تازہ ترین

لہر نے نگلے شہر یہ میرے، قہربپا ہے ہو سو جاری

سنبھل جائیں ،سدھر جائیں ورنہ فنا ہوجائیں

تاریخ    12 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


آصف اقبال
آج کل کچھ الفاظ ہرکسی فردِبشرکی نوک زبان پر ہیں۔ لہر،ماسک،سوشل ڈسٹنس،سینیٹایزر وغیرہ وغیرہ۔ان الفاظ میں ماسک، ڈسٹینس اور سینیٹایزر اقدامات کے طور استعمال کئے جاتے ییں اور تقریباً 90فی صد آبادی ان چیزوں کا استعمال احتیاطی تدابیر کے طور کرتی ہے لیکن لفظ لہر کے خوف سے ہر خاص و عام پر ایک رعب اور خوف طاری ہوچکا ہے۔ پہلی لہر،دوسری لہر اور اب تیسری لہر کا وقوع پذیر ہونا ماہرین نے اسکی تصدیق کی ہے۔ سوال یہ ہے کہ لفظ لہر نے ابتداء اور ثانوی مراحل میں شہر میں قہر بپا کیا،ہوا ہے،شہرو دیہات میں زہر اْگلاہے،گلی گلی ،کوچہ کوچہ ،شہر شہر اور نگر نگر میں ایک قیامت صغرا بپا کی ہے توتیسری لہر میں حالت کتنی بھیانک ہوگی۔ دوسری لہر نے ہسپتالوں کی پول کھول دی،ڈاکٹروں کو تھکا دیا،مریضوں کو دم بخود کردیا، لوگوں کو تڑپا تڑپا کر ماردیا تو تیسری لہر کے تھپیڑوں سے کس کی خیر ہوگی۔ فی الاصل لہر اپنے آپ میں ایک طاقت کا نام ہے ،دریا سے اْٹھے یا سمندر سے ،ہوا میں چلے یا وائرس کی صورت میں نمودار ہو، غرض لہر لہر ہی ہے جو ٹیکنالوجی کو بے کار بنادیتی،جو انسانوں کو نگل دیتی ہے،جو ماہرین کو پریشان کردیتی ہے۔ بہر کیف دریائوں اور سمندروں سے اْٹھنی والی لہریں ساحل سے ٹکرا کر طوفان برپا کردیتی ہیںاور کسی مخصوص خطے میں لوگ نقصان کے شکار ہوتے ہیں لیکن کورونا کی بے آواز لہر نے دنیا کے چپے چپے پر ایک طوفان بپا کیا اور یوں معیشت دم توڈ بیٹھی،ہسپتال بھر گئے،ڈاکٹر تھک گئے،مریض سڑکوں پر مرگئے،اور اسطرح سے کچھ لوگ ڈر کے مارے گھروں میں مرگئے۔ غرض لفظ لہر نے دریائوں کو چیرتے ہوئے،پہاڑوں سے گْزرتے ہوئے،فضائوں سے نبر د آزاماء ہوکر پیرو جوان پر حملہ کیا اور سینکڑوں نہیں ، ہزاروں نہیں،لاکھوں بھی نہیں بلکہ کروڈوں لوگوں کو گھٹ گھٹ کے ماردیا۔ اب اس لہر سے بچنے کے اوپائے روز ہم سنتے ہیں جسکے لئے کچھ لفظ زبان زد عام ہیں اور وہ ہیں ماسک اورڈ سٹینس۔
 ان حالات میں غور کرنے کی ضرورت ہے اور وہ یہ ہے کہ جب ظلم کی لہر چلتی ہے،جب مار دھاڈ کی لہر دوڑتی،جب چھینا جھپٹی ،سینہ زوری اور قتل و غارت کی لہر گھومتی ہے،جب انسانیت نیلام ہوجاتی ہے،جب عدل و انصاف کا نام مٹ جاتا ہے،جب،مظلوم کی آہوں اور مقتول کے خون پر سیاست کی جاتی ہے،جب تیغ و تفنگ سے انسانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کے لئے منصوبے بنائے جاتے ہیں،جب بے آسراء لوگوں کی کوئی نہیں سنتا،جب انسانوں پر کھلے عام وار کئے جاتے ہیں اور جب تیغوں اور تفنگوں، میزائلوں،بمبوں اور بارود کے نشے میں چور دْنیا کے ممالک کمزوروں پر ٹوٹ پڑتے ہیں، تب ایک ایسی بے آواز لہر نمودار ہوتی ہے جو برق رفتار بھی ہوتی ہے اور جان لیوا بھی اور وہ لہر ہر گْزرتے دن کے ساتھ تیز ہوتی ہے اور شہروں پر ٹوٹتی،دیہات پر برستی ہے اور یوں ایک قہر بن کے شہر و دیہات میں قیامت بپا کردیتی ہے۔ قیامت کی اس گھڑی میں ہسپتال کم پڑتے ہیں،ڈاکٹر مایوس ہوتے ہیں،انسان محصور ہوتے ہیں، فاصلے بڑھتے ہیں، لوگ تڑپ تڑپ کر مرتے ہیں،آکسیجن کی قلت ہوتی ہیں،ہزاروں لوگ سڑکوں پر بے گور و کفن گھٹ گھٹ کر مرتے ہیں،آخری رسومات ادا کرنے کے لئے قبرستاں میں جگہ کم پڑتی ہے،شمشان گھاٹ میں آگ کے شعلے بڑکھ اْٹھتے ہیں۔چنانچہ میزائل کی بھرمار اور ٹیکنالوجی کا نشہ ٹوٹ پڑتا ہے۔ قیامت خیز لہروں کے تھپیڑے بزرگوں ،جوانوں ،بچوں اور خواتین کو اپنی گرفت لیکرہزاروں خوشحال گھرانوں کو خالی کر دیتے ہیں۔ ان حالات میں لہروں کے زوردار تھپیڑوں سے پوری دْنیا پر قبرستاں کی خاموشی چھا جاتی ہے،آپسی نفرتیں کم ہونے لگتی ہیں،مذہبی بیر ختم ہوجاتا ہے اور بچائو بچائو کی زور دار آوازیں کانوں سے ٹکراتی ہیں ۔
 قیامت کی اس گھڑی میں لوگوں کو خاموش انداز میں سمجھایا جاتا ہے کہ ظلم کی داستانوں کو ختم کرنے کی ضرورت ہے،بموں اور بارود کی بارش بندکرنے کی ضرورت ہے،مذہبی بیر کو دور کرنے کی ضرورت ہے، شعبہ صحت کو مضبوط بنانے کی ضرورت ہے،صحت و صفائی کا بہتر انتظام کرنا ہوگا ،عوام کو بدلنا ہوگا،سرکار کو عیش کوشی اور نشاط آفرین زندگی سے اجتناب کرتے ہوئے لوگوں کی جانیں بچانے کی خاطر ایک نئی حکمت عملی ترتیب دینی ہوگی ، حاکم ومحکوم کو سرکاری ہدایات پر چلنا ہوگا،رسہ کشی کو دفن کرنے کی ضرورت ہوگی ،عدل و انصاف کو قائم کرنے کی ضرورت ہوگی، تبھی آفات اس قہر سے نجات ملنے کی امید کی جاسکتی ورنہ مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی کے مصداق موت کا رقص جاری رہے گا،آہ و فغاں اور رنج و الم کی طویل داستانیں رقم ہوتی جائیں گی ، ٹیکنالوجی بے کار پڑی گی،دوا بے اثر بنے گی، دعائیں پلٹ کر واپس آئیں گی ،گھروں کے گھر لٹ جائیں گے،شاہ و گدا ایک ہی صف میں چلا چلاکر دم توڈ بیٹھیں گے اور قیامت کے اس منظر میں غربت، عسرت اور بھوک مری سے ہزاروں لوگ عش عش کرتے ہوئے بے یارو مددگار سڑکوں پر مرتے جائیں گے۔
قیامت خیز مناظر کو دیکھتے ہوئے ہر خاص و عام پرذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ احتیاطی تدابیر کو عملایا جایا۔ اڑوس پڑوس میں رہنے والے مفلوک الحال لوگوں کے تعاون کے لئے اجتماعی طور کوششیں کی جائیں اور عید سعید کے موقع پرفضول خرچی سے اجتناب کرتے ہوئے نہایت کفایت شعاری اور قناعت پسندی سے عید منائی جائے کیونکہ ماہرین کا ماننا ہے کہ آنے والے ایام بہت ہی خطرناک ثابت ہونگے اور روزانہ ہزاروں لوگوں کی موت واقع ہوگی۔ چنانچہ دانشمندی یہی ہے کہ پھونک پھونک پر قدم اْٹھائے جائیں اور بارگاہ ایزدی میں نہایت عجزو انکساری سے دعائیں مانگی جائیں اور اسطرح سے غم و الم کے بادل چھٹ جائینگے۔
�������