تازہ ترین

رمضان المبارک آتے ہی گراں فروشی عروج پر

سبزیاں ، پھل اور اشیایہ ضروریہ کی قیمتیں آسمان چھُو گئیں، عوام حالات کے رحم و کرم پر

تاریخ    16 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


اشفاق سعید
 سرینگر // ناجائز منافع خوروں نے روایت کو برقرار رکھتے ہوئے اشیاء ضروریہ خاص کر پھلوں اور سبزیوں کے دام بڑھا کر پھر سے ماہ رمضان المبارک میں عام شہریوں کو دو دو ہاتھوں سے لوٹنا شروع کر دیا ہے اور انتظامیہ کی خاموشی پر عوام حیران ہیں۔ محکمہ امور صارفین و عوامی تقسیم کاری کی جانب سے مشتہر کئے گے نرخ نامے ردی کی ٹوکری کی نذر کئے گئے ہیں۔ صافین کاکہنا ہے کہ سبزیوںسمیت پھلوں کی قیمتیں آسمان چھو رہی ہیں ۔صارفین کاکہنا ہے کہ جب بھی ماہ رمضان شروع ہوتا ہے تو قیمتوں کو کم کرنے یا پھر اعتدال پر رکھنے کے بجائے ناجائز فائدہ اٹھا کر کچھ خودغرض عناصر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ کر کے عوام کی پریشانی بڑھاتے ہیں۔شہر کے اکثر علاقوں سے لوگوں نے کشمیر عظمیٰ کو بتایا کہ 2 دنوں میں پھلوں اور سبزیوں کی قیمتوں میںحد درجہ اضافہ کر دیاگیا ہے۔لوگوں کا کہنا ہے کہ آلو ، پیاز ، ٹماٹر ، پالک ، شلغم ، بنڈی ، گاجر سمیت دیگر سبزیوں کے دام بڑھا دئے گئے ہیںجبکہ سیب ، انگور ، کیلا اور سنترے بھی مہنگے داموں فروخت کئے جارہے ہیں اور یہ سب کچھ انتظامیہ کی ناک کے نیچے ہو رہا ہے۔مرغ ،جو پہلے  120 سے130 روپے فی کلو گرام فروخت کیا جاتا تھا ،وہ اب170روپے میں فروخت ہو رہا ہے  جبکہ قصاب بھی ناجائز منافع خوری میں پیچھے نہیں ہیں۔سرکاری نرح ناموں کے مطابق اگرچہ اوجڑی سمیت گوشت کی قیمت 490مقرر ہے لیکن 535روپے میں بھی صارفین کو کم سے کم سو گرام اجڑی دیکر ان کو لوٹ رہے ہیں ۔لوگوں کا کہنا ہے کہ یہاں سرکار نے اگرچہ قیمتوں کے نرح نامے مقرر کئے ہیں لیکن جو مارکیٹ کا حال ہے اس کو دیکھتے ہوئے ایک عام شہری نہ سبزیاں خریدنے کے قابل ہے اورنہ ہی پھل اور دیگر اشیا ء خریدنا اس کے بس کی بات رہ گئی ہے ۔صارفین نے بتایا کہ رمضان المبارک سے قبل ہی گراں فروشوں نے عوام کی جیبیں کاٹنا شروع کردی ہیں ۔لوگوں نے مزید بتایا کہ دنیا بھر کے ممالک اپنے شہریوں کو تہواروں پر اشیائے خورد و نوش سمیت اشیائے ضرورت کی قیمتوں کوکم کردیتے ہیںلیکن وادی میں اس مقدس مہینے میں ناقابل برداشت حد تک قیمتیں بڑھ جاتی ہیں ۔لوگوں کاالزام ہے کہ قیمتوں کو اعتدال پر رکھنے کیلئے بھی محکمہ فوڈ کی کوئی ٹیم بازاروں میں دکھائی نہیں دیتی ہے اور لوگوں کو حالات کے رحم وکرم پر چھوڑ دیا گیا ہے ۔ کشمیر عظمیٰ نے اس بارے میں جب محکمہ خوراک ورسدات کے ڈائریکٹر سے متعدد بار فون پر رابطہ قائم کرنے کی کوشش کی لیکن کوئی جواب نہیں دیا گیا۔ محکمہ ناپ تول کا کہنا ہے کہ ان کی 2 ٹیمیں دو روز سے مارکیٹ میں ہیں جنہوں نے چیزوں میں ملاوٹ ، کم ناپ تول اور لفافہ بند اشیاء میں کمی پر 14ناجائزمنافع خوروں کے خلاف قانونی کارروائی عمل میں لائی ہے ۔محکمہ کے ایک اعلیٰ افسر نے کشمیر عظمیٰ کے ساتھ بات کرتے ہوئے کہا کہ 4سبزی فروش ،3میوہ فروش، 2کریانہ مالکان ،2مرغ فروش اور 3دیگر کے خلاف کارروائی عمل میں لائی گئی اور 10,300روپے کا جرمانہ وصول کیا گیا ہے۔ 

تازہ ترین