ماں باپ کا رشتہ عظیم نعمتِ خداوندی

اسلام والدین سے حسن سلوک کا درس دیتا ہے

تاریخ    24 جون 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر رضوانہ انصاری
زندگی سے اگر رشتے نکل جائیں تو ہم کس قدر نامکمل اور ادھورے ہو جائیں اسی طرح ان رشتوں سے جڑے لفظ زندگی سے نکل جائیں تو زندگی کتنی بدمزہ کھوکھلی اور سنسان سی ہو جائے۔ کیونکہ لفظوں کا ذائقہ بھی ہوتا ہے اور احساس بھی۔ کچھ لفظ میٹھے ہوتے ہیں۔ کچھ کڑوے اور کچھ پُرتاثیر … کچھ الفاظ ایسے بھی ہوتے ہیں جو آپ کو اپنے حصار میں لے لیتے ہیں۔ ایسے ہی پرتاثیر لفظوں میں ایک لفظ ہے ’’ماں’’ جسے سنتے ہی ہم محبت کے حصار میں بندھ جاتے ہیں… اور ایک لفظ ہے ’’باپ‘‘ اعتبار، اعتماد اور تحفظ کے حصار میں لے لینے والا جاندار لفظ۔ ابا جان، والد صاحب ،بابا جانی، ابو جان، ڈیڈی جان کیسے خوبصورت لفظ ہیں کہ خودبخود ہماری آنکھوں کے سامنے ایک تصویر سی بن جاتی ہے۔
باپ کی رہنمائی، شفقت اور محبت کےبغیر ہماری ذات تو ذرۂ بے نشان کی مانند ہوتی ہے۔ باپ کا رشتہ عظیم نعمت خداوندی ہے۔ زندگی کے تپتے صحرا اور نفسانفسی کے دور میں ماں کے بعد باپ ہی وہ ہستی ہے جو اولاد کی معمولی سی تکلیف پر پریشان اور بے چین ہو جاتی ہے۔ بظاہر رعب اور دبدبے والی اس ہستی کے پیچھے ایک شفیق اور مہربان چہرہ ہوتا ہے جسے ماں کی طرح اپنے جذبات کا اظہار کرنا نہیں آتا۔ جو زمانے کے سرد و گرم برداشت کرتے ہوئے مسلسل ایک مشین کی طرح کام کئے جاتا ہے تاکہ اس کے جگر گوشوں کو کوئی تکلیف نہ پہنچے۔ انکے چہروں پرہمیشہ مسکراہٹ رہے۔ انہیں کسی چیز کی کمی یا حسرت نہ رہے۔ شاید اپنے آپ کو بہت مضبوط ثابت کرنے کے لئے اپنے اوپر ایک رعب اور سختی کا خول چڑھائے رہتا ہے۔ جبکہ اپنے اندر پیار، محبت، ایثار، شفقت اور تحفظ چھپائے رکھتا ہے۔ ساری زندگی مسلسل کام اور صرف کام۔یہی وہ عظیم باپ ہے جو اولاد کے سکھ، خوش حالی، تعلیم، صحت اور روشن مستقبل کی خاطر سخت محنت کرتے زندگی گزار دیتا ہے۔ صبح سے شام تک رزق کی خاطر ہزار صعوبتیں برداشت کرنے کے باوجود بچوں کو دیکھتے ہی اپنی تھکن بھول کر ان کی ناز برداریاں کرنا والد ہی کا خاصہ ہے۔ دنیا کا ہر باپ اپنی اولاد کے لئے ایسے ہی جیون تیاگتاہے خود اپنی ذات سے غافل ہوکر اپنی ہر ضرورت بھول کر اولاد کی ہر خواہش اور فرمائش پوری کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ اس کے اختیار میں ہو تو کسی بچے کی آنکھ میں ہلکی سی نمی بھی نہ آنے دے۔ ان کی زندگی میں کوئی تشنگی نہ رہنے دے اس کا بس چلے تو بچوں کی زندگی میں آنے والے غم مشکلات اور محرومیوں کو سمیٹ کر سمندر میں بہادے۔ ذرا سوچو کہ وہ کون ہے جو ہمیں بچپن میں ہوا میں اچھالتا ہے تو ہم خوف سے رونے کے بجائے قلقاریاں مارتے ہیں کیونکہ ہمیں یقین ہوتا ہے کہ یہ توانا بازو ہمیں سنبھال لیں گے۔ گرنے نہیں دیں گے۔ یقیناً یہ تحفظ میں جکڑنے والے بازو ہمارے والد کے ہوتے ہیں۔ جنہوں نے زندگی کے پہلے اٹھتے قدموں کو اپنے مضبوط پیروں پر رکھ کر ہمارے ننھے ننھے ہاتھ تھام کر یوں چلنا سکھایا کہ زندگی میں اعتماد سے چلنے کا حوصلہ مل گیا۔
یہ ہمارے باپ ہی تو ہیں جو دن بھر تھکے بدن کے ساتھ جب گھر لوٹتے ہیں تو ہماری خوشی کی خاطر کبھی بازوئوں میں لے کر جھولا جھلاتے اور چکر دلاتے تو کبھی کندھے پر بٹھا کر خوب گھماتے، تو کبھی گھوڑا بن کر کمر پر بٹھاتے تو کبھی ریل گاڑی کا انجن بن جاتے ہیں۔ یہی وہ  پاپا ہیں جو ہمارے ساتھ کرکٹ کھیلتے ہوئے چوکا لگاتے ہیں تو کبھی فٹ بال کھیل کر گول کرتے ہیں۔ کبھی گڑیا کا گھر بنانے میں مدد کر رہے ہوتے ہیں تو کبھی گڈے گڑیا کی شادی میں حصہ لے رہے ہوتے ہیں ،کبھی ہمارے ساتھ چھپن چھپائی تو کبھی آنکھ مچولی کھیلتے ہیںاور کبھی لیڈو اور کیرم کھیلتے ہوئے جان بوجھ کر ہم سےہار رہے ہوتے ہیں، جو راستے میں چلتے ہوئے بڑھ کر اس خیال سے ہمیں گود میں اٹھا لیتے ہیں کہ ہم تھک نہ جائیں۔ پہلی شکست یا ناکامی پر ہمیں بازوئوں میں سمیٹ کر حوصلہ اور بہادری کا درس دینے والا کوئی اور نہیں صرف ہمارے باپ ہوتے ہیں۔ سیگمنڈ فرائیڈ نے کہا تھا کہ ’’بچے کیلئے دنیا میں باپ کے ہونے کے احساس سے زیادہ قیمتی شے اور کوئی نہیں۔ یقیناً وہ ہمارے باپ ہی ہوتے ہیں جن کی موجودگی ایک مضبوط پناہ گاہ ایک مضبوط فصیل اور سائبان کا احساس دلاتی ہے، سر پر ان کا سایہ ہو تو دنیا کے سارے خوف، سارے حوادث، ساری آفات سے بچ جانے کا یقین ہی نہیں ایمان ہوتا ہے۔ پشت پر باپ کا مضبوط ہاتھ ہو تو بڑی سے بڑی مصیبت اور پریشانی بھی پریشان نہیں کرتی ۔ ہمارے والد وہ بے غرض اے ٹی ایم مشین ہیں جہاں سے بغیر کچھ پیسہ جمع کروائے کاغذ کے ٹکڑوں کی شکل میں صرف نوٹ ہی نہیں بلکہ محبت اور چاہت کے کھنکتے ہوئے سکے بھی حاصل ہوتے ہیں۔
دل غمگین ہو جاتا ہے جب ہم دیکھتے ہیں کہ وہ باپ جس نے بچوں کی آسودہ حال زندگی کی خاطر اپنے جسم کا کندن راکھ کیا ہوتا ہے جس کے سیاہ بالوں پر گزرے وقت کی ڈھیروں برف جمی ہوتی ہے۔اس کے وہ ننھے بچے ذرا سا اپنے پیروں پر کھڑے ہونے لگتے ہیں اور جوانی کی دہلیز پر قدم رکھتے ہیں تو اپنے بوڑھے ہوتے ہوئے باپ کو آئوٹ آف فیشن سمجھتے ہوئے کہتے ہیں کہ ابا آپ کو کچھ پتا نہیں ہے پدرانہ جذبات کی پروا کئے بغیراس کی تمام عمر کی ریاضت کو مادی اشیا کے میزان میں تولتے ہوئے کہتے ہیں کہ آپ نے ہمارے لئے کیا ہی کیا ہے…؟
کبھی وہ باپ کی عینک کے پیچھے چھپے آنسوئوں کو نظرانداز کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ کیا احسان کیا آپ نے سب ہی اپنی اولادوں کو پالتے ہیں۔ اگر آج کے زمانے میں والد اپنے بچوں کی نگرانی کرتے ہیں یا ان کے معاملات میں اختصار کرتے ہیں تو نوجوانوں کو یہ پوچھ گچھ اپنی آزادی کا قتل محسوس ہوتی ہے۔ اگر والدین کی پسند ان کی اپنی پسند سے مختلف ہو تو وہ اسے رابطے کا فقدان یا جنریشن گیپ کا نام دے ڈالتے ہیں۔ ذرا سی تنبہہ پر ’’آپ ہمیشہ ڈانٹتے ہی رہتے ہیں۔ بس ناراض ہی رہتے ہیں۔‘‘ جیسے جواب دیتے ہیں۔ حالانکہ باپ کی موجودگی تو سورج کی مانند ہوتی ہے سورج گرم تو ضرور ہوتا ہے مگر سورج نہ ہو تو اندھیرا چھا جاتا ہے۔
آج کا نوجوان باپ کو اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ وہ اس کے کام میں مداخلت کریں یا اس پر اپنے فیصلے صادر کریں۔ کیونکہ آج وہ اپنی نظر میں اس قابل ہوچکا ہے کہ اس شخص سے جس کی انگلی تھام کر اس نے پہلا قدم پورے اعتماد سے زمین پر رکھنا سیکھا تھا بہتر فیصلےکرسکتا ہے۔ آج نوجوان یہ چاہتا ہے کہ اسے روک ٹوک کرکے اس کی آزادی سلب کرنے کی کوشش نہ کی جائے، کیونکہ باپ کی سرپرستی مغربی معاشرے کی طرح اسے اپنی آزادی کا قتل محسوس ہوتی ہے اسی وجہ سے آج کل والدین سے بدسلوکی کے واقعات بڑھتے جارہےہیں۔ میڈیا پر اکثر والدین پر تشدد کے شرمناک واقعات دیکھنے کو ملتے ہیں۔
یہاں یہ بات بھی ضروری ہے کہ آج والدین خصوصاً والد کو اپنی زندگی کی تمام تر مصروفیات اور ذمہ داریوں کے باوجود کوشش کرنا ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کو خوشگوار اور خوبصورت بچپن کے ساتھ ساتھ بلوغت میں قدم رکھتے بچوں پر خصوصی دھیان دیں۔ انہیں وقت دیں۔ انہیں صحیح اور غلط کا شعور دیں۔ ان کے ذاتی مسائل معلوم کریں۔ انہیں ایک ایسا ماحول دیں جس میں وہ الیکٹرانک آلات کے بجائے انسانوں کے قریب رہیں اور اچھی اقدار اور روایات سیکھیں۔
دنیا کا ہر باپ ہی اولاد سے محبت اور اُنسیت رکھتا ہے مگر کس قدر تکلیف دہ بات ہے کہ نازوں پلی اولاد جواں ہو کر باپ کو اس جیسی محبت دینے سے عاجز رہتی ہے۔ اسی لئے کسی دانا نے کہا تھا کہ اکیلا باپ دس بچے پال لیتا ہے مگر دس بچے مل کر ایک باپ نہیں سنبھال سکتے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ ہم اپنے والدین کی محبتوں کا عشر عشیر بھی نہیں لوٹا سکتے، بلکہ بڑھاپے میں انہیں بوجھ تصور کرنے لگتے ہیں۔ 
جبکہ باپ کی قدر و قیمت جاننی ہو تو کبھی کسی یتیم کی آنکھوں میں جھانک کر دیکھیں تو بجھے ہوئے دھواں دیتے ہوئے چراغ آپ کو حسرت و یاس کی ہزاروں کہانیاں سنا رہے ہوں گے۔ روشن جگمگاتی ہوئی دنیا اچانک آسیب زدہ اندھیرے سناٹے میں کیسے بدل جاتی ہے اس بچے سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا جس نے اپنے باپ کے جنازے کو کندھا دیا ہو… اپنے ماں باپ کی آواز پر دوڑ جایا کرو کیونکہ کچھ لوگوں کے کان ترس جاتے ہیں، پھر ان کی آواز میں اپنا نام سننے کے لئے…!
یاد رکھیں والد کی محبت اولاد کے لئے ہمیشہ بے لوث ہوتی ہے۔ وہ اپنی ریاضت اور محبت کے بدلے کچھ پانے کی امید نہیں رکھتا۔ ہاں مگر اس بوڑھے باپ کا دل ہمیشہ اس خواہش کے ساتھ دھڑکتا ہے کہ اس کی ’’مصروف اولاد‘‘ اپنی مصروفیات میں سے کچھ وقت نکال کر اس کے قریب بیٹھے۔ اس وقت اسے کسی اور کام کی جلدی نہ ہو۔ وقت تھم جانے اوہ وہ اس کڑیل جوان کو جی بھر کر دیکھے۔ اس سے باتیں کر ے، جس کے ننھے ہاتھ کبھی اس کے مضبوط ہاتھوں کا سہارا تلاش کرتے تھے، جو اپنی لفظی زبان میں بار بار ایک ہی سوال کرتا تھا۔ جس کے خدوخال میں اس کی محنت کا کندن دمک رہا ہے۔ 
جس کے لئے اس نے اپنی آرزوئیں پس پشت ڈال دیں اپنے بوسیدہ کوٹ اور پرانے جوتوں کو نظرانداز کرکے اس کے لئے نیا یونیفارم اور چمکتے بوٹ خریدے تھے۔ ہمارا تو دین بھی ہمیں والدین سے حسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ وہ باپ ہی تو ہے، جس کے لئے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ’’اللہ کی رضامندی والد کی رضامندی اور اللہ کی ناراضی والد کی ناراضی ہے۔ اور والد جنت کے دروازوں میں سے درمیانہ (یعنی سب اچھا) دروازہ ہے۔ اب تو اس دروازے کی حفاظت کرے (فرمابرداری کرکے) یا اس کو ضائع کردے(نافرمانی کرکے) اور یہ بھی کہ ’’اپنے باپوں سے حسنِ سلوک کرو ایسا کرنے سے تمہارے بیٹے تمہارے ساتھ حسنِ سلوک کا برتائو کریں گے۔ سورہ بنی اسرائیل میںوالدین کے لئے پانچ نصیحتیں فرمائی گئی ہیں ماں باپ میں سے کوئی ایک بوڑھا ہو جائے تو ان کو اف نہ کہو ،ادب سے بات کرو۔ لہجہ نرم،الفاظ ادب اور احترام والے اور انداز دلنشیں رکھو۔
ان کے سامنے شفقت اور انکساری سے جھکے رہو ان کی سخت بات کا بھی سخت لہجے میں جواب دینا گناہ ہے۔
والدین کے لئے دعا کرتے رہو۔ اس لئے کہ صرف خدمت سے ان کے احسانات کا حق ادا نہیں ہوتا۔ صرف ظاہری ادب کافی نہیں۔ دل سے بھی ان سے محبت کا برتائو کرو کہ اللہ دلوں کے حال جانتا ہے۔ والدین سے اولاد کا رشتہ انمول ترین رشتہ ہے خدا اور بندے کا تعلق کے بعد اگر آنکھ بند کرکے کسی رشتے کی حرمت پر ایمان لایا جاسکتا ہے تو وہ یہ ہی رشتہ ہے۔ ماں اور باپ وہ ہستیاں ہیں جن کی اولاد کی خاطر پریشانی میں گزری ایک رات کا حساب کرنا بھی ناممکن ہے ہم ہر پل ہر لمحہ بھی ان پر اپنی محبت نچھاور کرتے رہیں ان کی خدمت کرتے رہیں پھر بھی یہ قرض نہیں اتر سکتا… لیکن اگر کسی ایک خاص دن کو مکمل طور پر ان کے نام کر دیا جائے اور اس دن انہیں یہ احساس دلایا جائے کہ ہمارے لئے دی جانے والی قربانیاں رائیگاں نہیں گئیں اور ہم ان کی محبتوں کا دل سے اعتراف کرتے ہیں تو کتنا اچھا لگے۔ 
جون کے مہینے میں ایک دن باپ، کے نام سے موسوم ہے۔ پوری دنیا فادرز ڈے مناتی ہے۔ بنیادی طور پر یہ دن مغرب میں منایا جاتا رہا ہے۔ ہمارے یہاں بہت سے لوگ اسے مغربی تہذیب کا رنگ کہتے ہیں، جس میں نوجوان رنگتے جارہے ہیں۔ جبکہ زندگی کا ہر دن باپ کے لئے ہی ہوتا ہے۔ لیکن نفسانسی کے دور میں جب اکثر ہم اپنی شخصیت ہی کو بھول بیٹھے ہیں اور ہمیں اپنے اردگرد کا بھی ہوش نہیں رہتا۔ اور
مصروفیت میں ہم گھر والوں کو بھی فراموش کر دیتے ہیں جن میں ہمارے والدین بھی شامل ہیں۔  باپ کی عظمت، محبت اور شفقت کو جان لینا ہی تجدید وفا ہے اس لئے والد محترم کے ساتھ پیار محبت خلوص اور خدمت کا جذبہ اپنانا چاہئے تاکہ ان کی محبت کا کچھ قرض ادا ہوسکے۔
اللہ تعالیٰ ہمارے سروں پر باپ کا سایہ سلامت رکھے۔ اور ہمیں ان کی خدمت کرنے کا موقع عطا فرمائے۔ آمین۔

تازہ ترین