تازہ ترین

تم کیا ہو، تم جانو؟

خود غرض کی غرض کبھی پوری نہیں ہوتی

تاریخ    8 جولائی 2021 (00 : 01 AM)   


جبیں نازاں
پچھلے دو تین ہفتوں سےرام مندرپھر سے سرخیوں میں ہے، اس بار سرخی کی وجہ عام دنوں سے بالکل مختلف ہے۔یوں محسوس ہوتا ہے کہ رام مندر کا مقدر تنازعہ بن کر رہ گیا ہے ؟ بہرحال !آج کا موضوع رام مندر سے بالواسطہ نہیں بلکہ بلا واسطہ تنازعہ کی طرف آتی ہوں رام جنم بھومی کے آس پاس ایک زمین کی خریدو فروخت کا معاملہ سیاسی خیمے اور میذیا گلیاروں میں ہنگامہ برپا کرنے کاباعث بنا ہے ۔ اس ہنگامے کی ابتدا اس وقت ہوئی جب سماج وادی پارٹی کے راہنما اور عام آدمی پارٹی کے راہنما سنجے سنگھ نے انکشاف کیا، اور وہ  اس زمین کے حاصل شدہ دستاویز لے کر میڈیا کے سامنے روبرو ہوئے کہ 2 کروڑ کی زمین صرف پانچ منٹ میں 16 کروڑ پچاس لاکھ روپئے میں کس طرح  فروخت کی گئی؟آگے کی کہانی آپ سب کو معلوم ہے -
یہ خبر ہمارے لیے کوئی اہمیت نہیں رکھتی۔ کیونکہ رام کا نام لے کر اقتدار حاصل کرنے والوں کی کارکردگی ' ہم ہی نہیں سارا جگ جانتا ہے ، ہمیں کچھ نہیں کہنا اور ہم کچھ کہتے بھی نہیں، اس شعر کے مصداق  ؎
ہم کچھ نہیں کہتے کوئی کچھ نہیں کہتا
تم کیا ہو سب سے کہلوائے چلو ہو
یہ خبر ان پر بجلی بن کر گری ہوگی، جنھوں نے ایک ایک پیسہ جوڑ کر جمع کیا تھا اور اپنا گولک توڑ کر رام مندر کے نام پر پُنہ(ثواب) کمانے کی غرض سے دان کیا ہے۔
ان عطیہ دینے والوں میں آٹھ ، دس سالہ لڑکے،لڑکی یعنی کہ بچے بھی شامل ہیں ، ان بچوں کی نفسیات سمجھنے کی کوشش کی جائے ، وہ اس خبر کو اور اس سے جڑی ہوئی تمام جزئیات یعنی 
کہ پیچیدگیاں، کو پیش نظر رکھتے ہوئے کیا کیا سوچ رہے ہوں گے ؟ ان کی مذہب سے متعلق صاف وآفاف فکر پر کیا گزر رہی ہوگی ؟ ان کے "دھرم کے دَرپن " میں جو گرد اڑائی گئی اسے کیسے صاف کیا جائے ؟ ان کا یقین 'استھا پر قائم ہوسکے گا؟ 'استھا 'کے نام پر چندہ اکٹھا کرنے والوں نے ان کی 'استھاہ کے ساتھ زبردست( ہندی میں لکھوں تو)وشواس گھات کیا ہے۔ یہ بچے ملک کا مستقبل ہیں ۔کل ان کے ہاتھ میں ملک کی باگ ڈور ہوگی !آپ کے عمل کی چھاپ ان کے ذہن و دماغ میں ثبت ہوچکی ہوگی ۔تو وہ کل آپ کے نقش قدم پر چلتے ہوئے 'رام مندر 'کا سودا کر بیٹھے تو پھر کیا ہوگا ؟؟ وہ دلائل کے طور پر آپ کی مثال پیش کرتے پھریں گے! ہم نےالگ سے کچھ نہیں کیا ہے ہم نےاپنی " پرمپرا کےانوسار" (  روایت کے مطابق) اپنے پر وَجوں کی تقلید کی ہےاور یہ ہمارے لیے باعث فخر ہے کہ ہم اپنی ثقافت کے رہین ہیں۔ 
ہر دن ایک نئی خبر آتی ہے اور ایک نیا انکشاف ہوتا ہےلیکن دو دن قبل ایک اور خبر آئی وہ یہ کہ جو زمین خرید وفروخت کی گئی دراصل وہ زمین سنی وقف بورڈ کی ہے ۔اسے 1924ء میں حاجی محمد فقیر نے وقف کیا تھا - اس وقت وقف کیے جانے کے اصول کے مطابق وقف کا متولی اسی خاندان کا ہوا کرتا تھا کہ جس نے اپنی املاک وقف کی ہو، اس قانون کے مطابق اس زمین کا بھی متولی حاجی محمد فقیر کی نسل کے محمود عالم تھے ۔ یہ بات 1994ء کی ہے جب محمود عالم کا انتقال ہوا تو ان کے بھائی محمد اسلم متولی ہوئے (جو ان ہی کے خاندان کے تھے ) 2009ء میں محمد اسلم کو معلوم ہوا کہ یہ زمین محمود عالم کے بیٹوں نے (محفوظ عالم نور عالم فیروز عالم نے) اپنے نام کرلی ہے - محمد اسلم نے تحصیلدار سے شکایت کی ،بات ضلع مجسٹریٹ تک پہنچی ' 8 سال تک قانونی لڑائی لڑی گئی بالآخر یہ کیس محمد اسلم اور سنی وقف بورڈ نے جیت لیا ، ضلع انتظامیہ نے اس زمیں پر سنی وقف کا بورڈ لگادیا اور یہ تحریر کرڈالا کہ اس زمین کی خریدو فروخت قانوناً ممنوع ہے ۔دو مہینہ بعد 19  ستمبر 2017ءکسم پاٹھک اور ہریش پاٹھک کے ہاتھوں یہ فروخت کی گئی۔
وحید احمد کے علم میں یہ بات 22اپریل 2018ء کو آئی۔ وحید عالم نے ہریش پاٹھک اور کسم پاٹھک کے خلاف ایف آئی آر درج کروائی اور پھر ہریش پاٹھک کسم پاٹھک بی جے پی کے مئیر اور ایک پراپرٹی ڈیلر رضوان انصاری اور رام مندر ٹرسٹ کے کار گذار منہت چمپت رائے وغیرہ نے مل کر منافع کمانے کے لیے رام مندر ٹرسٹ ، رامندر کے نام پر قائم کی گئی فنڈنگ کا کس طرح  استعمال کیا،ساری خبریں چھن چھن کر میڈیا(خیال رہے گودی میڈیا نہیں ) کے توسط سے ہم تک پہنچ رہی ہے ۔
آگے آگے دیکھئے اور کتنے نئے نئے انکشاف ہوں گے۔ سچ کہا تھا ایک سیاسی مبصر نے کہ بی جے پی کے مقامی راہنما جتنے صفائی پیش کریں گے اور خود کو عوام کے سامنے بے قصور ہونےکے ثبوت پیش کریں گے، اتنے ہی بی جے پی پارٹی اُلجھتی چلی جائے گی! چمپت رائے تو چمپت ہوگئے لیکن عوام اور رام کے وہ بھولے بھالے معصوم بھگت جنھوں نے رام مندر نرمان کے لیے چندہ دیا انگشت بدنداں ہیں۔
جتنا قصور وار کسم پاٹھک اینڈکمپنی ہے ، اتنا ہی قصور وار فیروز عالم برادران بھی ہیں۔
بھارتی عوام سوچ رہی ہے سیا ست میں مذہب کا مقام صرف ستہ(عہدہ) پانا رہ گیا ہے ؟
یہ سیاست داں حصول منشا کی خاطر عوام کو مذہب کی نام پر تفریق پیدا کرنا سکھاتے ہیں، انھیں جذباتی دھارے میں بہاکرخون کی ندیوں کا قیام کرتے ہیں اور خود 'سکھ 'بھوگنے کے لیے پردے کے پیچھے اس دشمن سے گلے ملتے ہیں، جنھیں عوام کی نظر میں غدار اور دشمن ٹھہراتے ہوئے نہیں تھکتے، کسی قوم کے راہنما ہوں یا کسی مذہب کے راہبر یا کوئی اور ان کے قول وعمل کے تضادات انھیں ان کی قوم ان کے مذہب کو وقتی منافعت بخشنے کا وسیلہ بن سکتی ہے لیکن دیرینہ نہیں، یہ وقتی حصول و مفاد مسقبل کے لیے انتہائی خطرناک اور دردناک انجام کی صورت میں اختتام پذیر ہوتا ہے۔تاریخ گواہ ہے تاریخ سے جو درس حاصل نہ کریں ! وہ طفل ناداں ہی تو ہیں۔ 
   Jabeennazan 2015@gmail.com
 

تازہ ترین