تازہ ترین

کورونا مخالف جنگ…رکنا نہیں ہے !

تاریخ    6 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


 جموں وکشمیر حکومت میں جوں جوں کورونا بحران سنگین ہوتا جارہا ہے ،حکومت کی جانب سے اس کے خلاف جنگ میں بھی شدت لائی جارہی ہے او ر یوٹی انتظامیہ کی جانب سے ہر وہ قدم اٹھانے کی کوشش کی جارہی ہے جس سے یہ لڑائی قدرے آسان ہوجائے ۔تازہ ترین فیصلوں میں لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ نے اس مہاماری سے پہلی صف میں لڑنے والے طبی و نیم طبی عملہ کی قلت پر قابو پانے کیلئے جہاں مئی سے نومبر 2021کے درمیان نوکریوں سے سبکدوش ہونے والے سبھی ڈاکٹروں کی معیاد ملازمت میں دسمبر2021تک توسیع کردی اور انہیں دسمبر تک مسلسل کام کرنے کے قابل بنایا جس سے ڈاکٹروں کی ایک بڑی تعداد ہمارے طبی کو مسلسل دستیاب رہ سکتی ہے وہیں فرنٹ لائن ورکروں کو خصوصی مراعات دینے کا بھی اعلان کیاگیا ۔اب کورونا سے براہ راست نمٹنے والے طبی عملہ کو ماہانہ 10ہزار روپے کا خصوصی الائونس مئی سے دیا جائے گا جبکہ نیم طبی عملہ کو 7ہزار اور صفائی کرمچاریوں ،ڈرائیوروں و دیگران کو ماہانہ5ہزار روپے کا خصوصی الائونس ملے گا۔اس کے علاوہ ایم بی بی ایس ڈگری کے اختتامی سال میں پڑھ رہے میڈیکل طالب علموں کی خدمات بھی مستعار لی جارہی ہیں تاکہ وہ بھی کووڈ مریضوں کے علاج و معالجہ میں حکومت کا ہاتھ بٹا سکیں۔اس کے علاوہ ایک کرائسز مینجمنٹ گروپ بھی بنایا گیا ہے جو یوٹی کی سطح پر سبھی ہنگامی نوعیت کے اقدامات او ر فیصلے کرنے کا اختیار رکھتا ہے جبکہ ضلعی سطح پر ڈپٹی کمشنروں او رایس ایس پیز ،سی ایم اوز ، متعلقہ سرکاری میڈیکل کالجوں کے پرنسپل سمیت دیگر اعلی افسران پر مشتمل کوویڈ مینجمنٹ ٹیموں کی تشکیل کی ہدایت کی۔ موثر کوویڈ مینجمنٹ کے لئے بلاک سطح ، تحصیل سطح اور پنچایت سطح پر مقامی مانیٹرنگ ٹیموں کے علاوہ ضلعی سطح پر بھی نگرانی ٹیم کی دستیابی یقینی بنانے کاحکم ہوا۔مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں کہ کسی طرح کووڈ ٹیکہ کاری مہم میں سرعت لائی جاسکے ۔خیال رہے کہ جموںوکشمیرملک کا واحد علاقہ ہے جہاں سب سے زیادہ1کروڑ 25لاکھ کووڈ ٹیکوں کا آڈر دیا گیا ہے اور مسلسل کووڈ کے ٹیکے باہر سے یہاں آرہے ہیں جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر ٹیکہ کاری مہم چل رہی ہے ۔اس کے علاو جہاں مسلسل طبی ڈھانچہ کو اپ گریڈ کیاجارہا ہے وہیں متبادل کووڈ عارضی ہسپتال بھی قائم کئے جارہے ہیں جبکہ آکسیجن بیڈوں اور وینٹی لیٹروں کی تعداد بھی بتدریج بڑھائی جارہی ہے۔ایک کے بعدایک آکسیجن جنریشن پلانٹوں کو فعال بنایا جارہا ہے اور جنگی بنیادوں پر تما ضلع صدر مقامات پر قائم ہسپتالوں میں آکسیجن جنریشن پلانٹس کی تنصیب عمل میں لائی جارہی ہے۔اسکے علاوہ آکسیجن پلانٹوں کو بلا خلل 24x7 بجلی کی فراہمی اور آکسیجن سپلائی کا متبادل بیک اپ یقینی بنانے کے لئے بھی کہاجارہا ہے۔یہ سب اقدامات بیک وقت اس لئے کئے جارہے ہیں کہ کسی طرح جموںوکشمیر میں کورونا کو قابو کیاجاسکے۔اپنی طرف سے یوٹی انتظامیہ مسلسل کوششوں میں لگی ہوئی ہے تاہم یہ بھی ماننا پڑے گا کہ یہ وبا ہے او ر وبا کے آگے کسی کی نہیں چلتی ہے تاہم اس کے باوجود جس طرح یوٹی انتظامیہ محدود وسائل کے ہوتے ہوئے بھی کورونا کے خلاف ہر ممکن قدم اٹھارہی ہے ،وہ اطمینان بخش ہے لیکن اس کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ ہمیں اطمینان حاصل ہونا چاہئے بلکہ موجودہ حالات کا تقاضا ہے کہ ہم اپنی کاوشیں جاری رکھیں کیونکہ اتنا کرنے کے باوجود بھی بے شمار خامیاں نظر آرہی ہیں جنہیں دور کرنے کی ضرورت ہے ۔پیش آمدہ حالات بتا رہے ہیں کہ کورونافی الحال کہیں جانے والا نہیں ہے اور ہمیں مزید ابھی بہت وقت اس کے ساتھ ہی جینا ہوگا ۔ایسے میں ہماری تیاریاں موجودہ منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے کی جارہی ہیں لیکن عین ممکن ہے کہ آنے والے دنوں میں صورتحال مزید خراب ہو۔ہمیں دراصل مستقبل کے چیلنجوں کیلئے تیار ہونا ہے ۔اندازہ لگایاجارہا ہے کہ مئی کے اختتام تک یہاں یومیہ کورونا مریضوں کی تعداد5ہزار کے آس پاس ہوگی ۔ہمیں دیکھنا ہے کہ کیا ہم پانچ ہزار یومیہ مریضوں کا لوڈ برداشت کرپائیں گے اور کیا ہمارے ہیلتھ سیکٹر میں اتنی سکت ہے کہ وہ اتنا سارا بوجھ برداشت کرسکے ۔کہیں ایسا نہ ہو کہ زیادہ بوجھ پڑتے ہی ہمارا طبی شعبہ اس بوجھ کے تلے ہی دب جائے اورجواب دے بیٹھے ۔یہ وہ خد شات ہیں جو فی الوقت پریشانی کا باعث بنے ہوئے ہیں اور قطعی غیر جائز بھی نہیں ہیں کیونکہ موجودہ صورتحال کو دیکھتے ہوئے ایسی صورتحال کو مستقبل میں خارج ازامکان قرار نہیں دیاجاسکتا ہے ۔بلاشبہ یوٹی انتظامیہ اقدامات کررہی ہیں لیکن یہ اقدامات حال کے تقاضوں کو دیکھتے ہوئے کئے جارہے ہیں اور موجودہ ڈیمانڈ کو پورا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔اگر ہمارا ڈھانچہ موجودہ بحران سے نمٹنے کی صلاحیت نہیں رکھتا ہے تو یہ مستقبل کے ممکنہ بے پناہ لوڈ کو کیسے برداشت کر پائے گا۔لیفٹیننٹ گورنر انتظامیہ اگر چہ اچھا کام کررہی ہے تاہم جہاں موجودہ منظر نامہ کو دیکھتے ہوئے پورے طبی سیکٹر کو حال کے تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہے وہیں اصل چیلنج مستقبل کیلئے تیاریوں کا ہے کیونکہ آنے والے دن انتہائی کٹھن ہوسکتے ہیں۔امید کی جانی چاہئے کہ ایل جی انتظامیہ کے پاس پورا تفصیلی خاکہ ہوگا اور وہ نہ صرف حال کی ضروریات سے واقف ہونگے بلکہ انہیں مستقبل کے چیلنجوں کا بھی ادراک ہوگا او ر وہ ان چیلنجوں سے نمٹنے کیلئے پیشگی اقدامات کررہے ہونگے ۔
 

تازہ ترین