تازہ ترین

جل شکتی یا جل سختی؟ | محکمے نے مرکز کی بہترین سکیم کو بھی بیمار کردیا

کڑواسچ

تاریخ    10 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالقیوم شاہ
وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت نے صحت عامہ کے حوالے سے پینے کے پانی اور صفائی و ستھرائی سے متعلق بعض انقلابی سکیمیں جاری کی ہیں۔ جل جیون مشن ان ہی سکیموں میں سے ایک ہے۔ اس سکیم پر براہ راست 50 ہزار کروڑ روپے اور پنچایتی اداروں کے ذریعے 26 ہزار کروڑ روپے سے زائد رقم خرچ کی جارہی ہے۔ 
یہی وجہ ہے کہ21/2020 کے مالی سال کے لئے جموں کشمیر کے محکمہ جل شکتی کی خاطر 6346 کروڑ روپے کے بجٹ مصارف منظور کئے گئے۔ پارلیمنٹ میں اس بات کا اعلان کرتے ہوئے مرکزی وزیرِ خزانہ نرملا سیتا رمن نے بتایا کہ یہ رقم گزشتہ مالی سال کے لئے منطور کی گئی رقم سے 5102 کروڑ روپے زیادہ ہے۔ ظاہر ہے اس رقم میں محکمہ جل شکتی کے ملازمین کی تنخواہ، پینشن، گاڑیوں اور دیگر اثاثوں کے رکھ رکھائو کا خرچہ شامل ہے، لیکن بجٹ میں اضافہ کا مطلب ہیکہ مرکزی حکومت جل جیون مشن کے بارے میں نہایت سنجیدہ ہے۔ 
دو سال قبل مرکزی حکومت نے پورے ملک میں ہر گھر تک پانی پہنچانے کے لئے ’’ہر گھر جل‘‘ نام کی مہم چھیڑ دی اور اعلان کیا کہ 2024 تک شہری، دیہی اور مضافاتی آبادیوں کے لئے پینے کا صاف پانی لوگوں کے گھروں میں موجود نل کے ذریعہ پہنچ جائے گا۔لیکن ستم یہ ہے کہ جموں کشمیر میں محکمہ جل شکتی کے افسروں نے خوشامد کے سارے ریکارڈ توڑتے ہوئے مرکزی حکومت کو بتایا کہ جموں کشمیر میں یہ ہدف اپریل 2021میں ہی مکمل ہوجائے گا۔ ظاہر ہے حکومت ہند خوش ہوگئی، کہ جموں کشمیر ایک ریکارڈ بنانے جارہا ہے۔ اپریل تو گزر چکا ، کیا یہ ریکارڈ بن پایا؟ اس ضمن میں محکمہ جل شکتی کے اعلیٰ حکام سے چند سوالات کرتے ہیں: 
پارلیمنٹ میں جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق جموں کشمیرمیں 18 لاکھ 16 ہزار رجسٹرڈ گھرانے ہیں جن میں سے صرف دس لاکھ گھرانوں کو نل کے ذریعہ پینے کا صاف پانی مہیا ہے۔ محکمے نے مرکزی حکومت کے ساتھ ساتھ چیف سیکریٹری مسٹر سبرامنیم کو بار بار یقین دلایا ہے کہ مزید 4.90لاکھ گھرانوں کو ’’ہر گھر جل‘‘ سکیم کے ساتھ اسی سال اپریل تک جوڑا جائے گا۔ اُس وعدے کا کیا ہوا؟ 
جون 2018 میں جل جیون مشن سے متعلق جموں میں ایک سیمینار منعقد ہوا۔ اس میں مرکزی جل جیون سکیم کے ڈائریکٹر بھرت لعل کے ساتھ ساتھ پینے کے پانی اور صفائی کی مرکزی وزارت کے اعلیٰ عہدیدار موجود تھے۔ ہمارے افسروں نے وعدہ کیا کہ جل جیون مشن کا پہلا مرحلہ جون 2020 میں مکمل ہوگا۔ اُس وعدے کا کیا ہوا؟ 
محکمہ جل شکتی کی ناقص کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے 31 مرکزی وزراء پر مشتمل پارلیمنٹ کی سٹینڈنگ کمیٹی نے اس سال مارچ میں ایک ویڈیوکانفرنس کے ذریعہ محکمہ کے غافل افسروں کی سرزنش کی۔ کانفرنس کے دوران معلوم ہوا کہ جل جیون مشن کے تحت جموں کشمیر کے لئے 681.71 کروڑ روپے منظور کئے گئے ہیں جس میں سے محکمہ کو 53.72کروڑ روپے پہلے ہی واگذار کئے جاچکے ہیں۔ مرکزی حکام نے پوچھا تو ہمارے افسروں نے جواب دیا کہ صرف 14.4 کروڑ خرچ ہوئے، یعنی واگذار رقم کا فقط 7 فی صد۔ ایسا کیوں؟
ظاہر ہے اس ضمن میں2019کے حالات اور لاک ڈائون کا بہانہ پیش کیا جائے گا۔ لیکن اسی کانفرنس میں معلوم ہوا کہ مالی سال 19/2018  میں 35.24کروڑ روپے خرچ نہیں کئے گئے اور 20/2019 میں یہ رقم 148.92 کروڑ روپے تک پہنچ گئی تھی۔ محکمہ جل شکتی اس بات کا جواب عوام کے سامنے رکھے۔ 
ان سوالات کی روشنی میں پینے کے پانی سے متعلق موجودہ حالات کا جائزہ لیا جائے تو ایک عام شہری یہ کہنے میں حق بجانب ہے کہ یا تو محکمہ جل شکتی پر تالا چڑھایا جائے یا سبھی مقامی افسروں کو سبکدوش کرکے گجرات، مہارشٹرا، اور دلی سے افسروں کو یہاں تعینات کیا جائے۔ عجیب بات ہے اس سال سرما میں بھی پانی کی قلّت تھی اور ماہِ رمضان میں بھی۔ 
ہر بڑے حاکم کے ساتھ محکمہ جل شکتی کے افسر مہنگے سوٹ اور ٹائی پہن کر ایک نیا وعدہ کرتے ہیں۔ جنوری میں جب چیف سیکریریٹری مسٹر سبرامنیم نے ایک ہنگامی میٹنگ بلائی تو اْنہیں بتایا گیا کہ اپریل تک سرینگر اور گاندربل کو ’’ہرگھر جل‘‘ مہم کے تحت ماڈل ڈسٹرکٹ بنایا جائے گا، ستم یہ ہے کہ اس سال سرینگر اور گاندربل میں ہی پینے کے پانی کا زیادہ بحران پیدا ہوگیا ہے۔ ریکارڈ کے لئے میں یہاں چیف انجینئر جل شکتی کا وہ جملہ نقل کرتا ہوں جو وہ ہر بار دہراتے ہیں جب کوئی پوچھتا ہے کہ کشمیر میں پینے کے پانی کا بحران کیوں ہے؟ 
چیف صاحب کا جواب: ’’جی نہیں بحران نہیں ہے، ہمارے ٹینکر پانی پہنچا رہے ہیں۔‘‘ حد ہے، اْدھر وزیراعظم جل جیون مشن کی تکمیل کے لئے کوشاں ہیں اور اِدھر صاحب ٹینکر دوڑا کر خوش ہیں کہ بحران ختم ہوگیا۔ ایسے سسٹم کا خدا ہی حافظ ہے۔ 
رابطہ (9469679449، 7780882411 ،abdulaqayoomshah57@gmail.com)
 

تازہ ترین