تازہ ترین

کوروناوائرس ویکسین کے تعاقب میں

ہاہاکار

تاریخ    10 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


مدثر خان
پوری دنیا اس وقت بے چینی کے عالم میں ہے۔ اگر یہ بھی کہا جائے کہ دنیا تاریخ کے بدترین دور سے گزر رہی ہے تو یہ بات بھی سو فیصد درست ہے۔ کورونا وائرس کی تباہ کاریوں میں دن بہ دن اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ ایک ایسا وائرس ہے جس نے کئی اور مصیبتوں کو جنم دے کر پورا نظام درہم برہم کر دیا۔ ہم اس دور میں جی رہے ہیںجہاں آدمی کو دوسرے آدمی پر اعتماد نہ رہا، جہاں امن و سکون نام کی چیز باقی نہ رہی اور جہاں زندگی کے تمام شعبے اسیری کا مزہ چکھ رہے ہیں۔
کہنے کو مُشتِ پرَ کی اسیری تو تھی مگر
 
خاموش ہوگیا ہے چمن بولتا ہوا
پورا عالم اسی انتظار میں تھا کہ کب اس وبائی مرض کا ویکسین تیار ہوجائے تاکہ وہ زنجیریں جن میں لوگوں کے پیرجکڑے ہوئے ہیں،نیست و نابود ہوجائیں۔ دنیا کے بڑے بڑے ممالک اس کارنامے کو انجام دینے میں مصروف رہے۔ پہلے ہمیں یہ معلوم نہ تھا کہ کب اس لہر کو قابو کرنے میں کامیاب ہوجائیں گے یعنی  ویکسین کا  ا نتظار کب ختم ہو جائے۔کسی نے ایک سال تو کسی نے دو سال تک انتظار کرنے کو کہا‘ اور اس طرح فی الحال ہمارے لیے ایک ہی شعبہ کھلا تھا‘ وہ تھا ''باتوںکا شعبہ ''۔ہم اپنے اس شعبے میں ایک دوسرے سے دریافت کرتے رہے کہ ویکسین کا کیا ہوا،کہاں پہنچ گیا اور کس پہاڑ کے نیچے چھپ کر ہم سے روٹھ گیا۔
امریکہ کو اس ویکسین کی سخت ضرورت تھی کیوں کہ آج بھی یہی بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ اس وائرس سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک امریکہ ہی ہے ۔اسی لیے امریکہ خود اس ویکسین کو بنانے میں مصروف رہا اور مسلسل جدوجہد کے بعد آخر کار امریکہ نے اس ویکسین کو تیار کیا۔ ''فائزر '' کے بعد'' موڈرنا'' کمپنی کا ویکسین بھی تیار کیا گیا ۔ان دونوں کمپنیوں کا تعلق امریکہ سے ہے اور اس کے علاوہ  امریکہ کی ایک اور کمپنی ''جانسن اینڈ جانسن '' نے بھی ویکسین تیار کیا کہ جس پر'' سی۔ ڈی۔ سی '' اور  ''ایف ۔ڈی۔ اے'' نے پہلے عارضی پابندی لگائی کیوں کہ اس ویکسین کی وجہ سے بعض مریضوں میں خون جمنے کے واقعات رپورٹ کئے گئے تھے۔بعد میں اس عارضی پابندی کو ہٹا دیا گیا۔اس کے علاوہ امریکہ کی ایک اور کمپنی '' نوواویکس) '' Novavax) نے بھی ویکسین تیار کیا جو کہ ریسرچ میں تکمیل کے مراحل تک پہنچ گئی۔
اس طرح ہم کہہ سکتے ہیں امریکہ نے جب اس وبائی مرض یعنی کورونا وائرس کا خطر ناک روپ دیکھا تو قلیل وقت میں انہوں نے کئی طرح کے ویکسین تیار کئے جن سے لوگوں کو بہت فائدہ حاصل ہوا۔
امریکہ کے علاوہ جن ملکوں میں ویکسین کو تیار کیا گیا اُن میں برطانیہ، چین ، روس اور ہندوستان سرِفہرست ہیںلیکن اگر ہندوستان کی بات کریں گے تو ابھی بھی کووِڈ کا قہر جاری ہے بلکہ وبائی مرض کی اس دوسری لہر نے ہندوستان کای کمر توڈ دی۔ اس کے برعکس امریکہ اور دیگر ممالک کی کچھ اور داستان ہے۔ ایسی کیا بات ہے کہ آکسیجن کی فراہمی میں ہندوستان ناکام ثابت ہو رہا ہے؟
آکسیجن کی کمی کا معاملہ صرف ایک یا دو جگہوں تک محدود نہیں بلکہ ہندوستان کے بڑے بڑے شہروں سے ایسی اطلاعات موصول ہوئیں کہ آکسیجن ختم ہورہی ہے جو وائرس زدہ مریضوں کے لیے ایک لائف لائن ہے۔ پرائیویٹ اور سرکاری ہسپتالوںسے یہ صدا ئیں آ  رہی تھیں آخر یہ آکسیجن کہاں گیا، مریض کیوں جانوروں کی طرح مر رہے ہیں، یہ رونے کی آوازیں کیوں اور کہاں سے آرہی ہیں؟ ان صدائوں کے علاوہ معلوم نہیں مریضوں کے چہروں سے خوف کی وہ کتنی کرنیں چھلک گئی ہوں گی کہ جن کی گہرائی کا اندازہ لگانا بھی مشکل ہے۔
بہر حال سوال تو پیدا ہوتا ہے کہ آخر آکسیجن کے لیے مریض اتنا کیوں ترس گئے۔اگر بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کو مدد ملی اُس کا اثر دیکھنے کو کیوں نہیں ملا۔ 
بے خودی بے سبب نہیں غالبؔ
 
کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے
اس کے علاوہ ہندوستان میںجب دو طرح کے ویکسین( کوویکسن اور کووی شیلڈ) تیار کئے گئیں تو اس کے فوراً بعدویکسین کی لاکھوں خوراکیں اپنے کچھ پڑوسی ملکوں کو فراہم کی گئیں۔ ایک طرف سے ملک میں اپنے لوگوں کی خستہ حالی اور دوسری طرف'' کورونا ڈپلومیسی ''کا دکھاوا کرنا، اس سے کیا ثابت ہوتا ہے؟ستم ظریفی یہ ہے کہ ڈپلومیسی کا چھپن انچ سینہ دکھانے کے باوجود برطانیہ سے وینٹی لیٹروں اور آکسیجن کنسینٹریٹروں کے درجنوں ڈبے لیے جا رہے ہیں۔
ابھی تک ہندوستان میں کورونا کے مثبت کیسز کی شرح میں خطرناک اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، اب تک مجموعی کورونا کیسز کی  تعداد  اڈھائی کروڑ سے اوپر تجاوز کر گئی ہے اور اڈھائی لاکھ سے اوپر لوگوں کی موت بھی ہو چکی ہیں۔ سرکار کی طرف سے یہ اعلان بھی جاری ہوا کہ کورونا کی تیسری لہر ضرور آئے گی اور اس کے لیے ہمیں ابھی سے تیاری رکھنی ہوگی۔
زمانے پر ہنسے کوئی کہ روئے
 
جو ہونا ہے وہ ہوتا جا رہا ہے
(مضمون نگار پیشہ سے استاد ہیں ۔ا ن سے فون نمبر7889873764 اور ای میلMudasirph@outlook.comپر رابطہ کیاجاسکتا ہے)