تازہ ترین

ابوبکرمحمدبن زکریارازی | عظیم سائنس داں،مشہورِ عالم طبیب اور نفسیاتی معالج

تذکرہ اسلاف

تاریخ    19 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


ڈاکٹرغلام قادرلون
رازی عظیم سائنسداں ہی نہیں ، کثیرالمطالعہ مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ انہوں نے یونان کی تمام کتابوں کا مطالعہ کیا تھا۔ نیز وہ اپنے پیشرئوںکی کتابوں سے بھی آگاہ تھے۔وہ حریت ضمیر اور آزادی فکر کے قائل تھے۔ متاخرین کو متقدمین پر فوقیت دیتے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ متاخرین کے پاس متقدمین کا علم بھی ہوتا ہے۔ وہ افلاطون کو ارسطوپر فوقیت دیتے تھے اور اپنے آپ کو افلاطون اور ارسطو دونوں سے برتر سمجھتے تھے ۔ ان کا دعویٰ تھا کہ وہ فلسفہ میں سقراط اور طب میں بقراط کے ہم پایہ ہیں۔ 
رازی کسی بات کو صرف اس لئے صحیح نہیں سمجھتے تھے کہ اسے اگلے کہہ گئے ہیں یا کوئی یونانی فلسفی اسی کا قائل رہا ہے۔ وہ کسی چیز کو اسی وقت صحیح مانتے تھے جب تجربے اور مشاہدے سے اس کی تصدیق ہوتی تھی۔ انہوں نے ارسطو پر تنقید کی اور ان کے بعض نظریات مسترد کردئے۔ جالینوس پر اعتراضات کئے اور ان کی غلطیوں کی نشاندہی کی۔ ماہرین نے اعتراف کیا ہے کہ ان دونوں پر انہوں نے جو تنقید کی ہے وہ بیجا نہیں ہے۔ 
رازی کی بلند پایہ کثیر الجہات شخصیت کے یہ چند پہلو مشتے نمونہ از خروارے کے مصداق ہیں۔ وہ زیادہ تر ایک عظیم طبیب کی حیثیت سے جانے جاتے ہیں۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ ان کی تمام تصنیفات کی نصف تعداد طب سے تعلق رکھتی ہے اور دوسرا سبب یہ ہے کہ لوگوں کو طبیب سے زیادہ واسطہ پڑتا ہے ۔ رازی کو طب کی تاریخ میں جو لافانی مقام ملا ہے وہ ان کے طبی کارناموں کا ثمرہ ہے۔ 
رازی کے زمانے تک مختلف قوموں کا جو طبی سرمایہ تھا وہ بکھرا ہوا اور پراگندہ تھا ۔انہوں نے اسے یکجا جمع کرکے آنے والی نسلوں کیلئے اسے محفوظ کردیا۔ علاوہ ازیں رازی نے اپنے تجربات سے بھی طب میں گراں قدراضافہ کرکے بڑی خدمت انجام دی ہے۔ انہوں نے فوری علاج کیلئے فسٹ ایڈ کا طریقہ رائج کیا۔ پارے کا لیپ متعارف کرایا اور زخمیوں کو ٹانکنے میں حیوانی آنتوںکا استعمال کیا ۔ ان کے زمانے میں اطباء مریض کودیکھے بناصرف قارورے کو دیکھ کر مرض کی تشخیص کرتے تھے۔ بعض اوقات وہ مریض کو دیکھے بنا صرف قارورے کا معائینہ کرکے مرض کا اندازہ لگایا کرتے تھے۔ رازی نے یہ طریقہ بند کردیا ۔علم الجنین ، علم تولید میں متعد د دریا فتیں ایسی ہیں جو انہیں کے نامہ اعمال کی زینت ہیں۔ انہوں نے امراض چشم کے علاج کے طریقے متعارف کرائے ۔ موتیا بند کیلئے علاج اور سرجری کا طریقہ بتایا اور چچک اور خسرے کے بارے میں پہلی دفعہ دنیا کو درست معلومات دے کر وبائی امراض پر تحقیق کی داغ بیل ڈال دی۔ 
رازی نفسیاتی علاج کے بھی ماہر تھے۔ انہوں نے نفسیاتی علاج ہی کے ذریعہ بخاراکے سامانی بادشاہ امیر منصور کا علاج کیا تھا۔ رازی نے طب میں متعدد انوکھے اور نئے نظریات پیش کئے جو دوسرے اطباء کیلئے چشم کشا تھے۔ 
رازی کی تصنیفات مشرق و مغرب میں قدر کی نگاہوں سے دیکھی جاتی تھیں۔ طبی ادارے حکماء اور حکمران ان سے مستفید ہورہے تھے۔ ۱۳۹۵ ء میں پیرس یونیورسٹی کی میڈیکل فیکلیٹی کی لائبریری میںکل نوکتابیں تھیں جن میں ایک کتاب رازی کی ’الحاوی ‘تھی۔ یورپ کے مشہور سائنسدان راجر بیکن (المتوفیٰ ۱۲۹۲ ء ) کیلئے رازی مستند حوالہ تھے۔ وہ بار بار ان کے حوالے دیتے ہیں۔ یورپ ہی کے ایک بڑے سائنسدان اور ماہر علم الابدان انڈریاس وسالیوس (المتوفیٰ ۱۵۶۴ء ) عربی زبان جانتے تھے۔ انہوں نے رازی کی کچھ کتابوں کا عربی سے آزاد ترجمہ کیا تھا جو پورے ایک سو سال تک یورپ کے ڈاکٹروں کیلئے مستند حوالہ بنا رہا۔ فرانس کے بادشاہ لوئس یا ردہم (۱۴۶۱۔ ۱۴۸۳ء) کو رازی کی کچھ کتابوں کی ضرورت پڑی۔ اس نے پیرس یونیورسٹی سے رجوع کیا۔ ایک امیر نے ضمانت دی اور بہت بڑی رقم جمع کروانی پڑی۔ تب یونیورسٹی کے حکام نے بادشاہ کو رازی کی کچھ کتابیں مستعاردیں۔ انہیں واقعہ سے اس عظیم طبیب کی تحریروں کی قدر وقیمت کا اندزاہ لگایا جاسکتا ہے۔ 
 رازی کی عظمت کا اعتراف بڑے بڑے فضلاء اور مورخوں نے کیا ہے ۔ وِل دوران کا قول ہے کہ ’’الرازی بہ اتفاق رائے مسلم اطباء میں عظیم ترین اور قرون وسطیٰ کے عظیم ترین معالج تھے۔‘‘
لمیکس میرہاف ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ’ رازی بلاشبہ دنیائے اسلام کے عظیم ترین طبیب اور تاریخ انسانی کے عظیم ترین اطباء میں سے ایک تھے۔ سائنس کے بہت بڑے مورخ جارج سارٹن نے رازی کی عبقری شخصیت کو مدنظر رکھتے ہوئے اپنی صخیم تصیف میں نویں صدی عیسوی کے نصف دوم کو ’’عہدرازی‘‘ کا عنوان دیا ہے اور اس دور میں پوری دنیاکی سائنس سرگرمیوں کا جو حال رہا ہے اس کی تفصیل ’’عہد رازی‘‘ کے ذیل میں بیان کی ہے۔ سارٹن لکھتے ہیں:۔
’’ایرانی نژاد الرازی نہ صرف اسلام اور پورے ازمنہ وسطیٰ کے سب سے بڑے طبیب تھے بلکہ وہ کیمیاداں اور ماہر طبعیات بھی تھے۔ ان کے اور ان کے ہم عصر ماہر فلکیات البتانی کے درمیان کسی ایک کا انتخاب کرنا مشکل ہوگا۔ دونوں بہت عظیم سائنس داں تھے جو کسی بھی زمانے میں ممتاز ہوتے ہیں۔ اس دور کو ’’عہد رازی‘‘ کا نام دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ کیونکہ ماہر فلکیات کی بہ نسبت طبیب کو زیادہ لو گ جانتے ہیں اور پھر یہ بھی ہے کہ ان کے اثرات کی براہ راست نشان دہی مشرق و مغرب میں کئی صدیوں پر محیط انسانی جدوجہد میں کی جاسکتی ہے۔ ‘
سارٹن نے جس دوسرے سائنس داں کا نام لیا ہے وہ ابو عبداللہ محمد بن جابر البتانی (المتوفی ۳۱۷ ھ ؍ ۹۲۹ء) میں جو تاریخ عالم کے ان بیس سرکردہ ہیئت دانوں میں شمار ہوتے ہیں جو فلکیات کے امام تھے۔ یہ بھی مسلمان تھے۔ 
مغرب کے دوسرے بڑے بڑے مصنفین نے بھی اپنی کتابوں میں رازی کا نام ادب اور احترام سے لیا ہے۔ اور بلاشبہ یہ عبقری اس کا مستحق بھی ہے۔ اسپین پر مسلمانوں نے ۷۸۱ سال تک حکومت کی ۔ ۱۴۹۲ ء میں الحمراء پر سے مسلمانوں کا جھنڈا اتارا گیا۔ اس کے بعد پورے یورپ میں اسلام دشمنی اور مسلم بیزاری کا ایسا ماحول پیدا ہوا جس کے مسموم اثرات آج بھی نمایاں ہیں مگر پیرس یونیورسٹی کے میڈیکل کالج کے ہال میں آج بھی رازی اور ابن سینا کی تصویریں آویزان ہیں۔ لسان العصر اکبر الہ آبادی (المتوفی ۱۹۲۱ء) نے پتے کی بات کہی ہے۔ خدا ان کی قبر کو نور سے بھر دے  ؎
ہوا چمن میں ہجوم بلبل کیا جو گل نے جمال پیدا کمی نہیں قدردانوں کی اکبر کرے تو کوئی کمال پیدا
اوپر کہاگیا ہے کہ رازی نفسیاتی علاج کے ماہر تھے۔ انہوں نے کتاب المنصوری کا انتساب خراسان کے سامانی بادشاہ امیر منصوربن نوح بن نصر جو براون کی رائے میں رے کے حاکم امیر منصوربن اسحاق تھے، کے نام کیا ہے۔ امیر منصور ایک مرتبہ بیمار ہوئے ۔مرض مزمن تھا۔ اطباء علاج سے عاجز ہوئے۔ آخر کار امیر نے ایک آدمی بھیج کر رازی کو بلایا۔ رازی جب سفر کے دوران دریائے حیحوںکے کنارے پہنچے تو انہوں نے دریا دیکھ کر کہا کہ میں کشتی میں نہیں بیٹھوں کا کیونکہ اللہ نے کہا ہے کہ اپنے آپ کو ہلاکت میں مت ڈالو ( القرآن) رازی نے امیر کے آدمی کو اپنی کتاب دے کر کہا کہ میں یہ کتاب ہوں۔ اس سے تمہارے مراد پوری ہوگی۔ میری کوئی ضرورت نہیں ہے۔ امیر منصور کو جب کتاب پہنچی اور رازی کے نہ آنے کا واقعہ سنا تو وہ ناراض ہوئے۔ انہوں نے اپنے آدمیوں کو ایک ہزار دینار اور ایک خاص گھوڑا مع سازو سامان دے کر تاکید کی کہ جاکر پہلے رازی کو نرمی سے سمجھا کر کشتی میں بیٹھنے پر آمادہ کرلیں۔ اگر وہ مانیں تو ٹھیک ،ورنہ جبراً ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں کشتی میں بٹھا کر دریا پار کراؤ اور یہاں لے آؤ۔ یہ لوگ رازی کے پاس پہنچے اور انہیںنرمی سے کہا کہ آپ کشتی پر سوار ہوں مگر وہ نہیں مانے۔ ناچار ان لوگوں نے ان کے ہاتھ پاؤں باندھ کر انہیں جبراً کشتی میں بٹھایا۔ جب دریا کے دوسرے کنارے پر پہنچے تو انہوں نے ان کے ہاتھ پاؤں کھول کر ان سے کہا کہ ہم سمجھے تھے کہ آپ ہم سے آزردہ ہوں گے مگر آپ ناراض نہیں ہیں۔ اس پر رازی نے ان سے کہا۔ مجھے پتہ ہے کہ سال میں بیس ہزار آدمی جیحوںسے گزرتے ہیں اور غرق نہیں ہوتے میں بھی نہیں ہوں گا مگر یہ بھی ممکن ہے کہ ڈوب جاؤں اور اگر ڈوب گیا تو قیامت تک لوگ کہیں گے کہ محمد زکریا بیوقوف شخص تھا خود ہی کشتی میں بیٹھا اور ڈوب گیا۔ یوں میں ان لوگو ں میں ہوجاتا جن کو ملامت کی جاتی ہے نہ کہ ان لوگوں میں جن کو معذور سمجھا جاتا ہے۔ رازی ان لوگوں کے ساتھ بخارا پہنچے اور امیر منصور سے ملاقات ہوگئی ۔انہوں نے ان کے مرض کا علاج کرنا شروع کیا مگر بہت دنوں تک علاج کرتے کرتے عاجز آگئے۔ ایک دن انہوں نے امیر سے کہا کہ کل میں نیا علاج کروں گا۔ مجھے اس کے لئے فلاں گھوڑے اور خچر کی ضرورت پڑے گی۔ دوسرے دن انہیں مطلوبہ گھوڑا اور خچر جو دونوں برق رفتار تھے۔ فراہم کئے گئے۔ رازی امیر کو ایک حمام میں لے گئے ۔ گھوڑے اور خچر کو حمام کے باہر باندھ دیا اور رکاب داری کا کام اپنے غلام کو سونپا۔ اس کے بعد انہوں نے حمام سے تمام نوکر چاکر باہر نکالے اور اسے بالکل خالی کرایا۔ حمام خالی ہونے پر رازی نے امیر کو حمام کے درمیانی حصے میں بٹھایا اور ان کے جسم پر نیم گرم پانی ڈالتا رہا۔ اس کے بعد ایک شربت کو جو انہوں نے خود ہی تیار کی تھی زبان سے چکھا۔ اور پھر وہی شربت امیر کو پلادی۔ انہوں نے اس وقت تک امیر کو حمام میں رکھا جب ان کے جوڑوں کے اخلاط میں نفع ظاہر ہوا۔ اس کے بعد رازی گئے اور کپڑے لگا کر آئے اور امیر کے روبرو کھڑے ہوگئے اور انہیں برا بھلا کہتے ہوئے بولے کہ اے فلانے ! تو نے کیوں حکم دیا تھا کہ مجھ کو باندھیں اور کشتی میں ڈال دیں۔ کیوں میرے خون کے درپے ہوئے تھے۔ اگر اس کے بدلے میں تیری جان نہ لوں تو میں زکریا کا بیٹا نہیں ہوں۔ امیر منصور کو بہت غصہ آیا۔ وہ اپنی جگہ سے زانوتک اٹھے۔ رازی نے چاقو نکالا اور امیر پر زیادہ سختی کی۔ غصے اور خوف سے امیر منصور کھڑے ہوگئے۔ رازی نے جب دیکھا کہ امیر اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے توواپس ہوئے اور حمام سے باہر نکلے ۔ رازی گھوے پر اور غلام خچر پر سوار ہوئے۔ عصر کی نماز تک وہ مروپہنچ چکے تھے۔ مرو میں اتر کر انہوں نے امیر کو خط لکھا کہ بادشاہ کی عمر دراز ہو۔ خادم نے علاج کی ہر ممکن کوشش کی مگر حرارت عزیزی پورے ضعف کے ساتھ موجود تھی۔ طبع علاج میں بہت وقت لگ جاتا اس لئے میں نے اسے ترک کیا اور نفسانی علاج کیا ۔میں نے آپ کو حمام میں لیا اور شربت دے کر چھوڑا تاکہ اخلاط میں نفع ہو۔ پھر خادم نے بادشاہ کو غصہ دلایا تاکہ حرارت عزیزی کو مزید مدد ملے اور اس طریقے سے مدد ملی یہانتک کہ اخلاط جو پہلے ہی نرم ہوئے تھے، تحلیل ہوگئے۔ اب اس کے بعد مناسب نہ تھا کہ بادشاہ اور خادم ایک جگہ رہیں۔ 
امیر جب اپنے پاؤں پر کھڑے ہوگئے اور رازی سوار ہوکر بھاگ گئے تھے۔ امیر اچانک بیہوش ہوگئے جب وہ ہوش میں آگئے تو اپنے پاؤں پر چل کر حمام سے نکل آئے۔ انہوں نے اپنے نوکروں کو آوازدی کہ طبیب کہاں گیا؟ ان لوگوں نے جواب دیا کہ وہ حمام سے نکل کر گھوڑے پر سوار ہوئے ان کے غلام خچر پر سوار ہوئے۔ وہ دونوں چلے گئے۔ 
امیر منصور سمجھ گئے کہ رازی کا مقصد کیا تھا۔ شہر میں امیر کے پاؤں پر کھڑے ہوکر حمام سے باہر نکل آنے کی خبر پھیل گئی تو ہر طرف خوشی کا ماحول تھا۔ لوگوں نے صدقے کے اور قربانیاں دیں۔ جشن منائے گئے مگر طبیب کو تلاش کیا وہ نہ ملے ۔ساتویں روز رازی کا غلام خچر پر سوار ہوکر شہر میں داخل ہوا۔ اس کے ساتھ وہ گھوڑا بھی تھا جس پر رازی سوار ہوئے تھے۔ غلام بادشاہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور اور رازی کا خط پیش کیا۔ بادشاہ امیر منصور نے خط پڑھا اور تعجب کیا۔ انہوں نے رازی کاعذر قبول کیا اور انہیں خلعت ، گھوڑا ،زین، جبہ ، دستار ، ہتھیار ایک غلام اور کنیز عطا کی ۔نیز انہوں نے حکم دیا کہ رے میں مامون کی املاک میں سے ہر سال دوہزار دینار سونا اور دوسو خردار غلہ ان کے نام جاری کیا جائے۔ امیر منصور نے اس خلعت اور اس روزینہ کو ایک مشہور شخص کے ہاتھ مرو بھیجا۔ امیر مکمل طور صحتیاب ہوئے اور رازی بامرادہوکرگھرپہنچ گئے۔ 
یہ تھے ابو بکر محمد بن زکر یا رازی جو عظیم سائنسداں ، شہرہ آفاق طبیب اور یگانہ روز گار ماہر نفسیات تھے۔ (ختم شد)
رابطہ۔حدی پورہ رفیع آباد،بارہمولہ کشمیر