تازہ ترین

شراب خوری کے نقصانات

قرآن وحدیث اور سائنس کے آئینے میں

تاریخ    25 جون 2021 (00 : 01 AM)   


شہزاد انوری
اسلام کی مقدس کتاب ’’قرآن مجید‘‘دنیا کی ہر کتاب سے مختلف اور ممتاز ہے ۔یہ پوری کائنات کا آئین ،تمام سائنسی حقائق کی دریافتوں کے لیے جوبھی کوشش جس قدر عظیم وسرگرم ہوگی وہ قرآن کے قریب ہو گی ،کیوں کہ قرآن کریم ایک مکمل سچ ہے ،اس کے ہر لفظ کے معنی کی وسعت اس حدتک ہے جہاں تک سچ اور حقیقت موجود ہے ۔ہر زمانے کے سائنسی دریافتیں قرآن کی ممکنہ اور گوناگوں تشریحات کو اجاگر کرتی ہیں ۔
شراب انسانیت کی بدترین دشمن ہے ،قرآن میں ارشادِ خداوندی ہے :ترجمہ : پوچھتے ہیں شراب اور جوے کا کیا حکم ہے ؟کہہ دیجیے ان دونوں چیزوں میں بڑی برائی ہے اگر چہ ان میں کچھ لوگوں کے لیے منافع بھی ہیں مگر ان کا گناہ ان کے نقصان سے بہت زیادہ ہے ۔دنیا میں صحت وصفائی کے ماہر پروفیسر ہرش نے لکھا ہے کہ ،جو تہذیب یافتہ امریکہ روشن خیال ہونے کے باوجود پچھلی چند دہائیوں سے شراب پر پابندی لاگو نہ کرسکا ،اسلام نے پچھلی چودہ صدیوں سے اس پر کامیابی سے پابندی لاگو کر رکھی ہے ،گویا انسانیت اور تہذیب وتمدن کو اسلام نے بہت پہلے سے بچا رکھا ہے ۔قرآن میں شراب پر پابندی تین نمایاں سورتو ں میں آئی ہے ۔
شراب جس میں چربی پگھلانے کی صلاحیت ہو تی ہے ،تخلیقی خلیوں میں داخل ہو کر ان کو بے حد نقصان پہنچاتی ہے ،اس کی عام فہم مثالوں میں نئی نسل کی ذہانت میں کمی اور ناقص بالیدگی شامل ہیں ۔بہت سے مطالعہ جات اور سروے یہ حقیقت ظاہر کرتے جارہے ہیں کہ ذہنی طور پر غبی بچوں کے والدین اکثر وبیشتر شدید قسم کی شراب نوشی کر تے تھے ۔یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ شراب تخمِ زن اور بیضۂ حیات کے خلیے کو بہت آسانی سے نقصان پہنچاتی ہے ۔اس کا نتیجہ یہ ہے کہ شرابی ماؤں کے بچے اکثر موروثی طور پر دماغی یا قلبی صدمے اور جھٹکے کا شکار ہو جاتے ہیں ۔
یہ حقیقت بار بار ثابت ہو چکی ہے کہ کس طرح شراب معاشرتی تعلقات اور استحکام پر اثر انداز ہو تی ہے ۔شرابیوں میں زود رنجی یا غصے کے فوری حملے ان کو معاشرے میں لاتعداد تنازعات میں الجھائے رکھتے ہیں ۔لاتعداد متواتر طلاقیں معاشرے کے بنیادی ڈھانچوں کو ہلا کر رکھ دیتی ہیں اور نتیجتا مجرمانہ ذہنیت کے حامل بچوں کو بڑھتی ہوئی تعداد کی وجہ سے تمام معاشرہ خطر ناک حد تک متاثر ہوتا ہے ۔مختلف قسم کے کام کرنے والے مزدوروں اور کاریگروں پر شراب کی وجہ سے بے دلی اور کاہلی کا غلبہ ہو جاتا ہے ۔اس طرح ان کی کارکردگی اور مہارت پر برا اثر پڑتا ہے جس کا آخری نقصان معاشرے کو ہوتا ہے ۔شراب کی وجہ سے انسانوں میں ایک دوسرے کی طرف غیر ہمدردی کے اثرات مرتب ہو تے ہیں ،اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ قومی تفکر،معاشرتی ایجاد اور مسائل کے خلاف جد وجہد کا جذبہ مکمل طور پر ختم ہو جاتا ہے ۔
المختصر قرآن ِ حکیم نے اس مسئلے کی بیخ کنی کر دی ہے جس کے لیے کسی معاشرے اور فلاسفر ودانشور میں اتنی ہمت نہ تھی کہ اس مسئلے کو دو ٹوک طریقے سے حل کرتا ۔اس وقت شراب خوری کی وباء معاشرے کی بنیادوں کو آہستہ آہستہ گھن کی طرح چاٹ رہا ہے ،ہماری ریاست جسے رشیوں اور منیوں کو گہوارہ ،اولیائِ کرام کا مرکز اور علم وہنر کے ماہرین کو جنم دینے کی نرسری کہا جاتا ہے ،کا ایک بہت بڑا طبقہ اس بیماری کا شکارہے ،وہ مسلمان جس کے چہرے سنت ِ نبوی کی جھلک ،چال ،ڈھال ،رفتار،گفتار اور کردار سے سنتِ نبوی کے طریقے آشکار ا ہونے چاہیے تھے آج وہ اپنے اوپر مغربی تہذیب کا لبادہ اوڑھ کر اس قدر شراب کے نشے میں دھت ہے کہ الامان والحفیظ۔سرینگر کے بادامی باغ سے متصل مغرب کی نماز کے بعد اپنی مسلم برادری کا اس قدر کثیر جھتا شراب کی خریداری میں مست نظر آتا ہے جن کی عمریں تیس اور چالیس کے درمیاں ہو ں گیں ،حلال کمائی کو حرام کاری میں استعمال کرنے کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہم نے تعلیماتِ اسلامی کو یکسر فراموش کر دیا ،نئی نسل اس قدر بے راہ روی کا شکار ہے کہ وہ شراب کو دورِ حاضر  کی سب سے عمدہ نعمت سمجھ کر نوش کر رہا ہے ،ہمارے حکمراں اس خلافِ شریعت عمل کو مزید فروغ دینے کے لیے کہیں ایوانِ بالا میں تو کہیں ایوانِ زیریں میں یا کہیں سوشل میڈیا کے سامنے اس کی جوازیت کے لیے یہ دلیل دے رہے ہیں کہ اس سے ہماری ریاست کے سیاحتی ڈھانچے کو مزید فروغ ملے گا ۔گناہ کرکرکے ہمارے قلوب پر اس قدر سیاہ داغ لگ چکے ہیں کہ حق گو کی بات ہمارے دلو ں پر اب اثر نہیں کرتی ۔اس ام الخبائث کی نحوست سے ہماری ریاست جموں وکشمیر کا ہر نوجوان متاثر ہو رہا ہے ۔ والدین اپنے بچوں کو عصری تعلیم کے حصول کے لیے زندگی بھر کی جمع پونجی کے ساتھ گہری امیدوں پر ملک کے نامور شہروں کے نامور تعلیمی اداروں میں پڑھنے کے لیے بھیجتے ہیں مگر افسوس صد افسوس کہ وہاں یہ ہونہار نوجوان نشے کی لت میں ملوث ہوجاتا ہے پھر اکثر دیکھنے میں آرہا ہے کہ ایمبولینس لاشیں لے کر ریاست میں پہنچتی ہے اور گھر کا یہ ہیرا ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نظروں سے اوجھل ہوجاتا ہے اس لیے ضرورت ہے اس بات کی کہ ہم اپنے معاشرہ کو منشیا ت کی لعنت سے پاک کریں،  اس کے نقصانات کو لوگوں  کے سامنے صاف اندازمیں  پیش کریں، نوجوانوں  کو بچائیں اور تباہی کے دلدل میں  پھنسنے سے ان کو روکیں،  بچوں  پر کڑی نظر رکھیں،  ان کی صحبت اور دوستی کا جائزہ لیتے رہیں،  منشیات کی قبیل کی تمام چیزوں  سے سختی کے ساتھ رکیں اور اپنی اولاد کو دینی ودنیوی،  ظاہری وباطنی،  روحانی وجسمانی نقصانات اور خطرات سے آگاہ کرتے رہیں-
آج ہمیں یہ عہد وپیمان کرنا چاہیے کہ ہم اپنے آپ کو ،اپنی اولاد کو اور پوری امت کو اس بیماری سے نجات دلانے کے لیے پر امن جمہوری ماحول میں آواز بلند کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب یہ بیماری ہمارے گھروں میں داخل ہو کر عریانیت ،فحاشیت اور بے راہ روی کو فروغ دے گی ۔
جامعہ امام محمدانورشاہ کشمیری علیہ الرحمہ شہر پونچھ
9469715470
 

تازہ ترین