تازہ ترین

ملازمت کا جھانسہ د ے کر لُٹے کتنے! | آن لائن فراڈیوں سے ہوشیار باش

توجہ طلب

تاریخ    11 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


محمد ارشد چوہان
آن لائن فراڈیوں کا پورا ایک جال ہے جو لوگوں کو نوکریوں کی لالچ دے کر لوٹتا ہے۔ آئیے پہلے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ نیٹ ورک کیسے کام کرتا ہے۔پھر اختتام ضلع راجوری سے تعلق رکھنے والے خوشاب مخدومی کی چھوٹی سی کہانی پر کریں گے کہ وہ کس طرح ایک مہینہ کے اندر تیس ہزار روپے لٹا بیٹھا اور نوکری بھی نہ ملی۔ انٹرنیٹ پر یوں تو بے شمار ایسی فیک ویب سایٹز ہیں جو نوکریوں کے بہانے لوگوں سے روپے لے کر راہ فرار اختیار کر لیتی ہیں۔ ابھی کچھ دن پہلے دہلی پولیس نے گروگرام سے آپریٹ کرنے والے چار لوگوں کے ایسے ایک گروہ کو پکڑا بھی تھا۔ یہ لوگ نوکریوں کے نام پر بیروزگاروں سے فی آدمی 20 لاکھ روپے لیتے اور مختلف کمپنیوں میں ملازمت دلوانے کی جھوٹی یقین دہانی کرواتے تھے ۔ آج ہم صرف سوشل میڈیا فیس بک، ٹوئٹر، انسٹا گرام اور واٹس ایپ وغیرہ پر ایسے فیک نیٹ ورک کا جائزہ لیتے ہیں ۔ سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک پر ایسے اشتہارات کی بھر مار ملتی ہے جو نوکریوں کی لالچ دے کر رقم مانگتے ہیں اور پھر فرار ہو جاتے ہیں یعنی نمبرز بلاک کر دیتے ہیں ۔ اس کے علاوہ براہ راست سم کارڈز اور واٹس ایپ پر بھی ایسے پیغامات آتے رہتے ہیں ۔
 یہ آن لائن مافیا بھیس بدل کر لوٹتا ہے، عمومی طور پر اس مافیا کی تین بڑی اقسام ہیں : اول، جب آپ  سوشل میڈیا باالخصوص فیس بک کھولتے ہیں تو ایسے لنکس دیکھنے کو ملتے ہیں جن میں مغرب سمیت دنیا بھر کے ممالک میں جانے کی آفرز ہوتی ہیں ۔ اس کے لئے دیئے گئے لنک پر کلک کرو اور اپلائی کرو کا آپشن ہوتا ہے ۔دوئم ، اس میں بھی بالکل ویسے ہی لکھا ہوتا ہے لیکن ٹائٹل مختلف ہوتا ہے ۔ ٹائیٹل ہوگا کہ 'ورک فرام ہوم' مطلب گھر بیٹھے اتنے ہزار یا اتنے لاکھ کمائیں ۔ ان دونوں صورتوں میں جب کوئی بے روزگار اپلائی کرتا ہے تو اسکا فون نمبر و دیگر معلومات انکے پاس پہنچ جاتی ہیں۔ ایسے ہر دن کئی لوگ ان کی جال میں پھنس جاتے ہیں اور اپنی جمع پونجی دے بیٹھتے ہیں ۔بے روزگاری کا ستایا ہوا نوجوان انکے جال میں ایسے آتا جیسے مکڑی کے جال میں چیونٹی پھنستی ہے ۔ نوجوانوں کو لالچ دی جاتی ہے ہم کینیڈا، امریکہ، برطانیہ یا فلاں ملک میں جاب مہیا کرتے ہیں ۔ بڑی بڑی تنخواہیں و مراعات کا دھونس دیا جاتا ہے ۔ اس کے لیے شرط یہ ہے کہ اتنی فیس بھرو پھر نوکری سو فی صد پکی۔ ذریعہ معاش کی تلاش میں بھٹک رہا نوجوان جب ان کے کہنے پر انکی منہ مانگی رقم بھرتا ہے تو دو صورتیں جنم لیتی ہیں۔ ایک یہ کہ رقم ہتھیانے کے بعد یہ فراڈیے اپنا نمبر سوچ آف کر دیتے ہیں یا پھر کہیں گے کہ اتنے اور دو ۔ نوجوان جب اور رقم ادا کرتے ہیں تو کہتے ہیں اب فلاں فیس رہ گئی ہے اسکے لئے مزید دینے ہونگے وغیرہ ۔اور یہ سلسلہ جاری رہتا ہے ۔اس صورتحال میں اکثر نوجوان یہ سمجھ کر اور، اور رقم ادا کرتے رہتے ہیں کہ اب اتنے دے دیے ہیں تو یہ بھی دے دیتے ہیں تاکہ کام ہو جائے ۔ اکثر نوجوان یہ بھی سوچتے ہیں پانچ ہزار، دس ہزار، تیس ہزار یا پچاس ہزار لگ بھی گئے تو کیا ہے ۔ ایک بار ادھار کر کے دے دیتے ہیں پھر تو باہر جا کر لاکھوں میں کمائیں گے ۔آخر میں نہ ہی ویزا ملتا ہے اور نہ ہی ویزے والے کااتہ پتہ ۔ تیسری ٹائپ میں، آپ کے موبائل نمبرز پر ٹیکسٹ یا واٹس ایپ کی صورت میں مسیج دیا جاتا ہے یا واٹس ایپ کال آتی ہے کہ آپکی لاٹری نکل آئی ہے۔آپکا نمبر اتنے ٹاپ نمبروں میں آیا ہے جن کی لاٹری نکلی ہے ۔ یا آپکے نمبر نے فلاں کار، موٹر سائیکل یا ایوارڈ جیتا ہے ۔ اس کے لئے ان نا معلوم لوٹ مار عناصر کی طرف سے کہا جاتا ہے کہ نزدیکی ائیر پورٹ آ جائیں۔آپکا پارسل لندن، امریکہ یا فلاں جگہ سے آ رہا ہے جو ائیر پورٹ پر ملے گا۔ جعلی پارسل کا فوٹو بھی دکھایا جاتا ہے ۔ اس کے لئے آپ اتنی رقم بھیجیں (رقم بتائی جاتی ہے) جو ٹیکس کی مد میں ادا کی جائے گی ۔کچھ لوگ انہیں مطلوبہ رقم بھیج دیتے ہیں کہ پارسل آئے گا پھر تو مزے ہی مزے ہو جائیں گے ۔کچھ ایسے مسیجز آتے ہیں جن میں لکھا ہوتا ہے کہ اس لنک (لنک دیا ہوتا ہے) پر کلک کر کے یہ ایپ ڈاؤن لوڈ کرو اور اس میں انوسٹ کرو ۔ جتنا آپ انوسٹ کرو گے تو اتنا ہی فائدہ ملے گا وغیرہ ۔ 
 یہ نیٹ ورک پوری دنیا میں کام کر رہا ہے ۔ تیسری دنیا کے ممالک میں ان کی دال بآسانی گلتی ہے۔ کل ہی فیس بْک پر سکرول ڈاؤن کر رہا تھا کہ ایک ویڈیو نظر سے گزری جو پاکستان سے تھی۔ اس ویڈیو میں متاثرہ شخص بتا رہا تھا کہ فیس بک پر امریکہ سے کسی فیک آئی ڈی سے مسیج آیا کہ اپنے ملک میں یتیم خانہ کھولو جس کے لئے امداد ملے گی ۔پھر اس کو کہا گیا کہ امداد کے لئے بہت سارے ڈالرز پارسل کر دیئے ہیں اور اسکا خرچہ ایک لاکھ چراسی ہزار ہے۔ ائیر پورٹ پر پہنچ کر وہ ادا کریں اور لے جائیں۔ اس نے ایسے ہی کیا پارسل گھر آکے کھولا تو وہ ڈالرز کی فوٹ اسٹیٹ کاپیوں سے بھرا ہوا تھا۔ نہ ادھر کا رہا نہ ادھر اور نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم ۔اس کے بقول اس نے اپنی موٹر سائیکل اور فریج بیچ کر یہ رقم ادا کی جو رائیگاں گئی ۔ 
بھارت میں یہ مافیا سر چڑھ کے لوٹ رہا ہے۔ میں نے اپنے کانوں سے جموں و کشمیر کے کئی لوگوں کی لوٹنے کی کہانیاں انہی کی زبانی سنی ہیں۔ بھارت میں بے روزگاری میں جموں و کشمیر دوسرے نمبر پر ہے۔ اسوقت یہاں بے روز گاری کی شرح 16.2 فی صد ہے جو کہ انتہائی تشویشناک ہے ۔ایک تو یہاں کے نوجوان بم بارود، پکڑ دھکڑ و بدامنی کے ستائے ہوئے ہیں ۔دوسرا کرونا ہے کہ جانے کا نام ہی نہیں لے رہا ۔ اوپر سے آن لائن مافیا کی اجارہ داری بھی اپنے عروج پر ہے ۔کچھ فرادیے تو چندی گڑھ، امرتسر، ممبئی و دہلی وغیرہ سے آپریٹ کرتے ہیں تو بعض اپنا اڈریس بھی نہیں بتاتے ۔
دور کس لئے جاؤں، خوشاب مخدومی کی آبیتی بتاتا ہوں جو خود اس نے مجھے بتائی ۔مسٹر مخدومی ضلع راجوری کا رہنے والا انجینئرنگ گریجویٹ ہے ۔ رواں سال کے فروری مہینہ کے پہلے عشرہ میں مخدومی نے فیس بْک پر ایک لنک کلک کیا جسے دیکھ کر وہ پھولے نہ سما گیا مگر یہ خوشی چند دنوں کی ہی تھی ۔ لنک میں لکھا تھا کہ کینیڈا میں نوکریوں کے لئے اسامیاں ہیں۔ مخدومی نے اس نوعیت کے دو فارم اپلائی کر دئیے۔ دو دن بعد اسکے نمبر پر کال کر کے کہا جاتا ہے کہ مبارک ہو آپ کی سی وی ہماری کمپنی نے منظور کر لی ہے ۔ اب آپکو چندی گڑھ فلاں سیکٹر میں ہمارے دفتر میں رپورٹ کرنا ہوگا۔بے روزگاری کی پیاس سے تڑپتا یہ نوجوان جب چندی گڑھ پہنچتا ہے تو نام نہاد فیس کی مد میں اس سے بیس ہزار روپے لے لئے جاتے ہیں۔ ساتھ ہی یہ یقین دہانی کروائی جاتی ہے کہ پندرہ دن بعد ویزا آ جائے گا جس کے بعد صرف ڈاکٹری کروانی ہے اور کچھ نہیں۔ کچھ تسلی حاصل کرنے کے بعد مخدوم جب گھر لوٹ کر ہفتہ بعد فون کرتا ہے تو انکے تمام نمبرز موجود نہیں ہیں آتے ہیں، آرہے تھے۔ مخدومی نے چونکہ دو الگ جگہوں پر اپلائی کیے ہوئے تھے اس لئے غالباً پندرہ مارچ کو مخدومی کو دوسرے والے سے بھی کال آ گئی۔ آپ سلیکٹ ہیں، مبارک باد دینے کے بعد کہا گیا کہ آپکو ہندوستان میں کچھ فیس ادا نہیں کرنی ہے ۔تمام اخراجات کمپنی برداشت کرے گی۔ ہماری کمپنی کا ہیڈ آفس ممبئی ہے۔ آپ پر جو بھی خرچ ہوگا وہ ولایت جا کے آہستہ آہستہ اپنی تنخواہ سے کٹوائیں ۔ فی الحال آپ دہلی جاؤ (ایڈریس دیا جاتا ہے)، اور میڈیکل کرواؤ ۔نوجوان بہت خوش ہوگیا، وہ سمجھ رہا تھا کہ سونے پہ سہاگا ہو گیا ۔ دہلی جا کر میڈیکل کروایا تو ایکدم فٹ تھا۔ فٹنس کی رپورٹ بھی لے لی۔میڈیکل کروا کے گھر پہنچتا ہے۔کچھ دن بعد ان کی جانب سے ایک فون آتا ہے۔ یہ فون سن کر تو خوشاب آگ بگولہ ہی ہوگیا ۔اب کی بار دہلی میڈیکل کروانے میں اسکے دس ہزار روپے لگ چکے تھے۔ فون پر بتایا گیا کہ آپ کا ویزہ آگیا ہے لہٰذا اب آپ ستر ہزار روپیہ فلاں اکاؤنٹ (اکاؤنٹ نمبر دیا جاتا ہے) میں ٹرانسفر کریں۔ ٹرانسفر کرنے کے ایک ہفتہ بعد آپکا ویزا گھر پہنچ جائے گا-
  ایک بار دھوکہ کھا کر اب خوشاب سنبھل چکا تھا۔ اس بار اس نے پیسے دینے میں جلدی نہیں کی ۔خوشاب نے فون پر فراڈیوں سے تکرار شروع دی کہ آپ تو کہہ رہے تھے مجھے انڈیا میں صرف میڈیکل کروانا ہے اب یہ کیا لوچا ہے۔ فراڈیوں کو پتہ چل گیا کہ یہ منہ مانگی رقم نہیں دینے کا۔ انہوں نے رقم کم کرنا شروع کردی کہ چلو ستر کی جگہ پچاس ہزار دو باقی ہم دیں گے، پھر تیس ہزار پھر دس اور آخر میں پانچ ہزار پر آئے۔ خوشاب نے ان کے فراڈ کو اچھے سے بھانپ لیا تھا ۔ فراڈیے ہر دن اس کو فون کرتے تھے لیکن اس نے ہاں یا ناں کرنے کے بجائے انکو تڑپانا شروع کر دیا تھا ۔بالآخر ایک دن اس نے کہا کہ مجھے ایک آنہ بھی نہیں دینا تمہیں، تم فراڈیے ہو ابھی تمہارا نمبر پولیس کو دیتا ہوں۔ٹھگوں نے کال ہی کاٹ دی۔ اس کے بعد دو مہینے ہو گئے ہیں کہ انکے نمبرز ناٹ ریچ ایبل آ رہے ہیں۔ قارئین یہاں یہ نوٹ فرما لیں کہ متاثرہ نوجوان کی رازداری کو مد نظر رکھتے ہوئے اصلی نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے ۔
آخر میں تمام نوجوانوں سے کہوں گا کہ ایسے کسی بھی جال میں نہ آئیں ۔بنا تحقیق کسی کو بیرون ملک یا ملک میں نوکری کے لئے روپے نہ دیں۔ پہلے اچھی طرح سے جانچ پڑتال کر لیا کریں ۔ اپنا خیال رکھیں، ایڈوانس عید مبارک! 
(کالم نگار جواہر لال نہرو یونیورسٹی، نئی دہلی میں ریسرچ سکالر ہیں)
ای میل۔ mohdarshid01@gmail.com
������

تازہ ترین