تازہ ترین

دین میں عورت کا اعلیٰ مرتبہ ہے

خواتینِ اُمت اپنی ذمہ داریاں سمجھیں

تاریخ    15 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


بلال بن عبد اللہ السلفی
اسلام میں عورت کا مقام ومرتبہ ہے لیکن یہ مظلوم کیوں؟اسلام دین رحمت وامن ہے اس عظیم دین نےہر حق والے کو اپنا حق دیا۔ اسی طرح اس نے عورت کو اپنے تمام حقوق واضح کئے اور اس مبارک دین میں عورت کا عظیم اور اعلی مقام ومرتبہ ہے۔ اسلام کی مقدس تعلیمات سے واضح ہوتا ہے کہ ایک خاتون ہر لحاظ س معزز اور محترم ہے چاہے وہ ماں ہو، بہن ہو، بیٹی ہو یا کسی کی بیوی ہو۔ اسلام نے ماں کے ساتھ اچھا اوربہترین سلوک اور برتاؤ کو واجب قرار دیا اور ماں کو ایک عظیم ہستی اور بچے کی بے مثال محسنہ قرار دیا اور بار بار اسکے ساتھ احسان اور اکرام حکم فرمایا، اسلام واحد دین ہے جس نے ماں کے قدموں تلے جنت قرار دیا یعنی ماں کی خدمت اور اطاعت کو باعث داخلہ جنت قرار دیا اتنا ہی نہیںبلکہ ماں کو تین مرتبہ انسانیت میں سب سے زیادہ حسن سلوک کا حقدار قرار دیا۔ اسلام دین رحمت نے بیٹی اور بہن کی پرورش، تعلیم وتربیت ، ادب وعزت ، انکی شادی کرانے اور ان پر صبر کرنے کو عظیم عمل اور جنت کا سامان کہا، اسلام میں بیٹی اور بہن کا مرتبہ اور مقام بہت ہی اعلی اور ارفع ہے اور اسلام کے مطالعہ سے واضح ہوتا یہ بیٹی بڑی نعمت، رحمت اور برکت ہے اسی طرح اسلام نے بیوی کے حقوق تفصیلات واضح فرمایے، بیوی کے نان نفقہ، اور اسکے ساتھ بہترین اور اچھے سلوک کو لازم قرار دیا، بیوی کے ساتھ کھیلانا،ہنسنا، اسکے ساتھ پیار ومحبت اسلام کی تعلیمات میں سے ہے بلکہ یہ عبادت اور اجر وثواب کا باعث قرار دیا گیا۔۔۔ قارئین کرام آپ جانتے ہیں کہ اسلام دین عظیم نے عورت کو تمام انسانیت کی ماں کہا یعنی حضرت حواء علی ا السلام ،اسی طرح رسولِ رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کی ازواج مطہرات کو اہلِ ایمان کی مائیں قرار دیا اور تاریخ اسلام سے واضح  ہوتا ہے کہ عورت علماء کرام، محدثین عظام، مفسرین کرام، فقہاء ، ڈاکرز، انجینئروں اسطرح اور بڑے لوگوں کی " ماں" تھی اور نہ صرف انکی ماں رہی بلکہ انکی بڑی مربیہ اور معلمہ رہی۔۔۔۔۔ یہ عورت کا ہی مقام ومرتبہ ہے کہ اللہ کی کتاب قران مجید میں ایک بڑی سورت عورتوں کی منسوب ہے یعنی سورۃ النساء اس عظیم میں خواتین کا مقام ومرتبہ، حقوق، انکے احکام ومسائل کا حل موجود ہیں اتناہی نہیںبلکہ ایک سورت کا نام عورت کے نام پر ہے، میری مراد ’سورۃ مریم‘۔ اور حضرت مریم کو عظیم، برگزیدہ اور اعلی خاتون کہا گیا بلکہ ان کی سیرت طیبہ کو بھی بیان کیاگیا۔
 قارئین کرام! اسلام کی روشنی میں جتنا عورت کا مقام اور اسکی رفعت بیان کیا جائے اتنا کم ہے جو مقام ومرتبہ اس دین مبین میں خواتین کا ہے اسکی کوئی مثال ملنا محال ہے اب دیکھیں تصویر کا دوسرا رخ وہ ہے عورت پر مظالم اور زیادتیاں آج سب سے زیادہ مظلوم و مجبور یہی عورت ہے کچھ ظلم یہ خود کرتی ہے یعنی اپنے مالک اور خالق اللہ تعالی کی نافرمانیوں اور معاصی کی صورت میں اور کچھ مظالم معاشرے کی طرف سے اس پر کئےجاتے ہیں سب سے پہلا ظلم جو ایک عورت پرہوتا ہے ،وہ ہے اس کا پیدا ہونا۔ اکثر کو پسند نہیں ہے، اکثر لوگ اس کے آنے کو منحوس اور عار سمجھتے ہیں جیسے ک زمانے جہلیت میں ہوتا تھا قران مجید نے اس کا نقشہ کھینچا سورت زخرف میں،بہت سارے لوگ لڑکی کی پیدائش پر ماتم کرتے ہیں اور اس مظلومہ کو مختلف طعنے اور برے القاب سے یاد کرتے اتنا ہی نہیں بلکہ سب سے زیادہ قتل اسی بیچاری اور مظلوم بچی کے ہوتے، زمانے جہالت میں اسے زندہ درگور کر کے قتل کیا جاتا تھا مگر آج کےمارڈرن زمانے میں اسے رحم مادر میں قتل کیا جاتا ہے۔ما شاء اللہ زمانہ جاہلیت میں اس مظلوم لڑکی کو آنے کے بعد قتل کیا جاتا تھا،آج دوقدم آگےہوکراس مجبورہ کوآنےہی نہیںدیتے۔قران مجیدکی اس آ یت کوجواب دیا جائے’’اور جب زندہ درگور بچی سے پوچھا جائے گا کہ اسے کس گناہ پر قتل کیا گیا؟ غور کریں سوال مظلومہ سے ہوگا نہ کہ مجرم سے۔ علماء تفسیر فرماتے ہیں کہ مجرم سے اللہ تعالی بہت ناراض ہوگااور اسکے ساتھ بات ہی نہیںکریں گا۔ اسلام میں بچے کو قتل کو شرک کے بعد سب سے بڑا جرم اور گناہ قرار دیا گیا، چاہے وہ بچہ ہو یا بچی۔ قارئین کرام۔ عورت پر ایک اور بڑا ظلم جو ہوتا ہے وہ ہے اس کو تعلیم وتربیت سے محروم رکھنا۔ اسلام میں عورت کا اسی طرح تعلیمی وتربیتی حق ہے جو مرد کا حق ہے، عورت اور لڑکی کا تعلیمی اور تربیتی ترقی میں آگے بڑھنا مطلوب اور مقصود ہے جتنی عورت تعلیم وتربیت یافتہ ہوگی، جتنا وہ اپنے مالک ، خالق اور رب اللہ تعالی اور اسکے دین کی معرفت حاصل کریں گی اتنا معاشرہ کی اصلاح ہوگی۔ عورت کی تعلیم وتربیت معاشرے کی تعلیم وتربیت ہے اتنابہترین اور لائق ہے کہ ہماری بیٹی ایک کامیاب ڈاکٹرہو، تاکہ وہ مریض خواتین کا علاج معالجہ کرے، کتنا احسن ہے کہ عورت مختلف صنعت اور خیر کے کاموں میں ماہرہو، تاکہ معاشرے کی عملی اصلاح اور تطہیر ہو، اسلام میں مطلوب ہے کہ عورت علم کے نور سے منورہو اور تربیت کی عطر سے معطر ہو لیکن شرم حیا اور عفت و عصمت اور پردہ اور حجاب شرط ہیں۔ اسی طرح عورت پر مالی مظالم بھی عیاں ہیں اس کو وراثت ، مہر اور نان نفقہ جیسے حقوق سے محروم کیا جا تا ہے حالانکہ اسلام واحد دین ہے جس نے ان تمام حقوق کو مفصل بیان کیا اور ان حقوق کا مستحق عورت کو قرار دیا۔ عورت پر آج کل جو عام ظلم و بربریت ہے وہ ہے جسمانی تکلیف hysical torture ۔اکثر عورتوں کو بے گناہ اور بلا قصور مارا اور پیٹا جا رھا ہے حالانکہ ہمارے رسول ؐ نے کبھی بھی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھایا جیسے کہ ہماری ماں حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم کا کردار مبارک بیان کرتی ہیں، اسی طرح عورت پر مظالم میں ایک اور ظلم آج عام ہے اس کو گھر میں مزدور اور نوکر جیسا سمجھا جاتا ہے اور اسی طرح کام لیا جاتا ہے حالانکہ مرد عورت کا لباس اور مددگارہے جیساکہ قران مجید سے واضح ہو تا ہے ہمارے رسول رحمت صلی اللہ علیہ وسلم گھر کا کام خود کرتے تھے تو ہمیں چاہئیے کہ ہم اپنی خواتین کو اپنی خادمہ نہ سمجھے بلکہ ان کا دست بازو بنکر ان کا مدد اور تعاون کرے۔ مضمون کے طویل ہونے کے خوف سے انہیں کلمات پر مکتفی ہوں اور خالقِ کائنات سے دعاء کرتا ہوں کہ ہمیں اپنے دین رحمت کے فہم وعلم سے مالا مال کرے اورہمیں خواتین کے حقوق بجا لانے کی توفیق عطا فرمائے اور خواتین ِاُمت کو بھی اپنی ذمہ داریاں اور اسلام میں اپنا مقام ومرتبہ سمجھنے کی قوت عطاء فرمائے اور اسکی قدر کی توفیق سے نوازے۔ بے شک اللہ تعالی ہم سب کے لیے کافی ہے۔ 
پروفیسر سلفیہ کالج سرینگر 
 

تازہ ترین