تازہ ترین

ہندپاک کے درمیان جنگ نہیں ، کشیدگی میں اضافہ کاامکان

بیجنگ اورنئی دہلی کے درمیان سرحدی کشیدگی اب بھی برقرار:امریکی انٹلی جنس

تاریخ    15 اپریل 2021 (00 : 01 AM)   


 سرینگر// امریکی خفیہ اداروں نے اپنی سالانہ رپورٹ میں اس بات کا انکشاف کیا ہے کہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین پھر سے حالات کشیدہ ہوسکتے ہیں جبکہ چین اور ہندوستان کے مابین اگرچہ لداخ میں کسی حد تک سرحدی کشیدگی کم ہوئی ہے لیکن یہ وقتی طور پر اس میں بھی مزید اضافہ ہوسکتا ہے ۔ سی این آئی کے مطابق دنیا بھر میں خطرات کے سالانہ جائزہ رپورٹ کے ضمن میں گزشتہ روز امریکی انٹلیجنس کمیونٹی نے کہا کہ ہندوستان اور چین کے مابین سرحدی کشیدگی اب بھی برقرار ہے۔امریکی انٹلیجنس کمیونٹی کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگرچہ ہندوستان اور پاکستان کے مابین جنگ کا امکان نہیں ہے لیکن ان دونوں ممالک کے مابین بحران مزید شدید ہوجائے گا۔اس میں مزید کہا گیا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی قیادت میں ہندوستان ماضی کے مقابلے میں اب زیادہ سے زیادہ اس حالت میں ہے کہ وہ پاکستانی قوتوں کو اس کے حقیقی معنوں میں سمجھے اور اس کی جانب سے کی جانے والی اشتعال انگیزی کا فوجی طاقت کے ساتھ جواب دے سکے۔اس میں کہا گیا ہے کہ اس طرح کی کشیدگی میں شدت پیدا ہونے سے دونوں جوہری مسلح ہمسایہ ممالک کے مابین تنازعہ کا خطرہ بڑھ جائے گا۔انٹلیجنس کمیونٹی نے کہا ہے کہ امریکہ کے لئے چین قریبی حریف کے طور پر جانا جاتا ہے۔ جس نے امریکہ کو متعدد میدانوں میں چیلینج کیا ہے۔اس رپورٹ میں ایران کو ایک علاقائی خطرہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ جہاں وسیع پیمانے پر خراب اثر و رسوخ کی سرگرمیاں جاری ہیں اور شمالی کوریا بطور علاقائی اور عالمی مسائل میں بگاڑ پیدا کرنے والا کھلاڑی ہے۔قومی انٹلیجنس کے ڈائریکٹر کے دفتر کے ذریعہ جاری کردہ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین اپنی بڑھتی ہوئی طاقت کا مظاہرہ کرنے اور علاقائی پڑوسیوں کو بیجنگ کی ترجیحات سے آگاہ کرنے پر مجبور کرنے کے لئے پورے حکومتی اثر و رسوخ کا استعمال کرنا چاہتا ہے۔ اس میں تائیوان کی خودمختاری پر بھی بحث کی گئی ہے۔اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اور چین کی سرحد وں پررواں برس تناؤ بہت زیادہ ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ متنازعہ سرحدی علاقوں پر مئی 2020 کے بعد سے چین کا قبضہ گذشتہ دہائیوں میں سب سے سنگین پیش رفت ہے۔ہندوستان چین تنازعہ میں کہا گیا ہے کہ وسط فروری تک بات چیت کے متعدد ادوار کے بعد دونوں فریقین نے متنازعہ سرحد کے ساتھ کچھ مقامات سے فورسز واپس بلالئے ہیں اور فوجی ساز و سامان کو بھی ہٹا دیا گیا ہے۔امریکہ نے سرحدی تنازعہ کی قریب سے پیروی کی ہے اور چین کی جارحیت کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اس نے ہندوستان کو درکار کچھ فوجی سپلائیوں میں بھی تیزی لائی ہے۔ہندوستان کے پڑوس میں موجود دوسروں کے بارے میں رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ میانمار کی فوج کا فروری میں اقتدار پر قبضہ انتہائی ظالمانہ ہے۔ ریاستی مشیر آنگ سان سوچی کی نظربندی اور ایک سال کی ہنگامی حالت کے اعلان کے بعد معاشرتی عدم استحکام کی کیفیت سے دوچار ہے۔