تنقید اور موجودہ حالات

نقطہ نظر

تاریخ    20 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


عبید احمد آخون
پہلے ہر شخص گریبان میں اپنے جھانکے
پھر بصد شوق کسی اور پہ تنقید کرے (مرتضیٰ برلاس)
جب ہم لفظ تنقیدسنتے ہیں تو ہمارے ذہن میں بہت سارے خیالات گردش کرتے رہتے ہیں اور زیادہ تر ہمارے خیالات اتنے محدود ہو کر رہ جاتے ہیںکہ ہم اس بظاہر دکھنے والے چھوٹے لفظ کو خود پر یا کسی کے اور پر کی جانی والی مخالفت تک کے ہی دائرہ میں لیتے ہیں لیکن اگر ہم دوسرے پہلوئوں کو بھی مد ِ نظر رکھیں اور مثبت نتائج تنقید میں اخڈ کرنے کی سعی کریںتو یہ تنقید برائے تعمیر کہلائے گی اور یہ تنقید ہی ہے جو ادیب کو یا ایک فرد کو یا ایک حکومت کو جواب دہ بنانے پر ہر ایک قدم پھونک پھونک کر رکھتے ہوئے باور کراتی ہے کہ آپ پر نظر ہے نظر انداز نہ کریں۔ 
اردو ادب میں لفظ تنقید دراصل انگریزی لفظ Criticism کا ترجمہ ہے جس کے معنیAppreciation ،Estimate ،Assessment ،Judgement ،Evaluation وغیرہ ، غرض ہر مفہوم میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اسی طرح اردو ادب میں لفظ تنقید کے لغوی معنی ہیں کسی ادب پارے کی ہر ایک زاویہ سے جانچ پرکھ یا تفتیش کے بعد کوئی نتیجہ بنا کسی تعصب کے قاری کے سامنے پہنچانا تاکہ اْس میں نکھار پیدا ہوجائے اور قاری صحیح اور غلط میں تفرق کرسکے۔
بچپن سے ہم دیکھتے آئے ہیں کہ ہمارے والدین جب ہمیں کسی بھی کوتاہی کا مرتکب پاتے ہیں تو ہمیں کسی دوسرے دوست، احباب ، یا جان پہچان والے شخص کی مثال دے کر ہمیں اْس شخص کی خوبیوں سے سبق حاصل کرنے کا ارادہ ظاہر کرتے ہیں۔ یہ تنقید بھی برائے تعمیر کہلائے گی۔لیکن اگر والدین کا یہ عمل روز کا معمول بن جائے تو یہ منفی تنقید کی راہ ہموار کرتا ہے کیونکہ ہر شخص کی صلاحیت جداگانہ ہوتی ہے۔موازنہ تب تک ٹھیک ہے جب تک حدود کا خیال رکھا جائے ۔اگر نہ رکھا جائے تو بچے احساسِ کمتری کا شکار ہوکر ذہنی امراض میں بھی مبتلا ہوسکتے ہیں اور والدین اور بچوں میں ایک ایسی خلا بھی پیدا ہوجاتی ہے جو پْر کرنے میں کبھی کبھی صدیاں بھی لگ جاتی ہیں۔
اسی طرح ادیب بھی جب قلم اْٹھاتا ہے تو اْسے بھی بہت سارے پہلوئوں کو ذہن میں رکھنا پڑتا ہے۔ ادب کا اثر سماج پر گہرا پڑتا ہے۔ ادیب سماج کا ترجمان ہوتا ہے ۔وہ جو کچھ بھی سماج میں دیکھتا ہے، اُسے قلمبند کرتا ہے ۔اگر ادیب خامیوں کو نظر انداز کر کے صرف خوببوں کو اْجاگر کرے تو یہ ادب کی موت ہے اور اسی طرح اگر صرف خامیوں کو اْجاگر کرے تو وہ بھی ایک ادیب کو زیب نہیں دیتا اور اْسے ادیب کی نا اہلی ہی تصور کیا جائے گا ۔گویا ادیب کا ترازو میزان کے اصولوں کا پابند ہے۔ الطاف حْسین حالی نے جب اپنے دور میں اردو ادب کی ہر دل عزیز اصناف غزل میں کوتاہی دیکھی ،یہاں تک کہ بہت سارے ادیبوں نے اسے نیم وحشی صنف بھی مان لیا تھا اور اسے ادب سے خارج کرنے کی آواز بھی زور پکڑ رہی تھی، تب حالی نے 'مقدمہ شعرو شاعری' لکھ کر غزل کے اوزان مقرر کئے اور بہت ساری تبدیلیاں اس میں لانے کی ادیبوں سے درخواست کی اور آج غزل کو اردو ادب کی آبرو کہا جاتا ہے۔ یہ الطاف حسین حالی کی ادب پر منت ہے ورنہ اگر وہ بھی منفی تنقید کی پذیرائی کرتے اور مثبت پہلوئوں کو نظرانداز کرتے تو آج وہ زندہ جاوید نہ ہوتے۔ اگر ادیب کا ذہن عداوت، نفرت، رنجش سے لبریز ہو تو وہ تنقید نگاری سے وفا نہیں کرسکتا ۔یاد رہے شخصی تنقید ادب کی موت ہے۔
کروں جو تنقید ظلمتوں پر
تو آئے گا حرف حکمتوں پر (نیر رانی شفق)
دنیا کی طرح آج ہندوستان میں بھی Covid-19 کا اثر روز بہ روز بڑھتا جا رہا ہے۔ حکومت ِ وقت کوشش کر رہی ہے کہ وباہ پر قابو پالے  اور اپوزیشن پارٹی حکومت پر شعبہ صحت کی ناکامیابیوں پر تنقید کر رہی ہے۔ اگر اس پر ہم بھی تنقید کریں تو اس میں بھی ہمیں خوبیاں اور خامیاں دونوں ملیں گی۔ مثلاً اپوزیشن کی تنقید کی وجہ سے ابھی حکومت ِ وقت کی پوری توجہ شعبہ صحت پر مرکوز ہے اور آنے والے وقت میں شعبہ صحت حکومتوں کی ترجیحات میں شامل ہوجائے گی۔ منفی تنقید اگر اس میں ہم نکالنے کی کوشش کریںتو آنے والی حکومتوں کے لئے یہ ووٹ حاصل کرنے کا ایک نیا manefesto بن جائے گا جس کا غلط استعمال ہونے کا اندیشہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے۔
اردو ادب میں تنقید کو باقاعدہ صنف ادب کی حیثیت کے فن سے آشنائی کرانے میں پروفیسر آلِ احمد سرور ایک معتبر حیثیت رکھتے ہے۔ اْن کا جو بھی ادبی و تنقیدی سرمایہ ہے، وہ اردو ادب میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ تنقید کے مطالبات اور اس کی تعریف و توضیح کے ضمن میں نہایت ہی بلیغ اشارے کئے ہیں ۔اپنے مجموعہ مضامین  '' تنقید کیا ہے؟ '' کے دبیاچے میں وہ یوں رقم طراز ہیں ؛
'' میں تنقید کو ایک سنجیدہ،اہم اور مشکل کام سمجھتا ہوں اور اس کا لطف ِ سخن نہیں بلکہ قدروں کی اشاعت جانتا ہوں ۔اس لئے پڑھنے والوں سے بھی سنجیدگی اور متانت اور غور و فکر کا مطالبہ کرتا ہوں ''۔
تنقید کرو خوب مگر دیکھتے رہنا
بیکار نہ جائے گا ہنر دیکھتے رہنا
پتہ۔پاندریٹھن سرینگر حال اومپورہ ہاؤسنگ کالونی 
فون نمبر۔9205000010
ای میل۔akhoon.aubaid@gmail.com
��������
 

تازہ ترین