کتاب و سنت کے حوالے سے مسائل کا حل

تاریخ    25 جون 2021 (00 : 01 AM)   


کورونا سے فوتیدہ افراد ۔غسل کا شرعی حکم

سوال: کووِڈ وائرس میں فوت ہونے والے افراد کو غسل دے سکتے ہیں یا بغیر غسل کے ہی دفن کیا جاسکتا ہے جبکہ کئی ایسے واقعات سامنے آئے ہیں جب میتوں کو بغیر غسل کے دفن کیا گیا ۔
عبدالکبیر ۔عید گاہ سرینگر
جواب:میت کو غسل دینا ضروری ہے ۔کرونا میں مبتلا شخص کے علاج معالجہ کے دوران جن احتیاطی تدابیر کے ساتھ سارا عمل کیا جاتا ہے، علاج ،خبر گیری ،تیمار داری ،کھلانے پلانے وغیرہ میں جو عمل اختیار کیا جاتا ہے، انہی تدابیر کے ساتھ اُس کا غسل اور کفن دفن بھی کرنا ممکن ہے بلکہ اس پر مقامی سطح پر بھی اور دوسرے مقامات پر بھی عمل ہوتا رہتا ہے ۔لہٰذا اگر اس حکم ِ شرعی کو انجام دینے میںوہ مخصوص لباس جو P.P.Eکہلاتا ہے استعمال کیا جائے، واٹر پروف گلاوز بھی پہن لئے جائیں اور پھر میت کا منہ اور ناک اچھی طرح بند کیا جائے۔اسی طرح جسم سے جہاں جہاں سے کوئی داخلی رطوبت باہر آسکتی ہو اُن مقامات کو بند کیا جائے تو غسل دینے میں کوئی خطرہ نہیں ہے۔متعدد ماہرین طب اور نہایت تجربہ کار ڈاکٹر صاحبان سے مفصل معلومات لینے کے بعد خلاصہ یہ ہے کہ غسل دینے میں تو خطرات بہت کم ہیں۔اس لئے کہ اس وائرس کی منتقلی زیادہ تر سانس سے ہوتی ہے اور مردہ سانس لینے اور اُسے چھوڑنے سے معذور ہوچکا ہوتا ہے ۔گویا مُردے سے بذریعہ سانس وائرس کا مرض منتقل ہونے کا امکان ختم ہوچکا ہوتا ہے ۔اس کے باوجود تمام احتیاطیں اپناکر غسل دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں۔غسل دینے میں بھی اگر میت سے دور رہ کر صرف پانی کا بھرپور چھڑکائو کیا جائے ،جس سے پوراجسم اچھی طرح تر ہوجائے تو وہ وہم اور ختم ہوجائے گا ۔
علاج معالجہ و تیمار داری شرعی حکم اور غسل بھی شرعی حکم ہے۔ جیسے علاج معالجہ کو اور خدمت و عیادت اور تیمار داری کو وائرس کے خطرے کی بنا ء پر ترک نہیں کیا جاسکتا ،اسی طرح اس کم امکانی خطرے کی وجہ سے غسل کا شرعی حکم بھی ترک نہیں کیا جاسکتا ۔ہاں جیسے احتیاط وفات سے پہلے ہوتی تھی وہی بلکہ اُس سے زیادہ غسل میں کی جائے ،مگر شریعت کا حکم بجا لایا جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال:(۱)کیا کوئی آدمی، چاہے وہ شادی شدہ ہو یا بغیر شادی کے، بالوں اور داڑھی میں مہندی کے علاوہ کوئی بھی رنگ (Colour) لگا  سکتا ہے۔اگر ہاں تو برائے کرم وضاحت کیجئے۔
سوال:(۲) شادی کا مسنون طریقہ کیا ہے۔ہمبستری کن کن موقعوں پر ناجائز اور ممنوع ہے؟بچہ پیدا ہونے کے بعد عقیقہ وغیرہ کا طریقہ یا ’’سندر‘‘ جو کشمیری سماج کا ایک عمل ہے، کا جائز طریقہ کیا ہے؟برائے کرم تفصیلاً اس پر روشنی ڈالیئے۔
سوال:(۳) مجھے نکاح کرنا ہے ۔لڑکی میں کون کون سے اوصاف ہونے چاہئیںاور کیا شادی سے پہلے لڑکا لڑکی ایک دوسرے کو دیکھ کر پسند کرسکتے ہیں؟
سوال:(۴) میں نے M.Aکیا ہے مگر اب Over Ageہوچکا ہوں۔بہت فارم بھرے تھے مگر ابھی تک کچھ نہیں ہوا۔برائے کرم میرے حق میں دعا کیجئے تاکہ میرا مسئلہ حل اور آسان ہوجائے۔اگر کوئی وظیفہ ہو تو وہ بھی بتا دیجئے۔
مشتاق الطاف۔بارہمولہ کشمیر

داڑھی اور بال رنگنے کا مسئلہ

تمام سوالوں کا جواب حسب ترتیب درج ذیل ہے۔
جواب:(۱)خالص کالا رنگ کرنا منع ہے بقیہ رنگ جائز ہیں مگر سیاہ بالوں کو برائون کرنا غیر شرعی فیشن ہے اور سخت منع ہے۔
 شادی بیاہ میں اصراف کی کوئی گنجائش نہیں
جواب : (۲)شادی کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ رشتہ طے ہوجانے کے بعد سادہ طور پر نکاح کی مجلس منعقد کی جائے ،جس میں پُر تکلف کھانے،غیر ضروری آرائش اور بلا ضرورت کی ویڈیو گرافی اور فوٹو گرافی سے پرہیز ہو،پھر رخصتی کی جائے جس میں دولہا کے ساتھ صرف ایک دو مرد ہوںاور وہاں سادہ کھانا یا چائے وغیرہ پی جائے،پھر دولہا حسب گنجائش ولیمہ کی دعوت کرے جس میں نہ اسراف ہو نہ کھانا ضائع ہو ،نہ مردوزن کا اختلاط ہو نہ نمود و نمائش ہو ،نیز تمام غیر شرعی رسوم مثلاً گانا بجانا ،عورتوں کا سڑکوں پر نکل کر ملکر گانا ،غیر ضروری آرائش ،مردو عورتوں کا مخلوط مجمع ،ویڈیو گرافی کرنا ،ضرورت سے زیادہ کھانے پینے کا اسراف کرنا وغیرہ ،یہ سب غیر شرعی کام ہیں ۔ان سے پرہیز کرنا ضروری ہے ،بس یہی شادی کا مختصر مسنون طریقہ ہے۔مزید تفصیلات مستند کتابوں میں پڑھی جائے۔

 شادی کے لئے منتخبہ لڑکی کے مطلوب اوصاف

جواب : (۳)لڑکی میں یہ اوصاف مطلوب ہیں۔دین کی تمام اساسی باتوں کا علم ہو ،قرآن کریم پڑھی ہوئی ہو ،نماز ،تلاوت،روزہ کی پابند ہو ،باحیا اور باحجاب ہو،فیشن پرستی سے پرہیز کرتی ہو،نا محرم مردوں سے پردہ کرتی ہو اور تمام فرائض کو ادا کرتی ہو اور اسلام نے عورتوں کے لئے جو چیزیں حرام کی ہیں اُن سے پوری طرح اجتناب کرتی ہو ،پاکدامن عفت و عصمت کی محافظ ہو ،پاکیزہ لٹریچر پڑھی ہوئی ہو۔

 ذرائع روزگار کا انتخاب ۔چند مشورے

جواب: (۴)تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار انسان کی اہم ترین ضرورت ہے ۔یہ روزگار صرف ملازمت نہیں بلکہ زیادہ بہتر یہ ہے کہ جائز اور شفاف تجارت کی جائے۔حقیقت یہ ہے سب سے بہتر روزگار تجارت اور صنعت ہے ،اس میں برکت بھی ہے اور آمدنی کے حرام ذرائع سے بچنے کے امکانات بھی زیادہ ہیں۔تجارت ملازمت کے مقابلے میں کئی اعتبار سے بہتر ذریعہ آمدنی ہے اور یہ حدیث سے ثابت ہے ۔تعلیم کے بعد یہ سوچ کر صرف ملازمت پر ہی ساری نظر ہے اور اُس کو حاصل کرنے کی ساری دوڑ دھوپ ہو اور پھر جب وہ نہیں ملتی تو مایوسی ،ڈپریشن اور تعلیم کے بے کار ہونے کا خیال اُبھرتا ہے۔یہ سب کچھ صحیح سوچ نہیں ہے اور اگر تعلیم کے دوران ہی ذہن میں رہے کہ تجارت ایک بہترین ذریعہ ٔ معاش ہے اور اگر ملازمت نہ ملے تو وہی اختیار کریں گے تو ایک مثبت سوچ ہے اور بہت ساری پریشانی سے حفاظت ہے،پھر اگر تجارت چھوٹے پیمانے پر ہی شروع کی جائے تو اللہ تعالیٰ شانہٗ برکت ،ترقی ،سکون ،راحت اور دوسروں کی مداخلت اور غیر ضروری بالا دستی اور ماتحتی کی پریشانیوں سے حفاظت فرماتے ہیںاور حلال عمدہ روزگار کھڑا ہوجاتا ہے۔حلال روزگار پانے کے لئے ،نمازوں کی پابندی،قرآن کریم کی تلاوت ،استغفار کی کثرت ،ماہر و تجربہ کار افراد سے مشورہ اور کثرت سے صلواۃ الحاجت پڑھ پڑھ کر دعائوں کا اہتمام کیا جائے،نیز صدقہ، چاہے کم ہو ،کیا جائے ۔ہر گناہ ِ کبیرہ سے پرہیز ہو۔ جب جب بے روزگاری کی پریشانی کا خیال آئے تو حَسبُنا اللہ وَ نعَم الوَکیل کثرت سے پڑھا جائے یا یہ پڑھیں :یا حیُ یا قیّوم ُ بِرَحمَتِکََ اَستَغیث۔نیز صالح ،عابد اور متقی اہلِ علم حضرات سے دعائیں کرائی جائیںاور خود بھی تہجُد کی نماز کی کوشش کرکے اُس وقت دعا کی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
سوال: آج کل بہت سارے پرفیوم ایسے پائے جاتے ہیں جن میں الکحل شامل ہوتا ہے ،جیسے ڈیورنٹ ۔کیا ایسے الکحل ملے ہوئے پرفیوم کے استعمال کی اجازت ہے اور کیا اس سے نماز میں کوئی حرج تو نہیں؟
محمد عرفان ۔لعل بازار سرینگر

 الکحل ملا پرفیوم۔استعمال کی گنجائش اور اس کی حدود

جواب:الکحل موجودہ دور میں دوا اور غذائوں میں کثیر استعمال ہونے والا ایک جدید پروڈکٹ ہے۔یہ دو قسم کی اشیاء سے عموماً تیار کیا جاتا ہے۔ایک قدرتی اشیاء ،جیسے پھولوں اور نباتات سے ،اس کو Natural Alcohalکہا جاتا ہے۔ دوسرے پٹرول اور دوسرے کیمیکلز سے ،اس کو Senthelic Alcohalکہتے ہیں۔یہی الکحل زیادہ تر استعمال کیا جاتا ہے مگر عطریات ،تیلوں اور پرفیومِز میں عموماً پھلوں پھولوں سے تیار شدہ الکحل استعمال ہوتا ہے ۔پھلوں میں بھی انگور اور کھجور کا تیار کردہ الکحل نہایت قیمتی ہوتا ہے ،اس لئے اس کا استعمال نسبتاً بہت کم ہوتا ہے۔زیادہ تر نیچرل الکحل سبزیوں اور کھجو و انگور کے علاوہ دیگر پھلوں سے کشیدہ کردہ استعمال ہورہا ہے ۔الکحل کا استعمال دو طرح سے ہوتا ہے ۔خارجی استعمال ،داخلی استعمال ۔خارجی استعمال جیسے خوشبوئوں میں ،روشنائی ،پینٹ ،رنگ و روغن میں نیز مختلف کریم ،لوشن اور پرفیومز میں اور اس کا داخلی استعمال کھانے پینے کی چیزوں مثلاٍ آئس کریم ،بسکٹ ،چاکلیٹ ،کیک اور بہت ساری دوائوں میں خاص کر طاقت پیدا کرنے والے ٹانک اور پینے کی دوائوں میں اس کا بکثرت استعمال ہوتا ہے۔
خارجی استعمال میں جو الکحل شامل ِ اشیاء ہیں ،اُن میں چونکہ ابتلائے عام ہے اس لئے امام ابو حنیفہؒ کی رائے کے مطابق ایسے الکحل ملی ہوئی اشیاء کے استعمال کی اجازت ہے۔ در حقیقت یہ ہے کہ وہ الکحل جو انگور اور کھجور سے تیار ہوتا ہے اُس کے ناپاک اور حرام ہونے پر تو اتفاق ہے مگر ان دو چیزوں کے علاوہ دیگر پھلوں ،سبزیوں ،اناجوں سے جو الکحل تیار ہوتا ہے اُس کے متعلق دو آراء ہیں۔امام ابو حنیفہؒ اور امام ابو یوسف کی رائے میں وہ ناپاک نہیں ہوتا اور بقیہ ائمہ مجتہدین کی رائے میں وہ بھی ناپاک ہیں۔
اب زیر نظر مسئلہ میں عموماً بلوی یعنی ابتلائے عام کی وجہ سے آ ج کے تمام اہلِ علم و اہلِ فتویٰ نے امام ابو حنیفہؒ کی رائے اختیار کرکے خارجی استعمال میں جو اشیاء آتی ہیں اُن میں گنجائش دی ہے ۔چنانچہ مسلم شریف کی شرح تکملہ فتح الملہم میں ہے۔
آج کل جو الکحل استعمال ہوتا ہے وہ عموماً مختلف قسم کے اناجوں ،پھلوں کے چھلکوں اور پٹرول سے تیار ہوتا ہے ،اس لئے عموم بلوی کی بنا پر امام ابو حنیفہ کی رائے اختیار کرتے ہوئے ایسی چیزوں کے استعمال کرنے کی گنجائش ہے۔لہٰذا اوپر کی تفصیل کی بناء پر ایسے پرفیوم استعمال کرنے میں حرج نہیں ،جس میں الکحل شامل ہو اور نہ اس سے نماز میں کوئی فرق پڑے گا ۔داخلی استعمال میں جو اشیاء الکحل شامل کی ہوئی ہیں ،اُن میں غذائوں میں ہو تو وہ غذا استعمال کرنا حرام ہیں۔مثلاً وہ کیک ،بسکٹ،چاکلیٹ ،آئس کریم وغیرہ اور دوائوں کے متعلق حکم ہے کہ اگر متبادل دوا موجود ہو تو الکحل ملی ہوئی دوا استعمال کرنا جائز نہیں۔اگر متبادل دوا موجود نہ ہو تو صرف بقدر دَوا استعمال کی اجازت ہے۔
 

تازہ ترین