تازہ ترین

کورونا وائرس کے سائے میں عید

خوشیاں بانٹنے سے خوشیاں گھٹتی نہیں

تاریخ    12 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


امتیاز خان
رمضان المبارک 1442ہجری اختتام کو پہنچ رہا ہے اور اس مقدس مہینے کی تکمیل پرعید اللہ تعالیٰ سے انعامات پانے کا دن ہے تو اس سے زیادہ خوشی و مسرت کا موقع کیا ہوسکتا ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اْمت مسلمہ میں اِس دن کو ایک خاص مقام اور اہمیت حاصل ہے۔عید الفطر دراصل بہت سی خوشیوں کا مجموعہ ہے۔ رمضان المبارک کے روزوں کی خوشی، قیام الیل کی خوشی، نزول قرآن اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے روزہ داروں کیلئے رحمت، مغفرت، بخشش اور جہنم سے آزادی کی خوشی۔بہرحال اس عید سے قبل جانے کتنی ہی عیدیں ہم اپنی خواہشات کے مطابق منا چکے ہیںلیکن گزشتہ سال کی طرح آج بھی ہم کورونا وائرس اور لاک ڈائون کے نتیجے میں عیدالفطر چار دیواری کے اندر ہی منارہے ہیں۔آج بھی اس خوشی کے موقع پرہر کوئی اداس ہے اوراس فکرمیں ہے کہ اس مرتبہ عید کیسی ہوگی کیونکہ کورونا کا قہر بڑھتا ہی جا رہاہے۔ ہر کوئی پریشان ہے۔بھارت سمیت بعض ممالک میں صورتحال ابتر ہے۔ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافے سے ہندوستان کے بہت سے شہروں میں شمشان گھاٹوں اور قبرستانوں میں آخری رسومات کی ادائیگی میں دشواریاں پیش آ رہی ہیں۔ ایک چھوٹے سے وائرس نے پوری دنیا میں تباہی مچا دی ہے۔ مزدور طبقے کی حالت تو رلادینے والی ہے۔غیر سرکاری ملازمین میں سے اکثریت کو آدھی تنخواہ ہی مل رہی ہے، کئی لوگ مہینوں سے بے روزگار ہیں۔ہر کسی کے چہرے پر دکھ نظر آ رہا ہے۔ کب مالی حالات پھر سے بہتر ہوں گے اور کب زندگی کی گاڑی پھر سے اپنی رفتار پکڑلے گی؟کوئی نہیں جانتا۔ انہی حالات میں ہم عیدمنانے جارہے ہیں۔
عید مسلمانوں کیلئے انعام کا دن ہے۔ غریبوں، مسکینوں، محتاجوں اور بیواؤں کے ساتھ حسن سلوک کا دن ہے۔ یہ دن ہماری دینی و ملی شان و شوکت کا مظہر ہے۔ عید کی خوشی کا مقصد ماہِ رمضان کے بابرکت ایام میں خدا کے احکام کی تعمیل و تکمیل کی توفیق ملنے پر بارگاہِ الٰہی میں سجدہ شکر ادا کرنا ہے۔ ہمیں اس بات کو ذہن نشین کرلینا چاہئے کہ ہم ایک بامقصد ملت ہیں اور بامقصد ملت کے تہوار بھی بامقصد ہوتے ہیں۔عید کے دن ہمیں یہ درس بھی ملتا ہے کہ وہ خوشی حقیقی خوشی نہیں کہلا سکتی جس میں پورے سماج، پورے معاشرے کو شامل نہ کیا جائے۔ اِسی بات کو سمجھانے کیلئے رسول رحمتؐ نے صدقہ فطر ادا کرنے کا بھی حکم دیا تاکہ سماج کے غریب اور مفلوک الحال لوگ بھی عید کی خوشیوں کے حصہ دار بن سکیں۔ عید الفطر کا دن اللہ تعالیٰ کی جانب سے میزبانی کا دن ہے، اِس دن کوئی آدمی بھوکا نہیں رہتا۔ 
 لاک ڈائون نے صورتحال یکسر تبدیل کر دی ہے، اکثریتی آبادی کی عید کی خوشیاں اِس مرتبہ پھیکی پڑنے والی ہیں۔ وہ مزدور اور محنت کش طبقہ جو عید کے موقع پر ہزاروں روپئے کے علاوہ اچھے خاصے سازوسامان سے بھرے تھیلے لیکر گھر پہنچتے تھے، آج دو وقت کی روٹی کیلئے پریشان ہیں۔ عید سعید کے موقع پر ہمیں خوشیاں منانے یا خوشیاں پانے سے زیادہ خوشیوں کوبانٹنا چاہئے اور اپنی خوشیوں میں غرباء ، مساکین اور محتاجوں کو بھی شامل کرنا چاہئے کیونکہ یہ خوشیاں ہی تو زندگی کی راہوں میں تازگی اور مسرتوں کے چراغ ہیں۔ اگران کی روشنی دوسروں کی راہوں میں بکھیر دی جائے تو اْن میں کمی نہیں ہوگی۔عید الفطر کا دن اِس اعتبار سے بے حد اہم ہے کہ آغاز اسلام سے آج تک عید منائی جارہی ہے۔تاریخ کا یہ طویل وقفہ اپنے دامن میں عبرت انگیز انقلابات اور نصیحت آموز واقعات کی ایک دنیا سمیٹے ہوئے ہے۔ عید کا دن اسلامی اِجتماعیت اور اِتحاد و اتفاق کا آئینہ دار ہے۔ 
دنیا کی ہر قوم اور مذہب کے ماننے والے کسی نہ کسی صورت میں سال میں چند دن تہوار مناتے ہیں۔ ہر قوم اور مذہب و ملت کے لوگ یہ تہوار اپنے عقائد، روایات اور ثقافتی اقدار کے مطابق مناتے ہیں لیکن اِس سے یہ حقیقت ضرور واضح ہوتی ہے کہ تصورِ عید انسانی فطرت کا تقاضہ اور انسانیت کی ایک قدرِ مشترک ہے۔عید کا دن کھیل تماشے کا دن نہیں ہے بلکہ ایک سنجیدہ تہوار کا دن ہے۔ عید کو شرافت اور اخلاقی تقاضوں کے ساتھ منانے کا حکم ہے۔ عید کے دن اللہ تعالیٰ کی بڑائی کا اعلان کیا جاتا ہے۔ اِسلئے عید کے دن کو اللہ تعالیٰ کی مرضی کے مطابق گزارنا چاہئے۔ عید کو اِس طرح منانا چاہئے کہ اِس کے ذریعہ سے خوشگواری میں اضافہ ہو۔ سچی عید وہی ہے جو ساری انسانیت کیلئے عید کا دن بن جائے۔
تاریخ میں اِس طرح کی شاید یہ پہلی عیدنہیں ہے جب لوگ گلے ملنا تو دور مصافحہ کرنے سے بھی کتراتے ہوئے نظر آئیں گے۔ہم 2020میں بھی اس صورتحال سے گزرچکے ہیں ۔ہاں یہ ایک حقیقت ہے کہ کسی نے ایسی عید کا تصور بھی نہیں کیا ہوگا۔ ان حالات میںاس بات کا خیال رکھا جائے کہ دنیا کے بڑے بڑے طاقتو راور دولت مند ممالک نے کوروناوائرس کے سامنے گھٹنے ٹیک دئے ہیں۔ ہندوستان میںروزانہ لاکھوں افراد اس وائرس سے متاثر ہورہے ہیں۔ کروڑوں انسان محصور ہو کر رہ گئے، جن میں ہم (جموں کشمیر) بھی شامل ہیں۔ایسے میں ہم کس طرح عید کی خوشیاں منائیں؟ یہ وقت کا سب سے اہم سوال ہے اور تاریخ اس کے جواب کی منتظر ہے۔کیا کوئی سوچ سکتا تھا کہ ہم سب اپنے ہی گھروں میں اپنی حفاظت کی خاطر خود کو’ نظربند‘کرلیں گے۔ ہماری تمام درسگاہوں اور عبادت گاہوں کے دروازے ہم پر بند ہو جائیں گے۔ہم خود اپنی دکانوں، کارخانوں اور دفاتر پر مہینوں کیلئے تالے ڈال دیں گے۔نظامِ حیات مفلوج ہو کر رہ جائے گا۔
حالات کا تقاضا یہی ہے کہ اس حقیقت کا اعتراف کیا جائے کہ یہ عید اس سے قبل آنے والی عیدوں سے بالکل مختلف ہے۔ کورونا کے خوف اور تباہ کاریوں نے دنیا بَھر کو اپنی گرفت میں جکڑ رکھا ہے۔ دنیا بھرمیں حالات اور معمولات بدل کر رہ گئے ہیں، لہٰذا ضروری ہے کہ اس بار ہم سب بھی اپنا اپنا انداز بدلیں اور وہ طرزِعمل اپنائیں، جو وقت کی ضرورت ہے۔
 

تازہ ترین