضی اب میرا بن چکا ہے۔
میری یاداشت کی جھاڑیوں کی تہوں میں کھپ چکا ہے۔
کیا پتہ کہ 
ذہن کے کونوں میں اُ جالے اُگ آئیں ہوں۔
جسے وقت کا نہ جانے کونسا لمحہ
یا حادثہ جھاڑ کر صاف کردے۔
کیوں نہ کچھ باتیں وقت پر چھوڑ دیں۔
اور لوڈ تھنکنگ loud thinking  کا مان رکھتے ہوئے
آؤ آج  اپنی دوستی کی دوسری سالگرہ منالیں۔
 
ڈاکٹر کوثر رسول
اسسٹنٹ پروفیسر شعبہ اُردو کشمیر یونیورسٹی
 
 
 
 
 

مگر شوقِ دیدار ملتا نہیں ہے

مجھے چھوڑ کے یوں بچھڑ کر گیا وہ
مرے دل سے جیسے اُکھڑ کر گیا وہ
محبت میں جانے سُکڑ کر گیا وہ
مگر شوقِ دیدار ملتا نہیں ہے
پلٹ کر زمانے کو دیکھا نہیں ہے
جبھی پھول خوشبو سے مہکا نہیں ہے
اَنا  کے اُفق سے اُترتا نہیں ہے
مگر شوقِ دیدار ملتا نہیں ہے
وبا چارسُو میں ہے موجود اب بھی
کہ ہے زندگی بود و نابود اب بھی
جوانی کے لمحے ہیں مشہود اب بھی
مگر شوقِ دیدار ملتا نہیں ہے
یہاں کی ہوا بھی سہانی بہت ہے
اندھیرے کی زد میں جوانی بہت ہے
زمانے کی رو میں روانی بہت ہے
مگر شوقِ دیدار ملتا نہیں ہے
 
یاورؔ حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ
; royamd12@gmail.com
 

متفرق اشعار

جس کا ڈر تھا وہی ہوا یارو
وہ فقط ہم سے ہی خفا نکلا
 
 میرا اندازہ ٹھیک تھا بالکل
عشق کا روگ لادوَا نکلا
 
 لوگ افواہ اُڑا رہے تھے فقط
میرے جیسا کوئی نہیں نکلا
 
 درد ہو تو جبھی کراہتا ہوں
روز آہ و فغاں نہیں ہوتا
 
 تم سے جب عشق ہی نہیں تو پھر
بے سبب پیچھا کیوں کریں گے ہم
 
 جو بھی ہو بعد میں ہی ہوتا ہے
وصل کی رات کچھ نہیں ہوتا
 
اِندرؔ سرازی
پرشولہ، ضلع ڈوڈہ، جموں کشمیر
موبائل نمبر؛ 7006658731
 
 
 

تازہ ترین