تازہ ترین

فکری اختلاف…متوازن رویہ

فکر وفہم

تاریخ    16 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


ڈاکٹرامتیازعبدالقادر
غلبہ دین کے بارے میںغامدی صاحب لکھتے ہیں؛’رسالت یہ ہے کہ نبوت کے منصب پرفائزکوئی شخص اپنی قوم کے لئے اس طرح خداکی عدالت بن کرآئے کہ اس کی قوم اگراسے جھٹلادے تواس کے بارے میںخداکافیصلہ اسی دنیامیںاس پرنافذکرکے وہ حق کاغلبہ عملََااس پرقائم کردے:’’اورہرقوم کے لئے ایک رسول ؑہے ۔پھرجب ان کاوہ رسولؑ آجائے توان کے درمیان انصاف کے ساتھ فیصلہ کردیاجاتاہے اوران پرکوئی ظلم نہیںکیاجاتا۔‘(یونس۴۷)
رسالت کایہی قانون ہے جس کے مطابق خاص نبیﷺکے بارے میںقرآن کاارشادہے:ـ’وہی ہے جس نے رسولؑ کوہدایت اوردینِ حق کے ساتھ بھیجاکہ اسے وہ(سرزمین عرب کے)تمام ادیان پرغالب کردے۔‘(الصف ۹)۔۔۔‘(میزان۷۲)
قرآنی آیات سے استدلال کرکے ان کامانناہے کہ اظہارِدین رسولوںکے ساتھ خاص تھااوریہ دلیلِ نبوت میںسے ہے۔امتِ مسلمہ کویہ کام نہیںسونپاگیاہے۔امت کاکام شہادتِ حق اورانذارِعام ہے۔بطورِدلیل سورہ توبہ کی آیت ۱۲۲کاحوالہ دے کے وہ لکھتے ہیں:’لوگوںکودین پرقائم رکھنے کے لئے ’انذار‘کی ذمہ داری اب قیامت تک اس امت کے علماء اداکریںگے۔علماء کی یہ ذمہ داری سورئہ توبہ میںاس طرح بیان ہوئی ہے۔۔۔‘(میزان ۷۲)
قرآن غامدی صاحب کے نزدیک قطعی الدلالہ ہے،وہ لکھتے ہیں؛’دین میںہرچیزکے ردوقبول کافیصلہ اس کی آیاتِ بینات ہی کی روشنی میںہوگا۔ایمان وعقیدہ کی ہربحث اس سے شروع ہوگی اوراسی پرختم کی جائے گی۔ہروحی،ہرالہام،ہرالقاء،ہرتحقیق اورہررائے کواس کے تابع قراردیاجائے گااوراس کے بارے میںیہ حقیقت تسلیم کی جائے گی کہ بوحنیفہؒ وشافعیؒ، بخاریؒومسلمؒ،اشعری وماتریدی اورجنیدؒوشبلیؒ‘سب پراس کی حکومت قائم ہے اوراس کے خلاف ان میںسے کسی کی کوئی بھی چیزقبول نہیںکی جاسکتی۔‘‘(میزان ۔ ص ۲۵)
اہل ِ علم نے جاویداحمدغامدی کی فکر، تحقیق اورتعبیرسے سخت اختلاف کیاہے۔کچھ مسائل میںغامدی صاحب کی رائے اکابرین سے یکسر مختلف ہے،جن میںسے چندمسائل کاذکرکرنایہاںمناسب ہوگا،مثلاً
۱۔  غامدی صاحب عیسٰی علیہ السلام کے آمدِثانی کونہیںمانتے کیونکہ ان کی تحقیق کے مطابق وہ وفات پاچکے ہیں۔(میزان،ص۱۷۸)
۲۔  مہدی کی آمدسے بھی وہ اختلاف کرتے ہیں۔بقول ان کے ظہورِمہدی کی روایتیںمحدثانہ تنقیدکے معیارپرپوری نہیںاترتیں۔اِن میںکچھ ضعیف اورکچھ موضوع ہیں۔(میزان،ص ۱۷۷)
۳۔  اسلام میں’فساد فی الارض‘اور’قتلِ نفس‘کے علاوہ کسی بھی جرم کی سزاقتل کرنانہیںہے۔(برہان،ص ۱۴۳)
۴۔  تصوف اسلام سے متوازی ایک الگ دین ہے۔(برہان،ص ا۸ا)
۵۔  ’ اقامت دین‘کے لئے جدوجہدان کے نزدیک فرائضِ دینی میںایک اضافہ ہے جس کی بنیادقرآن وسنت میںنہیںہے۔(برہان۔ص ۱۶۹)
۶۔  غامدی صاحب کے نزدیک قرآن کاہرلفظ قطعی الدلالہ ہے اورقرآن کواس کے قطعی مفہوم سے پھیرنے کے لئے خودقرآن ہی دلیل بن سکتاہے۔حالانکہ مسالک اربعہ کے فقہاء اوراہل حدیث علماء کااس بات پراتفاق ہے کہ سنت قرآن کے کسی حکم کی تحدیدوتخصیص کرسکتی ہے۔
غامدی صاحب نے اپنی طرف سے دلائل بیان کئے ہیںاوراختلاف کرنے والے اہلِ علم نے بھی ان کے نقدمیںدلائل کاسہارالیاہے۔عام قاری کاکام یہ ہے کہ دونوںطرف کے دلائل کوبغوردیکھیںاورجن کے ہاںدلائل میںوزن محسوس ہواسے قبول کرلے اوردوسرے فریق کی علمی کاوش کی سراہنا کرے اوران کے خلوص کوشک کی نگاہ سے نہ دیکھیں۔
علم وتحقیق کی راہ آزمائشوںسے پُرہے۔یہ کام مذہب سے متعلق ہوتوتقلیدوروایت کاعامیانہ رجحان جہالت کی آخری سرحدوں کوپارکر جاتا ہے ۔ مولانامحمدالیاس کاندھلویؒ،مولاناسیدابوالاعلٰی مودودیؒ اورجاویداحمدغامدی کے فکروعلم اورفہمِ دین سے سخت اختلاف کیاگیا۔یہاںتک کہ یہ اختلاف انتہاپسندی،جارحیت اورتشدد کی صورت اختیارکرگیا۔اس قسم کے ناقدین کاایک ذہنی سانچہ بن چکاہے جس میںجذباتیت کوکافی دخل ہے۔تہذیب کاتقاضاہے کہ علم وفکرکے میدان میںکسی کی بات سے آپ اتفاق نہ کرتے ہوںتوعلم ودلیل کا’اسلحہ‘ا ستعمال کرکے ضبط ووسعت قلبی کے ساتھ اپنی بات رکھیں۔یہی درست رویہ ہے ،جس سے اہلِ علموں کو گزرنا چاہئے ۔ سوال کرنا ،تنقید کرنا زندہ دماغوں کا حق ہے ۔ سوالات قائم نہ کرکے ،اختلاف نہ کرکے ، عقل کو ’موت ‘کے حوالے نہیں کرنا چاہیے ۔برطانوی فلسفی ایڈمنڈ برک ؔنے کہا ہے کہ ’’جس قوم کے پڑھے لکھے افراد میں بحث و مکالمہ کی روایت ختم ہوجائے،اس قوم کی مثال ایسے شخص کی سی ہے ،جو سانس لے کر زندہ تو ہے مگر اس کے اعضاء مفلوج اور بے حرکت ہوچکے ہوں ۔مکالمہ ہی قوموں کی زندگی اور ان کے فکری ارتقاء کی علامت ہے ‘‘۔ہمارے معاشرے میں ایک ہولناک خاموشی چھائی ہے ۔جو تنظیمیں ،جماعتیں،ادارے نظریات کی بنیاد پر قائم ہوئیں، وہ بھی جمود کا شکار ہیں ۔نئی نسل کے ساتھ ان کا رشتہ عملاََ کٹ چکا ہے ۔ تعمیری کام بہت کم ہو رہا ہے البتہ وعظ و تبلیغ اورجذباتی تقریروںکے ذریعے عدم برداشت کی فضا ہموار کی جارہی ہے ۔مخالف کی رائے ،ان کا وجود ناقابل برداشت بن چکا ہے ۔کوشش تو یہ ہونی چاہیے کہ دوسروں کی بات سُنیں ،صرف سُننے کے لئے نہیں بلکہ اس بات کو سمجھنے کے لئے سُنے ۔خود کلام کریں تو بس جواب دینے کے لئے لب نہ کھولے بلکہ علم اور دلائل سے کام لے کر خوشگوار فضا میں اپنی بات سمجھانے کے لئے کلام کرے ۔مکالمے ،مباحثے دوسروں پر فتح حاصل کرنے کے لئے نہ ہو بلکہ دردِ دل سے پُر ، اصلاح و تزکیہ کی نیت سے ہو ۔تب شاید تشدد ،تنفر سے بھرا موجودہ معاشرہ تبدیل ہو ۔
اختلافات تو معاشرے کالازمی جُزہے،تنوّع عیب نہیں،حُسن ہے۔زمین وآسمان کی تخلیق،شب وروزکااختلاف اس بات کابیّن ثبوت ہے ۔قرآن کے مطالعہ سے تویہی معلوم ہوتاہے کہ مذہبی امورات ہوں یامعاشرتی امور،سیاسی مسائل ہوںیامعاشی مسائل اختلاف توہرسوسائٹی میںرہے ہیں۔البتہ اختلافات کے باوجود حسنِ معاشرت کیسے پیداہو،دوسری فکریارائے سے اختلاف کے علی الرّغم ایک دوسرے کی بات صبر،برداشت اورتحمل سے سننا،اس پرغورکرنا۔اس شخص یاجماعت کے لئے حسن ظن رکھنا،ان کے سامنے اورپیٹھ پیچھے حق وصواب پرمبنی گفتگوکرنا۔یہ وہ متوازن رویہ ہے جس کی فی الوقت مسلمانوںکوضرورت ہے۔
اخلاقیات کا سنہری اصول یہی ہے کہ آپ اپنے لئے وہی پسند کریں جو آپ دوسرے کیلئے پسند کرنا چاہیں گے۔ اس زریں اصول پر عمل کرنے سے انسان اپنی فکر میں بہترین توازن قائم کر سکتا ہے۔ بہترین دانش انسان کے اندر موجود ہوتی ہے اور اندر سے مراد دراصل انسان کی ذات ہے، اس کاوجدان ہے اور یہی وجدان انسان کیلئے بہترین رہنما ثابت ہوتا ہے ۔مطلق تقلید بھی ایک ایسا عنصر ہے جس کے سبب انسان عصبیت میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ ہمارے ہاں عمومََا اس جانب توجہ نہیں دی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے ہماری اخلاقی اقدار اور معاشرتی ترجیحات زبردست بے ترتیبی کا شکار ہو گئے ہیں۔ ہماری فکر جب کسی مخصوص مکتب یا شخصیت تک محدود ہو جائے تو ہم انصاف کے تمام تر تقاضوں کو پس پشت ڈال کر خود کو حق کا اکلوتا علمبردار سمجھ کے اپنے مخالفین پر چڑھ دوڑتے ہیں۔ جس کے باعث اخلاقی زبوں حالی اور معاشرتی فساد بامِ عروج پر پہنچ جاتا ہے کیونکہ انسان اپنے جسم کا زخم تو بھول سکتا ،معاف بھی کر سکتا ہے لیکن اپنی روح پر لگا زخم نہیںبھول سکتا۔ یہی چھوٹی سی چنگاری پھر شعلہ بن کے پورے معاشرے کو باہمی انتقامی فضاء کی بھینٹ چڑھا دیتی ہے۔ اصول یہ ہے کہ فکر کو قواعد کا پابند کرنا چاہیے، شخصیات کا نہیں ۔کیونکہ جب شخصیت پر تنقید ہوتی ہے تو پھر اس شخصیت سے متعلق افراد کی فکر میں ایک بھیانک بھونچال رونما ہو جاتا ہے، جو انسانی رویہ میں زبردست تعصب پیدا کرکے انسان کو نہ صرف اخلاقی لحاظ سے پسماندہ کر دیتا ہے بلکہ اس بدخلقی کا خمیازہ پورے معاشرے کو بھگتنا پڑتا ہے ۔شخصیت پر تنقید کوئی معنی نہیں رکھتی۔ شخصیت سے وابستہ نظریات پر تنقید دراصل علم و حکمت کا ابدی حسن ہے۔ انسان ہی نظریات وضع کرتا اور پھر انسان ہی دراصل ان نظریات کو عقیدت و تقدیس کے غلاف میں اوڑھ لیتا ہے۔ کوئی بھی نظریہ یا فکر فی نفسہ مقدس نہیں ہوتے ۔جب انسان کے جذبات متعلق ہوتے ہیں نظریات سے تو نظریہ عقائد کی شکل اختیار کر لیتا ہے۔ تب نظریہ عقیدہ بن جاتا ہے جس کی تقدیس سے ہر انسان بخوبی واقف ہے ۔تقدیس روحانی معاملات میں اکسیرِ راسخ ہے کہ انسان کے روحانی وجود کو تمکنت فراہم کرتی ہے۔ تقدیس کو ہم ایک روحانی ضابطے سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں مگر اصل الاصول وہی ہے کہ انسان اپنی فکر میں ہر ممکنہ جھول کو یکسر دور کر دے تاکہ انسان کے اندر دوسرے انسان کی فکر کو قبول کرنے کا نہ صرف ظرف پیدا ہو سکے بلکہ ایک بہترین فکری اخوت کی فضاء بھی قائم ہوجائے۔ انسان کے اس عمل سے پورا معاشرہ فکری لحاظ سے متوازن ہو جائے گا اور جب معاشرہ فکری لحاظ سے متوازن ہو گیا تو گویا انسانی رویہ اخلاقی و سماجی لحاظ سے اوج پر پہنچ گیا۔
مولانا محمدالیاس،مولاناابوالاعلٰی مودودی اورجناب جاوید احمد غامدی ہمارے اکابراور محسن ہیں۔ انہوںنے دین وملت کی خوب خدمت کی جس کاصلہ انہیںاللہ کے حضورہی ملے گا۔ ان کی عظمت اپنی جگہ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وہ تینوںانسان ہی ہیںاور ماسوائے رسول علیہ السلام کوئی بھی انسان خطا ونسیان،نقدواختلاف سے مبرّا نہیں۔ہمارا رویہ یہ ہوناچاہئے کہ دلیل وبرہان کی کسوٹی پرہرمفکرکی بات کوپرکھ کرردّیاقبول کریں۔اختلاف ذات سے نہ ہوبلکہ اُن صاحبانِ علم کی رائے یافکرسے ہو۔سُوئِ ظن کی جگہ حسنِ ظن کوجگہ دیںگے توہمارے باطن کے بہت سارے مسئلے خودبہ خودحل ہونگے۔
 رابطہ۔مرکزبرائے تحقیق وپالیسی مطالعات،بارہمولہ کشمیر