مکمل ریاست کی بحالی پہلا قدم: ڈاکٹر فاروق

ایک ملاقات کافی نہیں: عمرعبداللہ

تاریخ    25 جون 2021 (00 : 01 AM)   


بلال فرقانی
سرینگر//نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبد اللہ نے وزیر اعظم نریندر مودی سے جموں و کشمیر میں اعتماد بڑھانے کی اپیل کی ہے تاکہ اس بات کا یقین ہو جائے کہ جموں کشمیرکامکمل ریاستی درجہ بحال ہو۔ اجلاس کے فوراً بعد ڈاکٹر عبد اللہ نے کہا کہ نیشنل کانفرنس آئین کے دفعہ 370 کے تحت جموں وکشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے کو قانونی اور آئینی ذرائع سے چیلنج کرتی رہے گی۔ان کا کہنا تھا’’ایک اعتمادکی کمی ہے جسے فوری طور پر بحال کرنے کی ضرورت ہے اور اس کیلئے مرکز کو مکمل ریاست کی بحالی کے لئے کام کرنا چاہئے ‘‘۔انہوں نے مزید کہا’’ میں نے وزیر اعظم کو آگاہ کیا کہ ریاست کا مطلب جموں وکشمیر کے ’آئی اے ایس‘ اور’ آئی پی ایس‘ کیڈروں کو بھی واپس کرنا ہے، ریاسی درجہ مکمل طور پر بحال ہونا چاہیے۔ نیشنل کانفرنس سربراہ نے کہا کہ مرکز کے لئے یہ بہت ضروری ہے کہ جلد سے جلد جموں و کشمیر کی شناخت بحال کی جائے تاکہ دیگر جمہوری مشقوں کو آگے بڑھایا جاسکے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ وزیر اعظم مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ دونوں نے یقین دلایا کہ وہ جموں و کشمیرکے ریاستی درجے کی بحالی کے لئے وہ پرعزم ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا’’اس ملاقات کے دوران وزیر اعظم نے کہا  وہ '’’دل کی دوری اور دلی کی دوری‘‘کو ختم کرنا چاہتے ہیں لیکن مجھے اور دوسرے  لیڈراں کو بھی یقین ہے کہ ایک ملاقات اس کیلئے کافی نہیں ہے۔ تاہم ، ایک عمل  ہے جو شروع ہوا ہے۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ مرکزی قیادت کو مطلع کیا گیا ہے کہ یہ مشق خود ہی اس مقصد کو شکست دے رہی ہے جس کے ساتھ بی جے پی کی زیرقیادت حکومت نے 5 اگست 2019 کو خصوصی حیثیت کے خاتمے کی مشق کی تھی۔ انہوں نے کہا’’ایک طرف مرکزی قیادت نے دعوی کیا کہ اگست 2019 میں یہ فیصلہ جموں وکشمیر کے ہندوستانی یونین کے ساتھ مکمل طور پر انضمام کے لئے لیا گیا تھا اور دوسری طرف اسی جموں و کشمیر  اور آسام کے لئے علیحدہ حد بندی کمیشن لا کر مختلف سلوک کیا گیا‘‘۔انہوں نے پوچھا ’’اگر آسام کے لئے حد بندی کمیشن کو روکا جاسکتا ہے اور وہاں اسمبلی انتخابات ہوسکتے ہیں تو پھر جموں وکشمیر کے لئے کیوں نہیں، کیا یہ مرکزی قیادت کے مقصد کو شکست نہیں دے رہا ہے‘‘۔
 

تازہ ترین