تازہ ترین

مزید خبرں

تاریخ    9 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


کورونا کا قہر برقرار،کشتواڑ میں مزید2 افرد فوت

قصبہ کے وسر، بھوپنگر و کلید مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار

عاصف بٹ
کشتواڑ//ضلع کشتواڑ میں کورونا وائرس سے مزید دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے جسکے بعد کئی مقامات کو انتظامیہ نے مائیکرو کنٹینمنٹ زون قراددیا ہے۔ تفصیلات کے جمعہ کو گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں میں کشتواڑ سے تعلق رکھنے والی خاتون کی کورونا سے موت واقع ہوئی ۔وہیں شام کو کلید سے تعلق رکھنے والے بزرگ شخص کی ضلع ہسپتال میں کورونا سے موت واقع ہوئی جسکے بعد انتظامیہ نے وسر، کلید و بھوپ نگر کے علاقے کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار دیا ہے۔ضلع ترقیاتی کمشنر کی جانب سے جاری کے گے حکمنامے کے مطابق وسر ، بھپنگر کلید کے انٹری پوائنٹ پنٹتگام سے پی ڈی سی کالونی تک 300 افراد پر مشتمل آبادی کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار دیا گیاہے جبکہ اس علاقے سے کسی بھی شخص کو آنے یا جانے کی اجازت نہیں ہوگی اور یہاں سخت لاک ڈائون کا نفاد عمل میں لایا جائے گااور صرف ضروری خدمات کی اجازت ہوگی۔ ایس ایچ او کشتواڑ کو علاقہ میں صد فیصد ٹیسٹینگ و ویکسی نیشن کرنے کی ہدایت دی گئی ہے ۔ 
 

ڈوڈہ ضلع میں مزید22مثبت ،31 صحتیاب ،1 کی موت 

ڈی سی نے کورونا وائرس سے پیدا صورتحال کا جائزہ لیا 

اشتیاق ملک
  ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع ہفتہ کے روز کوؤڈ 19 کے 22 نئے مثبت کیس سامنے آئے ہیں جبکہ ایک عمر رسیدہ شخص کی موت ہوئی ہے اور 31 مریض صحتیاب ہوئے ہیں۔کورونا وائرس کے نئے معاملات سامنے آنے کے بعد ضلع میں فعال کیسوں کی تعداد 423 و صحتیاب ہوئے مریضوں کی مجموعی تعداد 3608 پہنچ گئی ہے۔اس دوران گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ میں ببور گاؤں سے تعلق رکھنے والے زیر علاج 68 سالہ بزرگ کی موت ہوئی ہے اور اسطرح سے ضلع میں کورونا وائرس اب تک 71 اموات درج کی گئی ہیں۔ ادھر ڈپٹی کمشنر نے آفیسران کی ایک میٹنگ طلب کرکے بلاک سطح پر مثبت معاملات، ٹیکہ کاری مہم و طبی سہولیات کا جائزہ لیا۔میٹنگ کے دوران انہوں نے پی ایم اے جے وائی صحت اسکیم کے لئے ہورہی رجسٹریشن عمل کی پیش رفت کا بھی جائزہ لیا اور آفیسران پر زور دیا کہ وہ اپنے دائرہ اختیار والے علاقوں میں زیادہ سے زیادہ تعداد میں اس اسکیم کے تحت لوگوں کی رجسٹریشن کریں۔ ڈی سی نے سب ڈویڑنل انتظامیہ کو ویکسی نیشن عمل میں تیزی لانے و پنچائتی نمائندگان کو بھی اس میں شامل کرنے کی ہدایت دی۔ انہوں نے ایس او پیز کو سختی سے لاگو کرنے پر بھی زور دیا۔ میٹنگ میں اے ڈی سی بھدرواہ راکیش کمار، ایس ڈی ایم گندوہ ڈاکٹر پریتم لال ،ایس ڈی ایم ٹھاٹھری اطہر آمین زرگر ،چیف میڈیکل آفیسر ڈاکٹر محمد یعقوب میر و دیگر آفیسران نے شرکت کی۔ 
 

را م بن ضلع میں پیر کی صبح تک کورونا لاک ڈائون کا اعلان

ضلع میں مزید63کووڈ مثبت،وانی پورہ کسکوٹ بانہال ریڈزون قرار

 ایم ایم پرویز
رام بن// ضلع رام بن انتظامیہ نے کورونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہونے کے باعث جمعہ کے روزکووڈوبائی مرض کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے ہنگامی اقدام کے طور پر لاک ڈاؤن / کورونا کرفیو کا حکم دیا ہے جو پیر کی صبح تک جاری رہے گا۔جمعہ کی شام سے ہی رام بن ضلع کے تمام قصبوں کی منڈیوں نے ایک ویران منظر پیش کیاتاہم میڈیکل شاپس کو بندش سے مستثنیٰ رکھاگیاہے۔ضلعی انتظامیہ کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام بازار پیر تک بند رہیں گے۔ایک سرکاری نوٹیفکیشن میں ضلعی مجسٹریٹ رام بن مسرت الاسلام نے وائرس کی ٹرانسمیشن چین کو توڑنے کے لئے ضلع بھر کے تمام اداروں کو بند رکھنے کا حکم دیا ہے۔انہوں نے مہلک کورونا وائرس کے پھیلاؤ کی روک تھام کے لئے ضلع بھر میں سخت پابندیوں کاحکم دیاہے۔ایک ضلعی عہدیدار نے بتایا کہ ہفتہ کے روز را م بن میں 63 مزید کووڈ 19 واقعات رپورٹ ہوئے جن سے ضلع میں 580 مثبت تصدیق شدہ مثبت واقعات پہنچے جبکہ 37 افراد بازیاب ہوئے اور ضلع میں کورونا وائرس کی وجہ سے 35 اموات ریکارڈ کی گئیں۔ضلعی مجسٹریٹ نے لوگوں سے اپیل کی ہے کہ جب تک کوئی ہنگامی صورتحال نہ ہو تب تک وہ گھروں سے باہر جانے سے گریز کریں اور ایک بار پھر سب کو صحت سے متعلق تمام حفاظتی اقدامات پر عمل کرنے کو کہا۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ "آپ باہر نہ نکل کر اس بیماری کو روکنے اور پھیلانے میں سب سے زیادہ اہم کردار ادا کرسکتے ہیں"۔انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن کے دوران کوئی کرفیو نہیں رکھا جائے گا لیکن سی آر پی سی کی دفعہ 144 کے تحت پابندیاں عائد کی جائیں گی تاکہ کسی بھی وقت زیادہ افراد کے جمع ہونے سے بچایا جاسکے۔پابندیوں کے سخت نفاذ کے لئے ضلع بھر میں پولیس کے اضافی دستے تعینات کردیئے گئے تھے۔ادھر ضلع مجسٹریٹ رام بن نے ہفتے کے روز علاقے سے متعدد کوویڈ 19 مثبت واقعات کی اطلاع کے بعد وانی پورہ کسکوٹ بانہال کو مائیکرو کنٹینمنٹ زون قرار دے دیا۔
 
 
 

گول کے معروف شاعر و سماجی کارکن عاشق علی کا انتقال

علاقہ میں صفِ ماتم، ادبی وسماجی حلقے مغموم

زاہدبشیر
گول//گزشتہ شب بعد از تراویح کے وقت عاشق حسین ملک کے انتقال کی خبر پھیلتے ہی پورا علاقہ ماتم کدے میں تبدیل ہو گیا۔ قابل ِ ذکر ہے کہ عاشق حسین اپنی شاعری کے گل کھلانے میں سوشل میڈیا پر کافی سرگرم تھے ۔یہی وجہ ہے کہ مرحوم سوشل میڈیا پر حالات و اقعات کو شعری شکل میں پوسٹ کرنے کی وجہ سے کافی مشہور و معروف ہوئے تھے ۔وہ کوئی دن نہیں تھا جس دن وہ پانچ دس سبق آموز اشعارسوشل میڈیا پر پوسٹ نہیں کرتے تھے۔ مرحوم نے روزانہ شعری طبع آزمائی کے سبب لوگوں کے دلوں میں اپنا مسکن بنا لیا تھا اور اِس عمل سے وہ کافی داد و تحسین اور دعائیں حاصل کرتے تھے، مرحوم کئی ادبی و فلاحی انجمنوں میں بنیادی رْکن کی حیثیت سے بھی کرتے تھے۔ مرحوم اک شاعر ہونے کے ساتھ ایک اچھے انسان بھی تھے، مرحوم کی بلند خیالی، دور اندیشی، راست گوئی، بیباکی، بالغ النظری اور خوش اخلاقی نے انہیں سماج میں اک اچھا مقام عطاکیا تھا۔ مرحوم کی اچانک وفات جہاں پورے علاقے کیلئے دکھ آمیز ہے وہیں ادبی انجمنوں کیلئے بھی کسی دھچکے سے کم نہیں۔ بالخصوص گلاب بزم ادب گول گلاب گڑھ کیلئے عاشق حسین کا جانا بہت بڑا نقصان ہے، مرحوم بزم ہذا کے نائب صدر تھے اور بہت ہی انہماک اور سنجیدگی کیساتھ اپنے فرائض انجام دیتے تھے۔ مرحوم کے وفات پر گلاب بزم ادب گول نے اک تعزیتی اجلاس کا اہتمام کیا جس میں بزم کے بیشتر زعما نے شرکت کی اور مرحوم کی ادبی خدمات کو شدت سے یاد کیا۔ انھوں نے مرحوم کے لئے دعائے مغرفت کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم ہماری بزم کے ہیرو تھے اور اْن کے چلے جانے سے جو خلا بپا ہوا ہے اْسے پر کرنا محال ہے۔ اِس موقعہ پر بزم کے صدر زاہد رحمت اللہ نے اشکبار آنکھوں سے کہا کہ عاشق حسین انتہائی سنجیدہ اور ذمہ دار انسان تھے اْس نے علاقہ میں اْردو ادب کو زندہ کرنے میں جوانمردی کیساتھ کام کیا جسے رہتی دنیا تک یاد کیا جائے گا۔اْنھوں نے کہا کہ اْن کا چلا جانا گویا اْردو ادب کا چلا جانا ہے، میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کی مغفرت فرمائے ، اْن کی لحد کو جنت کی اجالوں سے پرنور فرما دے اور کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے۔ انھوں نے کہا دکھ کی اِس مشکل ترین گڑی میں ہم لواحقین کے ساتھ برابر کے شریک ہیں لیکن افسوس سے کہنا پڑ رہا ہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر ہم لواحقین کے گھر جاکر اْن کی ڈھارس نہیں بندھا سکتے۔ اِس لئے میری دعا ہے پروردگار ِ عالم سے کہ لواحقین کو اِس عظیم صدمے کو برداشت کرنے کی ہمت عطا کرے اور ہمیں اِس مشکل دور سے آزاد فرمائے جس وجہ سے ہم ایک دوسرے کے پاس جانے سے بھی قاصر ہیں۔دریں اثناعاشق حسین کی وفات پر صحافتی برادری نے بھی گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا عاشق حسین سماج کانبض شناس شاعر ہونے کیساتھ ساتھ اک ہونہار ، بیباک اور نڈر ،با اخلاق انسان بھی تھااْن کا انتقال سماج کیلئے کافی نقصان دہ ہے، ایم شفیع میر، حافظ عبدالطیف ملک، زاہد بشیر، شبیر احمد وانی، حافظ زاہد ،جاوید احمد لوہار، لطیف لرضا چاہت و دیگر صحافیوں نے اپنی تعزیتی پیغام میں کہا کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو کروٹ کروٹ جنت الفردوس نصیب کرے اور پسماندگان کو اِس مشکل دور سے باہر آنے کی ہمت و جرات عطا کرے۔ آمین!عاشق حسین کو آج بعد دوپہر آبائی گھر گراٹ موڑ جاملان میں پُر نم آنکھوں کے ساتھ سپرد کیاگیا جہاں کوڈ19کے پروٹوکول کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کا نماز جنازہ ادا کیا گیا ۔