تازہ ترین

کشمیریونیورسٹی میں مباحثوں کاسہ روزہ مقابلہ اختتام پزیر

کشمیرہارورڈکی دوٹیموں نے پہلی دوپوزیشنیں حاصل کیں

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


سرینگر//کشمیریونیورسٹی میں اسکول اور کالج طلباء کا سہ روزمباحثوں کا مقابلہ اختتام پزیدہوا۔یونیورسٹی کے شعبہ قانون اورایک رضاکارتنظیم کے اشتراک سے منعقدہ’’وارآف ورڈس۔ ایشین پارلیمنٹری ڈیبیٹ کمپٹشن ‘‘میں ڈین اکیڈمک افیئرس پروفیسر  شبیر احمد بٹ اختتامی تقریب میں مہمان خصوصی تھے جبکہ یونیورسٹی کے رجسٹرارڈاکٹر نثاراحمدمیرمہمان ذی وقار تھے۔اپنے صدارتی خطبے میں پروفیسربٹ نے کہا کہ مباحثے طلباء کی تنقیدی سوچ کی حوصلہ افزائی کرکے ان میں خوداعتمادی پیدا کرتے ہیںاور وہ مجمعے میں ازروئے منطق بولنے کی مہارت حاصل کرتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مباحثوں سے طلباء میں خیالات اورنظریات کاتبادلہ ہوتا ہے اوروہ سماج کو درپیش مسائل پرکوئی رائے قائم کرسکتے ہیں۔انہو ں نے یونیورسٹی کے شعبہ قانون کواس مقابلے کااہتمام کرنے کیلئے مبارکباد دی اور یقین دلایا کہ نصاب کے علاوہ طلاب کی سرگرمیوں میں یونیورسٹی بھر پور تعاون دے گی۔اپنے استقبالی خطبے میں شعبہ قانون کے صدرپروفیسرمحمد ایوب نے کہا کہ انہوں نے اس مقابلے میں ایشیاء بھر کے پارلیمنٹوں میں رائج عمل کااستعمال کیا اورٹیموں نے مباحثوں میں مختلف موضوعات پربحث کیا۔فائینل رائونڈ میں کشمیرہارورڈ اینسٹی چیوٹ کے ٹیموں نے ’یونیورسٹی تعلیم کو مفت بنانے یانہ بنانے ‘پر کھل کربحث ومباحثہ کیا۔اس ادارے کی ابیناارشد،الیزاالطاف اور باسط بشیر پر مبنی ٹیم کومقابلے کافاتح قرار دیا گیا جبکہ اسی ادارے کی سائنا وارثی، سیدمنام وجاہت اور محمد ابراہیم آہنگر پر مشتم ٹیم نے دوسری پوزیشن حاصل کی۔فائنل سے قبل کے رائونڈ میں کشمیر لا ء کالج نوشہرہ کی مہنازخان نے بہترین مقررکاتیسراانعام حاصل کیا جبکہ کشمیر ہارورڈ کے محمدابراہیم آہنگر نے دوسرے بہترین مقرراورکشمیر ہارورڈ کے ہی ابیناارشد نے پہلے بہترین مقرر کا انعام حاصل کیا۔فائینل میں الیزاالطاف نے بہترین مقررکاایوارڈ پایاجبکہ محمدابرہیم آہنگر نے دوسرے بہترین مقرر کااعزازحاصل کیا۔