انسانی امن کی پرَکھ سماج میں ہوتی ہے

اچھا سماج جسم کے مانند ہوتا ہے

تاریخ    19 جون 2021 (00 : 01 AM)   


معراج مسکینؔ
آج ہم جس عہد میں زندگی گزار رہے ہیں ،بلا شبہ اسے ڈِس انفارمیشن کا دور کہا جا سکتاہے۔ذرائع ابلاغ اور سوشل میڈیا سے دن رات ہر قسم کا پروپیگنڈہ پڑھنے اور سننے کو ملتاہے۔ ایک ہی موضوع پر مثبت اور منفی، متضاد دلائل دستیاب ہیں۔ ایسے میں انسان حیران و پریشان رہ جاتاہے کہ سچ تک کیسے پہنچا جائے۔ انسان کے لئے اگرچہ سچ ڈھونڈنا دشوار ضرور ہوتا ہے ناممکن نہیں،لیکن بدقسمتی یہ ہوتی ہے کہ کوئی بھی انسان کسی نہ کسی طرح جھوٹ کی فضا میں بہک جاتا ہے اور جھوٹ میں بہہ کر سچ کے سامنے اندھا ،بہرا اور گونگا بن جاتا ہے،یہ جانتے ہوئے بھی کہ جھوٹ بالآخر جھوٹ ہی ہوتا ہے جسے چھپانے کے لئے بہت ساری سچائیوں کا دَم گھونٹناپڑتا ہے۔ جس کے نتیجے میںزیادہ تر انسان محض اپنی نفسیاتی اور فطری خواہشات کا محتاج بن کر رہ جاتا ہے اور اِس محتاجی کے باعث کسی بھی وقت اپنے اصل درجے سے گِر کر اْلجھ جاتا ہے ، بھٹک جاتا ہے اور پھر گمراہی کی طرف گامزن ہوکر نہ اپنے دین و دھرم کے احکام کی پیروی کرتا ہے اور نہ ہی قومی و سماجی اقدار کا لحاظ رکھتا ہے بلکہ بے انصافی ،عدم مساوات اور غلامی کو خاموشی کے ساتھ برداشت کرتا ہے ،گویا وہ شیطانیت کو بڑھاوا دینے میں تعاون کرتاہیاور اس طرح انسانیت کے لئے بھی نقصان دہ بن جاتاہے۔شاید اسی لئے فلاسفروں کا کہنا ہے کہ زندگی میں مشکلات و مصائب زیادہ تر خود انسانوں کی اپنی ہی خواہشات کے پیچھے اندھے،بہرے اور گونگے ہونے کی پیداوار ہوتی ہے۔حق بات تو یہ ہے کہ سب سے زیادہ پْر سکون اور سکھی قوم یا سماج وہ ہوتا ہے، جس میں ہر فرد ایک دوسرے کے تئیں دلی احترام کا جذبہ رکھتا ہے اورانصاف و مساوات کی قدر کرتا ہے۔وہی سماج اچھے کہلاتے ہیں جنہوں نے اخلاقی محاسن اپنالئے ہوںاور ایسے سماج میں اگرکوئی شخص دْکھی ہوتا ہے، اْس کی طرف سب متوجہ ہوجاتے ہیں، وہ اپنی قوم یا اپنے سماج کو جسم کی مانند سمجھتے ہیںاورجسم کے کسی بھی دْکھی حصہ کی طرف فوری دھیان دیتے ہیں۔
قارئین کرام !قوم یا سماج انسانوں کے گروہ کو کہتے ہیں، جس کی ضروریاتِ زندگی ایک دوسرے کے ساتھ جڑی رہتی ہیں۔ ضروری نہیں کہ ایک سماج کے تمام افراد کا تعلق ایک ہی قوم ، قبیلے ، رنگ ، نسل ، مذہب یا مسلک کے ساتھ ہو۔ سماج مذہب ، سیاست، ثقافت اور تجارت سے بالا تر کسی قسم کی تفریق کے بغیر مل جل کر یا ٹکرائو کے ماحول میں ایک ہی دور میں زندگی گزارنے والے انسانی گروہ کو کہتے ہیں ، جس میں منفی اور مثبت دونوں قسم کے رویے موجود رہتے ہیں۔ جب کسی خاص قوم یا مذہب کی تاریخ کی حوالے سے بات کی جا تی ہے تو عام طور پر اس کا نام سماج کے ساتھ اضافہ کر دیا جا تا ہے ، جیسے مشرقی سماج ، مغربی سماج یا اسلامی سماج یعنی دنیا بھر کے انسان ہر دور میں کسی نہ کسی سماج کا حصہ ہو تے ہیںاور تا قیامت کسی نہ کسی سماج کا حصہ ہوتے رہیں گے۔
 اب اگر اپنے مشرقی یعنی بھارتی سماج پر نظر ڈالتے ہیں،جہاں اس وقت ہر طرف غیر یقینی اور بے چینی کی صورت حال چھائی ہوئی ہے۔ایک طرف جہاں کورونائی قہرنیبھارتی معاشریکی زندگی تلپٹ کرکے رکھ دی ہے وہیں دوسری طرف سماج کے بیشتر حصوں میںباہمی اخوت،بھائی چارہ،یک جہتی،ہمدردی اور مروت کی راہیں معدوم ہوچکی ہیں،دن بہ دن نفرت کا لاواپک رہا ہے جبکہ پڑوسی ملکوں کے ساتھ چپقلش ،کشیدگی اور ٹکرائو کا ماحول بھی پورے خطے کے امن و آشتی کو آگ میں جھونکنے کے مترادف بنا ہوا ہے۔سماج میںکچھ متعصب گروہ مذہبی تنائوپیدا کرکے ہندو ئوںاور مسلمانوں کے درمیان خلیج ڈال رہے ہیں، فسادات کو ہوا دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، ہر قیمت پر آگ کو بھڑکانے کی مہم شدو مدکے ساتھ چلارہے ہیں۔اس صورت حال کو فروغ دینے میں میڈیا کا ایک بڑا حصہ اور کئی قومی اخبارات بھی اپنا اہم کردار ادا کررہے ہیں۔جس کے نتیجہ میں نہ صرف بھارتی سماج کی اقلتیں عدم تحفظ کا شکار ہیں بلکہ بھارتی سماج کا ذی ہوش عوام تشویش میں مبتلا ہے۔ہرطرف خوف و ہراس کا عالم ہے، ہر چہرے پر مایوسی کی کیفیت ہے اورہر کسی کو یہی خوف لگا رہتا ہے کہ نہ معلوم کس وقت کس علاقے میں کون سی آفت آجائے اور ان کی جانیں،عزتیں اور املاک دائو پر لگ جائیں؟ظاہر ہے کہ مختلف سطحوں پر اور مختلف معاملوں میںسماجی انتظامیہ کی جانبدارانہ پالیسیوں سے بھارتی سماج میں بد انتظامی،غنڈہ گردی ،خود سری اور سینہ زوری کے ساتھ ساتھ جرائم کی رفتار میں بھی اضافہ ہورہا ہے اور اصلاح یا فلاح و بھَلاکی کوئی تحریک منظرعام پر نہیں آرہی ہے۔جس سے یہ خدشہ تقویت پارہا ہے کہ دورِ عصرمیں بھارتی عوام ایسے سماج کی شکل اختیار کرچکا ہے، جس کی کوئی سمت نہیں ، کوئی تر کیب نہیں۔جس میں اب پیار ، محبت ، احترام ، ادب ، لحاظ ، تنقید یا تعریف کا کوئی معیار نہیںاور کوئی دلیل نہیں۔جس میںسبھی رشتے ، خلوص ، اپنایت ، اور صلہ رحمی کی بجائے مالی حالات کے محتاج ہیں۔جس میں ضروریات ،انسان سے زیادہ اہم ہیں ،جس میں انسان کھانا نہیں کھاتے بلکہ کھاناانسانوں کو کھا رہا ہے ،جس میں انسان کی نہیں بلکہ ملبوسات ، عمارتوں ، گاڑیوں اور بینک بیلینسوں کی اہمیت ہے۔جس میںلوگ معاشی طور کمزور بہن بھائیوں،رشتہ داروں اور ہمسائیوں کے ساتھ یہ سوچ کر رابطہ ختم کر دیتے ہیں کہ کہیں کچھ مانگ نہ لیں۔ بھارتی عوام اس سماج کا حصہ دکھائی دے رہے ہیں، جہاں جان بچانے والی ادویات ہی نہیں زہر بھی خالص نہیں ملتا ، جہاں بڑی مرغی چھوٹا انڈا دیتی ہے، جہاں چھوٹے قد والے لوگ بلند مقام پر فائز ہیں ، جہاں اہلیت کا معیار کسی صاحب ِ اختیار کی خوشامد ، رشتہ داری یا حرام کمائی میں شراکت داری ہے۔ جہاں لوگ اس قدر تنگ دل ، تنگ ذہن ہیں کہ ساری زندگی کی بھلائی ، خلوص ، محبت اور احترام کے رشتوں کو ایک پل میں فراموش کر دیتے ہیں ، وہ بھی کسی غلطی کی بجائے ذاتی پسند نا پسند کی بنیاد پر۔ جہاں معزز مرد چند پیسوں کے عوض عورت کا جسم نوچتے ہیں۔ جہاں کسی با عزت مرد کی بہن ، بیٹی اور بیوی کبھی بھی اور کہیں بھی درندگی کا نشانہ بن سکتی ہے۔بھارتی سماج میں لوگ دوسروں کے خلاف مقدمات تھانے دار بن کر درج کر تے ہیں ، وکیل بن کر وکا لت کر تے ہیں ، گواہ بن کر گواہی دیتے ہیں اور خود ہی جج بن کر فیصلے سنا دیتے ہیں۔ اس سماج میںاپنی ماں ، بہن ، بیوی اور بیٹی کے علاوہ ہر عورت کو بد کر دار سمجھا جا تا ہے۔ جہاں دوسروں کے منہ سے نکلے الفاظ کا نہ صرف مفہوم بدل دیا جا تا ہے بلکہ لفظ ہی بدل دیتے ہیں ، یعنی یہاں کے لوگ اب دوسروں کی زبان سے اپنے مفادات کی زبان بولتے ہیںاور دوسروں کے معاملے میں بھگوان بن کر سزا و جزا کے فیصلے سناتے ہیں ، دوسروں کی عبادت میں ایسے عیب نکالتے ہیں جیسے دوسرے خدا کی نہیں کسی اور کی عبادت کر تے ہیں ، مقدس ہستیوں کے مقام و مراتب پر ایسے بحث کر تے ہیں جیسے مقدس ہستیوں کے مقام و مراتب کم یا زیادہ کر نا ان کے اختیار میں ہو ، یوں آپس میں لڑتے مرتے ہیں جیسے مقدس ہستیاں ان کے دربار میں فیصلہ کر وانے آتی ہیں۔ اس سماج کے لوگ دوسروں کی نیت پڑھ لیتے ، ارادے بھانپ لیتے ہیں ،  دوسروں کے چہرے کے تاثرات سے ان کے حالات کا اندازہ تولگا لیتے ہیںلیکن کسی حقدار ، کسی غریب کی آنکھوں میں ہچکیاں لیتے سوال سمجھ کر بھی کوئی جواب نہیں دیتے۔ جہاں صاحب حیثیت کو لوگ تحائف دیتے ہیں اور کمزوروں کا حق ثواب سمجھ کر کھا جا تے ہیں۔ کسی بیوہ ، یتیم اور مستحق کی رام یارحیم کی رضا کے لئے مدد نہیں کر تے جبکہ جسم کی قیمت بڑھ چڑھ کر دیتے ہیں۔ جہاں معمولی سی بات پر ہمسائے کے گلے پڑ جا تے ہیں ، ہمسائیگی کے حقوق یاد دلاتے ہیں جبکہ خود کبھی ہمسائے کا حال تک نہیں پوچھتے۔ اس سماج کاایک حصہ جہاں پیٹ بھر کھانے کے بعد رزق کچڑے میں ڈال دیتے ہیں وہاںبے شمارغریب لوگ فْٹ پاتھوںپر اور جھگی جھونپڑیوں میںدن و رات بھوکے پیٹ پڑے رہتے ہیں۔ یہاں کوئی بھی کسی پر تہمت لگاتے وقت کبھی یاد نہیں رکھتے کہ ہم خود کتنی غلطیوں کا مجموعہ ہیں۔ ایسے ہی بیشمار ’’خوبیاں‘‘ اور بھی ہیں جو بھارتی سماج میں پائی جاتی ہیں۔چنانچہ سبھی افراد یہ بھی جانتے ہیں کہ ہم اسی سماج کا حصہ ہیں اور سماج ہم سے ہے ،اسی لئے اب جہاں سماج میں انسانی امن کی پرکھ کوبالائے طاق رکھا گیا ہے وہاںسماج کے مروجہ اصولوںکی خلاف ورزی کا دْکھ و درد ناقص کردار کے بل بوتے پر برداشت کیا جاتا ہیاور بخوبی دکھائی دیتا ہے کہ ’سماج‘چند مہذب خانہ بدوش لوگوں کے دو گروہوں کا نام رہ گیا ہے ،ستائے ہوئے اور ستانے والے۔یہ میرا ذاتی خیال نہیں بلکہ اْن زحمت خوردہ انسانوں کا بھی ہے ،جن کو ذرا سی بھی انسانیت سے اْنسیت ہے۔آج انسانیت کے شیدائی خود اس مختلف فیہ دین سے بیزار دکھائی دیتے ہیں اور خود کو اس سے الگ تھلگ رکھنے میں ہی راحت و سکون محسوس کرتے ہیں،الغرض اِدھر عوام کا یہ عالم ہے تو اْدھر سماجی لیڈران ِ زمان کی یہ کاوش کہ جینے کی راہ کے لائسنز صرف اْنہی سے وابستہ لوگوں کے لئے وقف ہیں، باقی سبھی غدار ،دیش دروہی ،لْٹیرے ،جہنمی اور قابل عتاب ہیں۔ 

تازہ ترین