تازہ ترین

مانسبل جھیل حکام کی عدم توجہی اور لاپرواہی کی شکار | مضافات کے گندے پانی اوربیت الخلائوں کے فضلہ نے جھیل کا وجودخطرے میں ڈال دیا

تاریخ    19 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


ارشاداحمد
گاندربل//خوبصورت پہاڑوںکے دامن میں واقع شہرہ آفاق مانسبل جھیل مانسبل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی لاپرواہی اور عدم توجہی کے باعث تباہی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے۔ چند سال قبل کشمیر کی سب سے گہری اور صاف شفاف کہلانے والی مانسبل جھیل کے کنارے پر واقع علاقہ کوندہ بل کی جانب سے متعدد مقامات پر ناجائز قبضہ کرنے کے ساتھ ساتھ جھیل کے کناروں پر موجود رہائشی بستیوں سے نکلنے والا گندہ پانی اور بیت الخلاوں سے نکلنے والا فضلہ جھیل میں ڈالنے سے مانسبل کا وجود خطرے میں پڑ گیا ہے۔جھیل میں گھاس اور للی( سوسن )بڑی تیزی پھیلتی جارہی ہے۔اگر اس جانب سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی تو شہرہ آفاق مانسبل جھیل قصہ پارینہ بن جائے گی۔تواریخی اہمیت کی حامل جھیل جس کے ایک کنارے پر مغل بادشاہ اکبر نے محل اور باغ بنوایا تھا، جوجھروکہ بل کے نام سے جانا جاتا ہے جہاں جھروکہ( بڑی سی کھڑکی)بنوائی تھی جہاں سے اکبر بادشاہ اپنے زمانے میں مانسبل جھیل کے حسین نظاروں سے لطف اندوز ہوا کرتا تھا ،ساتھ ہی رعایا کو اسی جھروکہ سے ملاقات وغیرہ دیا کرتے تھے۔مانسبل جھیل کی گہرائی 50 فٹ سے زائد ہے اور ایک کلومیٹر چوڑا، اور اس کی  لمبائی پانچ کلومیٹر ہے جبکہ محکمہ مال کے ریکارڈ کے مطابق 4600 کنال کاغذات پر درج ہے۔جھیل کے ایک کنارے پر چشمہ مانسبل موجود ہے جہاں سے پانی ابل ابل کر جھیل میں چلا جاتا ہے۔چشمہ کے قریب ہی چند سرنگیں جن کی لمبائی سو میٹر کی قریب تھی، سیاحوں کی بھاری تعداد ان سرنگوں میں جاکر سیر و تفریح کرتے تھے۔ موجودہ وقت میں ان کا وجود کہیں پر موجود نہیں۔مانسبل جھیل کی سیر کو آنے والے سیاح جھیل میں موجود گندگی اور پلاسٹک کی خالی بوتلیں اور لفافے دیکھ کر تاسف سے ہاتھ ملتے ہیں۔کشمیر عظمی سے بات کرتے ہوئے درجنوں سیاحوں نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ مشہور و معروف جھیل اب گندگی اور غلاظت سے سکڑتی جارہی ہے۔کوندہ بل کے مقامی لوگوں نے کہا کہ کچھ مہینے قبل مانسبل ڈیولپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے ٹریکٹر آتے تھے اور گھروں کے باہر کوڈا کرکٹ جمع کرکے لے جاتے تھے لیکن اب ٹریکٹر آنا بند ہوگیا مجبوراً ہم ساری گندگی اور غلاظت جھیل میں ڈال دیتے ہیں۔پانچ سال قبل کروڑوں روپے خرچ کرکے مانسبل جھیل کے ارد گرد چلنے پھرنے کے لئے پگڈنڈی تعمیر کی گئی تھی جو جگہ جگہ سے اکھڑ چکی ہے۔اس بارے میں جب کشمیر عظمی نے مانسبل ڈیولپمنٹ اتھارٹی  کے چیف ایگزیکٹو آفیسر مشتاق احمد سے رابطہ کیا ،تو انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند روز سے مسلسل بارشیں ہورہی ہیں، جیسے ہی موسم میں بہتری آئے گی ہم کوندہ بل اور مانسبل کے ارد گرد صفائی شروع کردیں گے۔انہوں نے کہا کہ تعمیر و ترقی کا منصوبہ تکمیل کے مراحل میں ہے ۔ 
 
 
 

وقفے وقفے کی بارشوں سے ولر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ | انتظامیہ کا لوگوں کو غیرضروری طور جھیل کے کناروںپر چہل قدمی سے گریز کرنے کامشورہ

 سرینگر//شدید بارشوں کے باعث جھیل ولر میں پانی کی سطح میں زبردست اضافہ ہونے لگا ہے جس کی وجہ سے جھیل کے نزدیکی علاقوں میں رہائش پذیر آبادی میں زبردست تشویش اور خوف وہراس پیدا ہوگیا ہے۔اس دوران ضلع انتظامیہ نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ غیر ضروری طور ولر جھیل کے ارد گرد سفر کرنے سے گریز کریں۔ کے این ایس کے مطابق وقفے وقفے سے بارش کی وجہ سے ولر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافہ ہوگیا ہے اورحکام نے یہاں جھیل کے کنارے رہائش پزید لوگوں کے لئے ایڈویزی جاری کردی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے ایس ڈی آر ایف ، محکمہ مال اور دیگر محکموں کی ٹیموں کو چوکس کررکھا ہے جبکہ نزدیکی سرکاری عمارتوں کی بھی نشاندہی کی گئی ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ سیلاب کے خطرے سے دوچار آبادی کو ضرورت پڑنے پر مذکورہ عمارتوں میں منتقل کیا جاسکے۔ تمام متعلقہ تحصیلداروں کو ولر جھیل کے آس پاس رہائش پزیر آبادی کی مکمل فہرست تیار کرنے کی بھی ہدایات جاری کی گئی ہے۔ ضلع انتظامیہ نے ولر کے کنارے رہنے والے لوگوں کو غیر ضروری طور پر باہر نہ جانے کا مشورہ دیا ہے۔اس دوران مقامی لوگوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک ہفتہ سے ولر میں پانی کی سطح میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے جس کی وجہ سے وہ خوفزدہ ہو گئے ہیں۔اس بیچ علاقے کے مچھیروں نے  بتایا کہ جھیل ولر میں پانی کی سطح بڑھ جانے سے ان کی روزی روٹی متاثر ہورہی ہے کیونکہ ولر جھیل میں پانی کی سطح میں اضافے کی وجہ سے انہیں مچھلیاں پکڑنے میں زبردست دشواریاں پیش آرہی ہیں اور اس عمل سے ان کی معاشی حالت بھی متاثر ہوئی ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ پانی نشیبی علاقوں میں بھی داخل ہورہا ہے جس کی وجہ سے وہ خاص طور پر اپنے بچوں کی حفاظت کے حوالے سے پریشان ہیں۔
 

تازہ ترین