تازہ ترین

کورونا کی کارستانی اور انتظامی سہل انگاریاں

شورِ نشور

تاریخ    6 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


شاہ عباس
رواں برس مارچ کے آغاز میں وزیر اعظم نریندر مودی کی حکومت نے دعوی کیا تھا کہ ملک کے اندر کوروناوبا اختتامی مرحلے میں ہے لیکن موقر ’دی گارجین‘ کے مطابق’’ ہندوستان اب ایک زندہ جہنم میں تبدیل ہوگیا ہے‘‘۔ ملک کو تباہ کن کورونا وائرس کی دوسری لہر کا سامنا ہے اور اب تک اس نے اتنی تباہی مچائی ہے کہ اسپتالوں میں بستر اور طبی آکسیجن کی شدید کمی ہے۔شمشان گھاٹ اس حد تک مصروف ہیں کہ گھروں میں لاشیں سڑنے کے لئے چھوڑ دی گئی ہیں ۔اب تو شمشان گھاٹوں سے ایسے ٹوکن فراہم ہونے لگے ہیں جن پر لاشوں کو آخری رسومات کیلئے لانے کی تاریخ اور وقت تحریرہوتی ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب پورے ملک میں وبا انتہائی تیزی کے ساتھ پھیل رہی تھی ملک کی پانچ ریاستیں انتخابی مراحل سے گذر رہی تھیں ،یہاں تک کہ امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی طرح مودی بھی انتخابی مہم چلانے سے دستبردار نہیں ہوئے۔انہوں نے10اپریل کو ایک بھار ی انتخابی ریلی نکالی اور اس میںبغیر ماسک نظر آئے۔ اور تو اور لاکھوں شہریوں کا کمبھ میلے میں استقبال کیا گیا اور قادیان میں مرزائی مذہب کا سالانہ جلسہ منعقد ہونے دیا گیا، جس کے نتیجے میں اس وقت ملک کی صورتحال یہ ہے کہ یہاں کورونا کیسوں کی مجموعی تعداد دو کروڑ سے زیادہ اور اموات سوادو لاکھ کے آس پاس پہنچ چکی ہیں۔ صورتحال کا اندازہ اس بات بھی لگایا جاسکتا ہے کہ یہاں پندرہ دنوں سے روزانہ تین لاکھ سے زیادہ نئے کورونا کیس سامنے آرہے ہیں۔ذرائع کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا متاثرین کی اصل تعداد سرکاری اعداد و شمار سے کئی گنا زیادہ ہے۔
پورے ملک کا سوشل میڈیا ایسے پوسٹس سے بھرا پڑا ہے جن میں حکومت کو ہدف تنقید بناتے ہوئے اس پر کورونا صورتحال قابو کرنے میں ناکامی کا الزام عائد کیا جارہا ہے۔ایک سوشل میڈیا استعمال کرنے والے کا یہاں تک کہنا ہے ’’ عالمی صحت آرگنائزیشن (ڈبلیو ایچ او) نے تیرہ ماہ پہلے اعلان کیا کہ دنیا ایک وبائی بیماری کا شکار ہے لیکن ہماری حکومت ضروری اقدامات ٹھانے سے قاصر رہی‘‘۔یہ بھی بتایا جارہا ہے کہ دوسرے ممالک نے وائرس مخالف ویکسین کے پروگراموں کی عمل آوری میں ماہرانہ طرز عمل اختیار کیا لیکن بھارتی حکومت ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھی رہی یہاں تک کہ وبا کی دوسری لہر نے اس کو آگھیرا ۔بعض ماہرین بھی کہتے ہیں کہ بھارت وائرس کی دوسری لہر سے خود کو بچاسکتا تھا جیسے ان ممالک نے خود کو بچایا جہاں پہلی لہر نے تباہی مچائی تھی لیکن نئی دلی دعووں اور خوش فہمیوں میں مبتلا رہی جس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ یہاں وائرس کی تیسری لہر کیلئے بھی ماحول سازگار بن رہا ہے۔
 یہ بات قابل ذکر ہے کہ چین میں ، جہاں سب سے پہلے 2019 کے آخر میں مہلک کورونا وائرس کا پتہ چلا تھا ،اس وقت کیسوں کی کل تعداد نہ ہونے کے برابر ہے۔بھارت کے سٹریٹجیک پارٹنر اسرائیل میں کب کا لوگوں کو ماسک چھوڑنے کی اجازت مل گئی،امریکہ میں بھی گذشتہ برس کی وبا قصہ پارینہ ہے، نیو زی لینڈ ، ایران وغیرہ ممالک میں بھی کورونا کا زور ٹوٹ گیا ہے لیکن بھارت میں شدت کے ساتھ کورونا کاقہر جاری ہے اور یہاں کے سہمے شہریوں کو فی الحال امید کی کوئی کرن دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
ایک سروے کے مطابق جن ممالک نے ڈبلیو ایچ او کے انتباہات کو نظرانداز کیا اُنہیں کورونا کی بدترین تباہ کاریوں کا سامنا کرنا پڑا۔مثال کے طور پر جنوری2020میں ڈبلیو ایچ او نے ہاتھوں کی دھلائی ، جسمانی فاصلہ ، ماسک پہننے اور پھر کورونا رابطے کا سراغ لگانے اور معاشرتی تنہائی کی جانچ کرنے کی سفارشات پیش کیں۔سفارشات کے پہلے حصے میں زیادہ وسائل کی ضرورت نہیں تھی ، ویتنام کی حکومت نے ان سفارشات کو بہت سنجیدگی سے لیا اور بیماری کے پھیلاؤ کو فوراً ہی سست کردیا۔اس کے برعکس بھارت سمیت جن ممالک نے ان سفارشات پر عملدار آمد کرانے میں وقت لیا اُنہیں اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا۔
ذرائع ابلاغ میں شائع رپورٹس کے مطابق کورونا کے خطرناک ہونے کے واضح ثبوتوں کے باوجود بھارت کی سرکار نے بچاو اقدامات کرنے میں بہت وقت لیا۔ 10 مارچ 2020 تک ، ڈبلیو ایچ او نے وبائی بیماری کا اعلان کرنے سے پہلے، بھارتی حکومت نے ملک میں تقریبا 50 کورونا کیس رپورٹ کئے تھے ، انفیکشن کے سبب 14 دن میں یہ تعداد دوگنی ہوگئی ۔ بھارتی حکومت کا پہلا بڑا عمل 14 گھنٹے کا’ جنتا کرفیو‘ تھا ، جو ڈرامائی تھا، لیکن ڈبلیو ایچ او کی سفارشات کے مطابق نہیں تھا۔اس بے رحمانہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے لاکھوں مہاجرمزدوروں نے گھروں کی راہ لی ۔ان میں سے کچھ راستے میں ہی ہلاک ہو گئے ، بہت سے لوگوں نے وائرس کو اپنے شہروں اور دیہاتوں تک پہنچایا اور یوں پہلے ہی مرحلے میں وائرس ان علاقوں تک بھی پہنچ گیا جہاں اس کو پہنچنے سے روکا جاسکتا تھا۔اس کا مطلب یہ ہے کہ بھارت کی سرکار نے پہلے ہی مرحلے پر کورونا وائرس کو ہلکے سے لیا۔اس نے لوگوں سے موم بتیاں جلانے اور تھالیاں وغیرہ بجاکرآواز پیدا کرنے کی تاکید کی لیکن خود کوئی منظم قومی پالیسی نہیں بنائی۔
بتایا جاتا ہے کہ بھارت کی اب تک کی سبھی سرکاروں نے صحت عامہ کے شعبے پر بہت کم رقم خرچ کی ہے ۔پچھلے سال کے آخر میں مرکزی حکومت نے اعتراف کیا کہ ملک میں ہر ایک ہزار شہریوں کے لئے 0.8 میڈیکل ڈاکٹر موجود ہیں اور یہاں ہر ایک ہزار شہریوں کے لئے 1.7 نرسیں ہیں۔ ہندوستان کے حجم اور دولت والے کسی بھی ملک میں اتنا کم طبی عملہ نہیں ہے۔اعداد و شمار کے مطابق بھارت میں ہر 10ہزار افراد کے لئے صرف 5.3 بستر ہیں جس سے صحت شعبے کے ایک اہم حصے کی کمزوری کا بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اب آیئے جموں کشمیر پر ایک نظر ڈالیں جہاں حکام کے مطابق کورونا کا پھیلاو گذشتہ برس سے کئی گنا زیادہ تیزی کے ساتھ ہورہاہے۔رواں برس کے ابتداء میں یہاں کی حکومت سرمائی سیاحت کے بعد موسم بہار کی سیاحت کو بڑھاوا دینے پر عمل پیرا تھی۔ یہاں کی انتظامیہ بھارت کے ایسے خطوں سے سیاحوں کو وادی کشمیر کی سیاحت کی طرف راغب کرانے کی کوشش کررہی تھی جہاں پہلے ہی کورونا وائرس نے لوگوں کا جینا دو بھر کر رکھا تھا۔ نامعلوم وجوہات کی بنا پر مذکورہ علاقوں کے سیاحوں کو وادی میں خوش آمدید کیا گیا یہاں تک کہ ماہ مارچ کے آخری ہفتے اور ماہ اپریل کے آغاز میں باغ گل لالہ مہارشٹرا،گجرات اور راجستھان کے سیاحوں سے بھر گیا۔پھر مقامی لوگ بھی اس سال مذکورہ باغ کی طرف کچھ زیادہ ہی متوجہ ہوئے اور یوں وائرس زدہ خطوں سے آنے والے لوگوں کے ساتھ ان کا قریبی رابطہ ہوگیا۔ماہرین کہتے ہیں کہ وادی میں اس سال وائرس پھیلنے کی یہ سب سے بڑی وجہ تھی۔پھر غیر مقامی مزدوروں کی بلا روک ٹوک وادی آمد بھی ایک وجہ بن گئی یہاں تک کہ جنت بے نظر کی سڑکوں اور گلی کوچوں میں خوف کی حکومت قائم ہوگئی۔اب بھی حال یہ ہے کہ غیر مقامی مزدوروں کی بھاری تعداد گاڑیوں کے ذریعے بانہال پہنچ کر ٹرین میں سوار ہوکر وادی میں داخل ہورہی ہے اور اُنہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے۔سوشل میڈیا پر ایسی تصاویر شیئر ہوئی ہیں جن میں سرینگر ہوائی اڈے پر غیر ریاستی لوگوں کی بلا روک ٹوک آمد ثابت ہورہی ہے۔یہ اور ایسی دیگر کئی وجوہات نے مل کر وادی کشمیر میں باالعموم اور شہر سرینگر میں بالخصوص ایک ایسی صورتحال پیدا کی ہے جہاں مقامی لوگ گھروں سے نکلنے میں خوف اور ڈر محسوس کررہے ہیں۔سرینگر ضلع کا تو حال ہی برا ہے،یہاں کے مقامی لوگ ماسک وغیرہ کا معقول استعمال کررہے ہیں لیکن غیر مقامی لوگوں کی یہاں آمد کی وجہ سے کورونا پھیلاو میں کوئی کمی رونما نہیں ہورہی ہے۔یہاں کے ہوٹل، ٹرانسپورٹر یہاں تک کہ میڈیا ادارے، سب متاثر ہوئے اور لگاتار ہورہے ہیں۔ماہرین کہتے ہیں کہ اب بھی اگر کارگر اقدامات کئے جائیں تو لینڈ لاکڈ وادی کشمیر کو اُس تباہی سے بچایا جاسکتا ہے جس کا سامنا دلی وغیرہ کو کرنا پڑا۔بعض ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر صورتحال کو یوں ہی چھوڑا گیا تو وہ دن دور نہیں جب یہاں بھی طبی آکسیجن اور بستروں کی کمی رونما ہوگی۔