تازہ ترین

شادی کے صرف دو روز بعد

دولہے کی موت اور دولہن بیوہ

تاریخ    17 جون 2021 (00 : 01 AM)   


آصف اقبال
 موت ایک اٹل حقیقت ہے اور کسی کو موت سے فرار سے حاصل نہیں ہے۔ موت ہر کسی کو اپنے مقررہ وقت پر آنی ہے۔ آئے روز ہزاروں لوگ موت کے شکنجے میں جاکر ابدی نیند سوجاتے ہیں اور اس دُنیائے فانی سے کوچ کرلیتے ہیں اور یہ کا ئنات کا دستور ہی ہے۔موت کس کو کب، کہاں اور کیسے آئے گی، کسی کی معلوم نہیں۔ انگریزی میں ایک مشہور مقولہ ہے Death keeps no  calender یعنی موت کا کوئی کلینڈر نہیں ہے۔ عصر ِ حاضر میں وادی کے یمین و یسار میں چہار سوُ موت کی خبریں موصول ہورہی ہیں،بچے ہوں یا بوڑھے، خواتین ہوں یا مرد، پیر وہوں یا جواں غرض اموات کی شرح کافی زیادہ بڑھ رہی ہے۔ خود کشی کا گراف بڑھ رہا ہے، طبعی موت میں اضافہ ہورہا ہے، مہلک بیماریوں کی وجہ سے شرحِ اموت میں اضافہ ہورہا ہے اور حرکت ِ قلب بند ہونے کا سلسلہ دراز ہوتا جارہا ہے۔ غرض مختلف بہانوں سے روزانہ سینکڑوں لوگ ہم سے رخصت ہورہے ہیں،ہر سو اندوہناک خبریں سننے کو مل رہی ہیں اور فضاء غم کی چادر میں لپٹ گئی ہے اورچہار دانگ عالم میں غم کی مسموم ہوائیں تیزی سے چل رہی ہیں ، خواص و عام سوگوار ہے اور پیر وجوان غمگسار ہے۔ گزشتہ کئی ہفتوں سے خود کشی کے واقعات رونما ہونے کی وجہ سے  اٹھتی ہوئی جوانیاں پیوند ِ خاک ہوتی جارہی ہیں۔ الامانُ و الحفیظ۔
 غم و الم، حزن ملال اور اضطراب و اضمحلال کے اس ماحول میں وادی کشمیر میں ایک ایسا واقعہ رونما ہوا جس نے ایک خاندان کو اُجاڑدیا، خاندان کو بکھر کے رکھ دیا، علاقے کودم بخود کیا اور پوری وادی کو غم کے دریا میں ڈبو دیا ہے۔ واقعہ ایساکیا ہوا، کب ہوا، کیسے ہوا اور کیوں ہوا ؟
واقعہ یہ ہوا کہ وادی لولاب سے تعلق رکھنے والے ایک پچیس سالہ شخص جاوید احمد شیخ  ولد محمد صدیق شیخ کی شادی خانہ آبادی کی تقریب مورخہ 6جون 2021ء بروزِ اتوار اُنکے آبائی گائوں موضع واورہ لولاب میں بڑے دھوم دھام سے انجام دی گئی۔ جاوید احمد شیخ کی شادی کی تقریب میں اُنکے س عزیز و اقارب ، دوست و احباب اورا ڑوس پڑوس میں رہنے والے سبھی لوگوں نے شرکت کی۔ کیونکہ جاوید احمد کے والدین گزشتہ دو سال پہلے اِس دُنیا سے رُخصت ہوچکے ہیں اور جاوید احمد یتیمی کے سائے میں، مصایب کے حصار میں اور غم کے طوفان میں  ہچکولے کھاتے ہوئے زندگی سے لڑتا رہا ہے اور اُنہوں نے ہمت اور محنت سے کام لے کر کامیابی اپنے نام کردی لیکن شادی کے صرف دو دن بعد د جاوید واحمدموت کی آغوش میں چلاگیا، شادی کی خوشیاں غم کے طوفان میں بدل گئیں، پورئے علاقے میں قیامت ٹوٹ پڑی ، بجلی گری ، ہنستا کھیلتا آشیانہ بکھر گیا، دِل کے ارمان آنسوئوں میں بہہ گئے اور اسطرح سے دو دن کے بعد ہی دولہا ہاتھوں پر مہندی لگائے اپنے والدین کے پاس چلاگیا ۔
سال2018 میںجاوید احمدکے والد اس دُنیا سے طویل علالت کے بعد چل بسے ۔ گزشتہ 15 سے سال جاوید احمد کے باپ قوت بینائی سے محروم تھے اور اُنکا علاج و معالجہ کرانے کے سلسلے میں جاوید احمدنے کافی جتن کئے ۔ ریاست اور ریاست کے باہر جتنے بھی بڑے ہسپتال قایم ہیں وہاں اپنے پیارے ابو کو علاج کرانے کے لئے لے لیا لیکن یہ تمام کوششیں ناکام ثابت ہوئیں اور با الآخر اُنکے والد کی موت واقع ہوئی ۔ اس مصیبت کے ٹھیک ایک سال بعدجاوید احمد پر ایک اور قیامت ٹوٹ پڑی اور وہ یہ کہ اُنکی والدہ کا بھی انتقال ہوا اور اسطرح سے جاوید احمد اپنے گھر میں اکیلا رہا ہے۔ جاوید احمد اپنے باپ کے اکلوتے بیٹے تھے اوراُنکی ایک بڑی بہن ،جسکی شادی ہوچکی ہے جو گزشتہ دو سال سے اپنے مرحوم بھائی کے ساتھ ہی رہتی تھی ۔ ہمت کا دامن اپنے ہاتھوں سے نہ چھوٹتے ہو ئے جاویدنے دن رات محنت کی، حوصلہ رکھا، ہمسایوں کے ساتھ شائستگی کے سے زندگی گزارنے لگا اور اپنی حیاتِ مستعار میں اعتدال برقرار رکھتے ہوئے متمول زندگی گزارنے لگا۔
 مصیبت کے مارے جاوید احمد نے اب اپنی شادی کے موقع پر سبھی لوگوں کو دعوت پر بلایا اور بہت خوشی سے لوگوں نے اُنکی دعوت قبول کی ۔ مہندی رات منائی ، رات بھر خوشی منائی ، صحن میں شامیانہ لگایا، بڑی بہن اپنے بھائی کی خوشی میں پھولے نہ سمائی ، عزیز واقارب کو یہ شادی ایک خواب دکھ رہا تھا اور ہمسایوں نے جاوید کو محنت پر داد تحسین پیش کیا۔ بچپن سے لے کر جوانی کی دہلیز تک اُنہوں نے زندگی میں پیش آنے والے حوادث کے ساتھ مردانہ وار مقابلہ کیا اور ایک چھوٹا موٹا بزنس یونٹ شروع کیا اور اسطرح سے اُنہوں نے اپنی زندگی کی بہترین شرعات کی، گھر کی تعمیر کی اور کمپلیکس بھی تعمیر کیا۔ اب جبکہ اُنکے پاس سب کچھ تھا ،رہنے کے لئے ایک بہترین رہایش گاہ تھی، درجنوں دوکان تھے، اور خود ایک بزنس یونٹ چلاتے تھے ۔اب اگر کسی کی چیز کی ضرورت تھی تو وہ تھی ازدواجی زندگی کی شروعات۔ ازدواجی زندگی کی تلاش میں اُنکا رشتہ وائورہ لولاب سے چند کلومیٹر کی دوری پر واقع لال پورہ لولاب خالدہ بیگم سے طے ہوئی۔لاک ڈائون کے ایام میں شادی کی تقریب انجام دینے کے سلسلے میں دُلہن یعنی خالدہ کے باپ نے بنک سے چار لاکھ روپے کا قرضہ لیاتا کہ اُسکی لاڈلی بیٹی اور لخت ِ جگر کی شادی بہترین انداز میں انجام دی جاسکے لیکن کس کو معلوم تھا یہ شادی صرف دو دن کے بعد بڑے مصیبت میں تبدیل ہوجائے گی، ہاتھوں پر لگائی گئی مہندی خشک ہونے سے پہلے ہی دُلہن بیوہ بنے گی اور دولہا اپنی دلہن کے ساتھ دو بول کہیے بغیر ہی پیوند لحد ہوجائے گا۔ یوں شادی کے صرف تین روز بعد جاوید احمد کی موت واقع ہوئی ۔ہزاروں لوگوں نے اُنہیں پُر نم آنکھوں کے ساتھ پیوند ِ خاک کیا۔
 سوال یہ ہے کہ آخر جاوید احمد کو ہوا کیا۔ آخر ایسے دلدوز واقعات کا سلسلہ کیوں بڑھتا جارہاہے۔ صحت کے اعتبارسے تندرست، ،معاشی لحاظ سے فارغُ البال اور خوشحال تو پھر ایسا کیا ہوا کہ جاوید اچانک نیچے گر پڑا، بے حوش ہوا، نزدیکی ہسپتا ل سوگام لیا گیا اور بالآخر سرینگر کے ایس ایچ ایم ایس ہسپتال میںاُنکی شمع حیات گُل ہوئی۔ جاوید احمد کی اچانک موت نے اُنکے لواحقین کی کمر توڑ رکھی ہے، اڑوس پڑوس میں رہنے والے لوگ دم بخود ہیں اور ملحقہ علاقہ جات میں رہنے والے لوگوں میں اضطرابی کیفیت پیدا ہوچکی ہے۔آخر جاوید کے ساتھ ایسا کیا ہوا؟شادی کے دو دن بعد سسرال کے ہاں دعوت پر گئے اور پھر واپس آئے اور تیسرے دن سسرال کی طرف کچھ مہمان اپنی بیٹی کے ہاں گئے اور اُسی روز شام کو دولہا، دُلہن اور دیگر کئی لوگ نزدیکی زیارت گاہ پر حاضری دینے کے لئے چلے گئے اور وہاں سے واپس آنے کے فوراًبعد جب دُلہن اپنے کمرے میں بیٹھی تھی اور ایک زوردار آواز آئی جاوید بھیا کو کیا ہوا؟ دُلہن کمرے سے باہر آئی دیکھا کہ جاوید نیچے گر پڑا تھا، لوگ جمع ہوئے اور اُنہیں فوراً ہسپتا ل لیا گیا جہاں سے اُنہیں سرینگر روانہ کیا گیا۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ جاوید کی حرکت ِ قلب بند ہونے کی وجہ سے وہ داعی اجل کو لبیک کر گئے۔ کئی لوگوں کا ماننا ہے کہ انہوں نے کوئی زہریلی چیز کھالی ہے اور کئی اور کا کہنا ہے کہ اُنہیں زہریلی چیز کو کھلایا گیا جسکی وجہ سے اُنکی موت واقع ہوگئی۔ پولیس نے اس معاملے میں تحقیقات شروع کی ہوئی ہے۔ اب دیکھنا ہوگا کہ واقعہ کی اصل حقیقت کیا ہے۔ شادی کے موقع پر لگائے شامیانے میں مردزن نالہ زاری کر رہی ہیں اورسرکار سے مطالبہ کر رہی ہیں کہ جاوید احمد کے اچانک موت واقع ہونے کی تحقیقات کی جانی چاہئے۔ جاوید احمد مزاجاً طیبُ النفس انسان ہونے کے ساتھ ساتھ نرم گو شخص تھے لیکن زندگی نے اُنکی وفا نہ کی اور وہ اپنے رشتہ داروں کو دارِ مفارقت دے گئے۔

 

تازہ ترین