تازہ ترین

غزلیات

تاریخ    6 جون 2021 (00 : 01 AM)   


کبھی تو پاس بارش کے بہانے ،بیٹھ جاؤ 
ملیں گے پھر کہاں ایسے ٹھکانے ،بیٹھ جاؤ 
نہیں تابِ نظر مجھ کو جُھلس جاؤں گا جاناں 
کہاں سے آ گئے بجلی گرانے ،بیٹھ جاؤ 
کہا ں تنہا ئی کا پھر ر و ز یہ مو سم ملے گا 
ہوئے ملنے کو یوں کتنے زمانے ،بیٹھ جاؤ 
پپہیا او ر کو ئل ڈ ا ل پر کیا کہہ ر ہے ہیں 
سُنیں مل جُل کے یہ نغمے سُہانے ، بیٹھ جاؤ
کبھی نظر یں ہٹا کر آئینے سے ہم کو دیکھو
کھڑے ہیں ہم بھی زُلفوں کو سجانے ،بیٹھ جاؤ 
بھڑکتے ہیں مرے جذبات جب بھی د یکھتا ہوں
شُعاعیں تجھ کو آتی ہیں جگانے ،بیٹھ جاؤ 
بہت آ سا ن ہے کر نا مگر یہ سو چ لینا 
کہاں آ پا ؤ گی و عد ہ نبھا نے ،بیٹھ جاؤ 
تمہارے حُسن پر لکھی ہیں میں نے آج تک جو
تمہیں آیا ہوں وہ غزلیں سُنانے ،بیٹھ جاؤ 
جو میری بات نہ مانی بہت  پچھتا ؤ گی تم 
تو پھر آؤ گی میت کو اُٹھا نے ،بیٹھ جاؤ
 
پرویز مانوسؔ
آزاد بستی ،بڑشاہ نگر نٹی پورہ سرینگر 
موبائل نمبر؛9419463487
 
 
دشوار راستوں سے گزرنا پڑا مجھے
 جینے کو پوچھ کیا نہیں کرنا پڑا مجھے
 آیا لبوں پہ یار کے اقرار بھی تو کب
 نا چاہتے ہوئے بھی مُکرنا پڑا مجھے
کس کو گمان تھا مری مسکان دیکھ کر
اس شب کو کرچیوں میں بکھرنا پڑا مجھے
وہ جیتنے کا جشن منائے اسی لئے
کچھ دیر راستے میں ٹھہرنا پڑا مجھے
جینا بھی جس کے شہر میں تھا مستقل عذاب
مر کر اسی کے در سے گزرنا پڑا مجھے
صحرا و دشت، رنج و الم ، ہجر و بے بسی
قصے کہانیوں سے اُبھرنا پڑا مجھے
عارضؔ وہ ہمسفر تو کنارے پہ رُک گیا
تنہا فراتِ غم میں اُترنا پڑا مجھے
 
عارضؔ ارشاد
نوہٹہ ، سرینگر،موبائل نمبر؛ 9419060276
 
 
میں نے تقریر میں اس حُسن کو حاصل بولا
اس نے تقدیر کی رو  سے  بڑا مشکل بولا
 
اس نے جب اپنے ٹھہرنے کا ٹھکانہ پوچھا
میں نے پلکوں کے اشارے سے مرا دِل بولا
 
میں نے منصف سے مرا خون بہا کیا مانگا
اس نے مجھ کو ہی مری ذات کا قاتل بولا
 
ہم سے پوچھا کسی نے کیا ہے بہشتی زیور
ہم نے ایمان خدا پاک پہ کامل بولا
 
میں سفر در سفر آفاقؔ رہا محوِ سفر
اُس ستم گر نے ہر اک موڑ کو منزل بولا
 
آفاقؔ دلنوی کشمیری
دلنہ بارہمولہ ،موبائل نمبر؛7006087267
 
نہ اپنی ہی دھن میں رہا کیجیے
کسی سے محبت کیا کیجیے
وہ کیا ہے جو اچھا لگے آپ کو
کچھ اس کا اشارہ دیا کیجیے
مرے دل کی اور اپنے دل کی بھی کچھ
سنا کیجیے اور کہا کیجیے
خلوص اور دکھاوے میں تو فرق ہے
نہ دنیا میں مکر و ریا کیجیے
لکھی ہے غزل آپ ہی کے لیے
کبھی گنگنا کر پڑھا کیجیے
اگر دل کو چُھو جائے کوئی غزل
مغنّی کو نغمہ سرا کیجیے
ہے یہ موت سے بھی بُرا اے خدا
دلوں میں نہ دوری کیا کیجیے
بڑی بارگہ حق کی ہے اے بشیرؔ
یہاں دل سے سجدہ کیا کیجیے
 
بشیر احمد بشیرؔ (ابن نشاطؔ) کشتواڑی
کشتواڑ، موبائل نمبر؛7006606571
 
 
 
بے تہہ مری نظر ہے کہ خود کم نظر ہوں میں
از بس اِسی خیال سے زیر و زبر ہوں میں
جس کو گمان ہے کہ میں ہوں صاحبِ کمال
اُس کو خبر نہیں کہ بہت بے خبر ہوں میں
فرمانِ دید دل کو دوں یا دوں دماغ کو
ٰٰاِس بات کی سمجھ سے ابھی دُور تر ہوں میں
روشن ہوا یہ میرے سخن سے جہان پر
اِس دورِ مشقِ جور کا اِک نوحہ گر ہوں میں
 ظاہر میں خامشی کے کسی شے میں ہوں ڈھلا
دراصل اپنے آپ میں اِک شور و شر ہوں میں
اے ربِ ذوالجلال مجھے بخش آگہی
دنیا کے پیچ و خم میں اُلجھ کر کدھر ہوں میں
امجدؔ پہ ہو کرم کی نظر، مالکِ جہاں
تیری عطا سے خوب سے بھی خوب تر ہوں میں 
 
امجد اشرف 
شلوت سمبل سوناواری
موبائل نمبر؛7889440347
 
 
یہاں کی زباں پر تو تالے پڑے ہیں
سڑک کے کنارے نوالے پڑے ہیں
زمانے کی حالت فسوں دیکھ کر اب
کہ دیکھے ہوئے خواب کالے پڑے ہیں
اُجالے بھی کشمیر کے بُجھ گئے ہیں
زمیں بوس کتنے ہی لالے پڑے ہیں
خوشی کا سماں تھا مگر دشمنوں سے 
ہر اک گام پر آج پالے پڑے ہیں
ملاوٹ ہوئی زندگی اب ہماری
سو پھیکے ہمارے اُجالے پڑے ہیں
خوشی ہے کہ کشمیریت میں ابھی بھی
وطن کی پرستی کے مارے پڑے ہیں
نہ فریاد یاور ؔجیا اب کرو تم
زباں، آنکھ، پاؤں میں چھالے پڑے ہیں
 
یاور حبیب ڈار
بڈکوٹ ہندوارہ،موبائل نمبر؛9622497974
 
 
ٹمٹماتا د یا کیا کرے
تند خُو ہے ہوا کیا کرے
 
عشق میں جو دیوانہ ہوا
آرزوے وفا کیا کرے
 
زندگی نے تو ٹُھکرا دیا
موت بھی کیا پتہ کیا کرے
 
سانس بھی وہ میری جان بھی
کوئی ہوکے جُدا کیا کرے
 
ساتھ ہی جب مقدر نہ دے
پھر کسی کی دُعا کیا کرے
 
 جس سے لُوٹا ہو اپنوں نے ہی
وہ کسی کا گلہ کیا کرے
 
دل سے طارق ؔدعا مانگ لے
دیکھ لے پھر خدا کیا کرے
 
ابو ضحی طارق
اونتی پورہ پلوامہ
موبائل نمبر؛8825016854
 
 
اب تو حالت یہ کہ ٹوٹنے والا ہے
بھرم محبت کا ہم نے جو یہ پالا ہے
 
ملے نہ چین کبھی یاں دِل مضطر کو
گھر سے آسائش کے مشکل سے نکالا ہے
 
وہ اک اُمید سی ہے ترے آنے کی
گھر میں میرے ہوا جس سے اُجالا ہے
 
کہوں کیا داستاں اپنی کہ کٹی ہے کیسے
تنگی میں جب سے ہوش سنبھالا ہے
 
آئے کتنے بھی موسم اور چلے بھی گئے
آئو اب کہ یہ بھی جانے والا ہے
 
تیری اُلفت اور میری مجبوری کی کشمکش میں
ہم نے دل کو بہت مشکلوں میں ڈالاہے
 
اس میں کچھ جھوٹ ملا کے کہو صورتؔ
سچ کا دنیا میں نہیں اب کوئی بول بالا ہے
 
صورت سنگھ 
رام بن، جموں،
موبائل نمبر؛9419364549

تازہ ترین