تازہ ترین

کورونا وائرس کی دوسری لہر اور تباہ کن معاشی صورت حال

حسب حال

تاریخ    6 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


عبدالرحمن پاشا
 گذشتہ برس 24؍مارچ کو عالمی وبا کورونا وائرس (کووڈ۔19) کے ضمن میں بغیر کسی منصوبے کے ملک گیر سطح پر لاک ڈاؤن کا اعلان کیا گیا تھا۔ جس کی وجہ سے عام آدمی سے لے کر متوسط طبقے کے لوگ سخت پریشان ہوئے اور ان کی معاشی صورت حال نہایت ہی ابتر ہوگئی۔ کورونا کے شروع ہونے سے لے کر اب تک ایک برس سے زائد کا عرصہ مکمل ہوچکا ہے۔ لیکن وطن عزیز میں کورونا ختم ہونے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ بلکہ اب تو ہندوستان میں کورونا کی پہلے سے زیادہ شدید اور مہلک دوسری لہر چل رہی ہے۔ اب تو کورونا سے متاثر ہونے والوں مریضوں کو مائع آکسیجن کی قلت ہورہی ہے۔ ہسپتالوں میں مریضوں کو بستر نہیں مل رہے ہیں۔ ضروری ادویات کی قلت ہے۔ عوام کی اکثریت اپنی روزمرہ زندگی میں بے حال ہوچکی ہے۔ ایک ریاست سے دوسری ریاست نقل مکانی کرکے محنت مزدوری کرنے والے مزدور اپنی آبائی ریاست جانے کے لیے بے چین ہیں۔ یومیہ مزدوری کرنے والوں کے سامنے صورتحال گزشتہ برس کی سی پھر ہونے لگی ہے۔
  وبا کے اس دور میں ہندوستانی مسلمانوں کی اہم ترین شخصیات میں مولانا محمد ولی رحمانی، مولانا کلب صادق، مولانامفتی عظیم الدین، مولانا وحید الدین خان مولانا متین الحق اسامہ، مولانا احمد سعید پالن پوری اور مولانا رفیق احمد قاسمی، مولانا نور عالم خلیل امینی،نصرت علی اور مولانا عبدالرحمن بن محمد الحمومی وغیرہ کا انتقال ہوا۔ وہیں علم و ادب کی دنیا کے آفتاب و ماہتاب گلزار دہلوی، شمس الرحمن فاروقی، مجتبٰی حسین، راحت اندوری، مشرف عالم ذوقی، ڈاکٹر سید داؤد اشرف، مظفر حنفی، نصرت ظہیر، پروفیسر ظفر احمد صدیقی، افتخار امام صدیقی، شاہد علی خاں، شوکت حیات، انجم عثمانی، پروفیسر مولا بخش اور پروفیسر محمد ظفر احمد وغیرہ بھی داغ مفارقت دے گئے۔ اللہ تعالی ان سبھی کی خدمات کو قبول فرمائے۔ انھیں اس کا بہتر سے بہتر اجر عطا کرے اور سبھی کی مغفرت فرمائے۔آمین
 کورونا وائرس کی وجہ سے سخت ترین حالات میں جو لوگ کچھ کرسکتے ہیں، وہ اپنی حیثیت کے مطابق بہت کچھ کر رہے ہیں۔ اہل خیر حضرات معاشی تعاون فراہم کررہے ہیں، تو نوجوان محنت و لگن کے ساتھ اپنا وقت دے رہے ہیں۔ کئی ریاستوں میں لاک ڈؤان، نائٹ کرفیو اور دیگر پانبدیوں کی وجہ سے غریبوں کی بنیادی ضرورتیں تک پوری نہیں ہورہی ہیں۔ وہ اتنے مجبور ہیں کہ ایک وقت کے کھانے کے لیے لمبی لمبی لائنوں میں ٹھہرنے کے لیے مجبور ہیں۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں؛ جو اپنی عزت نفس کی وجہ سے دوسروں کے سامنے ہاتھ نہیں پھیلا سکتے، وہ لوگ اپنی ضرورتیں دوسروں کو سہارا بنا کر پوری کررہے ہیں۔ ایک دوست نے لاک ڈؤان کے دوران ضروری اشیا ء کی مفت تقسیم کے سلسلے میں اپنا تجربہ شیئر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ایک کم عمر لڑکا ایک بار کھانا لے گیا۔ وہی لڑکا دوسری بار دوسرے کپڑے زیب تن کرکے پھر سے آ کر کھانا لے گیا۔ اسی طرح وہ بار بار کپڑے بدل کر آرہا ہے اور کھانا مانگ کر لے جارہا ہے۔ لڑکے سے انھوں نے اس کی وجہ دریافت کی تو وہ روتا ہوا چلا گیا۔ بعد میں معلوم ہوا کہ اس لڑکے کے گھر میں صرف خواتین ہیں۔ اس لڑکے کے والد صاحب کا انتقال ہوگیا۔ اس کی پانچ بہنیں اور ماں گھر پر ہی رہتی ہیں۔ لڑکے کی ماں عام دنوں میں دوسروں کے یہاں برتن اور کپڑے دھونے کے لیے خادمہ کے طور پر کام کرتی تھی، لیکن کورونا وائرس (کووڈ۔19) کی وبا کی وجہ سے انھیں کام کرنے سے منع کردیا گیا ہے۔ اس طرح معاشرے میں ایسے بہت سے خاندان ہیں، جن کا کوئی پرسان حال نہیں۔
   لاک ڈؤان کے دوران امدادی کاموں سے ایسے لوگوں کی بنیادی ضرورتیں پوری ہورہی ہیں۔ ہر شخص جس کے دل میں ذرہ برابر بھی ہمدردی اور رحم کا جذبہ ہے، وہ دوسروں کی مدد کے لیے کسی نہ کسی طرح تیار ہے۔ ہنگامی صورت حال کے موقع پر اس طرح کے کاموں کی اپنی اہمیت ہے۔ لوگوں کی وقتیہ ضروریات پوری ہورہی ہیں۔ کورونا کی بھیانک صورت حال کا مثبت پہلو یہ ہے کہ لوگ ایک دوسرے کا خیال رکھ رہے ہیں۔ اپنی گاڑھی کمائی کے کچھ حصے کو اس طرح کے امدادی کاموں میں خرچ کرنے پر فخر محسوس کررہے ہیں۔ امید ہے کہ کورونا وئرس کی یہ وبائی صورت حال بہت جلد ختم ہوگی اور لوگ پھر سے چین و سکون سے زندگی بسر کریں گے۔ کورونا وائرس کے بعد کی زندگی میں یقینا بڑی تبدیلیاں ہوں گی، یہ الگ موضوع ہے اس پر تفصیلی گفتگو ہوسکتی ہے۔ ایسے میں ضرورت ہے کہ اس طرح کی امدادی رقم کا آگے بھی منظم انداز میں اور پوری منصوبہ بندی کے ساتھ استعمال ہو۔ اس سلسلے میں چند نکات پیش ہیں:
معاشی سرپرستی:
 کورونا وائرس کے بعد جب لوگ اپنی اپنی سرگرمیوں میں مصروف ہوں گے، اس وقت بھی اسی جذبہ خیر سگالی کو برقرار رکھنا چاہیے۔ امدادی رقم اور صدقات و خیرات کا اجتماعی نظم بنایا جائے۔ جو خاندان معاشی اعتبار سے پستی کا شکار ہے؛ ان کی محلے واری سطر پر شناخت کی جائے۔ خاندان کے کسی ایک فرد کو رقمی امداد یا طئے شدہ مدت کے لیے قرض دیں۔ ان ہی پیسوں کے ذریعے وہ چھوٹے پیمانے پر ہی صحیح اپنے کاروبار کا آغاز کرسکتا ہے۔ ممکن ہے کہ وہ کاروبار سال دو سال کے اندر ہی اچھی پوزیشن اختیار کرلے۔ ایسے میں اس ایک شخص کی بامقصد امداد سے پورا خاندان خود کفیل ہوسکتا ہے۔ بار بار بے مقصد امداد کے بجائے اس طرح منظم کام ہو تو معاشی پستی دور ہوسکتی ہے۔
تعلیمی سرگرمیاں:
 بہت سے مسلم نوجوان اپنی خاندانی ذمہ داریوں کی وجہ سے یا تو تعلیم حاصل نہیں کرپاتے یا پھر تعلیم کے ابتدائی درجات میں ہی ڈراپ آوٹ ہو جاتے ہیں۔ اس کی دوسری اہم وجہ یہ ہے کہ مسلم محلوں میں تعلیمی سرگرمیاں بہت ہی کم انجام دی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے لڑکے اور لڑکیاں تعلیم میں اپنی دلچسپی کو برقرار نہیں رکھ پاتے۔ ایسے میں اس امدادی رقم سے فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔اس کی ایک شکل یہ ہے کہ اس امداد میں سے تعلیم اور فنی تربیت کے لیے کچھ رقم الگ سے مختص کی جائے۔ اس رقم سے تعلیمی امداد کے نام  سے طلبہ کو مدد فراہم کی جائے، جو کہ تعلیمی قرض بھی ہوسکتا ہے۔ اس رقم کو فنی اور روزگار پر مبنی کورسز میں بھی صرف کیا جاسکتا ہے۔ اس طرح کے کاموں سے طلبہ میں اجتماعی ذوق پروان چڑھے گا۔ وہ جب اس رقم سے استفادہ کریں تو ان کو احساس ہوگا کہ یہ قوم کا پیسہ ہے۔ اس کے بدلے میں مَیں بھی اپنی قوم کے لیے کچھ کرسکتا ہوں۔
خواتین کی خود اختیاری:
خواتین کے اندر کئی طرح کے نئے آئیڈیاز ہوتے ہیں۔ وہ اگر انھیں استعمال میں لائیں تو ان کے اپنے انفرادی فائدہ کے ساتھ ساتھ سماج  کو بھی بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچ سکتا ہے۔ خود خواتین کے کرنے کے بھی بہت سارے ایسے کام ہیں؛ جن کو وہ اختیار کر کے مرد سے بھی زیادہ مالدار بن سکتی ہیں۔ جیسے وہ کسی بڑی فیکٹری یا ہول سیل دکان سے زنانہ کپڑوں کو خرید کر اپنے گھر ہی سے فروخت کرسکتی ہیں۔ شروع شروع میں اس طرح کا اقدام مشکل نظر آئے گا۔ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نفع کے بجائے اصل مصروف کردہ سرمایہ میں ہی نقصان اٹھانا پڑے، لیکن آہستہ آہستہ اس ’’گھریلو کاروبار‘‘ کی اطلاع دوسری خواتین تک پہنچے گی۔ دوسری سے تیسری اور اسی طرح اڑوس پڑوس میں یہ بات عام ہوجائے گی کہ فلاں گھر میں اچھے معیار اور عمدہ اقسام کے کپڑے فروخت کیے جارہے ہیں۔ اس طرح ایک خاتون خانہ داری کے ساتھ ساتھ اپنے کاروبار میں بھی مصروف رہے گی۔
 موجودہ دور آن لائن کاروبار کا دور ہے۔ اگر معیاری اشیاء کے ساتھ متاثر کن خدمات بھی فراہم کی جائے تو آن لائن کی دنیا میں اپنا نام کماسکتے ہیں۔ یہ بڑی کمپنیوں کی بات نہیں ہے بلکہ کئی ایسے آن لائن کاروبار ہیں جو مخصوص مقامات کی حد بندی کے ساتھ اپنی خدمات فراہم کررہے ہیں۔ اس کی ایک عمدہ مثال ریاست تلنگانہ کے ضلع کریم نگر کے نوجوان عبداللہ عاصم کی دی جاسکتی ہے۔ انھوں نے کئی برس قبل کریم نگر کے مخصوص مقامات میں اپنی آن لائن سروس شروع کی۔ جس کا نام مائی سٹی ڈیلیوری ہے۔ جو ترکاری، گوشت اور چاول جیسی ضروری اشیاء کو اپنے صارفین تک گھر بیٹھے آن لائن فراہم کررہے ہیں۔ اسی طرح گھر کی خواتین بھی آن لائن خدمات فراہم کرسکتی ہیں۔ ابتدائی طور پر اپنے علاقوں میں آسانی کے لیے مقامات طے کرلیں کہ شروعاتی طور پر صرف ان ہی علاقوں میں خدمات مہیا رہے گی اور ڈیلیوری کے لیے چند ایک ڈیلیوری بوائے کو رکھ کر اپنی خدمات فراہم کرسکتی ہیں۔ خواتین مختلف انواع و اقسام کے کھانے پکانے میں مشہور اور ماہر ہوتی ہیں۔ اس کو پیشہ ورانہ طور پر بھی استعمال میں لاسکتی ہیں۔
بزرگوں کا خیال:
 معاشرہ کا ایک بڑا حصہ بزرگوں پر مبنی ہے۔ بزرگوں کو جسمانی عوارض کی وجہ سے خرچے بڑھ جاتے ہیں۔  انفرادی امداد کے ذریعے ایک اجتماعی کام یہ کیا جاسکتا ہے کہ ایسے بزرگوں یا بیوہ خواتین کو ماہانہ وظیفہ دیا جائے۔ تاکہ وہ در در کی ٹھوکر کھانے کے بجائے عزت نفس کو مجروح کیے بغیر اپنی ضروریات کو پورا کرسکیں۔اکثر و بیشتر مسلمان ماہ رمضان  میں خصوصی اہتمام کے ساتھ زکوۃ نکالتے ہیں۔ زکوۃ کی اس مد کو جہاں دیگر کاموں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ اس طرح کے اجتماعی کام ان پیسوں کا بہترین مصرف ہے۔ اس طرح لوگوں کی وقتیہ ضروریات پوری ہوگی اور مستقل خوش حالی بھی آسکتی ہے۔
احتیاطی اقدامات:
 کورونا کی وبا کو ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔ دہلی اور یو پی کے قبرستانوں اور شمشان گھاٹوں میں مردہ لاشوں کو دفنانے اور جلانے کے لیے جگہ تک میسر نہیں ہے۔ ایسے میں کورونا وبا کو ہلکے میں نہیں لیا جاسکتا۔ جو لوگ کورونا کی شدت سے مر رہے ہیں، ان کے اہل خانہ سے پوچھیں کہ کورونا سے متاثر ہونے والا شخص کتنی بھیانک صورت حال سے دوچار تھا۔ انھیں کس طرح کی مصیبتیں جھیلنی پڑیں۔ جہاں تک ماسک کے استعمال کی بات ہے۔ وہ تو عوامی جگہوں پر ہر اعتبار سے لازمی اور ضروری ہے۔ کسی بھی ڈاکٹر سے پوچھ لیجئے، وہ ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیں گے۔ اسی لیے تو بھیڑ بھاڑ والی جگہوں اور عوامی مقامات پر ماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ہاں جب انسان تنہا ہو یا کسی سے رابطہ کا خطرہ نہ ہو تو اس وقت ماسک نہ پہننا بہتر ہے۔ اگر ان ہدایات پر عمل نہ کرکے ’’کیا ہوگا بھائی اللہ ہے‘‘ کہہ دینا خود نظام فطرت سے بغاوت کرنے اور اس کو اپنی ہلاکت کی دعوت دینے کے برابر ہوگا۔
اسلام نے تو ہمیں ہر طرح کی بیماری سے بچنے، اس سے پناہ مانگنے، اس کا علاج کرنے، اس سے احتیاط برتنے اور لوگوں کو اس مہلک بیماری سے بچانے کی دعوت دی ہے۔ چہ جائیکہ کہ ہم ڈاکٹروں کی ہدایات پرعمل نہ کر کے اور اس وبا کو اسرائیل یا امریکہ یا چین کی سازش کہہ کر اور سمجھ کر بے احتیاطی کریں اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈالیں۔ اس لیے خدا را احتیاط ضروری ہے۔ خود بھی صحت مند رہیں اور پورے معاشرے کو صحت مند بنائیں۔ ایک حدیث کے مطابق طاقت ور مومن، کم زور مومن سے بہتر ہے۔ جس میں ایمان، صحت، مال اور طاقت سب ہی شامل ہے!۔
(mrpasha1994@gmail.com|9014430815)