صبر و شکیبائی کا مظہرخاتونِ با صفا

عاتکہ بنت زید ؓ

تاریخ    29 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


مولانا محمد ابراہیم سجاد تیمی
یہ اس وقت کی بات ہے جب دنیا سے توحید ناپید ہوگئی تھی ۔دنیا کا ہر گوشہ شرک و کفر کی تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا ۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے موسوی شریعت میں جو اصلاحات کی تھی ،وہ بھی تحریف و تدلیس کی بھینٹ چڑھ گئی تھیں۔مکہ میں شرک و بُت پرستی کے تمام مظاہر موجود تھے، خانہ کعبہ کے اندر تین سو ساٹھ بتوں کی پرستش ہورہی تھی۔ایسی صورت حال میں مکہ میں ایک ایسا شخص موجود تھا، جس کی زبان سے خانۂ کعبہ کے اندر اس طرح کے اشعار وارد ہوتے تھے، جن کا ترجمہ یوں ہے:’’میں نے اس ذات پاک کے حضور سر تسلیم خم کردیا ہے جس کی اطاعت گزار وہ زمین ہے جو بھاری بھر کم چٹانوں کا بار گراں اٹھائے ہوئے ہے ۔یہ زمین اسی ذات پاک نے بچھائی اور اسی نے اسے ہموار کیا اور اس پر پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑا ہے ۔میں اسی ذات ِ پاک کے دربار میں جبین ِ نیاز خم کرتا ہوںجس کے تابع ِ فرمان کالی گھٹائیں ہیں ،جن میں شیرین اور ٹھنڈا پانی ہوا کرتا ہے اور جب انہیں ہانک کر کسی شہر یا آبادی پر لے جایا جاتا ہے تو اطاعت بجا لاتی اور موسلادھار بارش برساتی ہیں۔‘‘
یہ اشعارقریش قبیلہ کے اُس خالص عربی النسل شخص کے تھے، جس کا نام زید بن عمرو تھا،جس نے اُس زمانہ میں بھی شرک و بُت پرستی سے کنارہ کشی اختیار کرلی تھی۔ حق کے متلاشی زید بن عمرو ،خلیفۂ ثانی سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کے چچا زاد بھائی تھے ۔وہ قریش کے سامنے ببانگ دہل اعلان کرتاکہ تمہارے اندر میرے سوا دین ِ ابراہیمی پر کاربند کوئی نہ رہا اور توحید ی اشعار گنگناتے کے بعد قبلہ رو ہوکر اللہ تعالیٰ کے حضور سجدہ ریز ہوجاتا تھا ۔اُنہیں کے گھر میں سیدہ عاتکہ ؓ نے آنکھیں کھولیں جن کی ماں کا نام ام کریز بنت عبداللہ بن عماد بن مالک حضرمی تھا ،جو مشہور صحابی رسول ؐ علاء بن حضرمی ؓ کی بھانجی تھیں،جن کی خالہ طلحہ بن عبیداللہ ؓ کی امی جان صعبہ بنت حضرمی تھیں اور جن کو عشرۂ مبشر میں سے ایک سعید بن زید ؓ کی بہن ہونے کا شرف حاصل تھا ۔
ایسے خانوادہ میں  نشو و نماپانے والی خاتون کا مقام و مرتبہ کیا ہوگا ؟ اس کا اندازہ لگانا دشوار نہیں ۔چنانچہ سیدہ عاتکہ بنت زید ؓ خانوادۂ قریش میں فصاحت و بلاغت ،شعر گوئی اور دانائی میں مشہور و معرف تھیں اور یہ تمام خصائل و فضائل انہیں اپنے حکیم و دانا والد زین بن عمرو سے ورثہ میں حاصل ہوئے تھے۔اِن میں بے مثال قوت ِ حس ،دل کی بالیدگی اور مزاج کی شفافیت کی ایسی خوبیاں تھیں جنہوں نے ان کے اندر قبولِ حق کی بے مثال استعداد پیدا کردی تھی اور اسی استعداد کا لازوال فائدہ انہیں یہ ملا کہ جوں ہی اسلام کی صدائے باز گشت مکہ کے دامن میں گونجی ،انہوں نے اس صدائے دلربا کو اپنے دل کا مکیں بنانے میں لمحہ بھر کی بھی تاخیر نہیں کی ۔انہوں نے بلا تاخیر اسلام قبول کیا ،اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کرنے کا اعزاز حاصل کیا اور ہجرت کے ثواب ِ لازوال سے بھی مالا مال ہوئیں۔
سیدہ عاتکہ ؓ کے گلستانِ حیات میں ہزاروں گلہائے فضائل کھلے ہوئے ملتے اور دوسروں کے گلشن ِ حیات کو دیدہ زیب کرنے اور مہکانے کی صلاحیت رکھتے ہیں ۔ان کی زندگی کی کہکشاں جن تابناک نجوم فضائل سے آراستہ تھی ،ان میں ستارۂ اخلاق ،شب زندہ داری و عبادت گذاری اور حسن و جمال بے پایاں بھی قابل ذکر ہیں۔علامیہ ابن کثیر ؒ رقمطراز ہیں کہ عاتکہ نہایت حسین و جمیل اور عبادت گزار خاتون تھیں۔
عاتکہ کی پہلی شادی صدیق ِ امت کے صاحبزادہ سیدنا عبداللہ بن ابی بکر ؓ سے ہوئی ۔عبداللہ اپنی شریک حیات عاتکہ کے حسن و جمال کے سحر میں اس قدر گرفتار ہوئے کہ فریفتگی اور دیوانگی کی حد کو چھونے لگے ۔غم ِ دوراں سے ہی غافل نہ ہوئے بلکہ دورِ نبوت کے غزوات و سرایا کے بے انتہا ثواب کے حصول سے بھی غفلت برتنے لگے اور معاملہ بایں جار سیدکہ بہت سے معاملات میں اپنی شریک ِ حیات کے بندۂ بے دام ہی بن بیٹھے۔صدیقِ امت ؓ نے ان کا حال ِ دل ایسا دیکھا تو تحمل جواب دے گیااور اپنے لخت ِ جگر کے نام عاتکہ کو طلاق دینے کا فرمان صادر کردیا ۔عبداللہ نے لاکھ منت و سماجت کی مگر بے سود ۔دوسری طرف اپنے والد کی مخالفت کا یارا اپنے اندر نہ پایا تو آخرش ایک طلاق دے ہی ڈالی لیکن فراقِ جان کا خیال آیا تو شاعرانہ جذبات نے انگڑائی لی اور دل کے اُبال نے اشعار کا جامہ پہن لیا۔
سیدنا ابوبکر صدیقؓ کو جب اشعار کی صورت میں اپنے لختِ جگر کے عاتکہ کے تعلقِ خاطر گہرائی اوربے پناہ آپسی محبت کا احساس ہوا تو انہوں نے اپنے فرزند کو رجعت ِ طلاق کی اجازت دے دیاور عبداللہ ؓ نے طلاق واپس لے لی۔اس طرح ان کی وہ حسین دنیا جو اُجڑنے کے قریب تھی دوبارہ آباد ہوگئی۔اس کے بعد گردشِ دوراں جاری رہی اور آخرش جنگِ طائف میں اُنہیں دشمن کا ایک تیر لگا جس کا کاری ضرب اُن کی شہادت کا سبب بنا۔محبت کرنے والے شوہر کی شہادت پر وفادار بیوی عاتکہ ؓ کے شاعرانہ جذبات کا جام چھلک گیا اور انہوں نے اپنے شوہر پر جو مرثیہ کہا وہ ادبِ عربی کا شہ پارہ بن گیا ۔کہتے ہیں کہ جب عبداللہؓ جان کنی کے عالم میں تھے تو انہوں نے اپنی بیوی عاتکہ ؓ سے کہا تھا کہ تمہیں ایک باغیچہ اس شرط کے ساتھ ہدیہ کرتا ہوں کہ تم میرے بعد کسی سے شادی نہیں کروں گی۔چنانچہ جب عدت گزر گئی تو عمر بن الخطاب ؓ نے انہیں پیغام ِ نکاح دیا ۔کہنے لگیں کہ میں نے ایک ایسا عہد و پیمان کر رکھا ہے کہ اس سے عہد برآہونے سے پہلے دوسری شادی نہیں کرسکتی۔عمر ؓ نے اُن سے کہا کہ کسی سے فتویٰ لے لو ،عاتکہ نے سیدنا علی ؓ سے فتویٰ لیا تو انہوں نے کہا کہ جو کچھ تم نے عبداللہؓ سے لیا ہے ،اسے اُن کے اہلِ خانہ کو لوٹا دو ،تو شادی کرسکتی ہو۔
عاتکہ ؓ نے وہ باغیچہ واپس کردیا اور عمر رضی اللہ عنہ سے شادی کرلی ،یہ شادی ۱۲؍ہجری میں ہوئی تھی۔عاتکہ ؓ نے عمر ؓ کے دل میں بھی ایک خاص جگہ بنالی،ان کے علم و زہد کے مکتب سے انہوں (عاتکہ)نے جی بھر استفادہ کیا ۔دونوں میں اس قدر محبت ہوگئی کہ عمر  ؓ صوم کی حالت میں ہوتے تھے جب بھی عاتکہ ؓ ان کے سر کا بوسہ لیا کرتی تھیںمگر وہ عاتکہؓ سے کچھ نہیں کہتے تھے۔عاتکہؓ کی عمرؓ کے ساتھ زندگی جو سراپا عدل و انصاف ،زہد و قناعت اور صبر و شکیبائی سے پُر تھی ۔عاتکہؓ اپنے شریکِ حیات کے ساتھ جاکر مسجد نبوی میں صلاۃ باجماعت ادا کرتی تھیں تاہم جب بھی وہ مسجد جاتیں تو عمر ؓ سے اس کی اجازت لیا کرتی تھیں۔ہر بار وہ عاتکہ ؓ سے کہا کرتے تھے کہ تمہیں معلوم ہے کہ تمہارا صلاۃ باجماعت کے لئے مسجد جانا مجھے پسند نہیں ہے ،بات دراصل یہ تھی کہ عمر ؓ  عورتوں کے مسجد جانے اور مردوں کے ساتھ صلاۃ ادا کرنے کے ،فتنہ کے ڈر سے،خلاف تھے لیکن اپنی بیویوں کو بھی سختی سے اس لئے نہیں روکا کرتے تھے کہ انہیں اس کی نبوی اجازت ملی ہوئی تھی۔حضرت عمرؓپر فیروز مجوسی نے بحالت ِ صلاۃ قاتلانہ حملہ کیا تھا ،عاتکہ ؓ اس صلاۃ کی جماعت میں موجود تھیںجس میں عمر ؓ زخمی ہوئے تھے ،جب آپؓ زخموں کی تاب نہ لاسکے اور داعی اجل کو لبیک کہا تو عاتکہ ؓ کے شاعرانہ جذبات نے ایک بار پھر انگڑائی لی اور انہوں نے اپنے شریک ِ حیات عمرؓکی شہادت پر جو مرثیہ کہا ،اس کا حرف حرف ان کے دل کی کیفیات کا آئینہ دار تھا ۔عمر ؓ کی شہادت کے بعد جب عاتکہ کی عدت پوری ہوئی تو حواریِ رسول زبیر بن العوام ؓ نے انہیں پیغام ِ نکاح دیا ۔حواریِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے عقدِ زوجیت میں رہتے ہوئے ان کی زندگی کے شب و روز مسرت و شادمانی میں گزر رہے تھے کہ جنگ ِ جمل کا دل دوز سانحہ پیش آیا جس میں وادی سِباع ،جو بصرہ اور مکہ کے درمیان بصرہ سے پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے ،میں عمرو بن جرموز کے ہاتھوں حواری رسول زبیر ؓ شہید ہوگئے اور عاتکہ ؓ کو ایک اور بار پھر اپنے شریک ِ حیات کو کھونے کا غم اور ان سے سدا کی جدائی کا الم سہنا پڑا ۔
زبیر ؓ کی شہادت کے بعد عاتکہؓ کا وقفۂ عدت ختم ہوا تو حضرت علیؓ نے انہیں پیامِ نکاح بھیجا ،عاتکہؓ نے انہیں کہلا بھیجا کہ امیرالمومنین!آپ مسلمانوں کے سردار اور بقیتہ للسلف ہیں ۔مجھے آپ کی زندگی پیاری ہے ،میں نے اب تک جس سے بھی شادی کی ،وہ شہید ہوگیا ہے ،اس لئے میں معذرت خواہ ہوں۔واقعہ یہی ہے کہ عاتکہ رضی اللہ عنہا نے جس بھی شریک ِ حیات چُنا وہ شہید ہوگیا اس لئے اہلیان مدینہ کے درمیان یہ مقولہ مشہور ہوگیا تھا کہ جو بھی مرتبۂ شہادت پر فائز ہونا چاہتا ہو ،وہ عاتکہ سے شادی کرلے۔
یہ حقیقت ہے کہ تمام صحا بیات ِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگیاں صبر و شکیبائی کا مظہر و آئینہ دار ہیں اور ان کا ہر گوشہ نہایت تاب ناک و منور ہے مگر عاتکہؓ کی داستانِ صبر و شکیبائی ایک الگ ہی امتیاز رکھتی ہے ۔ایک عورت کے لئے اپنے شریک حیات کو کھونے کا غم سب سے زیادہ درد انگیز ہوتا ہے اور انہوں نے تو ایک نہیں تین تین شریکِ حیات کو کھویا تھا جس کا غم کس قدر کرب انگیز ہوگا ،اسے ایک عورت ہی محسوس کرسکتی ہے۔اگرچہ عاتکہؓ کے غم کی شدت ان کے مراثی سے عیاں ہے لیکن ایک بات یہ بھی قابل ذکر ہے کہ ان کی اللہ او ر اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت و عقیدت ،ان کے ہر شریک ِ حیات سے ان کی محبت و عقیدت سے کہیں زیادہ تھی اور یہ بات ان کے مرثیہ سے مترشح ہوتی ہے جو انہوں نے اللہ کے رسول ؐ کے اپنے رفیقِ اعلیٰ سے جاملنے پر کہا تھا ۔
تو یہ تھیں عاتکہؓ کی عبادت و ریاضت اور صبر و شکیبائی سے بھری زندگی کی چند جھلکیاں ،نجہیں ہم نے آپ کے حوالیاس امید سے کیا ہے کہ آپ بھی اپنی زندگی کے مراحل میں انہیں اپنا آئیڈیل اور نمونہ بنائیں گے۔۴۰؍ ہجری میں عاتکہؓ  کا انتقال ہوا۔

تازہ ترین