تازہ ترین

سرکاری ملازمین کا عوام سے رویہ…ایک جائزہ

نقطہ نظر

تاریخ    11 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


سبزار احمد بٹ
اس بات میں کوئی شک نہیں کہ انسان اپنے روئیے سے پہچانا جاتا ہے۔ اسی بات سے اندازہ لگا کر انسان کو اچھائی یا برائی کے زمرے میں رکھا جا سکتا ہے۔ آجکل سرکاری ملازمین کا رویہ عوام الناس نے منفی ہوتا جا رہا ہے۔جن سرکاری ملازمین کو عوام کی خدمت کے عوض ایک اچھی خاصی اْجرت دی جاتی ہے۔ وہ سرکاری ملازمین اسی عوام سے بات کرنا بھی اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں۔ تکبر کے نشے میں چور ایسے ملازمین عوام یہاں تک کہ بزرگوں کو گھنٹوں انتظار کرواتے ہیں۔اور اکثر اوقات یہ سب محض اپنی اہمیت جتانے کے لیے کیا جاتا ہے۔اس طرح کا منفی رجحان اگر چہ ہر جگہ دیکھا جا سکتا ہے تاہم کشمیر میں ملازمین کا اس طرح کا منفی ردعمل کچھ زیادہ ہی بڑھتا جا رہا ہے۔کچھ دفتروں کے ملازم حضرات تو عوام کی بات بھی نہیں سنتے۔ جب تک کی کوئی جان پہچان نہ ہو یا کسی کی سفارش نہ ہو اور اگر سنتے بھی ہیں تو ایسا لگتا ہے کہ جیسے سرکاری ملازمین عوام پر کوئی احسان کر رہے ہوں۔ معمولی معمولی کاموں کیلئے عوام کو دفتروں کے چکر کاٹنے پڑتے ہیں۔ اور جب تک چائے یا مٹھائی کے نام پر ملازمین کی نذر کچھ نہ کچھ نہ کیا جائے تب تک کام نہیں بنتا۔بھلے ہی و کام کتنا بھی جائز اور مناسب کیوں نہ ہو۔ کئی بار ایسا بھی دیکھنے کو ملتا ہے کہ سرکاری ملازمین بزرگوں  کی بات بھی نہیں سنتے اور انہیں بھی دھتکار دیتے ہیں۔اس سے بڑی شرم کی بات اس معاشرے کے لیے کیا ہو سکتی ہے۔ جہاں دولت اور کرسی کے نشے میں چور حاکم بزرگوں کی عزت تار تار کرتے ہیں۔سو کلومیٹر کی دوری سے آئے ہوئے سائل کو یہ کہہ کر واپس کر دیا جاتا ہے کہ کل آنا آج ہم مصروف ہیں۔اس بات کا ذرہ بھی لحاظ نہیں رکھا جاتا کہ کوئی انسان کتنی امید سے کن حالات سے گزر کر اس دفتر میں آیا ہے۔ایسے ضمیر فروشوں کو کم سے کم تعلیم یافتہ تو نہیں کہا جا سکتا کیونکہ تعلیم حق اور انصاف سکھاتی ہے نہ کہ ظلم و جبر۔ بہت سارے ذی عزت اور حساس لوگ ایسے دفتروں کو نہ جانا ہی پسند کرتے ہیں۔آخر ان ملازمین کو یہ بات کون سمجھائے کہ جس عوام سے وہ عزت سے بات بھی نہیں کرتے وہ ان کی ہی خدمت کے عوض تنخواہ وصول کرتے ہیں؟ لیکن ان کے خلاف اب شکایت کرنے کا رجحان بھی کم بلکہ معدوم ہوتا جا رہا ہے۔آجکل سرکاری دفتروں میں ایک نئی بیماری نے جنم لیا ہے کہ کچھ لوگ ایمانداری کا چولھا اوڑھے ہوئے لوگوں کی پریشانیوں میں اضافہ کرتے ہیں۔ایسے لوگ اکثر ایمانداری کی مثالیں دیتے رہتے ہیں یہ لوگ جائز اور مناسب کام کے لیے بھی سائل کو درجنوں چکر لگواتے ہیں جبکہ یہ یہیں کہتے رہتے ہیں کہ میں رشوت نہیں لیتا۔ لیکن یہ ضمیر فروش اور کم عقل یہ بھی نہیں سمجھ پاتے ہیں کہ بے وجہ کسی انسان کو تکلیف دینا کتنا بڑا گناہ ہے؟ اور یہ رشوت خوری سے بھی بدتر عمل ہے۔ایسے لوگوں کو ایمانداری کی ہوا بھی نہیں لگی ہوتی ہے اور اس طرح کا رجحان بڑے آفیسروں کے بنسبت ماتحت طبقے میں زیادہ دیکھنے کو ملتا ہے اور کچھ  ایسے اداروں میں بھی یہ منفی رجحان دیکھا جا سکتا ہے جو کبھی علم و ادب کے گہوارے سمجھے جاتے تھے۔ جن پر معاشرے کو فخر تھا جہاں اس طرح کے رجحان کی توقع نہیں کی جا سکتی تھی۔راقم نے حال ہی میں اس طرح کے کچھ دلسوز مناظر دیکھے ہیں۔جہاں مجبور اور بے بس لوگوں کی بے بسی دیکھ کر راقم کی آنکھیں نم ہوئی۔ لیکن سامنے والے کے تکبر اور اکڑ میں ذرا بھر بھی فرق نہیں آیا۔جس سے اندازہ ہوا کہ سامنے والے کا ضمیر سویا ہوا نہیں ہے بلکہ مر چکا ہے۔ ان کا دل پھتر کا ہو گیا ہے اور آنکھوں پر دولت اور تکبر کی پٹی بندھ چکی ہے۔ دل چاہتا ہے کہ ایسے اداروں اور افراد کے نام لے لوں اور چیخ چیخ کر ان مردہ ضمیروں کو بتا دوں کہ تمہارا یہ نام، اور یہ دولت و شہرت رہنی والی نہیں ہے۔ بھلے ہی لوگ تمہارے سامنے تمہیں سر اور نہ جانے کن کن القاب سے یاد کرتے ہوں۔ لیکن تہمارے پہچھے لوگ تمہیں کس طرح کے القاب سے پکارتے ہیں؟ ذرا وہ بھی سن لیا کریں تمہاری معاشرے میں کیا عزت ہے ؟وہ بھی دیکھ لیا کریں یہاں تک کہ تمہیں اگر کوئی سلام بھی کرتا ہے وہ بھی تمارے رعب اور ڈر کی وجہ سے کرتا ہے نہ کہ محبت اور خلوص سے۔لیکن میرا اخلاق مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتا ایسا نہیں کہا جا سکتا کہ سبھی سرکاری ملازمین کا رویہ عوام کے ساتھ منفی رہتا ہے۔بلکہ سرکاری دفتروں میں فرشتہ صفت انسان بھی بیٹھے ہیں جو بہت ہی محنت ،ایمانداری ،ہمدردی اور خلوص سے عوام کو سنتے ہیں اور ان کے جائز مسائل حل کرنے میں کوئی بھی دقیقہ فروگزاشت نہیں کرتے ہیں۔بلکہ عوام کی خدمت کو اپنے لیے سعادت مندی سمجھتے ہیں۔  ایسے سرکاری ملازمین دوران ڈیوٹی ایک لمحہ بھی اپنے ذاتی مقصد کے لئے صرف کرنا بہت بڑا جرم سمجھتے ہیں۔کیونکہ انہیں اس بات کا پورا احساس ہے کہ سرکار انہیں اس وقت کی اجرت دیتی ہے۔ لیکن کچھ ضمیر فروشوں کی وجہ سے سبھی سرکاری ملازمین کی عزت داو پر لگی ہوئی ہے۔حیرت کی بات ہے کہ ایسے لوگ کچھ بھی بولیں سامنے بیٹھنے والا ہاں میں ہاں ملاتا ہے ،جب کہ اس کے چہرے سے یہ بات صاف جھلکتی ہے کہ وہ مجبور بے بس اور لاچار ہے ورنہ وہ آپ کی ہاں میں ہاں نہیں ملاتا۔سوال یہ ہے کہ آخر ایسے لوگوں کا ضمیر کب بیدار ہوگا ؟ایسے ملازمین کو میری اس بات پر ذرا غور فرمانا چاہیے کہ انہیں اللہ رب العزت کے دربار میں ہر بات کا جواب دینا ہوگا۔کہیں ایسا نہ ہو عوام سے اس بدسلوکی کے عوض انہیں کل قیامت کے روز شرمندگی کا سامنا  کرنا پڑے۔رہی بات مظلوم عوام کی جنہیں کچھ سرکاری ملازمین یا آفیسر دھتکار دیتے ہیں اور خوامخواہ کے چکر لگوانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ ان کے لیے یہ شعر عرض کر رہا ہوں کہ ۔
کیجئے ہر بات پر صبر و شکر 
 
بہت حسین ہے خدا پر یقین کا سفر 
پتہ۔اویل نورآباد،کولگام کشمیر
 

تازہ ترین