تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    10 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


کورونا سے ایک بزرگ خاتون کی موت

کشتواڑمیں مزید علاقے مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار

عاصف بٹ
 کشتواڑ//کورونا وائرس سے ایک اور خاتون کی موت واقع ہوئی۔ تفصیلات کے مطابق کشتواڑ سے تعلق رکھنے والی خاتون جنکا ایک ہفتہ قبل کورونا مثبت آیا تھا جسکے بعد انکی صحت مزید بگڑگئی تھی اور انھیں گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں منتقل کیا گیا تھا جہاں آج صبح انکی موت واقع ہوئی۔ جسکے بعد انکی تدفین کیلئے انھیں کشتواڑ لایا گیا اور دیرشام انکی آخری رسومات کو ایس او پی کے تحت انجام دیا گیا۔وہی کورونا وائرس کے مزید بڑھتے ہوے معاملات کے چلتے انتظامیہ نے قصبہ کے مزید کچھ علاقوں کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قراد دیا ہے۔ قصبہ کے ہیڑیال ، تند و پولیس لائن کے کچھ علاقوں کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قراد دیا گیا۔ ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے جاری کئے گئے حکمنامے کے مطابق گرامین بنک ہیڑیال سے فشریز دفتر بن آستان تک جبکہ پولیس لائن و ہرگڑی سڑک ،تند سے فقیر چند کے مکان تک 400کی آبادی والے علاقے کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قراد دیا گیاجبکہ اس علاقے سے کسی بھی شخص کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہاں سخت لاک ڈائون کا نفاد عمل میں لایا جائے گا جبکہ صرف ضروری خدمات کی اجازت ہوگی۔ ایس ایچ او کشتواڑ کو علاقہ میں صد فیصد ٹیسٹنگ و ویکسی نیشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ 
 
 

شب قدر کی تقریبات ،ضلع میں لوگوں نے گھروں میں ہی ادا کی

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع بھر میں شب قدر کی تقریبات گھروں میں ہی ادا کی جائے گی۔کرونا وائرس کے بڑھتے ہوئے معاملات کو دیکھتے ہوئے انتظامیہ نے جہاں بندشیں عاید کیں وہی ںائمہ مساجدنے لوگوں سے گھروں میں ہی شب قدر منانے کی اپیل کی۔ قصبہ میں حفاظت کے سخت انتظامات کئے گئے ہیں اور مساجد کے باہر پولیس کو تعینات کیا گیا ہے تاکہ لوگوں کی بھیڑ جمع نہ ہوسکے جبکہ انتظامیہ نے بھی عوام سے  گھروں میں ہی نماز و شب ادا کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ کورونا کی وبائی بیماری کومزید پھیلنے سے روکا جاسکے۔ 
 

ڈوڈہ سے کورونا وائرس کے 30 نئے معاملات ،3 مریض صحتیاب 

چیف میڈیکل آفیسر نے ٹیکہ کاری مہم میں بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی اپیل 

اشتیاق ملک
ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں کورونا وائرس معاملات میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے۔ اتوار کے روز ڈوڈہ، بھدرواہ، ٹھاٹھری،عسر و گندوہ میں ہوئی کوؤڈ جانچ کے دوران 30 نئے معاملات سامنے آئے ہیں جنہیں ہوم قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 450 پہنچ گئی ہے جبکہ 3 مریض صحتیاب ہوئے ہیں اور اسطرح سے ضلع میں صحتیاب ہوئے مریضوں کی تعداد 3611 ہو گئی ہے۔ اب تک ضلع میں 71 اموات ہوئی ہیں۔ اس دوران چیف میڈیکل آفیسر ڈوڈہ ڈاکٹر محمد یعقوب میر نے اپنے ایک ویڈیو بیان میں لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ایس او پیز پر سختی سے عمل درآمد کرتے ہوئے ٹیکہ کاری مہم میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں شرکت کریں۔ انہوں نے کہا کہ ان ٹیکوں کی مدد سے اپنے آپ کو کورونا وائرس سے محفوظ بنایا جاسکتا ہے۔
 
 

 محکمہ صحت کی ناکامی سے دیہی علاقہ جات میں کویڈ19تیزی کے ساتھ پھیلا:منجیت سنگھ

وجے پو//اپنی پارٹی صوبائی صدر جموں اور سابقہ وزیر منجیت سنگھ نے جموں وکشمیر کے دیہی علاقہ جات میں کویڈ19پھیلاؤ کی روکتھام میں صحت محکمہ کی نااہلی پر سخت تنقید کی ہے۔ ایک بیان میں سابقہ وزیر نے کہاکہ محکمہ صحت نے دیہی علاقوں کو نظر انداز کیا جس کی وجہ سے گاؤں میں تیزی کے ساتھ وائرس پھیل رہا ہے کیونکہ دیہی آبادی اِس متعلق زیادہ باخبر نہیں تھی۔ منجیت سنگھ نے کہاکہ محکمہ صحت نے کنٹینمنٹ اقدامات اُٹھائے اور نہ ہی مناسب طریقہ سے مرکزی زیر انتظام کے دیہی علاقوں میں بیداری مہم کا اہتما م کیاگیا۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر احتیاطی اقدامات جنگی بنیادوں پر نہ لئے گئے تو اِس سے صورتحال بھیانک ہوسکتی ہے‘‘۔انہوں نے کہاکہ وائرس متعلق ناخواندگی اور بیداری نہ ہونے سے دیہی علاقوں میں صورتحال تشویش کن ہے۔ دیہی علاقہ جات میں صحت ڈھانچہ بھی نہیں کہ وہ اِس ہنگامی صورتحال سے نپٹ سکے ۔ بستر، آکسیجن اور ادویات کا فقدان ہے۔ انہوں نے کہاکہ صحت عامہ کی غیر سنجیدگی کی وجہ سے گاؤں میں معصوم لوگوں کی زندگیاں خطرے میں ہیں اور بیداری مہم صرف اخبارات تک محدود ہے ، زمینی سطح پر کچھ بھی نہیں۔ انہوں نے کہاکہ کورونا وائرس متعلق جانکاری نہ ہونے کی وجہ سے دیہی علاقوں میں وائرس پھیل رہا ہے، اگر لوگ بیمار پڑگئے یا اُنہیں کسی قسم کی علامت ہے، پھر وہ بھی اسپتال جانے سے اجتناب برتتے ہیں کیونکہ اُنہیں صحت اداروں پر لگاتار ہورہی اموات کی وجہ سے کوئی بھروسہ نہیں۔ انہوں نے کہاکہ ہے کہ وہ افسران کو اپنے فرائض انجام دینے میں ناکام رہے ہیں ، پر ذمہ داری عائد کی جائے۔
 
 
 

ضلع رام بن کے درجنوں دیہات سڑک رابطوں کے بغیر دشوار گذار زندگی جینے پر مجبور

 بانہال کے کھوڑا، اہمہ ، دردہی ، براڑگڑی اور کھِلن کی پندرہ ہزار آبادی آج بھی سڑک کی منتظر

محمد تسکین
بانہال// ضلع رام بن کے دور افتادہ علاقوں میں سڑک رابطوں کی کمی کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو ابھی بھی ناقابل بیان مشکلات کا سامنا ہے اور روانہ کی بنیادوں پر سکولی بچوں ، مریضوں اور عام لوگوں کو اپنے اپنے گھروں کو پہنچنے کیلئے دس دس کلومیٹر تک کا پیدل سفر روز طے کرنا پڑتا ہے۔ مقامی لوگوں نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ ضلع رام بن سب ڈویژن رامسو اور حلقہ انتخاب بانہال اور رام بن کا کھوڑا ، اہمہ دھننستہ ، درہی ، اہمہ سوجمتنہ درگلی ، باٹ سول ، کھلن ، کاو عول اور براڑگڑی کی پندرہ ہزار سے زائد کی ابادی سڑک رابطے کے بغیر دشوار گزار پہاڑی راستوں سے روزانہ آتے جاتے ہیں۔ مگرکوٹ اور پنتھیال کے اوپر کھوڑا، اہمہ اور دردہی سے تعلق رکھنے والے کئی لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ ایک بڑی آبادی ابھی تک سڑک رابطہ نہ ہونے کی وجہ مایوس ہیں۔ عبد القیوم نامی ایک شہری نے بتایا کہ شاہراہ پر واقع مگرکوٹ سے ایک کھڑی پہاڑی کو اتر اور چڑھ کر کئے جانے والے روزانہ کے پیدل سفر سے اب لوگوں کی جان پر بن آئی ہے اور مگر مگرکوٹ سے رام بن کی سرحدوں تک کا یہ پہاڑی سلسلہ درجنوں یقین دہانیوں کے باوجود سڑک رابطے سے محروم رکھا گیا ہے جبکہ مرکزی سرکار کی طرف سے گھر گھر سڑک پہنچانے کے اعلان کا ضلع انتظامیہ رام بن اور پی ایم جی ایس پر کوئی اثر نہیں ڈال سکا ہے اور سزا ہزاروں مجبور لوگوں کو اٹھانا پڑ رہی ہے۔ کھوڑا ، دردہی اور براڑگڑی کے لوگوں کا کہنا ہے کہ آج بھی بیماروں کو پیدل اور چارپائی پر اٹھا کر لیجانے کے بعد ہی ایک طرف سے پانچ سات کلومیٹر پیدل اور دشوار گذار سفر طے کرکے مکوکوٹ کے مقام شاہراہ تک پہنچانا پڑتا ہے۔ مقامی ٹیچر گل زبیر نے بتایا کہ سڑک کے بغیر ایسے علاقوں میں دسویں جماعت پاس کرنے کے بعد بیشتر بچوں کی مزید تعلیم خواب ہی رہ جاتی ہے جبکہ غمِ روزگار کیلئے مزدور اور عام لوگوں کو بھی مارکیٹوں ، تحصیلوں اور ضلع ہیڈکوارٹر رام بن پہنچنے کیلئے ایسے ہی اذیت ناک سفر سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ کہ ماضی میں حاملہ خواتین ، شدید مریض اور ایمرجنسی نوعیت کے کئی کیسوں میں مریض ہسپتال پہنچانے سے پہلے ہی لقمہ اجل بنے ہیں۔ لوگوںنے  لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا سے اپیل کی کہ وہ اس طرف توجہ دیکر سڑک کی تعمیر شروع کروائیں تاکہ لوگوں کی ازیت راحت میں بدل جائے۔  
 
 
 

جعلی خبروں کے مرتکب افراد کیخلاف سخت کارروائی ہوگی

جموں// حکومت جموں وکشمیر نے ایس آر او 64 ڈی آر ڈبلیو کی باقاعدگی سے متعلق جعلی خط کا سنجیدگی سے نوٹس لیا جو مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر پھیل رہا ہے۔ چیف سکریٹری آفس نے واضح کیا کہ خط کا مواد جعلی ہے اور سرکاری توثیق سے خالی ہے۔جعلی خبروں اور غلط معلومات کے مرتکب افراد کو جھوٹی اشاعت اور غلط معلومات کے پھیلانے کے خلاف سخت قانونی کارروائی کے بارے میں متنبہ کیا گیا تھا جو آئی پی سی اور انفارمیشن ٹکنالوجی ایکٹ 2000 کی دفعات کے تحت قید اور جرمانے کی سزا کا مستحق قرار پاسکتا ہے۔
 

اکھرال رامسومیں970 الیکٹرک ڈیٹونیٹربرآمد 

ایم ایم پرویز
رام بن//رام بن پولیس نے اتوار کے روز رامسو کے علاقے اکھرال میں 970 الیکٹرک ڈیٹونیٹرز (ای ڈی) برآمد کرلئے۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس پوسٹ اکھرال کو موصولہ مخصوص اطلاعات کے مطابق گورنمنٹ ہائیر سیکنڈری اسکول اکھرال کے قریب ایک ناچاقی بیگ کچھ دھماکہ خیز مواد کے ساتھ کیچڑ میں پڑا تھا۔اطلاع ملنے کے بعد ایس ایچ او تھانہ رامسو انسپکٹر رؤف احمد خان کی سربراہی میں پولیس کی ایک ٹیم انچارج پولیس چوک کھڑی کے ہمراہ موقع پر پہنچی اور گورنمنٹ ہائر سیکنڈری اسکول اکھرال کے قریب مشکوک حالات میں کچرے میں پڑے970 ڈیٹونیٹرز پر مشتمل ایک بیگ برآمد کیا۔پولیس نے بتایا کہ 970 ڈیٹونیٹر (صنعتی گریڈ) دھماکہ خیز آلات برآمد ہوئے۔پولیس نے مزید تفتیش کے لئے تھانہ رامسو میں دفعہ 120-B / IPC اور 4/5 / دھماکہ خیز ایکٹ کے تحت 2021 کا مقدمہ ایف آئی آر نمبر 44 درج کیا ہے۔
 

مویشی سمگلنگ کی کوشش ناکام ،ملزم گرفتار

ریاسی // ریاسی پولیس کے ذریعے مویشی سمگلنگ کے خلاف مہم کے ایک حصے کے طور پر 7/8 مئی کی درمیانی رات کے دوران پولیس تھانے کی پولیس کی ٹیم نے منیر حسین ولد محمد یوسف سکنہ جھنڈی تحصیل ٹھاکرکوٹ ،ضلع ریاضی اور محمد شکیل ولد میر حسین کن ڈنووانامی دو بدنام زمانہ مویشی سمگلر وںکو روکا اور گرفتار کیا اور دو مویشیوںکو ان کے قبضے سے بازیاب کیا۔اس سلسلے میں ایف آئی آر پولیس اسٹیشن پونی میں درج کرکے تحقیقات شرو ع کی گئی ہے۔