تازہ ترین

راشن ڈیپوئوں پر بائیو میٹرک کرنے سے کورونا پھیلنے کے سو فیصد امکانات

صارفین کا بائیوسسٹم کے بغیر راشن فراہم کرنے کا مطالبہ

تاریخ    9 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
سرینگر // کورونا کے بڑھتے معاملات کو دیکھتے ہوئے مئی کے مہینے میں وادی بھر کے لاکھوں صارفین راشن لینے سے ہچکچارہے ہیں۔جموں وکشمیر میں اس وقت 26,46,247  راشن کارڈ ہولڈر موجود ہیں جو بائیو میٹرک سسٹم کے تحت ہر ماہ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کے راشن ڈیپوئوں سے راشن حاصل کر رہے ہیں ۔لیکن صارفین بائیو میٹرک کرنے سے اس وجہ سے ہچکچارہے ہیں کہ اس سے کورونا پھیلنے کا سو فیصد امکان ہے۔کئی معالجین کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک سسٹم میں دھات کا استعمال کیا گیا ہے کہ کورونا اس پر زیادہ دیر تک موجود رہتا ہے۔انہوں نے کہا کہ کوئی بھی ایسی چیز جو دھات سے بنی ہے، پر وائرس موجود رہنے کے زیادہ امکانات ہیں اور لوگوں کا خوف بجا ہے۔صارفین کا کہنا ہے کہ کورونا پھیلنے کے ڈر سے ہی حالیہ ایام میں ملک کی کئی ریاستوں میں بائیو میٹرک پر کچھ وقت تک پابندی عائد کی گئی ہے۔لیکن جموں کشمیر میں انتظامیہ کا ابھی تک اس اہم معاملے کی طرف دھیان ہی نہیں گیا ہے اور نہ متعلقہ محکمہ نے انتظامیہ کی توہ مبذول کرائی ہے۔ محکمہ امور صارفین کورونا کی اس تشویشناک صورتحال کے باوجود بائیو میٹرک کے بغیر راشن فراہم نہ کرنے پر بضد ہے۔ستم ظریفی کی بات یہ ہے کہ وادی بھر میں لاک ڈائون  جاری ہے اور لوگوں سے کہا جارہا ہے کہ وہ ہاتھ صابن سے دھویں، ماسک کا استعمال کریں اورسماجی دوری اختیار کریں لیکن کورونا کے پھیلائو کو روکنے کیلئے راشن کیلئے بائیو میٹرک کرانا لازمی قرار دیا گیا ہے۔ہاتھوں سے پھیلنے والی وباء کو ہاتھوں سے ہی پھیلانے کو ترجیح دی جارہی ہے۔ عام لوگوں نے کوویڈ کی موجودہ صورتحال ذہن میں رکھتے ہوئے بنا بائیو میٹرک ہی راشن کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔انہوں نے لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ سے کہا ہے کہ وہ گھروں سے باہر آنے سے ڈر رہے ہیں تو اس صورت میں وہ کیسے بائیو میٹرک کا استعمال کرسکتے ہیں، جس پر انگلیاں ہی لگتی ہیں جس سے وائرس پھیلنے کا احتمال ہے۔محکمہ امورصارفین وعوامی تقسیم کاری کا کہنا ہے کہ بائیو میٹرک کے بغیر راشن نہیں دیا جا سکتا۔ صارفین نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ حکام کو کورونا وائرس کی روکتھام تک کچھ وقت کیلئے یہ سسٹم بند کر کے لوگوں کو راشن کاڈز کے ذریعے راشن فراہم کرنا چاہیے تاکہ لوگ اس سے بچ سکیں ۔محکمہ خوراک کے ڈائریکٹر کشمیر عبدالسلام میر نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بائیو میٹرک پر راشن لینے یا نہ لینے کا فیصلہ مرکزی سرکار کو کرنا ہو گا کیونکہ یہ سسٹم پورے ملک میں لاگو ہے ۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر میں سو فیصد راشن اسی نظام کے ذریعے ہی لوگوں کوملتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اگر سرکار کی طرف سے اس حوالے سے کوئی فیصلہ آتا ہے تو اسے فوری طور پر لاگو کیا جائیگا۔