تازہ ترین

آئندہ 3ہفتے انتہائی اہم،جون سے بہتری کی امید

لاک ڈائون اورٹیکہ کاری واحد توڑ: ماہرین صحت

تاریخ    10 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


پرویز احمد
سرینگر //جموں و کشمیر میںکورونا وائرس کے حوالے سے آئندہ تین ہفتے انتہائی ہم ہونگے جس دوران کیسوں میں اضافہ دیکھنے کو ملے گا لیکن جون سے متاثرین کی تعدا د میں کمی آنے کا امکان ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دوسری لہر کو قابو کرنے کیلئے لاک ڈائون اور ٹیکہ کاری بہترین حکمت عملی ہے لیکن ٹیکہ کاری میں سرعت لانے کی ضرورت ہے۔ شیر کشمیر انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنز صورہ میں شعبہ میڈیسن کے سربراہ ڈاکٹر پرویز احمد کول  نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا ’’ لاک ڈائون کورونا وائرس کی کڑی کو توڑنے کیلئے بہترین حکمت عملی ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں کو ٹیکہ لگانے میں بھی  تیزی آنی چاہئے‘‘۔برطانیہ کی مثال دیتے ہوئے ڈاکٹر پرویز کول نے بتایا ’’ برطانیہ میں وائرس کو قابو کرنے کیلئے مسلسل 4ماہ تک لاک ڈائون رہا لیکن لاک ڈائون کے دوران ٹیسٹنگ اور ٹیکہ کاری کے عمل میں تیزی لائی گئی اور76فیصد آبادی کو ویکسین دیئے گئے ۔ ڈاکٹر کول نے مزید کہا ’’ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ اب وہاں بین الاقوامی پروازیں بھی بحال کردی گئیں ہیں ‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کی زنجیر(chain) کو توڑنے کیلئے 3ہفتے لگتے ہیں اور مسلسل 3ہفتوں کے لاک ڈائون کے بعد ہی متاثرین کی تعداد میں کمی آئے گی لیکن لاک ڈائون کوئی حتمی حل بھی نہیں ہے۔ ڈاکٹر کول نے کہا کہ ٹیکہ کاری میں سرعت لانے کی ضرورت ہے کیونکہ ٹیکہ کاری ہی وائرس کا بہترین توڑ ہے۔  ڈاکٹرس ایسوسی ایشن کشمیر کے صدر ڈاکٹر نثار الحسن نے بتایا ’’ دوسری لہر کی شدت کے عروج(peak)کے بارے میں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا کیونکہ یہ وائرس کے رویے پر منحصر کرتا ہے‘‘۔ ڈاکٹر نثار نے بتایا ’’ دوسری لہر کی شدت کیلئے آئندہ 3ہفتے انتہائی اہم ہونگے کیونکہ اس دوران کیسوں کی تعداد میں اضافہ ہوگا لیکن اُمید ہے کہ 2سے 3ہفتوں کے بعد متاثرین کی تعداد میں کمی ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈائون اور ٹیکہ کاری کورونا کے خلاف بہترین حکمت عملی ہے لیکن بدقسمتی سے ہم صرف 3فیصد لوگوں کو ہی ابتک ٹیکہ لگا چکے ہیں جبکہ دیگر ممالک میں 76فیصد لوگوں کو ویکسین دیا گیا ہے‘‘۔ گورنمنٹ میڈیکل کالج سرینگر میں شعبہ امراض چھاتی کے سربراہ ڈاکٹر نوید نذیر نے بتایا ’’بہترین حکمت عملہ کورونا مخالف ٹیکہ کاری ہے لیکن لاک ڈائون بھی وائرس کو قابو کرنے میں مدد دے سکتا ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ وائرس کی کڑی کو توڑنے کیلئے 15سے 21دنوں کا وقت درکار ہوتا ہے ‘‘۔ انہوں نے اس امکان سے اتفاق کیا کہ آئندہ 3ہفتے انتہائی اہم ہے اور اُمید ظاہر کی کہ اس کے بعد کیسوں میں کمی آئے گی‘‘۔