تازہ ترین

بیٹیاں پھولوں کی مانند ہیں

احتیاط کے ساتھ اِن کی آبیاری کرو

تاریخ    15 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


بلال احمد پرے
آج سے تقریباًچودہ سو سال پہلے زمانہ جاہلیت میں عرب قبائل میں بعض ایسے لوگ بھی تھے جو لڑکیوں کی پیدائش کو عار سمجھتے تھے اور اِن لڑکیوں کو زندہ دفن کر دیتے تھے ، ایسی انسانیت سوز حرکت کرتے وقت وہ کسی طرح کا خوف نہیں رکھتے تھے ، اُنہیں اپنی اِس بے رحیمانہ قدم پر کوئی احساس، تردد و افسوس ہوتا تھا اور نہ ترس آتا تھا ۔ اُنہیں ہر صورت میں لڑکی کی پیدائش باعثِ عار نظر آتی تھی ۔ اُسے انسانی وجود کا کمزور، حقیر اور ناکارہ حصّہ سمجھ کر ذِلت و رسوائی محسوس کی جاتی تھی ۔اس سب وحشیانہ تشّدد کے پیچھے جاہلیت چھپی تھی جس کے سبب یہ سب کار فرما دیا جاتا تھا ۔ زمانہ جاہلیت میں عورت کا کوئی مقام و مرتبہ نہیں تھا، عیسائیت اور یہودیت کے مذہب میں بھی اس سے بڑی آزمائشوں سے گزرنا پڑتا تھا ۔ اگر برصغیر ہند کی بات کی جائے تو اس کو شوہر کے موت واقع ہونے پر زندہ جلایا (ستی ہونا) جاتا تھا - دینِ اسلام نے عورت کو ناقدری، زبوحالی، ذِلت و رسوائی جیسی پستی سے نکال کر عزت و اکرام کا اعلٰی مقام عطا فرمایا ہے ، اُنہیں دنیا میں لڑکوں کی طرح جینے کا حق عطا کیا گیا ۔
اسلام نے عورت کو عظیم مقام و مرتبہ دیا ہے ۔ انہیں دیگر حقوق کے ساتھ ساتھ عزت و اکرام سے جینے کا حق بھی فراہم کیا ہے ۔ اُسے کسی بھی طرح مرد سے کم تر نہیں گنوایا نہ عملِ صالح کرنے میں کم ثواب کا مستحق ٹھرایا ہے ۔واضح رہے یہ واقعات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے قبل کے تھے ، لیکن حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے بحیثیت آخری رسول آتے ہی اسلام نے سب سے پہلے عورتوں کو جینے کا حق عطا فرمایا ۔ قرآن کریم نے ایسے لوگوں کو جو اپنی معصوم نوزائید بیٹیوں کو زندہ دفناتے ہیں کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنے کے لیے تیار رہنے کو فرمایا ہے۔ اُن کے واسطے ارشاد فرمایا ہے کہ ’’ اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا کہ وہ کس جرم میں ماری گئی ‘‘ (التکویر؛ ۸ تا ۹) کی آیات مبارکہ کا نزول فرمایا جس میں بیٹیوں کو عزت و اکرام بخش دیا گیا ہے ۔ اس طرح ایک معصومہ کو قیامت کے دن اپنے قاتل باپ کے خلاف گواہی دینے کے لئے کھڑا کر دیا جائے گا ۔ یہ معصوم زندہ دفن ہوئی لڑکی یہی جواب دے گی کہ اس کا صرف اتنا جرم تھا کہ وہ ایک لڑکی تھی - جس کی بناپراُسے دنیا میں جینے کا حق چھین لیا گیا ۔
اگرچہ آج کل لڑکیوں کو زندہ دفن نہیں کیا جاتا مگر دورانِ حمل ہی ڈاکٹری جانچ کے ذریعے لڑکی کا جنس معلوم ہوتے ہی درند صفت شوہر اپنی بیوی کو حمل گرانے پر مجبور کر دیتے ہیں اور بعض لوگوں کو بیٹی کی آمد پر ناپسندیدگی اور اُن کے چہروں پر کدورت چھا جاتی ہے۔ اس طرح یہ لوگ جرم کی نوعیت کے اعتبار سے اُنہیں لوگوں میں شامل ہیں جن کے متعلق قرآن کریم نے وعید فرمائی ہے ۔ دوسری جانب آج کل فحاشی اور عریانیت اپنے بام عروج پر ہے ۔ دیگر خطوں کے علاوہ وادئ کشمیر جس سے پیر وارئ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے میں اخلاقی بے راہ روی بُری طرح سے پھیل چکی ہے - یہاں ظالم ہاتھوں کے ذریعے لاوارث معصوم بیٹیوں کو غرق آب کیا جاتا ہے یا اُنہیں گندگی کے ڈھیر میں پھینک دیا جاتا ہے ۔حال ہی میں جنوبی کشمیر کے تجھی واڑہ اننت ناگ میں ایک ایسا دلدوز واقع رونما ہوا جو فحاشی و بے راہ روی کی ایک کڑی ہے، جہاں ایک لاوارث نوزائیدہ بچی کو دریا جہلم سے بر آمد کیا گیا - آخر کیا وجہ ہے کہ اس سے زندہ غرقِ آب کر دیا گیا ؟
اے بے رحم انسان! اب خود ہی ذرا سوچ اُس وقت آپ کو کیسی رسوائی ہوگی کہ جب اللہ سبحانہٗ و تعالیٰ کی عدالت میں آپ کو اپنی ہی معصوم بیٹی کے قتل کا مرتکب ٹھہرایا جائے گا ، جس کو آپ نے اپنے ہاتھوں سے گلا گھونٹ کر بے دردی سے قتل کیا تھا ۔ جب اُس نھنی منھی پری کی معصوم خوبصورت آنکھیں کہہ رہی تھی کہ ' ابو مجھے جینے دو ، خاموش لب کہہ رہے تھے کہ 'بابا مجھے بے دردی سے قتل مت کرو ، نازک جسم کہہ رہا تھا کہ ' بابا مجھ پہ ترس کرو ۔  لیکن آپ کا پتھر جیسا دل، ظالم حرکتیں، نشیلی آنکھیں، بہرے کان اور وحشی جسم نے اُس کی ایک بھی بات نہ مانی ۔ تجھے ذرا بھی ترس آیا نہ تیرے دل میں اُس کلی کے لئے محبت جاگ اٹھی ۔اب وقت آپ کی تذلیل و رسوائی کا ہے - آپ کو اللہ رب العالمیین کے دیدار اور شفاعت رسول صلی اللہ علیہ و سلم سے محروم ہونا پڑے گا - دنیا میں ذرا سی غفلت کیا ہوئی کہ آپ کے سارے اعمال ہوا میں روئی کی طرح اُڑا دئے جائیں گے ۔
موجودہ دور میں انسان نے جہاں دنیاوی اعتبار سے خوب ترقی پائی ہے ۔ وہی اسلام کی پُر نور تعلیمات سے دور ہوتا ہوا دکھائی دے رہا ہے ۔ بدقسمتی سے آج کل کا انسان بھی عرب کے اُس دورِ جاہلیت کی طرح بے رحمانہ قدم پہ عمل کرنے لگا، جس سے آنحضور صلی اللہ علیہ وسلم نے کب کا ختم کر ڈالا ہے ۔ ایک دفعہ اللہ کے رسولؐ کی خدمت میں ایک صحابیؓ اس طرح کے گناہِ عظیم کا ذکر کرنے لگا تو آپؐ اور آپ کے جانثار صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین زور و قطار سے رونے لگے۔ اُس صحابی ؓ نے جاہلیت کے دور میں قبل از واردِ اسلام کے اپنے ہاتھوں رونما ہونے والے اس درد ناک واقعے کی ذکر کرتے ہوئے یوں فرمایا ہے کہ ’’اے اللہ کے نبیؐ! میری ایک خوبصورت لڑکی تھی ایک دن میں نے اُس کی ماں کو اُسے لباس پہننے کے لیے کہا کہ میں اُسے اس کے چچا کے ہاں لے جائو۔ میری غریب بیوی یہ جان گئی کہ اس کا کیا مطلب ہے مگر بے بسی کی حالت میں حکم کی تعمیل کرتی رہی اور رونے لگی۔ اس نے بیٹی کو لباس پہنایا اور لڑکی بہت خوش تھی کہ اُسے اپنے چچا کے پاس جانا ہے۔ میں نے اُس کو ایک کنواں کے نزدیک لیا اور اس کے نیچے دیکھنے کے لیے کہا تو میں نے اُس کو اسی میں گرا دیا۔ جونہی وہ اس کے اندر چلی گئی وہ چِلّا رہی تھی " اَبُو، اَبُو، اَبُو " (سنن دارمی )
آج کل بھی اسی طرح ہر روز کئی معصوم بیٹیوں کو بے خوف و خطر شاہراہِ عام پر پھینک دیا جاتا ہے۔ لاوارث بچوں کے واقعات اپنے بامِ عروج پر ہیں، جنہیں سرِ عام تجہیز و تکفین کے بغیر ہی لوگوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا جاتا ہے ۔ جب کہ اسلام نے لڑکیوں کی پرورش کو باعث فخر و ثواب بتا دیا ہے ۔
اللہ کے رسو ل صلی اللہ علیہ وسلم نے کئی احادیث میں واضح کیا ہے کہ جو مسلمان اپنی بیٹیوں کو اچھی تربیت و پرورش کرے، جنت میں اُس کا  اعلیٰ مقام ہوگا۔
الغرض آج بھی کوکھ میں پل رہی بیٹیاں چِلا رہی ہے کہ ابو مجھے جینے دو، بابا مجھے قتل نہ کرو، بابا مجھ پہ ترس کھائو،  مجھے بھی دنیا میں آنے دو - لیکن اُس معصوم پری کی اِس میٹھی درد بھری آواز کو ایک ظالم باپ کہاں سن رہا ہے ۔ اس انسانیت سوز درندگی نے ہر طرف جدید جاہلیت کی صورت اختیار کر لی ہے ۔ اس پر روک لگانے کے لیے صرف اور صرف دینِ اسلام کو ذوق و شوق سے اپنا کر اس ناسور سے نجات حاصل کی جا سکتی ہے۔
لہٰذا وقت کی اہم ضرورت ہے کہ بیٹیوں کو جینے کا پورا حق دیا جائے ۔ یہ باعث رحمت وسیلہ دخولِ جنت ہے ۔یہ باپ کی شفیق، رفیق و ہمدرد ہے - انہیں بے دردی سے قتل کرنے سے اجتناب کریں۔ صنف نازک کے لئے دینی تعلیم کا بہترین نظم و نسق کا انتظام کیا جائے تاکہ جدید جاہلیت میں بھی حضرت عائشہؓ کی طرح اُستانی و مفتیہ، حضرت نصیبیہؓ کی طرح با غیرت ماں، حضرت خنساء ؓ کی طرح بہادر ، صابر و با حیّا بیٹی اور حضرت شفاءؓ بنت عبداللہ کی طرح عادل منصفہ اُمت کو مل جائیں - عورتوں کو حقوقِ زن در اسلام سے روشناس کریں - والدین کو بھی چاہیے کہ بیٹیوں یعنی اللہ کی دی ہوئی انمول نعمت کی قدر کریں۔فحاشی و عریانیت کا دروازہ بند کرنے کے لئے بچوں کو بلوغیت کے ابتدائی مرحلے میں ہی نکاح کریں ۔ نکاح کو آسان سے آسان تر بنانے کے لئے ضروری اقدام اُٹھائیں، نہیں تو فحاشیت مزید اضافہ ہوتا رہے گا۔ گورنر انتظامیہ کو چاہیے کہ اس ضمن میں متعلقہ قانون کو نافذ العمل بنائے اور ایسے لوگوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائے۔ دانشوروں، مفکروں، علمائے کرام و خطیب حضرات کو بھی اپنا مثبت کردار ادا کرنا چاہیے، اس طرح کے اقدامات سے اِس افسوس ناک حرکت کا قلع قمع کیا جا سکتا ہے۔ اللہ رب العالمین ہمیں بیٹیوں کی عزت و اکرام برقرار رکھنے کی توفیق بخشے، آمین 
ہاری پاری گام ترال
رابطہ - (9858109109)