تازہ ترین

سوپور ، گاندربل اورسمبل میں آشاورکروں کااحتجاج | مشاہرے میں اضافہ اور مالی مراعات کا مطالبہ

تاریخ    9 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


غلام محمد+ارشاد احمد
سوپور+گاندرگل//سوپور ،گاندربل اورسمبل میںآشاوروںنے اپنے مطالبات کے حق میں مرکزی زیرانتظام علاقہ کی انتظامیہ کے خلاف احتجاج کیا۔انہوں نے مانگ کی کہ انہیں بہتر مشاہیرہ،مراعات اور کورونا وائرس کے بحران کے دوران بیماری سے تحفظ فراہم کیاجائے۔بلند نعرے بازی کرتے ہوئے ان آشاورکروں نے الزام لگایا کہ حکومت کورونا جانبازوں کیلئے حالیہ منظور کی گئی خصوصی مالی مراعات اسکیم میں آشا ورکروں کوشامل کرنے کو بھول گئی ہے۔اس اسکیم کے تحت ڈاکٹروں ،نیم طبی عملے اور درجہ چہارم ملازمین محکمہ صحت کو مالی مراعات دیئے جائیں گے ۔عالیہ نام کی ایک آشاورکر نے کہا کہ کیوں کہ وہ کوروناوائرس اعدادوشمار جمع کرنے اور مریضوں کی دیکھ بھال کرنے کا کام کرتی ہیں،انہیں بھی مالی مراعات کی اس اسکیم میں شامل کیا جائے ۔انہوں نے سوال کیا کہ اگرڈاکٹروں ،نیم طبی عملے اور ڈرائیوروں اور ٖصفائی کرمچاریوں کویہ مراعات دی جارہی ہیں تو حکومت نے انہیں کیوں نظر انداز کیا جبکہ وہ بھی کرووناوائرس کے خلاف صف اول پر کام کرہی ہیں۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ پہلے ہی قلیل تنخواہ پر کام کررہی ہیں کو ناکافی ہے ،اور اب ہم لیفٹینٹ گورنرسے التماس کرتے ہیں کہ وہ ہمارے ماہانہ مشاہیرے میں اضافہ کریں اورخصوصی مالی مراعات کی اسکیم میں انہیں بھی شامل کریں۔انہوں نے متنبہ کیا کہ اگر انہیں مراعات نہیں دی گئیں تو250آشاورکر جوہیں وہ کام چھوڑ دیں گے۔اس دوران محکمہ سماجی بہبود میں تعینات درجنوں آنگن واڑی کارکنوں اور ہیلپروں نے آئی سی ڈی ایس پروجیکٹ لار گاندربل کے دفتر کے باہر احتجاجی مظاہرہ کئے.اس موقع پر احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ صحت کے دیگر فرنٹ لائن کارکنوں کے ساتھ مساوی سلوک کا مطالبہ کرنے کے لئے ایس او ایس پروٹوکول کو روکے رکھا گیا جن کو حال ہی میں کوڈ-19 فرائض کی ادائیگی کے لئے ترغیب دی گئی ہے۔مظاہرین سے خطاب کرتے ہوئے ڈسٹرکٹ صدر مسعودہ مجید نے کہا کہ آشا ورکروں سمیت آنگن وادی کارکنان اورہیلپروں نے کروناوائرس وبائی بیماری کے آغاز سے ہی فرنٹ لائن ورکرز کے طور پر کام کر رہے ہیں اور اپنی ذمہ داریوں کو نبھا رہے ہیں جبکہ اپنی جان کو خطرے میں ڈال رہے ہیں لیکن حکومت نے حالیہ مراعات کا اعلان کرتے ہوئے پوری طرح آنگن واڑی اور آشا کارکنوں کو نظرانداز کرتے ان کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جو غیر انسانی اور بہت بڑی ناانصافی ہے۔انہوں نے حکام سے مطالبہ کیا کہ تمام آگن واڑی کارکنوں،ہیلپروں اور آشا کارکنوں کے لئے بھی اسی مراعات کا اعلان کریں یا انہیں کوویڈ _19 فرائض سے مستثنیٰ کردیا جائے ورنہ ہم بھی سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوں گے اور وبائی امور کے دوران فرنٹ لائن ورکرز کی حیثیت سے کام بند کردیں گے۔ ادھر  مشاہرے میں اضافے اور نوکریوں کی مستقلی کو لیکر آشا ورکروں نے سمبل میں احتجاجی مظاہرہ کیا۔ سی این ایس کے مطابق ہاتھوں میں بینر اور پلے کارڈس لئے جموں و کشمیر آشا ورکرس یونین نے تحصیل ہیڈ کوارٹر سمبل میں اپنے مطالبات کے حق میں جم کر نعرہ بازی کی۔اس احتجاج میںمقامی سما جی اور سیاسی لیڈر راتھر معرا ج نے بھی آ شا ورکروں کے احتجاج میں شمولیت کی۔ احتجاجی مظاہرین کا کہنا تھا کہ وہ نوکریوں کی مستقلی کے لئے یہ احتجاج درج کر رہے ہیں۔  آشا ورکروں کا کہنا تھا’’ہم نوکریوں کی مستقلی کے لئے احتجاج کر رہے ہیں اور جب تک ہمیں مستقل کیا جائے گا تب تک ہمیں لیبر قانون کے مطابق اٹھار ہ ہزار روپے ماہانہ مشاہراہ ملنا چاہے‘‘۔انہوں نے کہا کہ آشا ورکرس محکمہ صحت کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں وہ  لاک ڈائون کے دوران بھی بغیر کسی تحفظ کے کام کررہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کے پاس کوئی پالیسی ہی نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ آشا ورکروں اور آنگن واڑی ورکروںکو مستقل کیا جانا چاہئے اور جب تک ان کو مستقل کیا جائے گا تب تک کم از کم تنخواہ قانون کو لاگو کیا جانا چاہئے۔