تازہ ترین

نفسیاتی امراض کا واحد شفاخانہ خودبیمار !

تاریخ    20 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


 نامساعد حالات کی وجہ سے وادی میں نفسیاتی امراض ایک بڑے چیلنج کے طور پر سامنے آرہے ہیں ۔نفسیاتی امراض کی صورتحال کے حوالے سے ہر سال جو نئے سروے رپورٹ سامنے آتے ہیں ،وہ کسی بھی لحاظ سے اطمینان بخش نہیں ہیں بلکہ تسلسل کے ساتھ ہر سال ایسے مریضوں کی تعداد میں اضافہ ہی ہوتا جارہا ہے جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کشمیری سماج کا توازن انتہائی تشویشناک حد تک بگڑ چکا ہے۔اس حوالے سے ایک حالیہ سروے کشمیریوں کیلئے واقعی لمحہ فکریہ ہے۔ ایک تازہ سروے کے مطابق کشمیر کی60فیصد آبادی وہ ہے جو کبھی نہ کبھی، کسی نہ کسی طرح زندگی میں کم سے کم ایک بار ذہنی اور نفسیاتی طور متاثر ہوئی ہے یاانہوں نے اس طرح کے کسی واقعہ کا بچشم خود مشاہدہ کیا ہے جبکہ15فیصد آبادی ایسی ہے جو زندگی بھر کیلئے نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوگئی ہے۔سروے کے مطابق نامساعد حالات سے قبل نفسیاتی امراض کے واحد اسپتال میں روزانہ4یا 5مریض آتے تھے مگر1990کے بعدیہاں آنے والوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ہوگیا۔ یہ تعداد1994میں 20,000سالانہ تھی جبکہ اسوقت فی سال اس اسپتال میں اپنا علاج کرانے کیلئے آنے والے مریضوں کی تعداد ڈیڑھ سے دو لاکھ ہوگئی ہے ، یعنی آج روزانہ چار سے پانچ سو کے قریب مریض ہسپتال آکر ذہنی امراض کی شکایت کرتے ہیں ۔ماہرین نفسیات کے مطابق آنے والے برس کشمیر یوں کیلئے زیادہ سنگین ہونگے کیونکہ جو یہاں کی نوجوان نسل ہے، اُس نے ابھی امن کی صورتحال کا تجربہ نہیں کیا ہے بلکہ وہ تشدد میں ہی بڑے ہیں اور اس وجہ سے اُن میں ایک خاص قسم کی نفسیاتی اور ذہنی تعمیر ہوئی ہے۔یہ سروے اپنے آپ میں ایک بہت بڑا چیلنج ہے کہ کشمیری سماج کس سمت جارہا ہے۔صورتحال کا تشویشناک پہلو یہ ہے کہ جموںوکشمیر میں سر کاری یا غیر سر کاری سطح پر ذہنی یا نفسیاتی امراض سے متعلق کوئی مخصوص طبی یا تحقیقی ادارہ قائم نہیں ہے اور یہ صورتحال اس طرح کے امراض میں اضافے کی ایک اور وجہ ہے۔اس سنگین مسئلہ پر قابو پانے کیلئے کونسلنگ بھی ایک کارگرہتھیار ثابت ہو سکتا تھا لیکن پولیس محکمہ کی جانب سے چند علامتی ڈی ایڈکشن کیمپوں کوچھوڑ کر ارباب اقتدار نے کبھی اس کی ضرورت محسوس نہیں کی ،نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔کشمیری سماج کا توازن بگڑ رہاہے ،ہر کوئی اپنی ہی ایک الگ دنیا میں مگن ہے ،ذہن مفلوج ،قلب مضطرب ،کیفیت ناراحتی کا عجیب سا احساس ،اکیلا پن ،خوف اور نامعلوم مخلوق کا ڈر، چند ایسی شکایات ہیں جو عوام کی غالب اکثریت میں پائی جاتی ہیں۔ کشمیر میں نفسیاتی امراض کے معالجین کے کلینکوں پر روزانہ سینکڑوں کی تعداد میں لوگ علاج و معالجہ اور طبی مشوروں کیلئے آتے ہیں لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ وہاں بھی ذہنی طور منتشر لوگوں کو مفید مشوروں کی فراہمی اور ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی بجائے انہیں سینکڑوں روپے کی ادویات تجویز کی جاتی ہیں ،جس کا نتیجہ یہ ہوتاہے کہ ایسے لوگ پھر ضدتنائو کی دوائیاں کھانے کے عادی ہوجاتے ہیں اورمرتے دم تک یہ دوائیاں ان کا پیچھا نہیں چھوڑتیں۔ایسے میں نفسیاتی امراض کا واحد ہسپتال ایک اہم رول ادا کرسکتا تھا لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سرینگر کے کاٹھی دروازہ علاقہ میں قائم اس ہسپتال کی حالت ا نتہائی ناگفتہ بہہ ہے اور وہ خود ارباب اقتدار کی توجہ کا طلبگار ہے۔ حکام کی نظروں سے اوجھل نفسیاتی امراض کایہ واحد ہسپتال انتظامی بے حسی کا جیتا جاگتا ثبوت ہے جہاں کڑاکے کی ٹھنڈ میں بھی بجلی اور گرمی کا کوئی معقول انتظام نہیں ہے۔گورنمنٹ میڈیکل کالج سے منسلک اس ہسپتالی کی زبوں حالی کا یہ عالم یہ ہے کہ ہسپتال میں گھنٹوں بجلی دستیاب ہی نہیں رہتی ہے۔ ہسپتال کیلئے کوئی سپیشل لائن نہیں ہے اور علاقہ کو جو لائن جاتی ہے ،اُسی سے ہسپتال کو بھی بجلی مہیا کی جاتی ہے۔1996تک ہسپتال کو سپیشل لائن دستیاب تھی تاہم اْس وقت بجلی فیس کی عدم ادائیگی کے نتیجہ میں سپیشل لائن کاٹ دی گئی تھی جو تب سے اب تک بحال نہیں کی گئی اور یوں آج ہسپتال برقی سپلائی کی عام کے رحم و کرم پر ہے۔ جنرل بجلی لائن پر روزانہ تقریباً12گھنٹوں کی کٹوتی ہوتی ہے اور اس دوران ہسپتال میں صرف ایک جنریٹر نصب ہے جس کو چلا کر اگر چہ 6گھنٹے مزید بجلی دستیاب کی جاتی ہے تاہم چھ گھنٹے پورا ہسپتال گھپ اندھیرے میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ہسپتال میں داخل قسمت کے مارے مریض خدا کے رحم و کرم پر چھوڑ دئے گئے ہیں اور ان کیلئے گرمی کا کوئی انتظام نہیںہے۔ مریض آج بھی سرد کپڑے اور معمولی سے فرن زیب تن کئے ہوئے ہیں جبکہ گرم پانی کا کہیں نام و نشان نہیں ہے۔ ہسپتال کو صرف ایک ایمبولینس گاڑی دستیاب ہے جو انتہائی ناکافی ہے جبکہ کئی اہم ادویات سرے سے ہی غائب ہیں۔ ہسپتال کے تئیں حکام کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ پورے ہسپتال کو رات کے دوران 2نرسوں،3نرسنگ آرڈرلیوں اور ایک پی جی ڈاکٹر کے رحم و کرم پر چھوڑ اجاتا ہے۔ہسپتال میںناقص انتظام کا یہ عالم ہے کہ ہسپتالی عملہ کے پاس صرف ایک غسل خانہ میسر ہے جبکہ مرد اور زنانہ عملہ کیلئے علیحدہ غسل خانوں کا کوئی انتظام نہیں ہے۔جہاں تک گرمی کے انتظام کا تعلق ہے تو ہسپتال کا بیشتر حصہ سنٹرل ہیٹنگ سسٹم سے عاری ہے۔ہسپتال میں تیمارداروں کیلئے بیٹھنے کی کوئی جگہ دستیاب نہیں ہے اور سرکار کی نظروں سے اوجھل اس ہسپتال کے مریضوں اور عملہ کا خدا ہی حافظ ہے۔ جب واحد شفاخانہ کی یہ حالت ہو تو نفسیاتی امراض سے چھٹکارا کیسے نصیب ہوگا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ اس ہسپتال کی جانب فوری توجہ مبذول کرکے اس کو تمام ضروری سہولیات لیس کیاجائے تاکہ یہ علاج و تحقیق کا معیاری مرکز بن سکے ۔

تازہ ترین