تازہ ترین

مبینہ پولیس چھاپے کے دوران خاتون کی موت

میرک شاہ کالونی حبک میں احتجاجی مظاہرے،تحقیقات کا مطالبہ

تاریخ    16 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ارشاد احمد
سرینگر//سرینگر کے مضافاتی علاقے بٹہ پورہ حبک کی میرک شاہ کالونی میں دوران شب ایک گھر پرپولیس کے مبینہ چھاپے کے دوران خاتون کی حرکت قلب بند ہونے کے نتیجے موت کے واقع ہونے کے خلاف مقامی آبادینے کل احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے اس واقعہ کی غیرجانبدارنہ تحقیقات اور انصاف دلانے کی مانگ کی ہے۔مظاہرین میں شامل مہلوک خاتون کی رشتہ دار نے کشمیر عظمی کو بتایا کہ میرک شاہ کالونی میں غلام محمد ڈار کے گھر پر پولیس نے دوران شب چھاپہ ڈالا جس دوران انہوں نے غلام محمد کے فرزند جاوید کو طلب کیا جو کہ دوسری منزل میں سویا ہوا تھا۔اس موقع پر پولیس اہلکاروں نے زور زبردستی سے جاوید احمد کو اپنے ساتھ لے جانے کی کوشش کی تاہم اس موقع پر غلام محمد نے اپنے بیٹے کو لے جانے نہیں دیا۔مظاہرین نے بتایا کہ غلام محمد نے پولیس اہلکاروں سے کہا کہ وہ بھی اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہے تاہم پولیس اہلکار زور زبردستی سے جاوید احمد کو کھینچ کر باہر لے گئے جس دوران غلام محمد کی اہلیہ مسماتہ خدیجہ ہر طرف پولیس کی بھاری نفری اور ان کی زور زبردستی دیکھ کر غش کھاکر گرپڑیجسے دیکھنے کے لئے پولیس کے اہلکار آگے آئے اور جب انہوں نے خاتون کی یہ حالت دیکھی تو جاوید احمد کو چھوڑ دیا تاہم جاتے وقت اس کا موبائل فون اپنے ساتھ لے گئے اور اسے زکورہ پولیس تھانہ پر حاضر ہونے کو کہا۔اس موقع پر خاتون کو نزدیکی طبی مرکز منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں کے مطابق اس کی موت واقع ہوچکی تھی جبکہ ڈاکٹروں کے مطابق موت کی وجہ حرکت قلب بند ہونے سے سے ہوئی تھی۔اس واقعہ کے خلاف مقامی آبادی جن میں خواتین کی کثیر تعداد بھی شامل تھی،نے جمعرات کو احتجاجی مظاہرے کئے اور اس معاملے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی مانگ کی ۔مظاہرین میں شامل متوفی کی بیٹی جونابینا ہے ،نے کہا کہ دوران شب اڑھائی بجے زکورہ پولیس تھانہ سے وابستہ اہلکار ہمارے گھر زبردستی داخل ہوئے اور میرے بھائی جاوید احمد کو پکڑنا چاہتے تھے ۔انہوں نے کہا کہ پولیس نے زبردستی بھائی کو گھسیٹ کر لے جانے کی کوشش کی اوریہ سارا منظر میری والدہ کو برداشت نہیں ہوا اوروہ دل کا دورہ پڑنے سے فوت ہوئی ۔