تازہ ترین

تحقیق کاطریقہ کار،کشمیریونیورسٹی میں10 روزہ ورکشاپ مکمل | سکالرعام اشاعتوں کے بجائے معیاری رسالوں کا مطالعہ کریں :پرفیسرناوچو

تاریخ    18 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


نیوز ڈیسک
سرینگر//کشمیر یونیورسٹی میں تحقیق کے طریقۂ کار پر جاری 10روزہ ورکشاپ سنیچر کو اختتام پذیر ہوا۔ ورکشاپ کا اہتمام یونیورسٹی کے شعبہ ماحولیاتی سائنس نے کیا تھا۔ بائیولاجیکل سائنس سکول کے ڈین اور امتحانات کے کنٹرولر پروفیسر ارشاد احمد ناوچو ، جنہوںنے اختتامی تقریب کی صدارت بطور مہمان خصوصی کی، نے بہتر تحقیقی نتائج کیلئے مضبوط اور موثر تحقیق کی اہمیت پر زور دیا۔ انہوںنے کہاکہ طریقۂ کار حتمی نہیں ، اس میں تحقیق کے دوران ترمیم کی جاسکتی ہے اور نوجوان سکالروں پر زور دیا کہ وہ عام اشاعتوں کے بجائے معیاری اشاعتوں کا مطالعہ کریں۔ ارضیات اور ماحولیاتی سائنس سکول کے ڈین پروفیسر شمیم احمد شاہ ، جو مہمان ذی وقار تھے، نے تحقیق کے مختلف پہلوئوں، مضامین کے انتخاب، خاکے بنانا، طریقہ کار کو چننا اور تحقیقی کام کی منصوبہ بندی کرنے پر زوردیا۔ ورکشاپ کے ڈائریکٹر اور ماحولیاتی سائنس شعبہ کے سربراہ پروفیسر فیاض احمد نے 10روزہ ورکشاپ کے مقاصد پر روشنی ڈالی۔ڈاکٹر محمد مسلم نے ورکشاپ پر رپورٹ پیش کی جس میں 20تکنیکی سیشن منعقد ہوئے۔ ورکشاپ میںمختلف شعبوں ، جن میں زالوجی، باٹونی، اینورامنٹل سائنس اور CORDشامل ہیں، کے70درخواست دہندگان نے رجسٹریشن کی اور ان کا تعلق مختلف دانشگاہوں، جن میں کشمیر یونیورسٹی، سینٹرل یونیورسٹی آف کشمیر اور بابا صاحب بھیم رائو امبیڈکر یونیورسٹی لکھنو شامل ہیں، سے تھا۔ ڈاکٹر سمیع اللہ بٹ نے کہا کہ کیسے ریسرچ سکالر تحقیقی مضامین انتخاب کریں جبکہ ڈاکٹر محمد ارشاد نے شکریہ کی تحریک پیش کی۔