تازہ ترین

الیکشن ہوگئے ،اب مل کر کچھ کام بھی کریں!

تاریخ    4 مئی 2021 (00 : 01 AM)   


 ملک کی پانچ ریاستوں میں اسمبلی انتخابات کل نتائج آنے کے ساتھ ہی اپنے اختتام کو پہنچ گئے ۔چناوی نتائج سے یہ واضح ہوگیا کہ لوگوں نے کارکردگی کی بنیاد پر پارٹیوں کو ووٹ دیکر کامیابی اور ناکامی سے دوچارکردیا۔کہاں ،کس پارٹی کی جیت ہوئی ہے ،اس سے قطع نظریہ دراصل جمہوریت کی جیت ہے او ر کورونا کے ہلاکت خیز ماحول میں بھی عوام نے جس طرح جمہوریت کے جشن میں حصہ لیا ،وہ اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ ہمارے ملک بھارت میں جمہوریت کی جڑیں کافی مضبوط ہوچکی ہیں اور لوگ مکمل طور اس جمہوری نظام سے جڑ چکے ہیں اور انہیں اسی نظام میں ہی اپنے سارے مسائل کا حل بھی نظر آرہا ہے ورنہ حالیہ الیکشن کے دوران بہت کوششیں ہوئی تھیں کہ ایک نہیں تو دوسرے بہانے لوگوں کو الیکشن عمل سے بد ظن کیاجائے لیکن لوگوں نے ان کوششوں کو ناکام بنا کر جس طرح الیکشن عمل میں حصہ لیا ،وہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ بھارت کے سو ا سو کروڑ سے زیادہ لوگ اپنی تقدیر جمہوری نظام سے وابستہ کرچکے ہیں اور یہاں مکمل طور پر جمہوری نظام پروان چڑھ چکا ہے۔
الیکشن سیاست میں ہار جیت آتی رہتی ہے اور اس عمل کے نتیجہ میں کوئی اقتدار کی کرسی پر براجمان ہوتا ہے توکسی کو حزب اختلاف کی کرسی پر بیٹھنا پڑتا ہے لیکن اہمیت اس بات کی ہے کہ یہ عمل بحسن خوبی اپنے اختتام کو پہنچے ۔شاید یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کل کے انتخابی نتائج میں جیتنے والی سبھی پارٹیوں کو دل کھول کر مبارک باد پیش کی اور برملا طور کہا کہ یہ جمہوریت کی جیت ہے حالانکہ وزیراعظم بھی جانتے ہیں کہ آسام کو چھوڑ کر دیگر چار ریاستوں میںبی جے پی کو کامیابی حاصل نہیں ہوئی ۔
کیرلاسے لیکر تامل ناڈو اور مغربی بنگال سے لیکر آسام اور پڈو چیری تک ان انتخابی نتائج کی صورت میں جوتصویر ابھر کر سامنے آئی ،وہ یہی کہہ رہی ہے کہ عوام نے اس بار بھی خالصتاً کارکردگی کی بنیاد پرسیاسی جماعتوںکو پرکھا اور انہیں اپنی حمایت دی ۔بہر حال اب الیکشن کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہے اور اب ان ریاستوں میں حکومت سازی ہونی ہے ۔ویسے بھی موجودہ حالات میں ان انتخابات کے انعقاد پر پہلے ہی سوال اٹھے تھے۔بہر کیف اب کسی طرح یہ چناوی عمل مکمل ہوچکا ہے ۔اب مرکز سے لیکر ان ریاستوں تک سبھی کو چناوی خلش پیچھے چھوڑ کر ملک کو موجودہ بحران سے نکالنے کیلئے یک جٹ ہوکر کام کرنا چاہئے۔
ہمارا ملک اس وقت کورونا کے شدید بحران سے دوچار ہے ۔۔کورونا نے جس انداز میں ملک کے اندر تباہی مچارکھی ہے، شاید ہی ہم نے کبھی ایسی تصویر دیکھی ہو۔ہسپتال کے اندر مریض پر مریض،ہسپتال کے باہر بھیڑ ہی بھیڑ،ہسپتال کے اندر سے رکتی چلتی اور تھمتی سانسوں کے بیچ الجھی زندگی کا درد اور ہسپتال کے باہر بے یار ومددگار تڑپتے مریض۔جو ہسپتال کے اندر ہیں، انہیں جینے کی تمنا ہے اور جو ہسپتال کے باہر ہیں، انہیں علاج کی چاہت۔ہسپتال کے اندر سے نکلتی لاشوں کے ساتھ آہ وفغاں،ہسپتال کے باہر چیختے چلاتے مریضوں کے رشتے دار۔ہر طرف بے قراری ہے،ہر جگہ چینی ہے،ہسپتال سے لیکر شمشان تک،ہسپتال سے لیکر قبرستان تک روزانہ آنسوئوں کا سیلاب آتا ہے اور کتنے دردمندوں کو ڈبو لے جاتا ہے۔قبرستان میں دو گز زمین ملنا محال ہے اور شمشان گھاٹ پر لمبی قطار ہے۔ایسے موقع سے لاش لیکر آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے انتظار کی لمبی گھڑی اور پھرماتمی ماحول،اُف،کیا گزرتا ہوگا اس بیٹے پر جو اپنے بات کی آخری رسومات کیلئے گھنٹوں لاش کے ساتھ شمشان گھاٹ کے باہر انتظار کررہا ہوتا ہے،یقین نہیں آتا ہے کہ ہم اکسیویں صدی میں ایسی بھی تصویر اپنے وطن کی دیکھیں گے جہاں میت کی آخری رسومات کیلئے ٹوکن لینا ہوگا اور گھنٹوں انتظار کے قطار میں کھڑا رہنا ہوگا،خواب میں بھی ایسا سوچا نہیں تھا کہ لاشوں کی اتنی بھیڑ ہوجائے گی کہ دو گززمین نہیں مل پائے گی۔کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ماں بیٹا کیلئے،بیٹا باپ کیلئے،باپ بیٹے کی جان بچانے کیلئے دن رات ایک ہسپتال سے دوسرے ہسپتال کا دروازہ کھٹکھٹانے کو مجبور ہوگا اور اپنے رشتے داروں کی جان بچانے کی بھیک مانگ رہا ہوگا۔
ان جاں گسل حالات میں سیاسی دشمنیاں بھلا کر ہمیں ایک دوسرے کا ساتھ دینا ہوگا۔وفاق سے لیکر ریاستوں تک سب کو مل جل کر کام کرنا ہوگا اور مل جل کر ہی اس نظر نہ آنے والے دشمن کے خلاف لڑنا ہوگا۔کل تک سیاسی اختلافات ہوسکتے تھے لیکن الیکشن کے اختتام کے ساتھ ہی وہ ختم ہوگئے ۔اب عوام کو اس بحران سے نکالنا ہے ۔اب موت کا تانڈو روکنا ہے۔اب بے بس انسانیت کا سہارا بننا ہے۔اب بے کس عوام کے کندھے سے کندھا ملا کر چلنا ہے۔کشمیر سے لیکر کنیا کماری تک موجودہ حالات ہمیں ایک ہونے کا درس دے رہے ہیں اور اس ماحول میں بھی ہم سیاسی روٹیاں ہی سیکتے رہیں تو ہم جیسا انسانیت کا دشمن کوئی نہیں ہوگا۔اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا ہمارے سیاستدان حالات سے سبق سیکھ کر انسان دوستی کا مظاہرہ کرینگے یا حسب سابق ہی ایک دوسرے کو نیچے دکھانا کا عمل جاری رکھیں گے تاہم امید کی جانی چاہئے کہ یہ انسانی بحران انہیں بھی کوئی سبق سکھائے گا اور ایک تبدیلی کی لہر چلے گی جس لہر پر سوار ہوکر ہم کورونا کی لہر سے بھی خلاصی حاصل کرپائیں گے۔

تازہ ترین