تازہ ترین

آخری افسانہ

تجزیہ

تاریخ    25 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹر ریاض توحیدی(کشمیر)
افسانہ''آخری افسانہ''سید تحسین گیلانی کی تخلیق ہے۔سید تحسین گیلانی میں فکشن کی ادبی بصیرت کی دوصفات نمایاں ہیں'یعنی فکشن فہمی اور تنقیدی شعور۔ان کے بیشتر افسانے تخلیقی بیانیہ(Creative narration)کے علامتی رچاو ٔسے مزین ہوتے ہیں ‘جیسے ’’لاشے‘‘ ’’اماوس نگری‘‘ ’’کیمیکل‘‘ ’’تخلیق کا کرب (مائکروفکشن) وغیرہ۔ اب پیش نظر افسانہ’’آخری افسانہ‘‘ کے اسلوب اور موضوع یا کہانی کی بات کریں تو اگرچہ یہ راست بیانیہ یا آسان اسلوب کا حامل افسانہ ہے‘ تاہم کہانی کے پیش نظر اس کے پلاٹ کا موضوعاتی کینوس کافی وسیع نظر آتا ہے۔جس کی وجہ سے یہ افسانہ مشرق کی ثقافتی زندگی (Cultural life)کاتخلیقی اظہاریہ محسوس ہوتا ہے اور اس ثقافتی زندگی کا ایک اہم جز شفقت مادر ہے۔اسی لئے کہا جاتاہے کہ:  
''A mother is your first friend, your best friend your forever friend''   
مشرق میں بچے اور والدین کے درمیان جوفطری محبت (Natural love) ہوتی ہے وہ تو کچھ یہاں کی روحانی ثقافت کا زائیدہ ہے اور سب سے اہم مذہبی ثقافت کا اثر ہے۔ چاہئے کوئی کتنا بھی مذہبی اثرات سے انکار کرے لیکن اس کا مثبت اثر بہرحال انسان کی سوچ پر پڑتا ہے ۔مثلاََ اسلام میں والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنے کی زبردست تاکید کی گئی ہے جیسے سورہ الاسرا میں آیا ہے کہ ’’ اور اپنے ماں باپ کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آو۔‘‘ افسانے کی کہانی شفقت مادر کے اسی اہم وصف کو راوی(افسانہ نگار) کے احساسات اور مرکزی کردار دوم(ماں) کے مشفقانہ کردار اور بچھڑنے کی کرب ریز یادوں کی دردانگیز عکاسی کرتی ہے۔ ماں جنت کا سکون ہوتی ہے۔ اسی لئے منور رانا کا یہ شعر مشہور ہوا ہے:
چلتی پھرتی ہوئی آنکھوں میں اذاں دیکھی ہے 
میں نے جنت تو نہیں دیکھی ہے ماں دیکھی ہے
  معیاری افسانے کا پلاٹ تجربات ومشاہدات اور خیالات کی فنی تجربہ گاہ ہوتا ہے‘جس میں تخلیق کار‘راوی اور کردار اپنا رول حسب مناسب ادا کرتے رہتے ہیں ۔پیش نظر افسانے میں تخلیق کار اور راوی ایک ہی سکے کے دو روپ ہیں اور کردار نگاری میں اپنی متحرک موجودگی سے پوری کہانی سناتے ہیں جبکہ ماں کا کردار بظاہر ایک خاموش لیکن کہانی کی ضرورت کے مطابق بڑا متحرک نظر آتا ہے۔کیونکہ راوی صرف اپنی حسین اور کرب انگیز یادوں کی بپتا ہی نہیں سناتا ہے بلکہ ماں کی شفقت اور محبت کے ساتھ ساتھ اس کی موجودگی کی راحتوں اور غیرموجودگی کی غم انگیز کیفیتوں کو بڑی عمدگی سے کہانی میں پیش بھی کرتاہے۔جس کو پڑھ کر یہ افسانہ ہی نہیں بلکہ نثری مرثیہ معلوم ہوتا ہے جو کہ افسانہ نگار کی زندگی کا ایک ناقابل تنسیخ حصہ ہے اور جس کو افسانہ نگار نے بڑی ہنری مندی سے فکشنائز کیا ہے۔جیسا کہ شعری مرثیہ میں علامہ اقبالؔ کی مشہور نظم’’والدہ مرحومہ کی یاد میں‘‘ ہے :
کس کو اب ہوگا وطن میں آہ ! میرا انتظار؟
کون میرا خط نہ آنے سے رہے گا بیقرار؟
خاکِ مرقد پر تری لیکر یہ فریاد آئوں گا
اب دعائے نیم شب میں کس کو میں یاد آؤں گا؟
 میں سمجھتا ہوں کہ ہر انسان کو کبھی کبھی علامہ اقبالؔ کی یہ پوری نظم رات کی تناہی میں ضرور پڑھنی چاہئے۔اگر وہ روئے گا نہیں تو پھر کہہ سکتا ہے کہ اس نظم نے مجھ پر کوئی اثر نہیں ڈالا۔افسانہ نگارپر بھی ماں کی یاد آتے ہی فینتیسی کا عالم چھا جاتا ہے اور وہ’’خاک مرقد ‘‘پر جاکر اپنی فریاد کے نالے بلند کرتا ہے جو کہ ہر درد مند دل کو خون کے آنسو رونے پر مجبور کرتا ہے:
’’۔۔۔۔ماں ۔۔۔۔بس پھر کیا!! میرے آنسو نکل پڑے۔یادوں کے سنہرے قافلے کی گھنٹیاں میرے دل ودماغ میں بجنے لگیں۔ بچپن تا جوانی۔ایک خیال کی مسافت میں زندگی بھر کا سفر طے کرگیا ۔میں۔۔۔اور کیا۔۔۔؟؟؟اسی سنہری لمحے کی عطا کہ پل بھر میں ‘میں اپنی ماں کی قبر پرجا کھڑا ہوا۔میں نے قبر کی خاک کو چہرے پر ملا۔رخسار محووضو ہوئے ۔ساتھ ساتھ ہاتھ تیمم بھی کرنے لگے۔۔۔آنسو بے اختیار سجدے میں گررہے تھے۔پانی میسر ہوتو تیمم کی کیا ضرورت؟؟؟ ہاں ہاں مجھے معلوم ہے۔ کہ وضو افضل ہے مگروہ خاک افضل ترین تھی۔ روح نے۔۔۔میں تو اس خیال خاک شفا سے سکون پارہا تھا۔میں نے دوسرا جملہ لکھا:ماں تم کہاں ہو۔۔۔؟؟اور پھر میں دھاڑیں مار کررونے لگا۔میں مذید نہ لکھ سکا۔‘‘
بقول شاعر:
جب بھی کشتی مری سیلاب میں آجاتی ہے  
ماں دعا کرتی ہوئی خواب میں آجاتی ہے
  مجموعی طور پر افسانہ تھیم‘کہانی‘پیام اور کرافٹنگ کے اعتبار سے متاثر کن افسانہ ہےاور موضوعاتی طور پر اخلاقی افسانے کے زمرے میں آتا ہے۔ چند باتوں پر تھوڑا دھیان دینے کی ضرورت محسوس ہورہی ہے۔ درمیان میں افسانہ نگار جذبات میں آکر موضوع سے ہٹ کر نمودار ہوتا ہےاور ماں کو مناسب مقام کی بجائے تھوڑا جذباتی ہوکر کہہ اٹھتا ہے’’تو ہی تو میرا خدا تھی ماں‘‘ یہاں پر کسی بھی دلیل کی ضرورت نہیں کہ خدا خدا ہے اور ماں ماں۔فن اپنی جگہ تاہم برتنے کے دوران خیالات پر کنٹرول بھی رکھنا مناسب ہوتا ہے۔ایک اور بات والد کا ذکر بھی کچھ غیر ضروری لگا کیونکہ اس سے پلاٹ اور کہانی کے وحدت تاثر میں خلل پڑتا ہے۔ اس سب کے باوجود بہترین تکنیک کا استعمال کرکے افسانے کا آخری حصہ کہانی کو ایک نیا ٹوسٹ دیکر لطف پیدا کررہا ہے اور افسانہ روایت اور جدت کا سنگم لگ رہا ہے۔ جوکہ افسانہ نگار کی فکشن فہمی کے برتاؤ کا قابل ستائش پہلو ہے۔افسانہ پسند آیا ۔اس لئے ردوقبول تسلیم کے ساتھ۔۔۔ مسکراہٹ۔۔۔۔(سید تسلیم گیلانی ساہیوال پاکستان سے تعلق رکھتے ہیں)
وڈی پورہ، ہندوارہ کشمیر 
موبائل نمبر؛7006544358

تازہ ترین