تازہ ترین

کوونا وائرس عذاب یا آزمائش

تاریخ    10 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر شمس کمال انجم
کوونا(کرونا)وائرس کی دوسری لہر نے ایک بار پھر پورے ملک میں قہر برپا کیا ہوا ہے۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن چکے ہیں۔بلا امتیاز رنگ ونسل، مذہب وملت سبھی اس وباء کا شکار ہورہے ہیں۔پورے ملک میں عجیب سی مہاماری کی کیفیت طاری ہے۔لوگ گھبرائے ہوئے ہیں۔ ڈرے ہوئے ہیں۔پہلے تو صرف بزرگ یا بڑی عمر کے لوگ اس وبا کا شکار ہوتے تھے لیکن اب حالت یہ ہے کہ چھوٹے بڑے، عورت مرد، جوان بزرگ، عالم جاہل، پڑھے لکھے ان پڑھ سبھی اس وبا کا شکار ہورہے ہیں۔ان گنت وبے شمار لوگ لقمۂ اجل بن رہے ہیں۔ ہر سو ماتم کا سماں ہے۔ لوگ اپنوں کے کھودینے پررنج والم کا شکار ہیں اورخود اپنی جان کے تحفظ کے لیے خوف و دہشت کے عالم میں مبتلا ہیں۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ وائرس عالم انسانیت کے لیے عذاب کے مترادف ہے یا یہ ایک آزمائش سے عبارت ہے یا پھر تمام بیماریوں کی طرح سے یہ ایک مہلک بیماری ہے؟
بعض علماء کا خیال ہے کہ کرونا وائرس ایک عذاب ہے۔اس کی دلیل حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی وہ حدیث ہے جس میں انہوں نے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے طاعون کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ ایک طرح کا عذاب تھا۔ اللہ تعالی جس پر چاہتا ہے اسے بھیجتا ہے۔ آپ نے مزید فرمایا : لیکن اللہ تعالی نے اسے مومنوں کے لیے رحمت بنادیا۔ چنانچہ اگر اللہ کا کوئی بندہ صبر کے ساتھ اسی شہر میں ٹھہرا رہے جہاں طاعون ہو اور یہ یقین رکھے کہ جو کچھ اللہ تعالی نے اس کے لیے مقدر کیا ہوگا اس کے سوا اس کو اور کوئی نقصان نہیں پہنچ سکتا اور پھر طاعون میں اس کا انتقال ہوجائے تو اسے شہید جیسا ثواب ملے گا۔ (بخاری) بعض علماء کی نظر میں کرونا وائرس کے کووڈ ۱۹کی دوسری لہر قوم فرعون پر نازل ہونے والے طوفان (بارش)ٹڈی دل، جوؤں، گھن کے کیڑوں، مینڈک اور خون کی شکل میں نازل ہونے والے عذاب کی طرح ہے ۔ جس طرح قوم فرعون کو اللہ تعالی نے مذکورہ انواع کے عذاب میں مبتلا کیا تھا اسی طرح اللہ تعالی نے اس وقت لوگوں کی معصیتوں کی وجہ سے۔ پوری دنیا میں ظلم وجبر کی وجہ سے کرونا کی شکل میں ایک عذاب نازل کیا ہے۔کسی صاحب نے کرونا کی موجودہ شدت کو دیکھ کر یہاں تک کہہ دیا کہ اگر قرآن کریم سے پہلے کرونا آتا یا کرونا کے بعد قرآن کریم نازل کیا جاتا تو اس وائرس کا اسی طرح قرآن کریم میںتذکرہ ہوتا جس طرح قوم فرعون پر نازل ہونے والے طوفان، ٹڈی دل، جوؤں یا گھن کے کیڑوں ، مینڈک یا خون کی شکل میں نازل ہونے والے عذاب کا تذکرہ کیا گیا ہے۔
بعض دیگر علماء کا خیال ہے کہ زلزلے، آندھی طوفان، آتش فشاں کا پھٹنا اوروبائی بیماریاں وغیرہ اللہ کی سنتوں میں سے ہیں ۔ لوگوں کوراہ راست پر لانے کے لیے، انہیں ان کے ظلم وجبر سے باز رکھنے کے لیے اللہ تعالی کبھی کبھی ان پر اس طرح کی مصیبتیں نازل کرتا ہے۔ اس سے عبرت لینے والے لوگ اپنی زیادتیوں سے ، ظلم وجبر اور معصیت سے باز آجاتے ہیں۔
بعض علماء کا خیال ہے کہ اس طرح کی وبائی بیماریوں کو عذاب کہنا مناسب نہیں ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی کو نہ تو کسی کی عبادت سے فرق پڑتا ہے نہ ہی کسی کی معصیت سے۔ اور اگر وہ کسی قوم کو عذاب دینا چاہے تو لوگ اسے برداشت کرنے کی طاقت بھی نہیں رکھ سکتے۔اس طرح کی وبائی بیماریاں کبھی کبھی آتی رہتی ہیں۔ حضرت عمر کے زمانے میں ۱۸ ہجری میں عمواس کے مقام میں ملک شام میں طاعون پھیلا جس میں پچیس سے تیس ہزار کے قریب لوگ وفات پاگئے۔ جن میں معاذ بن جبل اور عبیدہ بن جراح جیسے کئی بڑے بڑے صحابۂ کرام بھی شامل تھے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ اس وقت شام کے گورنر عمرو بن عاص نے اس وباء سے نمٹنے کے لیے کئی احتیاطی تدبیریں کیں۔ انہوں نے لوگوں کو خطاب کیا اور کہا کہ اس طرح کی وباء آگ کی طرح پھیل جاتی ہے لہٰذا لوگوں کو چاہیے کہ وہ پہاڑوں میں پناہ لیں۔ پہاڑوں میں پناہ لینے کا آئیڈیا آج کے زمانے میں قرنطینہ یا سوشل ڈسٹینسنگ کے مترادف ہے۔حضرت عمر نے خود شام کے اس وباء زدہ علاقے میں داخل ہونا پسند نہیں کیا۔ رسول گرامی نے بھی ارشاد فرمایا کہ وبائی حالات میں نہ تو ایسی جگہ سے کوئی کہیں جائے نہ ہی کہیں سے ایسی جگہ آئے۔(الحدیث)
بعض علماء کا خیال ہے کہ اس طرح کی وبائی بیماریاں، زلزلے، آندھی طوفان، بارش، قحط سالی وغیرہ چیزیں منکروں کے لیے عذاب اور مومنوں کے لیے آزمائش اور رحمت سے عبارت ہوتی ہیں۔کیونکہ اس طرح کی بیماریوں یا مصیبتوں سے کافر گھبراتا ہے لیکن مومن انھیں اللہ کی طرف سے ابتلاء وآزمائش سمجھ کر ایسے حالات میںاللہ کا قرب اختیار کرتا ہے۔ اس کی طرف رجوع کرتا ہے۔ اس سے اپنی معصیتوں پر استغفار کرتا ہے۔ گناہوں سے توبہ کرتا ہے ۔مشکل کی ایسی گھڑ ی میں صبر کا مظاہرہ کرتا ہے۔اللہ پر توکل اختیار کرتا ہے اور یہ ایمان رکھتا ہے کہ اگر اللہ نے اس وبائی بیماری کو اس کے حق میں مقدر کر رکھا ہوگا تو اسے لاحق ہوگی اور اگر نہیں مقدر کیا ہوگا تو ہرگز لاحق نہیںہوسکتی۔ ساتھ ہی وہ ان تمام مصائب ومشکلات اور پریشانیوں سے بچنے کے لیے ہر طرح کے میسر شدہ اسباب کو اختیار کرتا ہے ۔ اچھی غذا کا استعمال کرتا ہے۔ ایسی دواؤں کا استعمال کرتا ہے جس سے امیونٹی بڑھتی ہے۔ جو شفا کا باعث ہوتی ہیں۔ صفائی ستھرائی کااہتمام کرتا ہے۔ وبائی جگہوں سے احتراز کرتا ہے۔ ڈاکٹر وں کی نصیحتوں پرعمل کرتا ہے۔بھیڑ بھاڑ کی جگہوں سے احتراز کرتا ہے۔ 
قارئین کرام! آزمائش اللہ کی سنت ہے۔ وہ اپنے بندوں کو مختلف طریقوں سے آزماتا ہے۔ بلکہ اللہ تعالی نے اپنے بندوں میں سب سے زیادہ انبیائے کرام کو پھر صالحین کو آزمایا ہے ۔وہ اپنے نیک بندوں کو اس قدر آزماتا ہے کہ انہیں ہر طرح کی خطا سے پاک کردیتا ہے۔ حضرت ایوب کے بارے میں سب کو معلوم ہے کہ انہیں اللہ تعالی نے کس طرح کی آزمائشوں میں مبتلا کیامگر انہوں نے ایسے صبرکا مظاہرہ کیا کہ صبر ایوب پوری تاریخ میں مثال بن گیا۔یہ بھی واضح ہو کہ یہ آزمائش کبھی انفرادی ہوتی ہے توکبھی اجتماعی۔ اور جب اجتماعی آزمائش اور ابتلاء کا وقت آتا ہے تو اس آزمائش میں مومن اور غیر مومن دونوں یکساں ہوتے ہیں۔یہ آزمائش مومن وغیر مومن سب کو لاحق ہوتی ہے۔ لیکن مومن اس طرح کی آزمائشوں پر صبر کرتا ہے اور اللہ تعالی سے اجر عظیم کی امید کرتا ہے۔حدیث میں آتا ہے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ’’مومن کا معاملہ عجیب ہے۔ اگر اس کے ساتھ کچھ اچھا ہوتا ہے تو وہ اللہ کا شکر ادا کرتا ہے اور جب اسے کسی چیز سے تکلیف پہنچتی ہے تووہ اس پربھی صبر کرتا ہے۔ دونوں حالتوں میں اس کے لیے خیر ہی خیر ہے۔ پہلی حالت میں شکر پراوردوسری حالت میں صبر پراللہ تعالی اسے اجر جزیل سے نوازتا ہے۔اس کے علاوہ قرآن کریم میں جا بجا اس بات کی تاکید کی گئی ہے کہ اللہ تعالی اپنے بندوں کو مختلف قسم کی آزمائشوں میں مبتلا کرتا ہے۔قرآن کریم میں وہ فرماتا ہے کہ ہم تم کودشمن کے ڈر سے، بھوک پیاس سے ۔جان ومال اور پھلوں کی کمی سے آزمائش میں مبتلا کریں گے۔ (سورۃ البقرہ)اللہ تعالی نے ایک اورآیت میں اس سے زیادہ سخت اسلوب میں اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ’’تم کیا سمجھتے ہو کہ تم جنت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تم پر وہ حالات نہیں آئے جو تم سے پہلے لوگوں پر آئے۔انہیں بیماریاں اور مصیبتیں لاحق ہوئیں۔ انہیں اس قدر سختی سے جھنجھوڑا گیاکہ رسول اور ان کے ساتھیوں نے یہ کہنا شروع کردیاکہ اللہ کی مدد کب آئے گی‘‘۔ اس کے بعد اللہ تعالی پھر فرماتا ہے کہ’’جان لو! کہ اللہ کی مدد قریب ہے‘‘۔ (البقرہ ۲۱۴) لہذا اہل ایمان کو گھبرانا نہیں چاہیے۔ آزمائشوں اور بیماریوں پر صبر کرنا چاہیے۔ دنیاوی اسباب اختیار کرتے ہوئے اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔اس کی جناب میں حاضر ہوکر اپنے گناہوں کی معافی طلب کرنی چاہیے۔ صدقہ وخیرات کا اہتمام کرنا چاہیے اوراس کی مشیت سے ہر حال میں راضی بہ رضا ہوجانا چاہیے۔اللہ ہم سب کو کرونا وائرس کی آزمائش اور ابتلاء سے محفوظ رکھے۔ آمین
رابطہ۔صدر شعبۂ عربی بابا غلام شاہ بادشاہ یونیورسٹی راجوری
فون نمبر۔9086180380
������
 

تازہ ترین