تازہ ترین

نئے امتیازی اراضی قوانین واپس لئے جائیں :وکرم ملہوترہ

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   
(File Photo)

جموں//اپنی پارٹی جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے حکومت سے گذارش کی ہے کہ 26اکتوبر2020کو نئے اراضی قوانین کو واپس لیاجائے جس میں مہاجن اور کھتریوں کو نظر انداز کیاگیاہے ۔ایک بیان میں وکرم ملہوترہ نے کہاکہ دو طبقہ جات مہاجن اور کھتری کو بنیادی حقوق سے محروم رکھاگیا ہے اور حالیہ جموں وکشمیر نوٹیفائیڈ قوانین کے تحت وہ ایک مرلہ زرعی اراضی بھی فروخت نہیں کرسکتے۔ ملہوترہ نے کہا’’ جب ملک کے کسی دوسرے حصہ میں زمین کی خرید وفروخت پر بندش نہیں تو پھر جموں وکشمیر میں مہاجن اور کھتریوں کے زرعی اراضی خریدنے پر پابندی مایوس کن ہے۔ انہوں نے کہا’’جموں وکشمیر یونین ٹیراٹری کے نئے قوانین کے تحت اِن دو طبقہ جات کے ساتھ امتیاز سے لوگوں میں کافی غم وغصہ ہے کہ خصوصی درجہ کی تنسیخ کے بعد حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی نے اُن کے ساتھ دھوکہ کیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ اِس قانون سے قبل مہاجن اپنی زمینوں پر زراعت پیشہ تھے لیکن اب اِس آرڈر نے اُن کے ایگریکلچرسٹ ہونے پر روک لگائی ہے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ سماج خاص کر دو طبقہ جات جن کی تقریباً جموں وکشمیر میں 15لاکھ سے زائد آبادی ہے، کے مفادکے لئے امتیازی آرڈر واپس لیاجائے۔ انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ اگر نئے اراضی قوانین میں تفاوت کو دور نہ کیاگیا تو حکمراں جماعت کے خلاف جموں میں طوفان آئے ا اور لوگ حقوق کے لئے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہوجائیں گے۔ انہوں نے مزید کہاکہ دونوں طبقہ جات میں مایوسی اور غصہ ہے کہ حکومت کے دروازے بارہا کھٹکھٹانے کے باوجود اُنہیں نظر انداز کیاگیا۔ غصہ بھارتیہ جنتا پارٹی کے خلاف جس نے اچھے دنوں کا وعدہ کیاتھا لیکن جموں کے لوگوں کوبے چینی، تذبذب اور غیر یقینی ماحول میں چھوڑ دیا ہے۔ انہوں نے کہاکہ نئے اراضی قوانین میں زرعی اراضی ایک غیر زراعت پیشہ شخص کومنتقل کرنے پر بھی پابندی ہے جبکہ پہلے قانون کے تحت چار کنال کی رعایت تھی۔ البتہ سیکشن 133Hمیں کہاگیا ہے کہ حکومت یا مجاز افسر ایک زراعت پیشہ شخص کو بیع نامہ، تحفہ، رہن یا تبادلہ کی صورت میں غیر زراعت پیشہ کو زمین منتقل کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ مہاراجہ ہری سنگھ دور ِ حکومت میں ایسی کوئی بندش نہ تھی اور ہر ایک کو یکساں حقوق حاصل تھے۔ بی جے پی نے جذباتی طور لوگوں کا استحصال کر کے ُانہیں گمراہ کیا اور اب اُن کی پول کھل گئی ہے۔ نوبت یہ پہنچ چکی ہے کہ جماعت کے خلاف لوگوں میں بڑھتے غم وغصہ کے بیچ بی جے پی لیڈران نے سامنے آنا ہی بند کر دیا ہے جوکہ اہلیان ِ جموں کے اعتماد کے ساتھ کھلواڑ ہے۔
 
 

اپنی پارٹی نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا یوم ِ پیدائش منایا

جموں//اپنی پارٹی نے ڈاکٹر بی آر امبیڈکر کا یوم ِ پیدائش منایا۔ اس سلسلہ میں پارٹی دفتر گاندھی نگر میں تقریب منعقد ہوئی جس کا اہتمام ایس سی ریاستی کارڈی نیٹر بودھ راج بھگت اور او بی سی ریاستی کارڈی نیٹر مدن لال چلوترہ نے کیاتھا۔ اس موقع پر بولتے ہوئے جنرل سیکریٹری وکرم ملہوترہ نے کہاکہ ملک کے آئین میں اظہار ِ رائے کی آزادی جو دی گئی ہے، اُس کی موجودہ وقت میں کوئی اہمیت نہیں۔ لوگوں میں عام تاثر یہ ہے کہ وقت تبدیل ہوگیا ہے اور اختلاف رائے کو کوئی اہمیت نہیں دی جارہی جوکہ بدقسمتی کی بات ہے۔ انہوں نے کہاکہ ملک کو ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے آئین دیا جس میں بلالحاظ مذہب وملت، رنگ ونسل ، ذات پات سبھی کو یکساں درجہ دیاگیاہے۔ صوبائی صدرمنجیت سنگھ نے بھی اِس دن کو منانے کی اہمیت کو اُجاگر کیا۔ انہوں نے کہاکہ او بی سی طبقہ جات آزاد ی سے لیکر آج تک جموں وکشمیر میں اپنے حقوق کے لئے جدوجہد کر رہے ہیں۔ ملک کے دیگر حصوں میں او بی سی کو27فیصد ریزرویشن حاصل ہے جوکہ جموں وکشمیر میں اس سے انکار کیاجارہاہے۔ انہوں نے مانگ کی کہ جموں وکشمیر میں بھی او بی سی طبقہ جات کو 27فیصد ریزرویشن دی جانی چاہئے تاکہ وہ آئینی حقوق حاصل کرسکیں جس کی امبیڈکر نے ضمانت دی تھی۔ صوبائی صدر نمرتبہ شرما ، ضلع صدر پرنو شگوترہ نے بھی خطاب کیا۔ او بی سی ریاستی کارڈی نیٹر ار ایس سی ریاستی کارڈی نیٹر بودھ راج بھگت نے سماج کے کمزور طبقہ جات کے لئے بابا صاحب امبیڈکر کے آئین کو یاد کیا۔ انہوں نے سماج کے کمزور ، اقتصادی وسماجی طور نظر انداز طبقہ جات کی بہتری کیلئے امبیڈکر کی طرف سے دکھائے گئے نقش ِ قدم پر چلنے کی تلقین کی۔

 

تازہ ترین