مزید خبریں

تاریخ    27 مئی 2021 (42 : 02 AM)   


نیوز ڈیسک

ڈوڈہ میں کورونا سے مزید2خواتین فوت | ضلع میں کووڈ کے 91 نئے معاملات ،84مریض شفایاب 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ سے بدھ کے روز کورونا وائرس کے 91 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں اور 84 مریض شفایاب ہوئے ہیں جبکہ پچھلے چوبیس گھنٹوں میں 2 خواتین کی موت موت ہوئی ہے ۔ اطلاعات کے مطابق بدھ کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، عسر ،ٹھاٹھری و گندوہ میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 91 افراد کی ٹیسٹ رپورٹ مثبت آئی ہے اور اس طرح سے ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 1133 و شفایاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 4127 پہنچ گئی ہے وہیں منگل کی شام ڈوڈہ بگلہ کی 57 سالہ خاتون کی موت ہوئی ہے جسے 30 اپریل کو جی ایم سی میں بھرتی کیا تھا جبکہ ایس ڈی ایچ بھدرواہ میں سرتنگل گاؤں کی چالیس خاتون کی کورونا وائرس سے موت ہوئی ہے اور اس طرح سے ضلع میں کورونا وائرس سے اب تک 86 ہلاکتیں ہوئی ہیں۔انتظامیہ نے ضلع میں کوؤڈ جانچ و ویکسی نیشن کے عمل میں تیزی لائی ہے اور اب تک 1لاکھ سے زائد افراد کو ٹیکے لگائے گئے ہیں۔
 
 
 

کانگریس لیڈر نے بانہال ہسپتال کو دو آکسیجن کنسنٹریٹر اور پی پی کٹس عطیہ کئے

ضلع رام بن اور یوٹی کے دیگر ہسپتالوں میں مزید آکسیجن کنسنٹریٹر دیئے جارہے ہیں:سلمان نظامی

محمد تسکین
بانہال // کانگریس لیڈر اور نیشنل ٹیلی ویژن پینلسٹ سلمان نظامی نے بدھ کے روز بانہال ہسپتال کیلئے دو آکسیجن کنسنٹریٹر اور پی پی کٹس عطیہ کے طور دیئے ہیں جبکہ مزید دس آکسیجن کنسنٹریٹر ضلع رام بن کے ضلع ہسپتال رامبن ، شیر کشمیر میموریل ہسپتال بٹوت اور سب ڈسٹرکٹ ہسپتال گول کے ہسپتالوں کو عطیہ کئے جارہے ہیں۔ اس موقع ایمرجنسی بانہال کے احاطے میں منعقدہ تقریب کے موقع پر نوجوان کانگریس لیڈر سلمان نظامی نے کہا کہ دور دراز کے پہاڑی علاقوں میں عوام کو راحت پہنچانے کیلئے انہوں نے ضلع رام بن اور ریاست کے دیگر علاقوں کیلئے ذاتی طور سے کنسنٹریٹر لائے ہیں جن میں سے دس آکسیجن کنسنٹریٹر ضلع رامبن کے ہسپتالوں کو دیئے جارہے ہیں جبکہ بقیہ سرینگر اور جموں کے دور دراز کے ہسپتالوں میں دیئے جائینگے۔ انہوں نے کہا کہ عام طور پر کووڈانیس کیلئے ضروری سامان بشمول آکسیجن کنسنٹریٹر اور وینٹی لیٹر جموں اور سرینگر کے شہروں تک ہی محدود رہتے ہے اور پہاڑی علاقوں کے لوگ اس سے محروم رہ جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کووڈانیس کی روکتھام کیلئے کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے اور وہ یہ سامان ذاتی طور سے دے رہے ہیں جبکہ ان کی پارٹی ملکی سطح پر لوگوں کو راشن ، ادویات اور دیگر امداد پہنچانے کیلئے سرگرم ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم سبکو اس کو وبائی صورت حال میں ایک دوسرے کی ہر ممکن مدد کیلئے سامنے آنا چاہئے اور اس میں کسی بھی قسم کی سیاست نہیں کی جانی چاہئے۔   اس موقع پر بلاک میڈیکل افسر بانہال ڈاکٹر رابعیہ خان نے سلمان نظامی کا شکریہ ادا کرتے ہوئے اسے بانہال ہسپتال کیلئے ایک بڑی مدد قرار دیا جو کووڈانیس سے متاثرین کیلئے فائیدہ مند ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سلمان نظامی ہمارے مقامی لیڈر ہیں اور دہلی میں بھی انہوں نے اپنے علاقہ بانہال کو یاد رکھا ہوا ہے جس کیلئے سلمان نظامی شاباشی اور مبارکبادی کے مستحق ہیں۔ بانہال کے عام لوگوں نے بھی سلمان نظامی کے اس ایثار کی سراہنا کی ہے۔
 
 
 

جموںمیں آٹو ڈرائیوروں کا جذبہ ایثار |  مریضوں کو مفت پہنچارہے ہیں ہسپتال 

جموں//کورونا کرفیو کے دوران جہاں کئی غیر سرکاری تنظیمیں لوگوں کی خدمت میں جٹی ہوئی ہیں وہیں یہاں آٹو ڈرائیور مریضوں اور تیماداروں کو ہسپتال پہنچانے کے لئے مفت خدمات فراہم کر رہے ہیں۔ان ڈرائیوروں کا کہنا ہے کہ اگرچہ ہم کورونا کرفیو کے دوران لوگوں کی مفت خدمت کر رہے ہیں لیکن حکومت ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے حکومت سے ٹرانسپورٹروں بالخصوص آٹو ڈرائیوروں کو بھر پور مالی معاونت کرنے کی اپیل کی۔ایک آٹو ڈارئیور نے میڈیا کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ ہم نے سال گذشتہ بھی لاک ڈاؤن کے دوران سرکار کا ساتھ دیا اور اس سال بھی مریضوں اور تیماداروں کو مفت ہسپتال پہنچا رہے ہیں لیکن حکومت ہمارے لئے کچھ بھی نہیں کر رہی ہے ۔انہوں نے کہا کہ ہم یہ خدمات کورونا ختم ہونے تک جاری رکھیں گے لیکن حکومت کو بھی ہمارے لئے کچھ کرنا چاہئے تاکہ ہماری مالی مدد ہوسکے ۔ان کا کہنا تھا کہ مہنگائی بڑھ رہی ہے حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ہم غریبوں کا خیال رکھے ۔ایک اور آٹو ڈرائیور نے کہا کہ ہم اپنی جان خطرے میں ڈال کر مریضوں اور ان کے تیمارادروں کی خدمت کر رہے ہیں اب حکومت کو بھی چاہئے کہ ہمارے لئے ایک مالی پیکیج کا اعلان کرے ۔انہوں نے کہا کہ ہماری لوگوں کو خدمت کرنے کی کوششیں جاری رہیں گی۔ایک مسافر نے ، جو ایک آٹو میں بیٹھا تھا، نے بتایا کہ یہ لوگ ہمیں مفت ہسپتال پہنچا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اگر ان لوگوں نے یہ خدمات میسر نہ رکھی ہوتی تو ہمیں بہت مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا۔موصوف مسافر نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان آٹو ڈرائیوروں کی مدد کرے جو موجودہ حالات میں مریضوں اور ان کے تیماداروں کی مدد کر رہے ہیں۔بتادیں کہ جموں وکشمیر میں کورونا کی دوسری لہر کی روک تھام کو یقینی بنانے کے لئے کورونا کرفیو نافذ ہے جس سے ٹرانسپورٹ کی نقل و حمل بھی کلی طور پر بند ہے ۔
 
 
 

جموں کالجوں کے مدرسین کیلئے کووڈ ٹیکہ کاری مہم کااہتمام

 جموں//: گورنمنٹ پی جی کالج برائے خواتین گاندھی نگر میں آج 18 سے 45 سال عمر کے گروپ کے لئے ٹیکہ کاری مہم کا انعقاد کیا گیا۔تمام منسلک کالجوں اورزنانہ کالج پریڈ کی ٹیچنگ اینڈ نان ٹیچنگ فیکلٹی کو ٹیکہ لگایا گیا۔ اس مہم میں کل 380 فیکلٹی ممبروں کو ٹیکے لگائے گئے۔ڈپٹی کمشنر جموں انشول گرگ نے کوویڈ ایس او پیز کے مطابق ویکسی نیشن بوتھ پر انتظامات کا معائنہ کیا۔مہم کا انعقاد کالج کے آڈیٹوریم میں ڈاکٹر رویندر ٹکو نوڈل پرنسپل ، ڈاکٹر سنگیت ناگری  پرنسپل زنانہ کالج گاندھی نگر جموں اور ایس پی ایم آر کالج آف کامرس کے پرنسپل ڈاکٹر رنجیت سنگھ جموال کی نگرانی میں ہوا۔زنانہ کالج گاندھی نگر جموں کے ویکسی نیشن کمیٹی کے ممبران روفیسر مالا بھاسن کی سربراہی میں نوڈل آفیسر پروفیسر ابھینو ، ڈاکٹر ہرمیت سنگھ سوڈان اور پروفیسر سمن بالا نے کالج کے احاطے میں ویکسی نیشن کے عمل کو منظم کیا۔
 
 
 

ضلع کٹھوعہ میں کووڈ کی صورتحال میں بہتری جاری | صحت یابی کی شرح87فیصد،مریضوں کی تعداد میں 50فیصد کمی:ڈی سی

 بنی// ڈپٹی کمشنر کٹھوعہ راہول یادو نے کہا کہ کٹھوعہ میں کووڈ کی صورتحال نے 87 فیصد بحالی کی شرح اور بستر پر قبضہ میں کمی سے 50 فیصد تک حوصلہ افزا بہتری کا مظاہرہ کیا ہے۔ڈی سی میڈیا کو افراد کو ضلع میں کوویڈ 19 کی صورتحال اور اس کے پھیلاؤ کو کنٹرول کرنے کے لئے مختلف سطحوں پر کیے جانے والے اقدامات کے بارے میں بریفنگ دے رہے تھے۔  ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ 1114 نئے کیسوں کے خلاف گزشتہ 7 دنوں میں 1374 مریض صحتیاب ہوئے ، جن میں 87 فیصد صحتیابی ظاہر ہوئی جو پچھلے ہفتے کے مقابلے میں 5 فیصد زیادہ ہے۔تمام اسٹیک ہولڈرز کی کاوشوں کی تعریف کرتے ہوئے ڈی سی نے شہریوں کو کورونا کرفیو پابندیوں کو نافذ کرنے اور کوڈ ویکسی نیشن مہم میں پرجوش شرکت کا مظاہرہ کرنے میں تعاون کرنے کا سہرا دیا۔راہول یادو نے کہا کہ ضلع کٹھوعہ میں گذشتہ سات دنوں میں 17 اموات ہوئیں ، جس میں کوویڈ اموات کی شرح میں بھی نمایاں کمی کو ظاہر کیا گیا ہے۔انہوں نے بتایا کہ تمام کوڈ اداروں میں بستروں پر مریضوں کی شرح میں بھی کم رجحان دیکھا گیا ہے کیونکہ اس وقت صرف 50÷ بستروں پر مریض ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ضلع کی تمام 257 پنچایتوں میں رورل کوویڈ کیئر سنٹرز کے قیام کا عمل زوروں سے جاری ہے۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سہولت 213 پنچایتوں میں بستر اور مریضوں کی دیکھ بھال کی دیگر سہولیات سے پہلے ہی تشکیل دی جاچکی ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ضلعی انتظامیہ نے جے کے ایم سی ایل کو حکم دیا ہے کہ وہ رورل سی سی سی کو بغیر کسی تاخیر کے آکسیجن بستروں سے لیس کریں۔ڈی سی نے یہ بھی کہا کہ کوویڈ مینجمنٹ کٹس ان تمام کوویڈ مریضوں کو مہیا کی جارہی ہیں جو ہوم تنہائی میں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ محکمہ صحت اور میڈیکل ایجوکیشن کی ٹیموں کے ذریعے مریضوں میں کل 1849 کوویڈ مینجمنٹ کٹس تقسیم کی گئیں۔پٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ نے کمزور گروپوں کو کوریج کرنے کے لئے ایک خصوصی مہم شروع کی ہے جس میں وکلا ، صحافی ، شاپ کیپرس ، اسٹریٹ وینڈرز ، ڈھابا مالکان اور ان کے عملہ کے علاوہ پی ایچ ای ، پی ڈی ڈی کے ملازمین کے علاوہ کوڈ تخفیف اور کنٹرول سے براہ راست وابستہ ہیں۔ کوششیں۔انہوں نے کہا کہ آنے والے دنوں میں حفاظتی ٹیکوں کی مہم کو بڑھاوا دیا جائے گا تاکہ ہدف بنائے ہوئے عمر کے گروپوں کو 100. ویکسی نیشن یقینی بنایا جاسکے۔
 
 
 

جموں میں550سے زائد صحافیوںکی کووڈ ٹیکہ کاری ہوئی

 جموں // ڈائریکٹوریٹ انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشن آفس جموں میں منعقدہ خصوصی ویکسی نیشن کیمپ کے دوسرے دن پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا سے وابستہ 200 سے زیادہ میڈیا افرادکو ٹیکہ لگائے گئے ۔اس طرح دو روزہ مہم میں550میڈیا افراد کو ٹیکے لگے۔ ڈسٹرکٹ انتظامیہ کے تعاون سے ڈائریکٹر انفارمیشن اینڈ پی آر جے اینڈ کے مسٹر راہول پانڈے کی ہدایت پر یہ کیمپ لگا تھا۔ڈپٹی ڈائریکٹر (پی آر) جموں گل حسن کرائپک ، ویکسی نیشن مہم کے نوڈل انچارج تھے۔ٹیکے لگانے والوں میں صحافی ، فوٹو جرنلسٹ ،رپورٹنگ عملہ اور مختلف میڈیا ہاؤسز ، ریڈیو چینلز اور دیگر شامل ہیں۔UT انتظامیہ نے میڈیا والوں کو ترجیحی طور پرٹیکے لگانے کا فیصلہ کیا ہے کیونکہ جب سے COVID 19 وبائی امراض پھیل رہے ہیں ، تب سے فرنٹ لائن ورکرز کی طرح انتھک محنت کر رہے ہیں تاکہ لوگوں کو حقیقت سے متعلق حقیقت پر مبنی رپورٹ منظر عام پر لائیں۔ وہ لوگوں میں کوویڈ 19 کے بارے میں شعور اجاگر کرنے میں بھی بھرپور کردار ادا کررہے ہیں۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن جموں کے ذریعہ میڈیا افراد کے لئے دو روزہ خصوصی ٹیکہ سازی مہم کا انعقاد نظامت اطلاعات اور پی آر کے اشتراک سے کیا گیا تھا جس میں 18-45 عمر کے گروپ کے 550 سے زیادہ میڈیا افراد نے اپنی پہلی ویکسین کی خوراک حاصل کی ۔
 
 
 

جموں انتظامیہ نے کووڈ ٹیکہ کاری مہم میں لائی تیزی | شہر میں32مقامات پر ٹیکہ کاری شروع کی گئی : ڈی سی

 جموں//ڈپٹی کمشنر انشول گرگ نے بتایا کہ ضلعی انتظامیہ کورونا وائرس سے متاثرہ لوگوں کو ہر قسم کی خدمات / سہولیات کی فراہمی کے لئے مستقل کوششیں کررہی ہے۔ویمن کالج گاندھی نگر ، سپر اسپیشیلٹی ہسپتال اور مبارک منڈی ہیریٹیج کمپلیکس میں ویکسی نیشن ڈرائیو کے معائنے کے دورے کے دوران ، ڈپٹی کمشنر نے میڈیا کو کوڈ 19 معاملات کی روک تھام کے لئے ضلعی انتظامیہ کے اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔وہ اس دورے کے دوران متعلقہ محکموں کے اے ڈی سی (ایڈم) ستیش کمار شرما اور دیگر ضلعی افسران کے ہمراہ تھے۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ COVID-19 وبائی امراض سے موثوق چیلنجوں سے نمٹنے کے لئے انتظامیہ نے لوگوں کو ٹیکہ لگانے کی کلیدی تاکید کی ہے۔ڈپٹی کمشنر نے بتایا کہ ترجیحی گروپوں کو دوائیوں ، صحافیوں ، وکلاء ، بیواؤں ، یتیموں ، سیاحت کے شعبے سے وابستہ افراد وغیرہ کی ٹیکہ کاری کے لئے 32 مختلف مقامات پر خصوصی ویکسینیشن مہم شروع کردی گئی ہے۔کورونا پابندیوں کے درمیان کمزور طبقے کو ریلیف فراہم کرنے کے لئے اٹھائے گئے اقدامات کی فہرست دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ محکمہ سوشل ویلفیئر ، لیبر ڈیپارٹمنٹ اور ایف سی ایس اور سی اے ڈیپارٹمنٹ تعمیراتی کاموں میں پنشن ، راشن اور مالی امداد فراہم کرنے کے لئے اضافی کوششیں کررہے ہیں۔ڈپٹی کمشنر نے کہا کہ ضلعی انتظامیہ اس تیز رفتار خصوصی ویکسی نیشن مہم کے تحت زیادہ تر لوگوں کو ٹیکس لگانے کی کوشش کر رہی ہے جو 18 سے 4 سال کی عمر کے گروپوں کے لئے ہیں۔ انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ کوڈ 19 کے حوالے سے کسی بھی قسم کی مدد کے لئے ہیلپ لائن نمبر استعمال کریں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی طرح کی نرمی نقصان دہ ثابت ہوسکتی ہے۔تاہم ، ڈپٹی کمشنر نے متنبہ کیا کہ ضلع میں مثبت معاملات میں رجحان کم ہونے کے باوجود ، عوام کوائڈ کے خلاف احتیاط کم نہیں کرینگے اور ایس او پیز پر عمل کریں۔
 
 

ہائیکورٹ جموں میں ٹیکہ کاری کیمپ | 1550 افراد نے کووڈ ٹیکے لگوائے

جموں//صحت و طبی تعلیم اور قانون محکموں نے جموں و ہائیکورٹ کے تعاون سے جموں ونگ میں جموں و کشمیر بار ایسوسی ایشن جموں کے ایڈوکیٹس کے لئے دو روزہ کوویڈ - 19 ٹیکہ کاری کیمپ کا انعقاد کیا ۔اس موقع پر رجسٹرار جوڈیشل ، ایس آر گاندھی ، جوائنٹ رجسٹرار پروٹوکول / جوڈیشل دنیش گپتا ، ڈائریکٹر قانونی چارہ جوئی ، ولی کول اور دیگر عملہ کے ممبران بھی موجود تھے۔ویکسی نیشن ٹیم کی سربراہی ڈاکٹر امبیکا بالی کررہے تھے ، ان کے ہمراہ نوڈل آفیسر ڈاکٹر ناہیدہ کوثر ، ڈاکٹر ارچنا ، ڈاکٹر یامینی اور ڈاکٹر پوجا سمیت دیگر پیرا میڈیکل عملہ تھا۔25 مئی 2021 کو منعقدہ ویکسی نیشن کیمپ کے پہلے دن 720 افراد کو کوڈ کی ویکسین پلائی گئی تھی جبکہ 26 مئی 2021 کو 830 افراد کوٹیکے لگائے گئے۔تمام 1550 افراد میں ہائی کورٹ اور ڈسٹرکٹ کورٹ جموں کے عملے سمیت ٹیکے لگائے گئے۔ 
 
 
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 
 

گھر میں گھس کرخواتین کے ساتھ بدسلوکی کا الزام | آر ایس ایس لیڈراور اسکے ذاتی محافظ کیخلاف کیس درج

عاصف بٹ 
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں چند روز قبل سماجی رابطوں کی ویب سایٹوں پر آر ایس ایس لیڈر اور اسکے ذاتی محافظوں کی علاقہ پنڈتگام میں خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک خاندان کی طرف سے گھر کی دیوار تعمیر کی جارہی ہے۔ کشمیر عظمی کو ملی تفصیلات کے مطابق یہ واقعہ 17 مئی کا ہے جب آر ایس ایس لیڈر اپنے ذاتی محافظوں کے ہمراہ سومناتھ کے گھر میں داخل ہوا اور وہاں موجود گھر کے افراد و خواتین کے ساتھ بدسلوکی کی۔ ایک چھوٹے بچے نے یہ ویڈیو بنائی تھی۔ پولیس نے دو روز قبل مقدمہ درج کیا۔ ایف آئی آر زیر نمبر 107 زیر دفعہ 451,323,504,506,146,427 سنجے کمار و اسکے ذاتی محافظوں کے خلاف پولیس تھانہ کشتواڑ میں درج کرلیا ہے اور تحقیقات شروع کی گئی ہے۔ بچی نے میڈیا کو بتایا کہ سنجے کمار نے اپنے ذاتی محافظوں کے ہمراہ گھر میں آکر میری ماں ، ماما و دیگر افراد کو مارا اور مار ڈالنے کی دھمکی دی۔آرمی ریٹائر سومناتھ نے بتایا کہ انھوں نے سناتھا کہ سنگھ کے لوگ فوجیوں کی بڑی عزت کرتے ہیں لیکن یہ سچ نہیں ہے۔انہوںنے کہا کہ سنجے کے ہمراہ 15 کے قریب افراد ساتھ تھے جو گھر میں گھس آے اور انہیں جان سے مارنے کی دھمکی دی جانے لگی۔انھوں نے بتایا کہ یہ کس طرح کی جمہوریت ہے جہاں کسی کے گھر میں جاکر انھیں بلاجواز مارا جائے۔ انھوں نے سبھی افراد کے خلاف سخت کاروائی کی مانگ کی ہے تاکہ دوبارہ اسطرح کے واقعات رونما نہ ہوں۔
 
 
 

نہوچ زیارت تک آج تک سڑک نہ بن پائی | زائرین کو زیارت تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا

 زاہد ملک
مہور//سب ڈویژن مہور کے گاؤں نہوچ میں پیر بابا غلام رسول شاہ کی زیارت ہے جہاں پر مختلف اضلاع سے زائرین آتے ہیں۔واضح رہے یہ بہت پرانی زیارت ہے جہاں پر دور دراز علاقوں سے زائرین اپنی منتیں لے کر آتے ہیں لیکن بد قسمتی تو یہ ہے کہ اس زیارت تک ابھی تک سڑک نہیں پہنچائی گئی ہے جس کے باعث زائرین کو کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کر کے اس زیارت تک پہنچنا پڑتا ہے جس کے باعث کچھ لوگ وقت پر اپنی منزل کو واپس نہیں پہنچ پاتے ہیں۔اس زیارت پر موجود کچھ لوگوں نے بتایا کہ وہ کئی کلومیٹر پیدل سفر طے کر کے اس زیارت تک پہنچے ہیں اگر سڑک کی سہولیت ہوتی انہیں مشکلات کا سامنا نہیں کرنا پڑتا۔انہوں نے کہا سڑک کی سہولیت نا ہونے کی وجہ سے سبھی لوگ اس زیارت تک نہیں پہنچ پاتے ہیں۔پیر بابا غلام رسول شاہ کی یہ زیارت کافی مشہور ہے اور اس زیارت پر ریاسی،راجوری،پونچھ،رام بن،جموں اور مختلف اظلاع سے زائرین پہنچتے ہیں۔یہ زیارت اوقاف کی زیر نگرانی میں ہے اور اس زیارت پر دور سے آئے ہوئے لوگوں کیلئے لنگر کا بھی اہتمام کیا جاتا ہے اور رہنے کیلئے بھی جگہ بنائی گئی ہے۔یہاں پر موجود مولوی نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا اس زیارت پر ہر سال لاکھوں کی تعداد میں پیسہ جمع ہوتا ہے۔مقامی لوگوں نے انتظامیہ سے مانگ کی ہے کہ فوری طور اس زیارت تک سڑک پہنچائی جائے تاکہ زائرین کو پریشانی کا سامنا نا کرنا پڑے۔
 
 
 

راشن کارڈ کیساتھ آدھار لنک کامطالبہ | فہرست میں نام کاٹنے پرتھروکی عوام کااظہارتشویش

زاہدبشیر
گول//ضلع ریاسی کے تحصیل  تھرو کے سب ڈویژن درماڑی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ ان کے راشن کارڈ کے ساتھ آدھار لنک نہیں ہوا ہے۔ راشن کارڈ لسٹ میں ہمارے نام کاٹ دیے گئے  ہیں اور ہمیں عید پر بھی راشن نہیں ملا۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ راشن کارڈ کے ساتھ ہمارا آدھار لنک نہیں ہواہے جس وجہ سے ہمیں راشن سے محروم ہونا پڑ رہاہے۔۔ مقامی لوگوں نے محکمہ امور صارفین وعوامی تقسیم کاری ضلع ریاسی کے اے ڈی سے مطالبہ کیاکہ تھرو میں ایک کیمپ لگایا جائے تاکہ یہاں کے لوگ اپنے راشن کارڈ آدھار کارڈ سے لنک کروا سکیں اور راشن لینے میں کوئی پریشانی نہ ہو۔ انہوں نے کہاکہ یہ راشن آن لائن کے ذریعے مل رہا ہے جہاں پر لوگوں کا لنک نہیں ہے۔
 
 
 

دیہی علاقوںسے ڈی آر ڈی اوہسپتال میں |  ڈاکٹر تعینات کرنے پر صحت محکمہ کی تنقید 

 وجے پور//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے دیہی علاقہ جات سے ڈی آر ڈی او کی طرف سے جموں میں تعمیر عارضی کویڈ اسپتال میں تعینات کرنے پرگہری تشویش ظاہر کی ہے۔منجیت سنگھ نے کہاکہ بدقسمتی سے دیہی علاقہ جات میں تعینات ڈاکٹروں کو ڈی آر ڈی او اسپتال میں تعینات کیاجارہا ہے جبکہ صوبہ جموں کے دیہات میں کورونا کے زیادہ معاملات سامنے آرہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ ضلع سانبہ سے چار ڈاکٹروںسمیت جموں وکشمیر کے مختلف اضلاع سے ماہرین معالجن کو ڈی آر ڈی او اسپتال تعینات کیاجارہاہے جوکہ دیہی آبادی کے ساتھ نا انصافی اور امتیاز ہے۔ انہوں نے کہاکہ جموں اور سرینگر میں ڈی آر ڈی او اسپتال کو فعال بنانے کیلئے دیہات کے اسپتالوں کو بند کرنا سنگین غلطی ہے اور ہم اِس قدم کی سخت مذمت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا’’ہمیں دیہی علاقہ جات میں صحت خدمات بہتر بنانے ککے لئے مشینری ودیگر سہولیات کی تجدید کی ضرورت ہے لیکن محکمہ صحت کی دیہات کے لوگوں کی مشکلات کی کوئی پرواہ نہیں‘‘۔سابقہ وزیر نے کہاکہ شہروں وقصبہ جات سے زیادہ دیہات صحت محکمہ کی عدم توجہی کا شکار ہیں۔انہوں نے مطالبہ کیاکہ شہری علاقوں سے ڈاکٹروں کو دیہات میں قائم صحت مراکز کی طرف منتقل کرنا چاہئے تاکہ وہاں پر صحت شعبہ کو بہتربنایاجائے جہاں دہائیوں سے طبی عملہ کی قلت ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیاکہ حکمراں جماعت کے جھوٹے نعرؤں کی وجہ سے جموں میں ترقی کے دعوؤں کی پول کھل چکی ہے کیونکہ یہاں کے لوگ پنجاب یا دہلی سے علاج ومعالجہ کرانے پر مجبور ہیں۔ محکمہ صحت کی ناکامی کی وجہ سے شرح اموات میں اضافہ ہوا ہے، جموں وکشمیر میں صحت نظام کو بہتر بنانے کے لئے کچھ نہیں کیاجارہا۔ انہوں نے کہاکہ سی ایچ سی رام گڑھ، ٹرامہ اسپتال وجے پور اور سانبہ میں ڈاکٹروں، پیرا میڈیکل سٹاف ، وینٹی لیٹرز اور دیگر مشینری کی دستیابی یقینی بنائی جائے تاکہ اُن مریضوں کابہتر علاج ومعالجہ ہوسکے جوکہ سرکاری اسپتالوں میں مفت علاج کرانے کے حقوق سے محروم ہیں۔ انہوں نے کہا’’ ایک ڈیجیٹل ایکسرے مشین کویڈ کیئر اسپتال رام گڑھ اور ایمرجنسی اسپتال وجے پور کے لئے درکار ہے‘‘۔انہوں نے صحت محکمہ سے گذارش کی ہے کہ مکمل طور آٹومیٹک بائیو کیمسٹری  لیبارٹری،لیبارٹری کے لئے تین سیل کاؤنٹرز، وینٹی لیٹرز چلانے کے لئے چار کریٹیکل کیئر سٹاف فراہم کیاجائے‘‘۔
 
 
 

ہفتہ وار مرمت کے پیش نظر | قومی شاہراہ پر ٹریفک بند رہا

 ایم ایم پرویز
رام بن//جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ہمیشہ مصروف ناشری تا جواہر سرنگ پر گاڑیوں کی آمدورفت بدھ کے روز ہفتہ وار مرمت اور بحالی کے کاموں کے لئے معطل رہی۔ ضروری مرمت کرنے کے لئے اکتوبر 2020 ء سے کشمیر کو ملک کے دیگر حصوں سے مربوط کرنے کا حتمی رابطہ ہر ہفتے ایک دن بند رہتا ہے۔جموں سرینگر قومی شاہراہ پر ہر بدھ کے روز ہفتہ کے وقفے کے بعد نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا کے ساتھ کام کرنے والی سب ٹھیکیدار کمپنیوں نے مرمت کرتی ہیں جس کے سبب شاہراہ قاضی گنڈ سے ادھم پور سیکشن تک گاڑیاں ٹریفک کے لئے بند رہتی ہے۔نیشنل ہائی وے اتھارٹی آف انڈیا (این ایچ 1 اے) کے ذریعہ بانہال سے جکھانی ادھم پور تک دو لین پرانے جموں سری نگر نیشنل ہائی وے کو چار لین میں اپ گریڈ کرنے کے لئے کام کرنے والی ذیلی ٹھیکیدار کمپنیوں نے چندرکوٹ، کرول، رامبن، سیری، ماروگ، پینتھیال، رامبن اور کچھ دیگر مقامات پر سڑک کی مرمت کا کام انجام دیا۔ادھرمناسب موسم اور سڑک کی بہتر حالت کو دیکھتے ہوئے چھوٹی گاڑیوں (مسافر) کو جموں سری نگر شاہراہ پر دو طرفہ چلنے کی اجازت ہوگی تاہم ، ٹی سی یو جموں / سری نگر ٹریفک جاری کرنے سے پہلے ٹی سی یو رامبن سے رابطہ کرے گا۔
 
 
 

39مویشی بازیاب

 رام بن//ایم ایم پرویز// رام بن پولیس نے جموں سرینگر ہائی وے پر بٹوت پولیس کے ذریعہ قائم نہری ناکہ پر بدھ کے روز 5 ٹرکوں میں بھیڑ اور غیرصحت مند طریقے سے لدے 39 مویشیوں کو بازیاب کرانے کا دعوی کیا ہے۔پولیس نے بتایا کہ ناشری ناکہ پر معمول کے مطابق چیکنگ کے دوران پانچ ٹرک تلاشی کے دوران روکے ہوئے تھے جس میں مویشیوںکو ٹھونساہوا پایا گیا تھااور اس کی نقل و حمل کیلئے کوئی اجازت نامہ بھی نہیں تھاجس کے بعد سبھی مویشیوںکو تحویل میں لیکر بٹوت تھانہ میں کیس درج کیاگیا۔
 
 

تازہ ترین