تازہ ترین

کتاب و سنت کے حوالے سےمسائل کا حل

تاریخ    7 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


مفتی نذیر احمد قاسمی

اعتکاف مسجد میں لازمی

موجودہ حالات میں ایک شخص معتکف ہوسکتا ہے

سوال :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں جو اعتکاف ہوتا ہے،کیا یہ اعتکاف آج گھروں میں ہوسکتا ہے یعنی جیسے جمعہ گھروں میں ہورہا ہے اسی طرح اعتکاف کرنے کی اجازت ہوگی یا نہیں ۔یاد رہے کہ کچھ علماء نے جمعہ و جماعت کی طرح گھروں میں بھی اعتکاف کی اجازت دی ہے ،اس کا جواب ضرور لکھا جائے کہ کیا یہ اعتکاف مسنون ہوگا اور کیا اس عبادت کا کوئی اجر ہوگا یا نہیں اور اس میں کوئی فایدہ ہے یا یہ ضیاع ہے؟
محمد معروف بٹ
جواب  :رمضان المبارک کے آخری عشرے میں اعتکاف سنت موکدہ ہے ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے مسجد ہونا شرط ہے اور خواتین گھروں میں اعتکاف کریں گی ۔مردوں کے اعتکاف کے لئے چونکہ مسجد ہونا شرط ہے اور جب اس شرط کے ساتھ یہ اعتکاف ہوگا تو یہ سنت علی الکفایہ کی وجہ سے سب کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔اس لئے جیسے مساجد میں اذان اور محدود جماعت و جمعہ کے ساتھ عبادت جاری ہے ،اسی طرح مساجد میں ایک شخص بھی اعتکاف کرسکتا ہے اور ایک شخص کے اعتکاف پر کسی کو بھی کوئی اعتراض نہ ہونا چاہئے ۔اس لئے یہ ایک شخص ،جو صحت مند ہے اور وائرس سے محفوظ ہے  ، اپنے گھر ،اپنی دکان ،اپنے دفتر میں ہوتا ہے ،اسی طرح یہ مسجد میں اعتکاف کی نیت سے بیٹھ جائے تو اس میں کیا اعتراض ہوگا؟اس کے بعد جو لوگ آج اپنے گھروں میں ہی نمازیں پڑھ رہے ہیں وہ اُسی کمرے میں اُسی طرح بیٹھ جائیں جیسے اعتکاف والا بیٹھ جاتا ہے اور اُسی طرح عبادت میں مشغول ہوجائیں  جیسے معتکف مسجد میں ہوتا ہے تو رمضان المبارک میں اس مسلسل عبادت کا ثواب تو ضرور مل جائے گا اور جو وقت لاک ڈاون کی وجہ سے بے کار گذر سکتا ہے وہ وقت نوافل ،تلاوت ،تسبیحات دعائوں اور گناہوں سے محفوظ رہ کر اپنے اللہ سے لَو لگانے کی حالت میں گزرے گا ۔اس اجر و ثواب اور عبادت میں کوئی شک نہیں ہے ۔اس لئے اس کی ترغیب دی جائے۔اسی کے ساتھ جو لوگ ہمیشہ اعتکاف کرنے کے عادی ہیں اور یا وہ رمضان المبارک کے ان ایام میں اپنے مشائخ کی تلقین کے مطابق معمولات کرنے کے مسلسل عادی ہیںبلکہ اپنے شیخ سے مستفید ہونے کے لئے اجتماعی اعتکاف کرتے ہیں ،وہ اپنے شیخ ہی کے حکم اور مشورے سے اپنے گھروں کے اُن کمروں میں معتکف کی طرح پابند ہوکر بیٹھ جائیں اور وہ تمام معمولات کریں جو اُن کو تلقین کئے گئے ہوں تو یقیناً وہ کمی جو اعتکاف چھوڑنے کی وجہ سے یقینی طور پر ہوگی ۔اس کمی کا ازالہ کسی نہ کسی درجہ میں ضرور ہوگا ۔اس لئے جب فرائض ،نوافل ،تلاوت ،تسبیحات ،دوردشریف ،استغفار ہزاروں کی تعداد میں ہونگےاور پھر دعائیں ہوں گی تو ان تمام کے اثرات بھی ہوں گے اور ثمرات بھی ملیں گے اور رمضان المبارک کے یہ قیمتی اوقات فضول مشاغل میں برباد ہونے سے سے بچ جائیں گے ۔یہ ہے وہ حقیقت جو بعض محتاط اور عبادت پر کھڑا کرنے کے جذبہ والے علماء کہہ رہے ہیں اور یہ بالکل درست ہے۔
������
سوال:-پچھلے سال اخبار کشمیرعظمیٰ میں ایک سوال کے جواب میں آپ نے تحریر کیا تھا کہ جی پی فنڈ جو اپنا روپیہ ہوتاہے ، پر سود کھانا ناجائز نہیں ہے ، وضاحت کی جائے۔ 
(غلام احمد بٹ) 
 
 

جی پی فنڈ پر اضافی رقم سود نہیں 

جواب:-جی پی فنڈ پر ملنے والی اضافی رقم سود کے زمرے میں آتی ہی نہیں ہے ۔ اگرچہ محکمہ مذکور اُس اضافہ کو Interest ہی لکھتاہے مگر جب تک سود کی وہ حقیقت نہ پائی جائے جو شریعت اسلامیہ نے مقرر کی ہے اُس وقت تک صرف کسی کے لکھنے سے وہ سود نہیں بنے گا جیسے شربت روح افزاء کوشراب لکھنے سے وہ شراب نہیں بنے گی اور شراب کو شربتِ نشاط افروز لکھنے سے وہ شربت اور حلال قرار نہیں پائے گی ۔ سود میں ایک شخص اپنی رقم دوسرے فرد یا ادارے کو دیتاہے اورپھر ایک مقررہ شرح پر اُس پر اضافی رقم لینے دینے کا وعدہ قرارپایا جاتاہے ۔ اب یہ اضافی رقم سودکہلائے گی ۔ 
جی پی فنڈ میں گورنمنٹ ملازم سے تنخواہ کی ایک مخصوص رقم اپنے بنائے ہوئے اصول کے مطابق ملازم کی رضا وتسلیم کے بغیر کاٹ لیتی ہے اور یہ رقم محکمہ اپنے پاس جمع رکھتی ہے ۔پھر ملازم کے ریٹائرہونے کے بعد اپنے خزانے میں اپنے بنائے اصول کے مطابق اضافہ کرتاہے ۔نہ تو محکمہ اس ملازم کی جمع شدہ رقم سے کہیں سود کماتاہے اورنہ ہی اس سود میں سے کچھ رقم خود اپنے لئے اور کچھ ملازم کودیتاہے ۔جیسے کہ بینک میں ہوا کرتا ہے کہ الف کی رقم بینک ب کو دیتاہے کہ ’ب‘ اس رقم پر جومحنت کرتاہے ۔اُس محنت کی کمائی سے کچھ رقم تو قرض کے طور پر واپس ہوتی ہے اور کچھ رائد رقم بطور سود وہ بنک کو دیتاہے ۔ پھر بنک کچھ سود تو خود رکھتاہے اور کچھ سود پہلے شخص یعنی الف کو دیاجاتاہے ۔یہ ہے وہ سود جو اسلام نے حرام قرار دیاہے ۔ 
جی پی فنڈ میں یہ صورتحال نہیں ہے ۔اسی لئے تمام مستند علماء ومفتیان کرام کا فیصلہ یہی ہے کہ جی پی فنڈ پر اضافہ شرعی سود نہیں ۔
………………………
سوال-میں محکمہ مال میں کام کرتاہوں ۔ پچھلے تین سالوں سے محکمے میں بحیثیت کیشئر (ناظر) کے کام انجام دے رہاہوں ۔ چونکہ جب محترم ملازمین کی تنخواہ کی بلیں (Bills)بناتا ہوں تو بل میں ایک کالم جی پی فنڈ کے لئے ہوتاہے ۔ جی پی فنڈ کا رقم بنک میں جمع رہتی ہے اور اُس پر گورنمنٹ 8.33%کے حساب سے سود دیتی ہے ۔ بحیثیت کیشئر ہم کیا کریں ؟ ہم تو لکھنے پر مجبورہیں ۔ ہم شاہد بھی ہیں اور گواہ بھی ۔
(عبدالرزاق کمار)
جواب:-جی پی فنڈ پر ملازمین سے جو رقم کاٹی جاتی ہے وہ ملازمین کی رضامندی کے بغیر بنایا ہوا وہ قانون ہے جس کا فائدہ ملازم ہی کوہوتاہے ۔اس پر گورنمنٹ جتنے فیصد اضافی رقم دیتی ہے وہ اگرچہ کالم میں سود لکھی جاتی ہے مگر وہ شرعات سود نہیں ہے ۔اس لئے اس کا حساب کتاب لکھنے میں کوئی گناہ نہیں ۔ کیشئر گورنمنٹ کے بنائے قانون کے مطابق اندراجات کرتاہے ۔ اگر گورنمنٹ وہ رقم بنک میں رکھتی ہے اور اس سے سود کمایا جاتاہے تو اس کا ذمہ دار ملازم ہرگز نہیں ۔اس کی مثال یہ ہے کہ اگر زوجہ کا مہر شوہر کے ذمہ باقی ہو اور شوہر اُس سے کہے کہ میں ملازمت سے ریٹائرمنٹ پر تمہارا مہر اداکروں گا اور اُس میں دو گنا اضافہ کرکے دوں گا ۔ چنانچہ یہ دوگنا ہرگز سود قرار نہیں پائے گا ۔
 
 

معتکف کے لئے عمومی ضابطۂ عمل

سوال:۱-تقریباً ہر مسجد میں مسنون اعتکاف کرنے والے خوش نصیب معتکف ہیں ۔معتکف حضرات کیلئے چوبیس گھنٹہ کا دستور العمل بیان کردیجئے ۔
سوال:۲-جن مساجد میں اعتکاف نہ ہو اُن کے متعلق کیا حکم ہے ؟
سوال:۳-اعتکاف میں عمومی غلطیوں کی نشاندہی فرما دیں۔
(مولوی غلام رسول)
جواب:۱-معتکف کو پورے جذبہ اور شوق کے ساتھ یہ طے کرنا چاہئے کہ ایک تو وقت ضائع نہیں کرناہے نہ غیر ضروری آرام طلبی میں مشغول رہناہے اور زیادہ سے زیادہ عبادات واعمال میں وقت گذارنے کی پوری سعی کرنی ہے ۔ ایک عمومی ضابطہ عمل یہ ہے ۔
صبح کو دوبجے سے تین بجے تک بیدار ہونے کا نظام بنائیں ۔ پھر وضو کے بعد تہجد آٹھ رکعات یا بارہ رکعات پڑھیں ، پھر طویل دعا کریں ۔پھر سحری کھاکرتلاوت یا ذکر میں مشغول رہیں ۔ نماز فجر کے بعد سورہ یٰسین شریف کی تلاوت اور اس کے بعد تسبیحات، اوراورادوظائف میں تاطلوع آفتاب مشغول رہیں ۔ پھر بعداز طلو ع نماز اشراق چاررکعت پڑھ کر اگر ضرورت ہوتو آرام کریں ۔ پھر نو بجے سے دس بجے تک بیدار ہوکر نمازِ چاشت جس کو حدیث میں صلوٰۃ الضحیٰ کہا گیا ہے ، ادا کریں ۔ یہ نماز آٹھ یا بارہ رکعت ادا کریں ۔ 
اس کے بعد تلاوت میں مشغول رہیں ۔ نماز ظہر اداکرنے کے بعد کچھ وقت تلاوت ،کچھ ذکر واذکار میں گذاریں اور اسی وقت صلوٰۃ التسبیح بھی اداکریں ۔ اگر ضرورت ہو تو کچھ دیر آرام کریں ۔ پھر عصر کی نماز کی تیاری کریں ۔ عصر سے پہلے چار رکعت سنت اداکریں اور پھر بعد از عصر تسبیحات کا خوب اہتمام کریں ۔کلمہ شہادت ، کلمہ تمجید، کلمہ توحید ، کلمہ استغفار اور درودشریف کی ایک مقدار طے کریں اور پابندی سے اُس کو پورا کریں ۔پھرافطار کے قریب دعائوں میں مشغول رہیں ۔ افطار اورنماز مغرب کے بعد اوابین کی نماز اداکریں ۔ یہ چھ رکعات یا بیس رکعات ادا کریں ۔کھانا کھاکر اورتجدیدِ وضو وغیرہ کرکے عشاء اور تراویح کی ادائیگی کریں۔تراویح کے بعد افضل یہ ہے کہ پوری رات جاگنے کا اہتمام کریں اور کم از کم طاق راتوں میں اس کی پوری کوشش کریں اور اگر آرام کا تقاضا ہوتو سورہ یٰسین ، سورہ ملک اور درود وسلام کی چہل حدیث پڑھ کر آرام کریں۔ ہر کام میں سنت کا اہتمام ضروری ہے ۔وضو، کھانا ،پینا،سونا ، جاگنا اور مسجد میں رہتے ہوئے دوسرا جو کام بھی ہو وہ سنت کے مطابق ہو ، ہر وضو کے بعد تحیۃ الوضو اور تحیۃ المسجد کا اہتمام کریں ۔بشرطیکہ مکروہ وقت مثلاً بعد از نماز فجر تا طلوع آفتاب کا وقت نہ ہو ۔ دن یا رات میں کسی بھی وقت صلوٰۃ الحاجت پڑھنے کا اہتمام کریں ۔دعائوں میں ایمان ، ہدایت ، عمل کی توفیق ،اخلاص ، استقامت اور قبولیت کی دعاضروری ہے ۔ صحت ، کاروبار ،گھریلو مسائل کے متعلق اور نجی ضروریات کے لئے دعائیں بھی کرنے کا اہتمام کرسکتے ہیں ۔ 
پوری امت کے حالات ، دینی ودنیوی ، ایمانی ، اخلاقی ، معاشی ، سیاسی اور معاشرتی امور میں سے ایک ایک مسئلہ کو اپنی دعائوں میں ضرور شامل کریں ، امت مسلمہ جن جن علاقوں اور جن جن ملکوں میں جیسے حالات ، مشکلات اور انفرادی یا عمومی مصائب کا شکار ہے اُس کے لئے ضروری دعائیں کریں ۔ امت کے حکمرانوں ، افسروں ، نوجوانوں اور خواتین کے سدھار اور ہدایت کی دعائیں ضرور کریں۔اسلام کی حفاظت ،اشاعت اور احیاء نیز امتِ مسلمہ کی رفعت اور عظمتِ رفتہ کی بحالی اور عالمی سطح پر دعوتی ماحول کے سازگارہونے کی دعائیں بھی کریں ۔
اگر کوئی معتکف کسی شیخ سے بیعت ہوں تو اپنے شیخ کے بتائے ہوئے وظائف او رمعمولات کی پابندی اور اپنے شیخ سے رہنمائی ضروری ہے۔اعتکاف کے دوران زیادہ سے زیادہ تلاوت کا بھی معمول بنائیں اور تسبیحات کی مقدار مقرر کرکے ان کی ادائیگی کا اہتمام کریں ۔ 
جواب:۲-جن مساجدمیں اعتکاف نہ ہو تو اُن مساجد کے محلہ والے اس ترکِ سنت کے گناہ گار ہوں گے۔اس لئے مسجد کی انتظامیہ پر یہ ذمہ داری ہے کہ وہ جیسے مسجد کے دیگر امور کے لئے انتظامات کرتے ہیں اسی طرح اعتکاف کا بھی انتظام کریں اور اگر کوئی بھی شخص معتکف نہ بنے تو خود انتظامیہ کے ذمہ داران آپس کے مشورہ سے اپنے میں سے کسی کو اعتکاف میں ضرور بٹھائیں ۔
جواب:۳-اعتکاف کرنے والے پر لازم ہے کہ اعتکاف کے مسائل ضرور معلوم کرے ۔اعتکاف کے مسائل کے لئے مولانا محمد رفعت قاسمی ، مولانا محمد تقی عثمانی ،مولانا مفتی مظفر حسین قاسمی کی کتابیں اپنے ساتھ رکھیں۔پھر جن جن باتوں سے اعتکاف فاسد ہوتاہے اُن سے پرہیز کرنے کا پورا اہتمام کریں اور جن باتوں سے اعتکاف مکروہ یا اُس کی روح مجروح ہوتی ہے اُس سے بھی بچنے کی پوری کوشش کریں ۔اعتکاف کے دوران غیر ضروری مجلس آرائی، غیر ضروری بات چیت ، غیر ضروری آرام اور استراحت اور غیر ضروری فون سے پرہیز کرنے کا اہتمام ضروری ہے ۔
اسی طرح ذہنی یکسوئی اور خیالات کو قابو میں رکھنے ، نماز، تلاوت ، ذکر دعاء ، استغفار میںخشوع اور توجہ الی اللہ کی پوری کوشش ضروری ہے۔
ورنہ اگر جسم مسجد میں اور ذہن اور دماغ مسجد سے باہر ہو تو اعتکاف کی حقیقت اور اس کے ثمرات سے مستفید ہونا سخت مشکل ہوگا۔
����������

تازہ ترین