تازہ ترین

علامہ اقبال کے پیامی اشعار

خراج عقیدت

تاریخ    22 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


مشتاق عالم
شاعر اخوت و محبت شاعر حق و حقیقت شاعر مذہب و انسانیت شاعر عقل و ادراک شاعر قلب و روح علامہ اقبال نے اپنی شعری کائنات میں ایسے اشعاریاد گار چھوڑے ہیں جو ہمارے لئے کسی مشعل راہ سے کم نہیں ہیں۔انہوں نے عشق حق کے بحر بیکراں میں غوطہ زن ہوکر ایسے نادر و نایاب موتی تخلیق کیے ہیں جن کی چمک رہتی دنیا تک قائم ودائم رہے گی۔پیام حق ،پیام رسالت،پیام قران و سنت ،پیام عظمت انسان و انسانیت،پیام خودی و خود شناسی،پیام عشق و عمل ،پیام عقل وہنر،پیام مرد مومن ،پیام قدرت وفطرت ،پیام امن و آشتی ،پیام اتحاد ملت ،پیام محبت و اخوت غرض ان کاکلام اول تا آخر سراپا پیام ہی پیام ہے۔وہ امت ملسمہ کو اپنے دلسوز اشعار کے ذریعے خوابِ غفلت سے بیدار کرانا چاہتے ہیں۔ ان کا ایک ایک شعر آفاقی پیغام سے لبریز ہے۔وہ کبھی ہمیں اپنے من ڈوب کر سراغ زندگی پانے کی تجویز دیتے ہیں،کبھی ستاروں سے آگے کی دنیا کی پرواز کرنے کے لئے حوصلہ دیتے ہیں۔کہیں ابراہیم ؑکے حوالے سے ایما ن پیدا کرنے کی اہمیت سمجھاتے ہیں تو کہیں درد دل کی خواہش کی تکمیل کے لئے فقیروں کی خدمت کرنے کا مشورہ دیتے ہیں۔اپنے آفاقی پیغام میں اقبال کہیں ہمیں کرگس اور شاہیں کے ذریعے خودی کے فلسفے کو سمجھاتے ہیں اور اس خودی کو اتنا بلنداورمستحکم کرنے کی تلقین کرتے ہیں تاکہ خدا بھی ہم سے ہماری مرضی و مراد دریافت کرے ۔خودی پر بہت زور دیا ہے اس کو اپنا مقصد حیات بنانے کی تلقین بار بار کی ہیں۔کیوں کہ اسی سے انسان خود شناس ہوتا ہے اور بعد ازان اسی کے جلووں سے خدا شناس بن جاتا ہے۔ کہیں سادگی میں ہی عشق کی انتہا کی خواہش پیدا کراتے ہیں۔امت مسلمہ کے اتحاد کے لئے ہمیشہ سرگرداں رہے ہیں ۔بار ہا اپنے کلام میں کہا کہ مسلمانوںکے لئے حرم پاک،اللہ پاک اور نبیؐ پاک اگرچہ ایک ہی ہے لیکن افسوس کی بات یہ کہ امت ایک نہیں ہے۔ جو بدقسمتی سے سیدوں،مرزاوں اور انصاریوںاور دوسری ذاتوں اور معمولی فکری اختلافات کی وجہ سے گروہوں میں تقسیم ہوئی ہے۔ سحر گاہی کے بڑے حامی تھے اور اس کے حصول کے لئے عشق کو شرط اول قرار دیتے ہیں۔عشق سے انسان خود آگہی اور خدا آگاہی سے بہرور ہوجاتاہے اور اس کی تحصیل کے لئے سحر خیزی کو ایک لازمی جز قرار دیتے ہیں۔ عشق الہی اور عشق نبیؐ میں سر شار و سرمست ہونے کوکامیاب زندگی کا واحدراستہ تسلیم کرتے ہیں۔علم سے زیادہ عشق اور قول سے زیادہ عمل کے دلداہ رہے ہیں۔ملا اور مجاہد کی اذان کی تمیز و تفرق سے بھی سوئی ہوئی امت کوروشناس کرانے کی کوشش کی ہے۔ انہوں نے اپنا پیغام عوام و خواص تک پہچانے کے لئے شوخ انداز نہیں اختیار کیا بلکہ دل کی گہرایوں اور فکر کی گیرایوں میں اترنے والے طریقے کو بروے کار لایا۔انہوں نے اپنی فکر اور اپنے پیغام کو موثر اور با مقصد بنانے کی خاطر متعدد شعری وسائل کا استعمال کیا ہے جن کی بدولت ان کے کلام کے حسن و خوبصورتی میں اضافہ ہوا ہے۔ان کے بے شمار تخلیق کرد ہ مرکبات سے اُردوشاعر ی کی دنیا آباد ہوگئی ہے۔انہوںنے اپنی فکری پیغام کو زبان زد عام کر نے کی غرض سے تشبیہات ،استعارات،تلمیحات کی ایک کہکشاں تخلیق کی ہے جو اردو ادب کے آسمان پر مانند نور چمک رہی ہیں۔ حرص و ہوس ،سود خوری ،زرداری وزرپرستی نے آج کے انسان کے کو سنگ دل،حاسد،متعصب، بے مروت ،مفاد پرست اورخود غرض بنا دیا ہے۔ان برائیوں کے پیش نظر علامہ نے یہی مشوراہ دیا کہ ان کو ترک کیا جائے اور اخوت و بھاچارگی ،اتحاد و اتفاق کو اختیار کیا جائے جس سے قوم ترقی کی راہ پر گامزن ہوسکتی ہے۔دنیا دار ی کے حصول کی خاطر آج بنی نواع انسان نے مذہب سے دوری اختیار کی ہے جب کہ اسکی پہچان اس کا مذہب ہے۔امت مسلمہ کا حال اس قدر برا ہے کہ انہوںنے اپنے خدوخال عادات واطوار نصرانیوں کے اختیار کیے ہیں جن کو دیکھ کر بقول اقبال یہود بھی شرماتے ہیں۔ آغوش قدرت اور جہاں سے خلوت میں محوذکر الہی کی تڑپ کی اہمیت بھی دلاتے ہیں۔اذان ِ مرغ چمن سے صبح دم بیدار ہوکر ذکر حق میں مصروف ہونے کی تمنا کرتے ہیں۔ اقبال جہد مسلسل کے زبردست حامی رہے ہیں۔مقصد حیات کی تکمیل ہو یا دنیاوی امور کی تحصیل کی خواہش مسلسل جد وجہد اور محنت و لگن سے دونوں حاصل کیے جاسکتے ہیں۔ کلام اقبال میں ایسے متعدد اشعار ہیں جن میں انہوں نے جہد مسلسل کا پیغام پیش کیا گیا ہے ۔یہاں کلام اقبال کے مختلف مجموعوں میں شامل غزلوں اور نظموں کے اشعار نقل کئے گئے ہیں۔کوشش یہ کی گئی ہے کہ حروف تہجی کے اعتبار سے رکھا جائے۔انتخاب بہت مختصر ہے اور اکثر اشعار ایسے ہیں جو ہر عاشق اقبال کے حافظے کا حصہ ہوں گے۔اشعار ملاحظہ ہوں: 
 
الف
 
 
 
اندازِ بیاں گر چہ بہت شوخ نہیں میرا 
 
شاید کہ اتر جائے ترے دل میں مری بات
 
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی 
 
تو اگر میرا نہیں بنتا نہ بن اپنا تو بن
 
الفاظ و معنی میں تفاوت نہیں لیکن 
 
مُلا کی اذان اور مجاہد کی اذان اور 
 
اس نئی آگ کا اقوام کہن ایندھن ہے 
 
ملت ختم رسُل شعلہ بہ پیراہن ہے
 
الفاظ کے پیچوں میں الجھتے نہیں دانا 
 
غواص کو مطلب ہے صدف سے کہ گہر سے
 
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
 
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
 
آج بھی ہو جو براہیم سا ایماں پیدا 
 
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا 
 
ب
 
 
 
باغ بہشت سے مجھے حکمِ سفر دیا تھا کیوں 
 
کار ِ جہان دراز ہے اب میراانتظار کر
 
پ
 
 
 
پرواز ہے دونوں کی اسی ایک فضا میں  
 
کرگس کا جہاں اور ہے،شاہین کا جہاں اور
 
پرندوں کی دنیا کا میں درویش ہوں 
 
کہ شاہین بناتا نہیں آشیانہ
 
پانی پانی کر گئی مجھے قلندر کی بات 
 
تو جھکا جب غیر کے آگے نہ تن تیرا نہ من
 
ت
 
 
 
تمنا درد دل کی ہو تو کر خدمت فقیروں کی 
 
نہیں ملتا یہ گوہر بادشاہوں کی خزینوں میں
 
تیرے عشق کی انتہا چاہتا ہوں 
 
میری سادگی دیکھ کیا چاہتا ہوں
 
تجھے کتاب سے ممکن نہیں فرصت کہ تو
 
کتاب خواں ہے مگر صاحب کتاب نہیں
 
تو شاہین ہے پرواز ہے کام تیرا 
 
تیرے سامنے آسماں اوربھی ہے 
 
تری زندگی اسی سے تری آبرو اسی سے
 
جورہی خودی تو شاہی نہ رہی تو رو سیاہی
 
ج
 
 
 
جو میں سر بسجددہ ہوا کبھی،تو زمیں سے آنے لگی صدا 
 
ترا دل تو ہے صنم آشنا،تجھے کیا ملے گا نماز میں
 
جچتے نہیں بخشے ہوئے فردوس نظر میں 
 
جنت تیری پنہاں ہے ترے خونِ جگر میں
 
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہیں ہو روزی
 
اس کھیت کے ہر خوشئہ گندم کو جلادو
 
ح
 
 
 
حرم پاک بھی،اللہ بھی،قرآن بھی ایک
 
کچھ بڑی بات تھی ہوتے جو مسلمان بھی ایک
 
حیا نہیں ہے زمانے کی آنکھ میں باقی
 
خدا کرے کہ جوانی تری رہے بے داغ
 
خ
 
 
 
خدا تجھے کسی طوفان سے آشنا کردے
 
کہ تیرے بحر کی موجوں میں اضطراب نہیں
 
خودی کو کر بلند اتنا کہ ہر تقدیر سے پہلے
 
خدا بندے سے خود پوچھے ،بتا تیری رضا کیا ہے
 
د
 
 
 
دل سے جو بات نکلتی ہے اثر رکھتی ہے
 
پرنہیں،طاقت پرواز مگر رکھتی ہے
 
دنیا کی محفلوں سے اکتا گیا ہوں یا رب
 
کیا لطف انجمن کا جب دل ہی بجھ گیا ہو
 
دشت تو دشت صحرا بھی نہ چھوڑے ہم نے
 
بحر ظلمت میںدوڑا دیے گھوڑے ہم نے
 
دیار عشق میں اپنا مقام پیدا کر
 
نیا زمانہ نئے صبح و شام پیدا کر
 
دل مردہ دل نہیں ہے،اسے زندہ کر دوبارہ
 
کہ یہی ہے اُمتوں کے مرض کہن کا چارہ
 
س
 
 
 
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہے
 
ابھی اعشق کے امتحاں اور بھی ہے
 
ش
 
 
 
شکر شکوے کو کیا حسن ادا سے تو نے
 
ہم سخن کر دیا بندوں کو خدا سے تو نے
 
ع
 
 
 
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
 
کہ یہ ٹوٹا ہو تارا مہِ کامل نہ بن جائے
 
عقابی روح جب بیدار ہوتی ہے جوانوں میں
 
نظرآتی ہے ان کو اپنی منزل آسمانوں میں
 
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
 
یہ خاکی اپنی فطرت میں نہ نوری ہے نہ ناری ہے
 
عقل کو تنقید سے فرصت نہیں
 
عشق پر اعمال کی بنیاد رکھ
 
عالم ہے فقط مومن جانباز کی میراث
 
مومن نہیں جو صاحب لولاک نہیں ہے
 
غ
 
 
 
غلامی میں نہ کام آتی ہیں شمشیریں نہ تدبیریں
 
جو ہو ذوقِ یقیں پیدا تو کٹ جاتی ہیں زنجیریں
 
ف
 
 
 
فکر عرب کو دے کے فرنگی تخیلات
 
اسلام کو حجاز و یمن سے نکال دو
 
ق
 
 
 
قوم مذہب سے ہے ،مذہب جو نہیں تم بھی نہیں
 
جذبہ باہم جو نہیں،محفل انجم بھی نہیں
 
قوم کیا چیز کیا،قوموں کی امامت کیا ہے
 
اس کو کیا سمجھیں یہ بے چارے دو رکعت کے امام
 
قلب میں سوز نہیں روح میں احساس نہیں
 
کچھ بھی پیغام ِ محمدؐ  کا تمہیں پاس نہیں
 
قوت عشق سے ہر پست کو بالا کر دے
 
دہر میں اسم محمد ؐسے اجالا کر دے
 
ک
 
 
 
کس قدر گراں تم پہ صبح کی بیداری ہے
 
ہم سے پیار کب ہے؟ہاں نیند تمہیں پیاری ہے
 
کی محمدؐ سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں
 
یہ جہاں چیز ہے کیا لو ح و قلم تیرے ہیں
 
کیا صوفی و ملا کو خبر میرے جنوں کی
 
ان کا تو سر دامن بھی ابھی چاک نہیں ہے
 
گ
 
 
 
گرتے ہیں شہسوار میدانِ کارزار میں
 
وہ طفل کیا گرے جو گھٹنوں کے بل چلے
 
م
 
 
 
مانا کہ تیری دید کے قابل نہیں ہوں میں
 
تو میرا شوق دیکھ مرا انتظار دیکھ
 
مسجد تو بنا دی شب بھر میں ایماں کی حرارت والوں نے
 
من اپنا پرانا پاپی ہے،برسوں میں نمازی بن نہ سکا 
 
میرا طریق امیری نہیں فقیری ہے
 
خودی نہ بیچ غریبی میں نام پیدا کر
 
موتی سمجھ کر شانِ کریمی نے چن لیے
 
قطر ے جو تھے میرے عرق انفعال کے
 
ن
 
 
 
نہیں ہے ناامید اقبالؔ اپنی کشت و ویراں سے
 
ذرا نم ہو تو یہ مٹی بہت زرخیز ہے ساقی
 
نکل کر خانقاہوں سے ادا کر رسم ِ شبیری
 
کہ فقر خانقاہی ہے فقط اندوہ ودلگیری
 
نہ تو زمیں کے لئے ہے ،نہ آسماں کے لئے
 
جہاں ہے تیرے لئے ،تونہیں جہاں کے لئے
 
نقش ہے سب ناتمام خون ِ جگر کے بغیر
 
نغمہ ہے سودائے خام خون جگر کے بغیر 
 
نگہ بلند،سخن دلنواز،جاں پرسوز
 
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے
 
نہیں تیرا نشیمن قصرِ سلطانی کے گنبد پر
 
تو شاہیں ہے بسیراکر پہاڑوں کی چٹانوں پر
 
نشہ پلا کے گرانا توسب کو آتا ہے
 
مزا توتب ہے کہ گرتوں کو تھا م لے ساقی
 
نہ سمجھو گے تو مٹ جاو گے اے ہندوستاں والو
 
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں 
 
و
 
 
 
وضع میں تم ہو نصاریٰ،تمدن میں ہنود
 
یہ مسلمان ہیں!جنھیں دیکھ کے شرمائیں یہود
 
وطن کی فکر کر ناداں مصبیت آنے والی ہے
 
تری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں
 
وہ آنکھ کہ ہے سرمئہ افرنگ سے روشن
 
پر کار وسخن ساز ہے نمناک نہیں ہے
 
ہ
 
 
 
ہزاروں سال نرگس اپنی بے نوری پہ روتی ہے
 
بڑی مشکل سے ہوتا ہے چمن میں دیدہ ور پیدا
 
ہے دل کے لئے موت مشینوں کی حکومت
 
احساسِ مروت کو کچل دیتے ہیں یہ آلات
 
ہوس نے کر دیا ہے ٹکرے ٹکڑے نوع انساں کو
 
اخوت کا بیاںہوجا ،محبت کی زباں ہوجا
 
ہے عیاں یورش تاتارکے افسانے سے
 
پاسباں مل گئے کعبے کو صنم خانے سے
 
ی
 
 
 
یہ راز کسی کو نہیں معلوم کہ مومن
 
قاری نظر آتا ہے ؛حقیقت میں ہے قرآن
 
یوں تو سید بھی ہو،مرزا بھی ہو،افغان بھی ہو
 
تم توسبھی کچھ ہو ،بتاو تو مسلمان بھی ہو
 
یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
 
صنم کدہ ہے جہاں ،لا الہ الااللہ
 
یقیں محکم عمل پیہم محبت فاتح عالم
 
جہاد زندگانی میں ہیں یہ مردوں کی شمشیریں
 
اس تحر یرکا صرف یہ مقصد ہے کہ موصوف کے یوم وفات کے موقع پر ان کو یاد کرتے ہوئے اور ان کوخراج پیش کرتے ہوئے ان کے کلام میں سے مشہور اور زبان زد عام اشعار کا انتخاب پیش کیا جائے جن کی بدولت دورِ حاضر تک متعد د افراد کے دل منور ہوئے ہیں اور آئندہ بھی ان شااللہ ہوتے رہیں گے۔
پتہ۔سامبورہ پانپور،پلوامہ ،کشمیر
فون نمبر۔7006402409 
�����������

تازہ ترین