تازہ ترین

ماہ مقدس میں ڈوڈہ میں بھی بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی

عوام محکمہ کی کارکردگی سے ناخوش، لوڈ شیڈنگ کے باعث نظام میں خلل:اے ای

تاریخ    18 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


اشتیاق ملک
ڈوڈہ //لیفٹیننٹ گورنر کی طرف سے رمضان المبارک میں بنیادی سہولیات کی فراہمی و باالخصوص سحری و افطاری کے وقت بجلی دستیاب رکھنے کی ہدایات کے باوجود انتظامیہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے عوامی و سرکاری کام کاج بھی متاثر ہوتا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے مقامی لوگوں نے کہا کہ ماہ رمضان کا آغاز ہوتے ہی بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہوئی ہے۔ سابق سرپنچ لیاقت علی شیخ کی قیادت میں وفد نے بتایا کہ سحری، افطاری و تراویح کے اوقات میں بجلی غائب رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک گھنٹہ میں چھ سے آٹھ مرتبہ بجلی آتی جاتی ہے۔ وفد میں شامل سرپنچ دانش ملک نے کہا کہ ایل جی انتظامیہ کی ہدائت کے باوجود زمینی سطح پر نوراترا و رمضان المبارک کے دوران لوگوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ پچھلے سولہ گھنٹے سے بجلی غائب ہے۔سابق سرپنچ و سیاسی کارکن ٹھاٹھری شمیم احمد بٹ نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ رمضان سے پہلے بجلی معمول کے مطابق چل رہی تھی لیکن یہ مقدس ماہ شروع ہوتے ہی بجلی میں کٹوتی ہو رہی ہے۔مقامی لوگوں نے حکام سے بجلی کا شیڈول مرتب کرکے سحری، افطاری و تراویح کے اوقات میں بجلی دستیاب رکھنے کا مطالبہ کیا ہے۔اس سلسلہ میں جب کشمیر عظمیٰ نے ا سسٹنٹ ایگزیکٹیو انجینئر محکمہ بجلی سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ لوڈشیڈنگ کی وجہ سے بجلی بجلی نظام میں خلل پیدا ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان اوقات میں زیادہ تر ہیٹر و بائلر کا استعمال ہوتا ہے۔انہوں نے لوگوں سے اپیل کی کہ وہ ہیٹر و بائلر کا استعمال کرنا بند کریں تاکہ بجلی شیڈول کے مطابق جاری رہ سکے۔