ایران میں صدارتی انتخابات کے لئے ووٹنگ کا آغاز

تاریخ    18 جون 2021 (21 : 11 AM)   


یو این آئی
تہران//اسلامی جمہوریہ ایران کے 13 ویں صدارتی انتخابات کے لئے حق رائے دہی کا آغاز جمعہ کی صبح مقامی وقت کے مطابق یہاں سات بجے ہوگیا۔
ایران کے مذہبی رہبر آیت اللہ سعید علی خامنہ ای نے آج صبح اپنے حق رائے دہی کا استعمال کیا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق آج صبح سات بجے سے اسلامی جمہوریہ ایران کے دارالحکومت تہران سمیت تمام چھوٹے و بڑے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں تیرہویں صدارتی انتخابات کے سلسلے میں ووٹنگ کا آغاز ہوگیا ۔ ایران میں 59 ملین 10 ہزار اور 307 افراد ووٹنگ میں حصہ لینے کے اہل ہیں۔ ایران کے تیرہویں صدارتی انتخابات میں عوام کی بھر پور شرکت کے پیش نظر 72 ہزار پولنگ اسٹیشن قائم کئے گئے ہیں۔ صدارتی انتخابات سے تین امیدوار دستبردار ہوگئے ہیں جن میں مہر علیزادہ، علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی شامل ہیں۔ دو امیدوار علی رضا زاکانی اور سعید جلیلی آخری وقت میں آیت اللہ رئیسی کے حق میں دستبردار ہوگئے اور انھوں نے اپنے حامیوں سے کہا ہے کہ وہ آیت اللہ سید ابراہیم رئیسی کے حق میں اپنا ووٹ استعمال کرکے انھیں کامیاب بنائیں۔ تین امیدواروں کے صدارتی انتخابات سے دستبردار ہوجانے کے بعد اب چار امیدوار سید ابراہیم رئیسی، محسن رضائی، قاضی زادہ ہاشمی اور عبداناصر ہمتی صدارتی میدان میں موجود ہیں۔
قبل ازیں ایران کے صدرحسن روحانی نے اپنے ہم وطنوں سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے اپنے اختلافات کو بالائے طاق رکھ دیں اور جمعہ کو صدارتی انتخابات کے لیے پولنگ میں بھرپورانداز میں حصہ لیں۔یہ اپیل انہوں نے پولنگ کے آغاز سے چند گھنٹے قبل کی۔انہوں نے ایک نشری تقریر میں ایرانی ووٹروں سے مخاطب ہوکرکہا کہ وہ کسی ایک ادارے یا گروپ کی کمیوں،کوتاہیوں کی وجہ سے ووٹنگ کے عمل سے کنارہ کشی اختیار نہ کریں۔ ان کا بظاہر اشارہ شورائے نگہبان کی جانب تھا۔انھوں نے کہا ” ہمیں ووٹنگ پر اپنے تحفظات کو مقدم نہیں رکھنا چاہیے“۔
ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے بھی بدھ کو اپنے ہم وطنوں پر زوردیا تھا کہ وہ جمعہ کو ہونے والے صدارتی انتخابات میں بھرپورحصہ لیں کیونکہ ان انتخابات میں ووٹر ٹرن آو¿ٹ اورایران پر بیرونی دباو¿ کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔انہوں نے کہا ”اگر لوگ پولنگ کے عمل میں بھرپور طریقے سے شریک نہیں ہوتے ہیں تو دشمن کی جانب سے دباو¿ میں اضافہ ہوگا۔اگر ہم دباو¿ اور پابندیوں میں کمی چاہتے ہیں تو لوگوں کی شرکت میں اضافہ ہونا چاہیے اور نظام کو حاصل عوامی مقبولیت دشمن پر ظاہرہونی چاہیے۔“
 

تازہ ترین