تازہ ترین

کورونا کا قہر…اختراعی اقدامات اٹھانے کی ضرورت

تاریخ    7 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
کورونا متاثرین کے حوالے سے مقامی اور ملکی سطح پر جو اعدادوشمار سامنے آرہے ہیں،وہ پریشان کن ہی نہیں بلکہ نیندیں اچٹ دینے والے ہیں۔گزشتہ روز جموںوکشمیر میں 47سو کے قریب افراد کورونا وائرس میں مبتلا پائے گئے جو اب تک ایک دن میں سب سے زیادہ تعداد تھی ۔اسی طرح آج جو مرکزی وزارت صحت کی جانب سے کورونا اعدادوشمار ظاہر کئے گئے ہیں،وہ بھی اطمینان بخش نہیں ہیں۔مذکورہ وزارت کی جانب سے ظاہر کئے گئے اعداد وشما ر کے مطابق ملک میںیومیہ کورونا اموات کی تعداد بڑھ کرقریب3800ہوگئی ہے جبکہ کورونا متاثرین کی یومیہ تعداد تقریباً4لاکھ کے آس پاس ہے ۔ ملکی سطح پر روزانہ 4 لاکھ کے قریب نئے کورونا معاملات کا سامنے آنا پریشان کن ہے اور جو رجحان بنا ہوا ہے ،اس کے مطابق اس تعداد میں مسلسل اضافہ ہی ہوتا چلائے گا کیونکہ ابتداء میںیہ تعداد سو سے کم سے شروع ہوکر پہلے کافی وقت تک سینکڑوں میں چلی ،پھر ہزار اور پندرہ سو کے درمیان رہی ،پھر دو ہزار سے کم کے درمیان کچھ وقت رہی لیکن پھر یہ چھلانگیں مارتی گئی ہے اور اب تو بڑی بڑی چھلانگیں مارتے ہوئے تعداد4لاکھ کے آس پاس ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ یہ آنے والے دنوںمیں مزید بڑھ سکتی ہے ۔اسی طرح اموات کا گراف بھی اطمینان بخش نہیںہے ۔اموات کے گراف کو دیکھیں تو اس میں بھی یکایک اضافہ کا رجحان دیکھا جاسکتا ہے ۔پہلے پہل اموات نہ ہونے کے برابر تھیں اور پھر آہستہ آہستہ اموات کا سلسلہ بڑھنے لگا لیکن اب تو اموات کا گراف بھی جیسے چھلانگیں ماررہا ہے اور اس میں روزانہ کی بنیادوںپر تشویشناک حدتک اضافہ ہونے کا اشارہ مل رہاہے۔اس بات سے قطعی انکار نہیںکہ ملک میں ٹیسٹنگ کی صلاحیت کافی بڑھ چکی ہے اور اس وقت یہ روزانہ لاکھوںمیں ہے ۔جتنے زیادہ ٹیسٹ ہونگے ،اتنے ہی زیادہ متاثرین سامنے آنے کے امکانات ہیں ۔یہی بات بھارت پر بھی صادق آتی ہے تاہم جس طرح لوگوں کو زیادہ ٹیسٹنگ کے نام پر متاثرین کی تعداد بڑھنے کے نام پر معاملات کو گول مول کرنا بجا نہیںہے۔بالکل ایسی ہی صورتحال ترقی یافتہ ممالک میں بھی پہلے تھی اور وہ ملکی عوام کو مسلسل دلاسہ دے رہے تھے کہ حالات قابو میں ہیں لیکن پھر جب یکایک کیس بڑھتے چلے گئے اور یہ دنوں میں دو گنا ،تین گنا بڑھ کر ہزاروں سے لاکھوںمیںچلے گئے تو حکومت نے ہاتھ کھڑے گئے اور لوگ بے بسی کے عالم میں خدائی مدد کے طلبگار بنے ۔ہمارے ملک میں ایسی ہی صورتحال ہے ۔بے شک ابھی بھی معاملات قابو سے باہر نہیں ہیں گوکہ پریشان کن ضرور ہیں۔کورونا کے پھیلائو کے عالمی رجحان کو مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے ۔جتنے زیادہ کیس ہونگے ،اتنی زیادہ اموات ہونگیں اور جتنی زیادہ اموات ہونگیں،اتنا پھر اُس صورتحال سے ابھر پانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بن جائے گا۔ اس لئے وقت کا تقاضا ہے کہ ہم بے شک عوام کا حوصلہ بنائے رکھیں لیکن ساتھ ساتھ تیاریوںکو بھی مستحکم کرتے چلے جائیں ۔اگر ہم یہ کہیں  کہ آج بھی ہمارے پاس کورونا سے لڑنے کیلئے مناسب طبی ڈھانچہ میسر نہیں ہے تو بیجا نہ ہوگا۔ابھی بھی وقت ہے ۔مرکزی اور یوٹی سرکار کو چاہئے کہ وہ پیش بندی کریں۔یہ طوفان ابھی تھمانہیں ہے بلکہ آگے بڑھ رہا ہے ۔اس لئے اگر اس وقت بھی ہم نے اس سے بچائو کا بندوبست نہیں کیاتو یہ طوفان ہمیں خس و خاشاک کی طرح بہا کرلے جائے گا۔امید کی جانی چاہئے کہ دلّی سے لیکر جموں وکشمیر تک سرکاری مشینری مزید حرکت میں آئے گی اور کورونا سے نمٹنے کے اقدامات کو ایک نئی جلا بخشی جائے گی تاکہ یہ جنت جیتی جاسکے۔لاک ڈائون بھی جاری ہے اور اس میں مسلسل توسیع کی جارہی ہے تاہم لاک ڈائون کی اس مدت کو اس امید کے ساتھ ضائع نہ کیا جائے کہ نقل و حرکت محدود کرنے سے کورونا کا قہر کم ہوجائے گا بلکہ اس مدت کو طبی ڈھانچہ کو اپ گریڈ کرنے کیلئے استعمال کیاجائے تاکہ ہم آنے والے چیلنجوں سے نمٹ سکیں۔بلا شبہ اقدامات کئے جارہے ہیں اور اپنی جانب سے حکومت کوششوں میں لگی ہے لیکن اتنی ہی کوششیں کافی نہیں ہیں۔جو صورتحال بنی ہوئی ہے ،وہ ایک بہت بڑی پہل کا تقاضا کرتی ہے ۔بحران جتنا سنگین ہے ،اُتنا ہی ہمارا ردعمل بڑا ہونا چاہئے ۔روایتی اقدامات سے کچھ نہ ہوگا بلکہ ہمیں اختراعی سوچ اپنا کر اس نظر نہ آنے والے دشمن سے لڑنا ہوگا تاکہ سسکتی انسانیت کو سہارا مل سکے ۔
 

تازہ ترین