تازہ ترین

۔ 2 جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافہ | روس کی بھی اعلیٰ امریکی عہدیداروں پر پابندیاں

تاریخ    18 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


یو این آئی
ماسکو// امریکہ اور روس کی درمیان کشیدگی بڑھ رہی ہے اور امریکہ کی طرف سے روس پر پابندیاں لگانے کے ردعمل میں روس نے بھی اعلیٰ امریکی عہدیداروں پر پابندیاں لگا دی ہیں۔ روس نے یہ اقدام ایک روز قبل امریکہ کی طرف سے 10 روسی سفارت کاروں کو امریکہ سے بے دخل کرنے کے بعد کیا ہے۔ امریکی پابندیوں کا مقصد روس کو گذشتہ سال امریکی انتخابات میں مداخلت کرنے، سائبر ہیکنگ، یوکرائن میں چھیڑ چھاڑ کرنے اور دوسری مبینہ خطرناک کارروائیوں پر سزا دینا بتایا گیا ہے۔روس نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی اٹارنی جنرل میرک جیرالڈ، جو بائیڈن کی چیف ڈومیسٹک پالیسی ایڈوائزر سوسن رائس اور ایف بی آئی کے چیف کرسٹوفر رے کے روس میں داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔عام طور پر جن افراد پر پابندی لگائی جاتی ہے ان کے نام صیغہ راز میں رکھے جاتے ہیں، لیکن روس کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ’غیرمعمولی نوعیت‘ کی کشیدگی کی وجہ وہ یہ نام ظاہر کر رہے ہیں۔وزیر خارجہ سرگئی لارؤو نے صحافیوں کو بتایا کہ روس نے امریکہ کی طرف سے لگائی جانے والی پابندیوں کا جواب دیتے ہوئے ایسا کیا ہے۔ان کا کہنا تھا کہ روسی صدر کے خارجہ پالیسی کے مشیر یوری اوشاکوؤ نے تجویز دی ہے کہ امریکی سفارت کار جان سولیوان واشنگٹن جائیں اور حکام سے ’سنجیدگی کے ساتھ مشورہ کریں۔‘امریکی سفارت کار جان سولیوان نے کہا ہے کہ انہوں نے روسی وزارت خارجہ کی ویب سائٹ پر پیغام دیکھا ہے اور وہ واشنگٹن کے ساتھ رابطے میں ہیں۔انہوں نے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’ہمیں ابھی تک سرکاری سطح پر ایسا کوئی پیغام نہیں ملا جس سے روسی حکومت کے اقدامات کا پتا چلے۔‘امریکی سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ نے روس کے اس عمل کو ’کشیدگی بڑھانے والا اور قابل افسوس‘ قرار دیا ہے۔سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’کشیدگی کو بڑھانا ہمارے مفاد میں نہیں ہے، لیکن ہم روس کو جواب دینے کا حق رکھتے ہیں۔‘
 
 
 

نیٹوکی امریکہ کو حمایت

برسلز// مغربی دفاعی اتحاد نیٹو نے امریکا کی جانب سے روس پر نئی پابندیوں کی حمایت کردی۔ نیٹو نے ایک بیان میں کہا کہ اتحادی ممالک روس کی طرف سے عدم استحکام کی سرگرمیوں کے جواب میں امریکا کے اقدامات کی حمایت کرتے ہیں اور امریکا کے ساتھ ہیں۔ اتحادی ممالک انفرادی اور اجتماعی دونوں سطح پر اتحاد کی اجتماعی سیکورٹی میں اضافہ کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔ یورپی یونین نے بھی امریکا کے ساتھ اتحاد کا اعلان کیا ہے اور کہا کہ ہیکنگ کی وجہ سے یورپی یونین کے مفادات بھی متاثر ہوچکے ہیں۔ دوسری جانب روس نے امریکی پابندیوں کا جلد جواب دینے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے امریکا پر الزام عائد کیا کہ وہ 2 جوہری طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں خطرناک حد تک اضافہ کر رہا ہے۔
 
 
 

جاسوسی کے الزام میں یوکرائنی سفارت کار کی گرفتاری

 ماسکو// روس نے جاسوسی کے الزام میں یوکرائن کے سفارت کار کو حراست میں لے لیا۔روس کی خودمختار خبر رساں ایجنسی انٹر فیکس کے مطابق ایف ایس بی( فیڈرل سیکیوریٹی سروس) نے سفارت کار اولیک سینڈر سوسونیوک کواس وقت گرفتار کیا، جب وہ ایک روسی شہری سے روس کے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ڈیٹا بیس میں موجود خفیہ معلومات حاصل کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔یوکرائنی وزارت خارجہ نے سوسونیوک کو حراست میں لیے جانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ اولیک سینڈر کو چند گھنٹے حراست میں رکھ کر سینٹ پٹس برگ میں واقع یوکرائنی سفارت خانے واپس بھیج دیا گیا۔ یوکرائن نے سوسونیوک کی حراست کو سفارتی آداب کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ روسی فیڈریشن میں ایک سفارت کار کے ساتھ اس طرح کا سلوک نا مناسب ہے، کیوں کہ غیر ملکی سفارت کاروں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق برتاؤ کیا جاتا ہے۔روس ماضی میں بھی یوکرائنی شہریوں کو جاسوسی کے الزام میں حراست میں لیتا رہا ہے تاہم کسی سفارت کار کو حراست میں لینے کا واقعہ شازو نادر ہی پیش آیا ہے۔ 
 

تازہ ترین