تازہ ترین

کون کٹھ پتلی ہے ایوانِ تماشہ کس کا؟

یمناکنارے

تاریخ    19 اپریل 2021 (00 : 12 AM)   


سہیل انجم
سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی نے ایودھیا معاملے میں متنازعہ فیصلہ سنا کر جو لکیر کھینچی تھی وہ اب بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ یہ بتانے کی چنداں ضرورت تو نہیں، لیکن آموختہ کوئی بری چیز بھی نہیں ہے، ا س لیے یہ یاد دلا دیتے ہیں کہ فیصلہ سنائے جانے سے قبل کس طرح ایک ماحول بنایا گیا تھا اور پورے ملک میں یہ پرچار کیا گیا تھا کہ عدالت جو بھی فیصلہ سنائے گی اسے عوام تسلیم کریں گے۔ مسلم رہنماؤں اور سرکردہ شخصیات سے بار بار یہ بیان دلوایا جا رہا تھا کہ اگر ہمارے خلاف بھی فیصلہ آیا تب بھی ہم مانیں گے۔ اس طرح اس وقت ملک میں ایک ایسی فضا بنا دی گئی تھی جیسے ملک کے دو بڑے فرقوں نے ماضی کی اپنی تمام تلخیوں کو پس پشت ڈال کر اور رام مندر کے نام پر چلائی جانے والی تحریک کے نتیجے میں ہونے والی خوں ریزی کو بھلا کر آگے بڑھنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ جب عدالت عظمیٰ نے فیصلہ سنانا شروع کیا تو ساری باتیں بابری مسجد کے حق میں کہی گئیں۔ ایسا لگ رہا تھا کہ دوسرا فریق دھراشائی ہونے والا ہے۔ لیکن جب فیصلے کا سب سے اہم حصہ پڑھا گیا تو بساط الٹ گئی اور مسلمان چاروں شانے چت ہو گئے۔ اس کے بعد ہی رنجن گوگوئی اپنے منصب سے سبکدوش ہو گئے۔ انھوں نے جاتے جاتے رام مندر کی مہم چلانے والوں کو خوش کر دیا۔ اس کے ساتھ ہی مسلمانوں کو انھوں نے ایسا زخم دے دیا جس کی ٹیس ہمیشہ قائم رہے گی۔ فیصلے پر طرح طرح کے ردعمل سامنے آئے اور یہ شبہ ظاہر کیا جانے لگا کہ ہو نہ ہو چیف جسٹس نے اندرون خانہ حکومت یا حکمراں جماعت سے کوئی معاہدہ کر لیا ہے۔ جن کے حق میں فیصلہ سنایا گیا تھا ان لوگوں کی جانب سے ایسے کسی معاہدے سے انکار کیا گیا۔ لیکن ابھی اس فیصلے کی سیاہی بھی خشک نہیں ہوئی تھی کہ بلی تھیلے سے باہر آگئی۔ جسٹس رنجن گوگوئی کو حکومت کی جانب سے پارلیمنٹ کے ایوان بالا یعنی راجیہ سبھا کا رکن نامزد کر دیا گیا۔ اس واقعے کے بعد تو جو لوگ اندرون خانہ کسی معاہدے کے امکان کو تسلیم کرنے سے جھجک رہے تھے ان کو بھی اس پر یقین آگیا۔ ابھی چند روز قبل سپریم کورٹ کے ایک سینئر وکیل نے گفتگو کے دوران کہا کہ جسٹس رنجن گوگوئی کا راجیہ سبھا کی سیٹ قبول کرنا ہندوستان جیسے ملک کے چیف جسٹس کے شایان شان نہیں تھا۔ بلکہ ان کے الفاظ میں انھوں نے یہ پیشکش قبول کرکے اپنی تذلیل کروا لی۔ چیف جسٹس کا منصب بہت بلند ہوتا ہے۔ اس کی تو وہ شان ہے کہ وہ صدر جمہوریہ کو عہدے اور رازداری کا حلف دلاتا ہے۔ لہٰذا ا ن کا مذکورہ پیشکش کو قبول کرنا کچھ اچھا نہیں لگا۔
اس آموختے کی ضرورت کیوں پڑی؟ اس لیے کہ جیسے شروع میں عرض کیا گیا کہ رنجن گوگوئی نے جو لکیر کھینچی تھی وہ اب بڑی ہوتی جا رہی ہے۔ ان کے نقش قدم پر چلتے ہوئے لکھنؤ کی خصوصی سی بی آئی کے جج سریند رکمار یادو نے بابری مسجد انہدام کے تمام ملزموں کو جن میں ایل کے ایڈوانی، مرلی منوہر جوشی، اوما بھارتی، ونے کٹیار اور جانے کتنے بڑے بڑے نام تھے، الزامات سے بری کر دیا تھا اور یہاں تک کہا تھا کہ بابری مسجد ڈھانے کا کوئی ثبوت ہی نہیں ملا اور یہ کہ اسے کسی نے ڈھایا نہیں بلکہ وہ از خود گر گئی۔ انھی سریندر کمار یادو کو اب اترپردیش کا ڈپٹی لوک آیوکت مقرر کر دیا گیا ہے۔ گویا رنجن گوگوئی کی طرح انھیں بھی انعام مل گیا۔ لیکن چونکہ گوگوئی کا کارنامہ کافی بڑا تھا اس لیے انھیں بڑا انعام دیا گیا اور جلد دیا گیا۔ جبکہ یادو جی کا کارنامہ اس سے کچھ ہلکا تھا اس لیے چھوٹا انعام دیا گیا اور فوراً نہ دے کر کچھ انتظار کروایا گیا۔ انھیں بابری مسجد انہدام کے ذمہ داروں کو بری کرنے کا انعام پانے کے لیے ایک سال پانچ ماہ تک انتظار کرنا پڑا۔ جب وہ اپنے منصب پر فائز تھے تو انھیں حکومت کی جانب سے سیکورٹی ملی ہوئی تھی۔ سبکدوشی کے بعد سیکورٹی واپس لے لی گئی۔ حالانکہ انھوں نے عدالت عظمیٰ سے سیکورٹی برقرار رکھنے کی گذارش کی تھی لیکن اس وقت وہ گذارش نہیں مانی گئی البتہ بعد میں انھیں پھر سیکورٹی دے دی گئی۔ اب وہ ریاست کے ڈپٹی لوک آیوکت کے منصب پر فائز ہو گئے ہیں تو ظاہر ہے اسے انعام ہی کہا جائے گا۔ انھیں اب اس انعام کی لاج رکھنی ہے اور جو خدمت انھوں نے پہلے انجام دی تھی اسی طرح کی خدمت انھیں پھر انجام دینی ہے۔ یعنی اب وہ  ایسے کام کریں گے جو حکومت وقت کو اور خاص طور پر انھیں جنھوں نے انھیں اس انعام و اکرام سے نوازا ہے خوش کرنے کی کوشش کرتے رہیں۔ وہ ایسا کیوں نہ کریں جبکہ انھیں ایسا کرنے کی ہی ذمہ داری دی گئی ہے۔ 
اس ملک میں ایک لوک پال بھی ہے۔ لیکن بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ لوک پال کے منصب پر کون فائز ہے۔ لہٰذا بتا دیتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس پناکی چندر گھوش کو مارچ 2019 میں لوک پال کے منصب پر بٹھایا گیا ہے۔ لیکن انھوں نے کیا اپنی ذمہ داری ادا کی ہے یا کر رہے ہیں کسی کو نہیں معلوم۔ جبکہ ڈاکٹر من موہن سنگھ کے دور حکومت میں انا ہزارے نے جو کرپشن مخالف مہم چلائی تھی اس کا مرکزی خیال ہی لوک پال کا قیام تھا۔ بی جے پی نے بھی اس معاملے کو خوب اچھالا تھا۔ لیکن اب جبکہ بی جے پی کی حکومت ہے تو لوک پال کیا کر رہا ہے کسی کو خبر نہیں۔ دراصل موجودہ لوک پال بھی اس عہدے کو اپنے لیے انعام سمجھ رہے ہوں گے۔ لہٰذا اس انعام کی لاج ان کو بھی رکھنی ہے۔ یہ عجیب معاملہ ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے ملک میں قائم سابقہ اچھی روایتوں کو یکے بعد دیگرے ختم کیا جا رہا ہے اور نئی نئی روایتیں قائم کی جا رہی ہیں۔ اب ایک نئی روایت یہ قائم ہوئی ہے کہ اپنی مدت کار کے آخری دنوں میں ایسے کارنامے انجام دے دو جنھیں دنیا یاد رکھے۔ رنجن گوگوئی نے اپنی سبکدوشی سے عین قبل مذکورہ فیصلہ سنایا اور سریندر یادو نے بھی اپنی مدت کار کے آخری دن فیصلہ سنایا تھا۔ اب بنارس کی گیان واپی مسجد کا سروے کرنے کا فیصلہ جس جج یعنی آشوتوش تیواری نے سنایا ہے تو انھوں نے بھی وہی روش اختیار کی ہے۔ حالانکہ ان کے تبادلے کی خبر بعد میں آئی لیکن اس سے قبل کہیں اڑتی پڑتی خبر آئی تھی کہ جسٹس آشوتوش تیواری کا تبادلہ شاہجہاں پور کر دیا گیا ہے اور انھوں نے وہاں کا چارج لینے سے قبل بنارس کی سول عدالت میں اپنی مدت کار کے آخری دن وہ فیصلہ سنایا۔ کیا پتہ ان کے دل میں بھی کچھ خواہشیں بیدار ہوئی ہوں۔ حالانکہ ہم ان کی نیت پر شبہ نہیں کر رہے ہیں اور کسی جج کی نیت پر شبہ کرنا بھی نہیں چاہیے۔ لیکن جس طرح انھوں نے ’’پلیسز آف ورشپ ایکٹ 1991‘‘ یعنی عبادت گاہ قانون 1991کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مذکورہ حکم دیا انھوں نے اس کے ساتھ خود ہی شکوک و شبہات کا دروازہ وا کر دیا۔ انھوں نے صرف یہی نہیں کہ مذکورہ قانون کی خلاف ورزی کی بلکہ ایک مسلمہ عدالتی ضابطے کی بھی خلاف ورزی کی۔ گیان واپی مسجد کے سروے کی درخواست اس سے قبل الہ آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی تھی جس پر سماعت کے بعد عدالت نے روک لگا دی تھی۔ لیکن جب اسی قسم کی ایک درخواست وکیل وجے شنکر رستوگی نے بنارس کی سول عدالت میں داخل کی تو انھوں نے نہ صرف یہ کہ اس پر سماعت کی بلکہ حکم بھی صادر کر دیا۔
معاملہ یہیں تک محدود نہیں ہے۔ شاہی عیدگاہ متھرا کے خلاف بھی ایک پٹیشن متھرا کی سول کورٹ نے ایڈمٹ کر لی ہے۔ حالانکہ وہ بھی 1991 کے قانون کے منافی ہے۔ یہ پٹیشن ضلع جج سادھنا رانی ٹھاکر نے ایڈمٹ کی ہے۔ جبکہ اس سے قبل اسی پٹیشن کو ایک سینئر سول جج چھایا شرما خارج کر چکی تھیں۔ ظاہر ہے انھوں نے مذکورہ قانون کی روشنی میں اسے خارج کیا تھا۔ لیکن سادھنا رانی نے اس سے الٹ قدم اٹھایا۔ اب دیکھیے وہاں کیا ہوتا ہے۔ یہاں یہ ذکر بھی برمحل ہوگا کہ عبادت گاہوں کے تحفظ کے لیے وضع کیے گئے 1991 کے قانون کو بھی سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا ہے۔ اس کی بنیاد یہ بنائی گئی ہے کہ یہ قانون مذہبی آزادی کے خلاف ہے۔ (حالانکہ ملک میں اب مذہبی آزادی کتنی بچی ہے یہ بحث کا الگ موضوع ہے)۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ عدالت عظمیٰ اس بارے میں کیا رخ اختیار کرتی ہے۔ واقعی دیش بدل رہا ہے۔ روایتیں بدل رہی ہیں۔ وفاداریاں تبدیل ہو رہی ہیں۔ وفاداریوں کے عوض انعام و اکرام کی بارشیں ہو رہی ہیں۔ بہرحال  ؎
کون کٹھ پتلی ہے ایوانِ تماشہ کس کا
پس ِ پردہ تو حقیقت یہاں سب جانتے ہیں
موبائل نمبر۔ 9818195929